Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
137 - 243
 (۲) مولوی خرمعلی درترجمہ این عبارت گفت۔
 (۲) مولوی خرمعلی شاہ صاحب کی مذکورہ بالا عربی عبارت کا ترجمہ یہ لکھتے ہیں : (ت)

'' ہماری صحبت او رطریقت کے آداب سیکھنامتصل ہے رسول اللہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تک، اگر چہ تعین ان آداب کا اور تقرر ان اشغال کا ثابت نہیں۱؎'' اھ ملخصاً
(۱؎ شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل    فصل ۱۱     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۳)
 (۳) ہم درشفاء العلیل ترجمہ قول الجمیل گوید ۔
 (۳) یہی صاحب القول الجمیل کے ترجمہ شفاء العلیل میں لکھتے ہیں : (ت)

''حضرت مصنف محقق نے کلام دلپذیر اور تحققیق عدیم النظیر سے شبہات ناقصین کو جڑ سے اکھاڑا۔ بعضے نادان کہتے ہیں کہ قادریہ اور چشتیہ اور نقشبندیہ کے اشغال مخصوصہ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں نہ تھے تو بدعت سیئہ ہوئے ۲؎ الخ۔''
 (۲؎ شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل    فصل ۱۱     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص   ۱۰۷)
 (۴) ہمد ران از شاہ عبدالعزیز صاحب آرد۔
 (۴) اسی میں شاہ عبدالعزیزصاحب سے نقل کرتے ہیں: (ت)

''مولانہ حاشیے میں فرماتے ہیں اور اسی طرح پیشوایانِ طریقت نے جلسات اور ہیات واسطے اذکار مخصوصہ کے ایجاد کیے ہیں مناسب مخفیہ کے سبب سے ۳؎۔'' الخ
 (۳؎ شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل    فصل ۱۱     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص  ۱۵۱)
 (۵) باز خودمی گوید ۔
 (۵) پھر خود لکھاہے : (ت)

''یعنی ایسے امور کو مخالفِ شرع یا داخل بدعت سیئہ نہ  سمجھنا چاہئے جیسا کہ بعض کم فہم سمجھتے ہیں ۴؎۔''
 (۴؎ شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل    فصل ۱۱     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۵۱)
امام  (۶) الطائفہ درصراط مستقیم سراید: ''محققان از اکابر طریق درتجدی اشغال کو ششہا کردہ اند بناء علیہ مصلحت دید و وقت چناں اقتضا کردکہ یک باب ازیں کتاب برائے بیان اشغال جدیدہ کہ مناسب ایں وقت است تعین کردہ تجوید اشغال نمودہ شود ۱؎۔'' اھ ملخصاً
 (۶) امام الطائفہ نے صراط مسقیم میں لکھا ہے :''محققین اکابر نے تجدیدِ اشغال کے طریقے میں بڑی کوشش کی ہیں، اسی بنا پر مصلحت اور  وقت کا تقاضا یہ ہوا  کہ اس کتاب کا ایک باب اس وقت کے مناسب اشغال جدیدہ کے بیان کے لیے معیّن کیا جائے او ر اشغال کی تجدید عمل میں لائی جائے ۔'' اھ ملخصاً
 (۱؎ صراط مسقیم    مقدمۃ الکتاب باب اول    المکتبہ السلفیہ لاہور    ص۷ و ۸)
 (۷) ودر حال پیر خود گوید: ''درتلقین وتعلیم طریقہ چشتیہ باز وئے ہمت کشاند و تجدید اشغالے کہ ایں کتاب مستطاب براں محتوی گردیدہ فرموند ۲؎۔''
 (۷) اپنے پیر کے حال میں لکھا ہے : ''طریقہ چشتیہ کی تلقین وتعلیم میں بازوئے ہمت کشادہ کیا، او ر ان اشغال کی تجدید  فرمائی جن  پر یہ کتاب مستطاب مشتمل ہے ۔
 (۲؎ صراط مسقیم    باب چہارم  المکتبہ السلفیہ لاہورص۱۶۶)
سبحان اللہ ! اینان کہ بر اصل شما صراحۃً احداث فی الدین کروند وقطعاً چیز ہابر آور دند کہ قرون سابقہ ازانہا خبرے نہ داشتہ ، ضال ومبتدع نباشد بلکہ ہمچناں امام و مقتد او عرف و علماء مانند دیگراں بر ہمیں قدر جرم کہ چندا مور محمودہ ثابت فی الشرع را جمع نمودند وفعل آنہارا از جملہ اوقات جائز فی الشرع وقتے معین گرفتند، معاذاللہ گمراہ وبدعتی شوند، للہ انصاف ایں تحکم بیجا را چہ گفتہ آید ، مگر شریعت گردانید۔ ہان دہان اے طالب حق ایناں را درطغیان وعدوان اینان بگداز، و روئے بآثار و احادیث آرتاچیزے ازتعینات عادیہ برتو خوانیم
سبحان اللہ ! یہ لوگ جو تمھارے قاعدے کے مطا بق صراحۃً ''احداث فی الدین'' اور کھلی ہوئی بدعت جاری کرنے کے مرتکب ہیں، اور بلاشبہہ ایسی چیزیں ایجاد کی ہیں جن کی قرون سابقہ میں کوئی خبر نہیں، وہ تو گمراہ اور بدعتی نہ ہوں بلکہ ویسے ہی امام ومقتداء اور عُرفاء وعُلماء رہیں ___ دُوسرے صرف اتنے جرم  پر کہ انھوں نے شریعت میں ثابت چند پسندیدہ امور کو یکجا کردیا، اور ان کو عمل میں لانے کیلئے شریعت میں جائز اوقات میں سے ایک وقت معین کرلیا، معاذاللہ گمراہ اور بدعتی ہوجائیں __ للہ انصاف! اس بے جاتحکم اور ناروا زبردستی کو کیا کہا جائے ، شاید شریعت تمھارے گھر کا کاروبار ہے کہ جیسے چاہو الٹ پھیر کرتے رہو  ہوشیار ۔ ہوشیار اے طالبان حق ان کو، ان کی سرکشی اور زیادتی میں چھوڑ اور اثار واحادیث کی جانب متوجہ ہو تاکہ ہم کچھ تعیناتِ عادیہ تجھے سنائیں:
ازین قبیل ست انچہ درحدیث آمد کہ حضورپرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم زیارتِ شہدائے احد را سرسال مقرر فرمودن کما سیأتی وآمدن مسجد قبارا روز شنبہ۱؎کما فی الصحیحین عن ابن عمر  رضی اﷲ تعالٰی عنہما وروزہ شکر رسالت را روز دوشنبہ۲؎ کما فی صحیح مسلم عن ابی قتادۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وباصدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ مشاورہ دینی صبح وشام۳؎ کما فی صحیح البخاری عن ام المؤمنین الصدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا وانشائے سفر جہاد را پنچشنبہ۴؎ کما فیہ عن کعب بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ وطلبِ علم را دوشنبہ۵؎ کما عند ابی الشیخ وابن حبان والدیلمی بسند صالح عن انس ابن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ،
اسی قبیل سے ہے جو حدیث میں آیا کہ حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے شہدائے اُحد کی زیارت کے لیے سر سال کا وقت مقرر فرمالیا تھا جیسا کہ آگے ذکر آرہا ہے۔ اور سنیچر کے دن مسجد قبا میں تشریف لانا، جیسا کہ صحیحن میں (بخاری ومسلم) میں حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے مروی ہے۔ (۳) اور شکرِ رسالت کے لیے دوشنبہ کاروزہ جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے، (۴) اور صدیق اکبر رضی اﷲتعالٰی عنہ سے دینی مشاورت کے لیے وقتِ صبح وشام کی تعیین، جیسا کہ صحیح بخاری میں اُمّ المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا سے مروی ہے۔ (۵) اور سفر جہاد شروع کرنے کے لیے پنچشنبہ کی تعیین ، جیسا کہ اسی صحیح بخاری میں حضرت کعب بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے ۔ اور(۶) طلب علم کے لئے  دو شبہ کی تعیین جیسا کہ ابوالشیخ ، ابن حبان اور ویلمی نے بسند صالح حضرت انس ابن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔
 (۱؎ صحیح مسلم            باب فضلِ مسجد قبا            قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۴۴۸)

(۲؎ صحیح مسلم             باب استحباب صیام ثلاثہ آیام الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۳۶۸)

(۳؎ صحیح البخاری        باب ہجرۃ النبی واصحابہ الی المدینہ       قدیمی کتب خانہ کراچی      ۱ /۵۵۲)

(۴؎ صحیح البخاری         با ب من اراد غزوۃ الخ         قدیمی کتب خانہ کراچی       ۱ /۴۱۴)

(۵؎ الفردوس بمأثور الخطاب    حدیث ۲۳۷            دارلکتب العلمیہ بیروت    ۱ /۷۸)

(کنز العمال        حدیث             ۲۹۳۴۰            موسستہ الرسالۃبیروت    ۱۰ /۲۵۰)
Flag Counter