Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
136 - 243
سخن گفتن ماندازتعیینِ اوقات کہ درمردماں رائج ست ہمچوں سوم وچہلم وسرسال وششماہ اقول وبحول اﷲ اصول توقیت یعنی کارے راوقت معین داشتن بردوگونہ است شرعی وعادی، شرعی آۤنکہ شرع مطہر عملے راوقتے تعیین فرمودہ است کہ درغیر او اصلاصورت نہ بند دواگر بجائے آراندآن عمل شرعی نہ کردہ باشند، چوں ایام نحرمراضحیہ رایا آنکہ تقدیم و تاخیرش ازاں وقت ناروا باشد چوں اشہر حرم مراحرام حج رایا آنکہ ثوابیکہ درغیر اونیاز بند چوں ثلث لیل مرنمازعشاراو عادی آنکہ از جانب شرع اطلاق است ہر وقتیکہ خواہند بجا آرند ۔اما حدث را از  زمان ناگزیر ست ووقوع درزمان غیر معین محال عقلی کہ وجود وتعین مساوق ہم د گر است ۔ پس از تعین چارہ نیست۔این ہمہ تعینات بربناء اطلاق علٰی وجہ البدالیۃ صالح ایقاع بود ازینہا یکے را بربناء مصلحتے اختیار کنند بے آن کہ وقت معین را مبنائے صحت یا مدار حلت یا مناط اثابت دانند پیداست کہ بایں تقیید مقید از فردیت مطلق برنیاید و حکمے کہ مطلق راست درجمیع افرادش ساری باشد مالم یردمنع عن خصوص خصوصا پس ہمچوں جاسبیل نہ آنست کہ ثبوت خصوصیت از مجوز جویند بلکہ آنکہ تصریح بمنع ایں خاص ازشرع برآرند۔ عبارت معلم ثانی طائفہ دربارہ دست برداشتن بدعائے تعزیہ بالاشنیدی واینک اول وامام معول طائفہ دررسالہ بدعت چناں نغمہ سرا ''طریق ثانی آنکہ بمطلق بالنظر الٰی ذاتہ حکمے از احکام شرعیہ متعلق گردد۔ پس مطلق بنظر ذات خود درجمیع خصوصیات ہما حکم اقتضامی نماید گودر بعض افراد بحسب عوارض خارجیہ حکم مطلق مختلف گردد (الی ان قال) درتحقیق حکم صورت خاصہ کسیکہ دعوی جریان حکم مطلق درصورت خاصہ مبحوث عنہامی نماید ہمانست متمسکت بہ اصل کہ دراثبات دعوٰی خود حاجت بدلیلے نہ وراد۔ دلیل اوہما حکم مطلق ست وبس ۱؎ا لخ حضرت والد قدس سرہ الماجد این اصل منیف وقاعئدہ شریعت را تحقیق بالغ  وتنقیح بازغ در اصول الرشاد افادہ  وارشاد فرمودہ اند آنچابا ید جست۔
اب وقت معیّن کرنے سے متعلق گفتگو کرنی ہے جس کا لوگوں میں رواج ہے، جیسے سوم ، چہلم، ایک سال چھ ماہ، اقول و بحول اﷲا صول ( میں کہتا ہوں اور خدا ہی کی دی ہوئی قوت سے حملہ کرتا ہوں) توقیت یعنی کسی کام کے لیے وقت مقرر کرنے کی دو صورتیں ہیں : (۱) شرعی اور (۲) عادی۔ 

o شرعی یہ کہ شریعت مطہرہ نے کسی کام کے لیے کوئی وقت مقرر فرمایا ہے کہ (i) جواس کے علاوہ وقت میں وہ ہو ہی نہیں سکتا، او راگر کریں تو وہ عمل شرعی ادانہ ہوگا۔ جیسے قربانی کے لیے ایام نحر۔

(ii) یا یہ کہ اس وقت سے اس عمل کو مقدم یا مؤخر کرنا ناجائز ہو، جیسے احرام حج کے لیے حرمت والے مہینے (شوال، ذی قعدہ، ذوالحجہ) ۔

(iii )یا یہ کہ اس وقت میں جو ثواب ہو وہ دوسرے وقت میں نہ ملے ، جیسے نمازعشاء کے لیے تہائی رات، 

o عادی یہ کہ شریعت کی جانب سے کوئی قید نہیں جب چاہیں عمل میں لائیں__ لیکن حدث (کام ہونے) کے لیے زمانہ ضروری ہے۔ اور زمانہ غیر معین میں وقوع محال عقلی ہے، اس لیے کہ وجود اور تعین ایک دوسرے کے مُساوِق(ساتھ  ساتھ) ہیں ، تو تعیّن سے چارہ نہیں یہ سبھی تعینات (اوقات معیّنہ) اطلاق کی بناہ پر بطور  بدیست وہ عمل واقع کیے جانے کے قابل تھے، مگر  ان  ہی میں سے کسی کو کسی مصلحت کی وجہ سے اختیار کرتے ہیں۔ بغیر اس کے کہ وقت معین کو صحت کی بنیاد یا حلت کا مدار یا ثواب دئے جانے کا مناطر جانیں، ظاہر ہے کہ اس تقیید کی وجہ سے مقید، مطلق کافر د ہونے سے خارج نہ ہوگا، اور مطلق کا جو حکم ہے وہ اس کے تمام افراد میں جاری ہوگا تب کہ کسی فرد خاص سے متعلق خاص طور پر ممانعت وارد نہ ہو ___تو ایسے مقام میں راہ یہ نہیں کہ جائز کہنے والے سے خصوصیت کا ثبوت مانگیں بلکہ راہ یہ ہوگی کہ اس فرد خاص سے متعلق ممانعت کی صراحت شریعت سے نکالیں۔اس طائفہ کے معلم ثانی کی عبارت دعائے تعزیعت میں ہاتھ اٹھانے سے متعلق اوپر گزری ،اوریہ طائفہ کے معلم اول اور امام معتمد ''رسالہ بدعت" میں یوں نغمہ سرا ہيں ''دوسرا طریقہ یہ کہ خود ذاتِ مطلق کی جانب نظر کرتے ہوئے اس سے کوئی حکم شرعی متعلق ہو،تو مطلق اپنی ذات کے لحاظ سے تمام خصوصیات میں اسی حکم کا مقتضی ہوگا، گو بعض افراد میں خارجی عوارض کے اعتبار سے مطلق کا حکم مختلف ہوجائے ( آگے لکھا) صورتِ خاص کے حکم کی تحقیق میں جو شخص زیر بحث خاص صورت کے اندر بھی مطلق کا حکم جاری ہونے کا دعوٰی رکھتا ہے وہی اصل سے تمسک کرنے والا ہے، جسے اپنا دعوٰی ثابت کرنے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ دلیل وہی حکم مطلق ہے اور بس'' الخ حضرت والد قدس سرہ الماجد نے اس اصل اور قاعدے کی کامل اور روشن تحقیق وتنفیح اصول ارشاد میں افادہ فرمائی ہے وہاں سے اسے طلب کرنا چاہئے ۔ (ت)
(۱؎ رسالہ بدعت (معلم اول)
من باول سخن بازگردم فاقول باز اگر درین وقت معین مرجحے حامل براختیارش فی نفسہ موجود ست فبہا ورنہ ہنگام

تساوی ارادہ مختار ترجیح رابسند ست چنانکہ در دو جام تشنہ و دو راہ راہے مشاہدہ کنی، علٰی الاول مصلحت عیاں ست وعلی الثانی کم نہ ازاں کہ ایں تعیین باعثِ تذکیر وتنبیہ وما نع تسویف وتفویت باشد ہر عاقل ازوجدان خود یابدکہ چوں کارے راوقتے معین بنہندآمدن وقت یادش دہد ورنہ بساباشد کہ از دست رود۔ ازہمیں جاست اوقات معین کردن ذاکرین وشاغلین وعابدین مرذکر وشغل عبادت را یکے پیش از نماز صبح صدبار کلمہ طیبہ برخود گرفتہ است۔ دیگرے پس از نماز عشا صد بار درود واگراین توقیت را از اقسام ثلثہ توقیت شرعی نہ دانند زنہار ازشرعا معاتب نشوند جان برادر اگر بقول الجمیل شاہ ولی اللہ وصراط نا مستقیم امام الطائفہ وغیر ہما کتب ایں فن کہ اکابرو عمائد طائفہ تصنیف کردہ اند رجوع آرے چیز ہا ازین تعینات متلزمہ یابی کہ زنہار از تاقیت شرعی نشانے نہ دارد۔ ہیہات خود از تعین ایام و اوقات چہ گوئی آنجا تو دہاست ازا عمال واشغال و طُرق وہیات محدثہ مخترعہ کہ در قرون سالفہ ازا نہا اثرے وخبرے پیدا نبود وایناں راباحداث وابتداع آنہا خود اعتراف است۔ شاہ ولی اﷲ درقول الجمیل گویند :''صحبتنا و تعلمنا آداب الطریقۃ متصلہ الٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وان لم یثبت تعین الاٰداب والاتلک الاشغال ۱؎ ۔''
میں پھر پہلی گفتگو کی طرف پلٹتا ہوں۔ اقول پھراگر اس وقت معیّن کی ذات میں خود کوئی ترجیح دینے والی چیز موجود ہے جوا سے اختیار کرنے کی باعث ہے تو ٹھیک ہے۔ ورنہ جب تمام اوقات یکساں اور برابرہوں توصاحب اختیار کا ارادہ ترجیح دینے کے لیے کافی ہے، جیسے دو جام یکساں ہیں اور پیاسا اپنے ارادے سے کسی ایک کو ترجیح دے کر اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح دو راہیں یکساں ہیں اور چلنے والا کسی ایک کواختیار کرلیتا ہے ۔ پہلی صورت میں تو مصلحت خود عیاں ہے ___ اور دوسری صورت میں کم از کم اتنا ضرور ہے کہ اس کو معین کرلینے سے یاد دہانی اور اگاہی ہوگی اور یہ ٹالنے اور فوت کر ڈالنے سے مانع ہوگی ہر عقل والے کا وجدان خود گواہ ہے کہ جب کسی کام کے لیے کوئی وقت معین رکھتے ہیں تو جب وقت آتا ہے وہ کام یاد آجاتا ہے ورنہ بار ہا ایسا ہوتا ہے کہ فوت ہوجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ذاکرین، شاغلین، عابدین اپنے ذکر وشغل اور عبادت کے لیے اوقات معین کرلیتے ہیں۔ کسی نے نماز صبح سے پہلے سو بار کلمہ طیبہ پڑھنا اپنے ذمہ کرلیا ہے۔ کسی نے نماز عشاء کے بعد سوبار درود پڑھنا مقرر کرلیا ہے ___ اگر اس تعیین وتوقیت کو توقیت شرعی کی تینوں قسموں سے نہ جانیں تو شریعت کی جانب سے ان پر ہر گز کوئی عتاب نہیں __ جان برادر ! اگر شاہ ولی اللہ کی القول الجمیل ، امام الطائفہ کی صراط مستقیم اور ان کے علاوہ اس طائفہ کے اکابر و عمائد کی تصنیف کردہ اس فن کی کتابیں دیکھوں تو ان میں از خود لازم کیے ہوئے تعینات سے بہت سی چیزیں پاؤگے جن میں شریعت کی جانب سے تعیین وتوقیت کا کوئی نام ونشان بھی نہیں ہے۔ دُور کیوں جائیے اور تعیین ایام واوقات کی بات کیوں کیجئے، وہاں تو دسیوں اعمال واشغال اور ہیآت وطُرق ایجادی اور اختراعی ایسے موجود ہیں جن کا قرونِ سابقہ میں کوئی نام ونشان تھا،، نہ ذکر وخبر۔ ان حضرات کو ان کی ایجاداور ابتداع کا خود اقرار ہے۔شاہ ولی اللہ القول الجمیل میں لکھتے ہیں: ''ہماری صحبت اور ہماری تعلیم آداب طریقت رسول اللہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تک متصل ہے اگر چہ ان آداب اور ان اشغال کی تعیین حضور سے ثا بت نہیں ۔'' (ت)
 (۱؎ لقول الجمیل معہ ترجمہ شفاء العلیل    فصل ۱۱    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۷۳)
Flag Counter