Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
135 - 243
معاذ اﷲ کافرے مشرکے رابچنیں الفاظ عظیمہ جلیلہ ستودہ وحجتِ خدا ونائب انبیاء وکذا وکذا اعتقاد نمودہ خود کافر مرتدگوید یا ہیچ باز شمایاں کہ ایں کافر ومرتد را  امام  پیشوا و سر ور مقتدا ومرجع ماواگرفتہ ودرہر مسئلہ وعقیدہ سربر خط فرمانش نہادہ قدم برقدم اور فتہ اید ازیں رو بر ہمہ کافر و بے دین ومرتد لعین شدید یاچہ ؟ بینوا توجروا۔
ان عظیم وجلیل الفاظ سے معاذاﷲ ایک کافر و مشرک کی تعریف کرکے، اور اسے خدا کی حجت انبیاء کا نائب وغیرہ وغیرہ اعتقاد کرکے خود کافر مرتد ہوا یا نہیں؟ پھر تم سب اس کا فر  ومرتد کو امام و پیشوا، سردار ومقتداء اور مرجع وماوا بنا کر ، اور ہر مسئلہ و عقیدہ میں اس کے خطِّ فرمان پر سر جھکا کر ، اس کے قدم بہ قدم چل کر کافر وبے دین اور مرتد ولعین ہوئے یاکچھ اور؟ بیّنوا توجروا۔ (ت)
باز بمطلب عنان تابیم
 (اب پھر ہم مقصد کی جانب لگام موڑتے ہیں ۔ت)
مولوی خرمعلی بلہوری معلم ثالث طائفہ حادث درنصیحۃ المسلمین گوید
(مولوی خرمعلی بلہوری طائفہ نو کے معلم ثالث نے '' نصیحۃ المسلمین'' میں لکھاہے ۔ ت)
''حاضری حضرت عباس کی ، صحنک حضرت فاطمہ کی، گیارھویں عبدالقادر جیلانی کی، مالیدہ شاہ مدار کا، سہ منی بوعلی قلندر کی، تو شہ شاہ عبدا لحق کا، اگر منت نہیں صرف ان کی روحوں کو ثواب پہنچانا منظور ہے تو درست ہے۔ اس نیت سے ہر گز منع نہیں ۲؎'' اھ ملخصاً ۔
 (۲؎ نصیحۃ المسلمین     چند شرکیہ رسمیں    سبحانی اکیڈمی لاہور    ص۴۱)
(۸) خود امام الطائفہ در تقریر ذبیحہ سراید "اگر شخصے بُزے راخانہ پرور کند تاگوشت اوخوب شود، اورا ذبح کردہ و  پختہ فاتحہ حضرت غوثِ اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ خواندہ بخو راند خللے نیست ۱؎ ۔''
 (۸)خود امام الطائفہ نے تقریر ذبیحہ میں یہ نغمہ سرائی کی ہے :'' اگر کوئی شخص کسی بکری کو گھر میں پالے تاکہ اس کا گوشت عمدہ ہو، ا س کو ذبح کرکے اور پکاکر حضرت غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی فاتحہ پڑھ کر کھلائے تو کوئی خلل نہیں ہے ۔''
    (۱؎ رسالہ زبدۃ النصائح)
ایں لفظ ''خواندہ بخوراند'' نیزنگاہ داشتن است کہ بسیارے از منکرین ایں راہم مناط انکار سازند وگویند اگر ایں اجتماع اطعام وقراءت جائز بودے تاہم بایستے کہ خوراندہ نہ کہ خواندہ خوراندہ کہ عبث وباطل ست جواب کامل ازیں شبہہ باطل در ''بارقہ شارقہ'' یادکردہ ایم ہمچناں ایں لفظ غوث اعظم بردل نگاہ شتنے کہ برایمان تقویۃ الایمان صراحۃً شرک است، طرفہ آنکہ اتباع جہول طعام فاتحہ راحرام ومردار دانند وامام الطائفہ طعام وگوشت گاؤ ند ِر اولیا ہمہ راحلال می خواند بشرطیکہ تقرب بذبح بسوئے میّت بناشد و سپیدی گوید کہ ''جانور ےکہ نذر اولیا کردہ باشند اگر چہ چنداں نذر  بروجہ حرام قبیح ہم کنند ۔ تاہم درحلت جانورے سخنے نیست'' فکیف کہ نذر اولیا بروجہ حسن باشد چہ جائے آنکہ محض بے نذر ایصال ثواب شودچہ محل آنکہ از ذبح جانور داراقت دم اثر ے نبود۔ ہمیں قراءت قرآنی وتصدّق طعامے بمیان آید ،
یہ لفظ ''پڑھ کر کھلائے'' بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ بہت سے منکرین اسے مدار انکار بناتے ہیں ا ور کہتے ہیں اگر کھلانے اور پڑھنے کا اجتماع جائز نہ  ہوتا تو بھی چاہئے تھا کہ کھلا کر پڑھے نہ کہ ''پڑھ کر کھلائے'' کہ عبث اور باطل ہے____ اس باطل شبہہ کا کامل جواب ہم نے بارقہ شارقہ میں بیان کیا ہے ۔ اسی طرح یہ لفظ ''غوث اعظم'' بھی دل پرلکھ رکھنے کے قابل ہے کہ'' تقویۃ الایمان'' کی رو سے کھلا ہوا شرک ہے ___ طُرفہ تر یہ کہ نادان تبعین تو فاتحہ کے کھانے کو حرام ومردار اور گائے کے گوشت سب کو حلال کہتا ہے بشرطیکہ ذبح سے میّت کی جانب تقرب مقصود نہ ہو ___ اورصاف کہتا ہے کہ ''جو جانور اولیا کی نذر کیا ہو، اگر چہ ایسی نذر حرام قبیح طور پر بھی کرتے ہیں پھر بھی جانور کے حلال ہونے میں کلام نہیں___ پھر اولیاء کی نذر عمدہ طور پر ہو تو حرمت کیسے؟ ___ پھر بغیر نذرکے محض ایصال ثواب ہو تو وہ حرام کیسے؟ ___ پھر جانور کو ذبح کرنے اور خون بھانے کا کوئی نام ونشان بھی نہ ہو صرف قرآن کی قراءت اور طعام کا صدقہ درمیان میں آئے تو اس کے حرام ہونے کا کیا موقع؟ ___
مگر درتقریر مذکور چناں می نگارد،(۹ )اگر شخصے نذر کنند کہ اگر فلاں حاجت من برآید ایں قدر نیاز حضرت سید احمد کبیر بکنم وایں قدر طعام نیاز ایشاں مردم ہم رابخور انم اگر چہ دریں نذر گفتگو ست لیکن طعام حلال است وہمچنیں ست حکم گوشت، مثلاً اگرشخصے بگوید کہ دومن گوشت نذر سب احمد کبیر بعد بعد برآمدن حاجت خواہم خو رانید گوشت حلال است و ا گر بگو کہ گوشت گاو  خوا ہم خورانید نیز درست است واگر بہمیں قصد گاؤ رانذر کند نیز رواست چراکہ مقصودش گوشت ست۔ وہمچنیں اگر گاؤ  زندہ بنا م سید احمد کبیر کسے رابد ہد بطور یکہ نقدمی دہند رواست گوشت آں حلال است ۱؎۔''
تقریر مذکور میں یوں لکھا ہے : (۹) ''اگر کوئی شخص نذر مانے کہ اگر میری فلاں حاجت برآئے تو اس قدر حضرت سید احمد کبیر کی نیاز کروں گا اورا ن کی نیاز کا اتنا کھانا لوگوں کو کھلاؤں گا ____ اگر چہ اس نذر میں کلام ہے مگر کھانا حلال ہے __ یہی حکم گوشت کا بھی ہے __ مثلاً اگر کوئی شخص کہے کہ میں اپنی حاجت برآنے کے بعد سید احمد کبیر کی نذر کا دومن گوشت کھلاؤں گاتو گوشت حلال ہے ___ اور اگر اسی قصد سے گائے کو نذر کرے تو بھی روا ہے __ اس لیے کہ اس کا مقصود گوشت ہے __ اسی طرح اگر زندہ گائے سید احمد کبیر کے نام پر کسی کو دے دے جیسے نقد دیتے ہیں۔ توبھی جائز ہے اور اس کا گوشت حلال ہے ۔''
 (۱؎ رسالہ زبدۃ النصائح)
ہم درآں ست اگرہمیں طور نذر برائے اولیائے گزشتگان قدس اﷲ اسرارہم کند رواست، ایں قدرفرق ست کہ بسبب انتقال از عالم دنیابعالم برزخ منتفع بنقد وجنس و طعام نمی توانند شد بلکہ ثواب صرف آں اﷲ تعالٰی بارواح مطہرہ ایشان میر ساند پس احوال ایشاں درحالت حیات وممات برابرست ۲؎۔''
اُسی میں ہے: ''اسی طرح اگر گرشتہ اولیا اقدس اﷲ اسرارہم کے لیے نذر کرے تو جائز ہے ___ فرق اتنا ہے کہ وہ عالم دنیا سے عالم برزخ میں انتقال کر جانے کے سبب نقد وجنس اور طعام سے نفع اندوز نہیں ہوسکتے بلکہ صرف ان کا ثواب اﷲ تعالٰی ان کی ارواح پاک کو پہنچاتا ہے ___ تو ان کے احوال بحالتِ حیات اور بعد وفات برابر ہیں۔''
 (۲؎ رسالہ زبدۃ النصائح)
بازمی گوید ''(۱۱) اگر نذر کنند کہ بشرطہ برآمدن حاجت خود گاؤ دوسالی فربہ نیاز حضرت غوث الاعظم خواہد کرد۔ پس حکم ایں مثل طعام ست۔ اگر نذر بطریق حسن است خلل نہ واگر قبیح ست فعلش حرام است وحیوان حلال ۳؎۔'' ایں یازدہ قول ست بعد دایام یا زدہم شریف حضرت غوث اعظم قطب اکرم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سہ از ا امام الطائفہ بالاگوشت ودواز شاہ عبدالعزیز صاحب عنقریب می آید وباﷲ التوفیق والہدایۃالٰی سواء الطریق ۔
 (۱۱) آگے لکھا ہے :'' اگر نذر کرے کہ میری حاجت برآئے تو دوسال کی فربہ گائے حضرت غوث اعظم کی نیاز کروں گا __ تواس کا حکم بھی حکم طعام کی طرح ہے۔اگرنذر بطور حسن ہے تو کوئی خلل نہیں، اور اگرقبیح طور پر  ہے توا س کا فعل حرام ہے اور جانور حلال ہے ۔'' یہ گیارہ اقوال ہیں حضرت غوثِ اعظم قطب اکرم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی گیارھویں کے ایام کی تعداد کے برابر ___ اور تین اقوال امام الطائفہ کے اوپر گزرے، اور دوقول شاہ عبدالعزیز صاحب کے عنقریب آرہے ہیں، اور خداہی سے توفیق اور راہ راست کی ہدایت ہے ۔ (ت)
(۳؎ رسالہ زبدۃ النصائح)
Flag Counter