Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
134 - 243
اکنوں آمدیم  برنقل چندا قوال دیگر از کبراء و عمائد و اساتذہ و مشائخ امام الطائفہ تابیباک رواں دانند کہ بے منع شرعی بتحریم فاتحہ زبان کشودن وطعام فاتحہ وشیرینی نیاز بزرگان قدست اسرارہم راحرام  ومراد گفتن چہ کیفر ہاکہ نمی چشاند وکدام بد روز نمی نشاند۔ (۱)شاہ ولی اﷲ در انفاس العارفین از والد خودشاں شاہ عبدالرحیم نقل کنندہ : ''می فرمودند در ایام وفات حضرت رسالت پناہ ـ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم چیزے فتوح نشد کہ نیاز آں حضرت طعام  پختہ شود قدرے نخود بریاں و قندسیاں نیاز کردم ۱؎ا لخ
اب ہم کچھ اور اقوال امام الطائفہ کے بزرگان و عمائد اور اساتذہ کے نقل کرتے ہیں تاکہ ان بے باکوں کو  پتا چلے کہ شریعت سے ممانعت کے بغیر فاتحہ کو حرام بتانے پر زبان کھولنا اور فاتحہ کے کھانے ، بزرگوں کی نیاز کی شیرینی کو حرام ومردار کہنا کیسی سخت سزائیں چکھاتا ہے او رکیسے بُرے دن دکھا تا ہے۔ (۱) شاہ ولی اﷲ انفاس العارفین میں اپنے والد شاہ عبدالرحیم سے نقل کرتے ہیں کہ : '' وہ فرماتے ہیں حضرت رسالت پناہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ایام وفات میں کچھ میسر نہ ہوا کہ آں حضرت کی نیاز کا کھانا پکایا جائے تھوڑے سے بھُنے ہوئے چنے او ر قندسیاہ (گُڑ ) پر نیاز کیا الخ۔'
 (۱؎ انفاس العارفین  (اردو ) حضور کیہ نیاز کی اشیاء کی مقبولیت    المعارف گنج بخش روڈ لاہور    ص۱۰۶)
در  در الثمین فی مبشرات النبی الامین ہمین سخن  راچناں آوردند : الحدیث الثانی العشرون  اخبرنی سیدی الوالد قال کنت اصنع طعاما صلۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلم یفتح لی سنۃ من السنین شی اصنع بہ طعاما فلم اجد الاحمصا مقلیا فقسمتہ بین الناس فرایتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وبین یدیہ ھذا الحمص مبتھجا بشاشا ۲؎ ۔''
الدرالثمین فی مبشرانت النبی الامین میں اسی بات کو یوں نقل کیا ہے: ''بائسیویں حدیث : مجھے سیدی والد ماجد نے بتایا کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نیاز کیلئے کچھ کھانا تیار کراتا تھا ایک سال کچھ کشائش نہ ہوئی کہ کھانا پکواؤں ، صرف بُھنے ہوئے چنے میسر آئے وہی میں نے نقسیم کئے، میں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ ا ن کے سامنے یہ چنے موجود ہیں او رحضور مسرور شادماں ہیں۔''
 (۲؎ الدرالثمین مبشرات البنی الامین                 کتب خانہ علویہ رضویہ فیصل آباد    ص۴۰)
 (۲) شاہ صاحب مذکور درانتباہ فی سلاسل اولیاء اﷲ نویسند : ''برقدرے شیرینی فاتحہ بنام خواجگان چشت عموماً بخوانند وحاجت از خدائے تعالٰی سوال نمایند ۔ ہمیں طور ہر روز مے خواندہ باشند ۱؎ اھ۔'' لفظ شیرینی و فاتحہ ہر روز  ازیاد مرد ۔
یہی شاہ صاحب انتباہ فی سلاسل الاولیاء اﷲ میں لکھتے ہیں : ''تھوڑی شیرینی پرعموما خواجگان چشت کے نام فاتحہ پڑھیں او رخدائے تعالٰی سے حاجت طلب کریں ، اسی طرح روز پڑھتے رہیں''ا ھ شیرینی اور فاتحہ اور ہر روز کے الفاظ ذہن سے نہ نکلیں۔
 (۱؎ الانتباہ فی سلاسل الاولیاء    ذکر طریقہ ختم خواجگانِ چشت    برقی پریس دہلی         ص۱۰۰)
 (۳) او شاہ صاحب مسطور در ہمعات گویند:'' از ینجاست حفظ اعراس مشائخ ومواظبث زیارت قبور ایشاں والتزام فاتحہ خواندن وصدقہ دادن برائے ایشاں ۲؎ ''
 (۳) یہی شاہ صاحب ''ہمات'' میں فرماتے ہیں : '' یہیں سے ثابت ہے کہ اعراس مشائخ کی نگہداشت اور ان کے مزارات کی زیارت پر مداومت او ران کے لیے فاتحہ پڑھنے اور صدقہ دینے کا التزام ۔''
 (۲؎ہمعات        ہمہ ۱۱      اکادیمیۃ الشاہ ولی اللہ حیدر آباد سندھ    ص۵۸)
 (۴) شاہ صاحب مزبور درفتوٰی مندرجہ زبدۃ النصائح گویند: '' اگر ملیدہ شیربرنج بنا بر فاتحہ بزرگے بقصد ایصال ثواب بروحِ ایشاں پزند وبخورانند مضائقہ نیست جائز ست وطعام نذر اﷲ اغنیاء راخوردن حلال نیست واگرفاتحہ بنام بزرگے دادہ شد پس اغنیاء راہم خور دن دراں جائز ست ۳؎۔''
 (۴) یہی شاہ صاحب ''زبدۃالنصائح'' میں مندرج فتوٰی میں لکھتے ہیں: '' اگر کسی بزرگ کی فاتحہ کے لیے ان کی روح مبارک کو ایصال ثواب کے قصد سے ملیدہ اور کھیر پکائیں او رکھلائیں تو مضائقہ نہیں ،۔ جائز ہے۔ ا ورخدا کی نذر کا کھانا اغنیاء کے لیے حلال نہیں۔ لیکن اگرکسی بزرگ کے نام کی فاتحہ دی جائے تو اس میں اغنیاء کو کھانا بھی جائز ہے۔''
 (۳؎ زبدۃ النصائح)
(۵) شاہ صاحب مرحوم در انفاس العارفین نگارند :'' حضرت ایشاں (عہ) درقصبہ ڈاسنہ بزیارت مخدوم اﷲ دیا رفتہ بودند و شب ہنگام بود دراں فرموند مخدوم ضیافت مامی کنند و می گویند کہ چیزے خوردہ روید توقف کرد ند تا آنکہ اثر مردم منقطع شدہ ملال بریاراں غالب آمد آنگاہ  زنے  بیامد طبق برنج و شیرینی برسرو گفت کہ نذر کردہ بودم کہ اگر زوجِ من بیاید ہما ں  ساعت ایں طعام  پختہ بہ نشینندگان درگاہ مخدوم اﷲ دیارسانم دریں وقت آمد  ایفائے نذرکردم  و آرزوکردم کہ کسے آں  جا باشد تا تناول کند ۱؎ ''
 (۵) یہی شاہ صاحب انفاس العارفین میں لکھتے ہیں:''حضرت (یعنی ان کے والد مرشد شاہ عبدالرحیم صاحب) قصبہ ڈاسنہ میں مخدوم اﷲ دیا کی زیارت کے لیے گئے تھے، رات کا وقت تھا، اسی وقت فرمایا کہ مخدوم ہماری دعوت کر  رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ کچھ کھاکر جاؤ، تو قف فرمایا، یہاں تک کہ لوگوں کی آمد و رفت ختم ہوگئی اور دوستوں پر اکتاہٹ غالب آگئی ، اس وقت ایک عورت چاول اور شیرینی کا طبق سر  پر لیے آئی اور کہا میں نے نذر مانی تھی کہ اگر میرے شوہر آجائیں تو اسی وقت یہ کھانا پکا کر مخدوم اﷲ دیا کی درگاہ کے حاضرین کے پاس پہنچاؤں گی ، شوہر اسی وقت آئے میں نے نذر  پوری کی اور میری آرزو  تھی کہ کوئی وہاں موجود ہو جو  اسے تناول کرے۔''
عہ: یعنی والد مرشد ایشاں شاہ عبدالرحیم ۱۲ (م)
یعنی ان کے والد و مرشد شاہ عبدالرحیم ۱۲ (ت)
 (۱؎ انفاس العارفین (اردو)    دعوتِ مخدوم الہ دیہ    المعارف گنج بخش روڈ لاہور    ص۱۱۲)
 (۶) مولٰنا شاہ عبد العزیز صاحب در تحفہ عشریہ فرمایند : '' حضرت امیر  وذریۃ طاہرہ اور  اتمام اُمت بر مثال پیران  و مرشداں می  پر ستند وامور تکو ینہ را وابستہ با یشاں می دانند  وفاتحہ و درود و صدقات و نذر و منت بنام  ایشاں رائج  و معمول گردیدہ چنانچہ ماجمیع اولیاء ہمیں معاملہ است ۲؎ ۔'' ایں عبارت سراپا بشارت کہ حرف حرفش برسر مخالف برقے ست خالف یا ریحے قاصف حرف حرف بخاطر یابد داشت واز مخالفاں  پر سید کہ شاہ صاحب بطور شمار جمیع  اُمۃ را صراحۃً  تجویز  و تحسین نمودہ کافر ومشرک شدند یانہ۔ برتقدیر اول امام الطائفہ اسمٰعیل دہلوی کہ غلامان غلام ومرید مرید ایشاں ست در صراط مسقیم بمدح ایشاں چنانچہ تر زباں ''جناب ہدایت مآب ، قدوۃ ارباب صدق وصفا، زبدہ اصحاب فناء بقا، سید العلماء  وسند اولیاء حجۃ اﷲ علی العارفین، وارث الانبیاء والمرسلین، مرجع کل ذلیل وعزیز مولا نا مرشد نا الشیخ عبدالعزیز ۱؎ ۔''
 (۶) مولانہ شاہ عبدالعزیز صاحب تحفہ اثناء عشریہ میں فرماتے ہیں : ''حضرت امیر المو منین علی مرتضٰی اور  ان کی اولاد پاک کو تمام امت پیروں اور مرشدوں کی طرح مانتی ہے اور امور تکوینیہ ان سے وابستہ جا نتی ہے اور ان کے نام فاتحہ و درود اور صدقات کا معمول ہے اور ایسے ہی تمام اولیاء اﷲ کے ساتھ یہی معاملہ ہے ۔''یہ عبارات سراپا بشارت جس کا ایک ایک حرف مخالف کے سر  پر برقِ خاطف یا تباہ کن بگولا ہے دل میں محفوظ رکھنا چاہئے اور مخالفین سے  پوچھنا چاہئے کہ شاہ صاحب نے تمھارے طور  پر ساری امت کو صاف صاف گمراہ اور مشرک بتایا یا نہیں؟ اور خود اس طرح کی باتوں کو جائز اور عمدہ بتا کر کافر و مشر ک ہوئے  یا نہیں؟ برتقدیر اول، امام الطائفہ اسمٰعیل دہلوی جو ان کے غلاموں کا غلام ، او ران کے مرید کا مرید ہے '' صراط مسقیم'' کے اندر ان کی مدح میں یوں رطب اللسان ہے '' جناب ہدایت مآب، ارباب صدق وصفا کے پیشوا ، اصحاب فناء وبقاء کے خلاصۃ، علماء کے سردار اولیاء کی سند، سارے جہاں  پر اﷲ کی حجت انبیاء ومرسلین کے وارث ہر ذلت و عزت والے کے مرجع ۔ ہمارے آقا اور  ہمارے مرشد شیخ عبدالعزیز ۔''
 (۲؎ تحفہ اثناء عشریہ    الباب ہفتم درامامت    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۲۱۴)

(۱؎ صراط مسقیم    خاتمہ دربیان پارہ الخ    مکتبہ سلفیہ لاہور    ص ۱۶۴)
Flag Counter