Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
133 - 243
رسالہ

الحُجّۃ الفائحۃ لطیب التعین والفاتحۃ (۱۳۰۷ھ)

(دن متعین کرنے اور فاتحہ کے عمدہ ہونے پر عطر بیزحجّت)
بسم اللہ الرحمن الرحیم

مسئلہ ۱۸۳ :سوم ودہم وچہلم وششماہی وسالیانہ کہ دریں دیار ہند مروہ ست ، اور بعض علماء بدعت شنیعہ مکروہہ گویند واقوال چند بردرستی اوست وطعامے کہ بعد موتے بہ نیت ثواب می پژند وہردودست برداشتہ فاتحہ ہندآں راعلماء ظواہر غیر مقلدین بباعث فاتحہ، مردار وحرام دارنستہ گویند ، ایں طریقہ درزمانہ نبوی واصحاب کبار مصطفوی وتابعین واتباع تابعین رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین بنود بلکہ طعام وشیرینی کہ نیاز بزرگان دین است مثل مردار پس دریں مسئلہ ہر چہ حکم شرعی واجب التعمیل باشد بیان فرمایند بسند کتاب ۔ بّینوا توجروا
تیجہ ، دسواں ، چالیسواں، چھ ماہی، برسی جو دیار ہند میں رائج ہے اسے بعض علماء مکروہ بدعت شنیعہ کہتے ہیں، اور کچھ کے اقوال یہ ہیں کہ وہ درست ہے۔ اور کسی موت کے بعد ثواب کی نیت سے جوکھانا پکاتے ہیں اور دونوں ہاتھ اٹھا کر فاتحہ دیتے ہیں اس کو غیر مقلد ظاہری علماء فاتحہ کی وجہ سے مردار اور حرام جانتے ہیں، وہ کہتے ہین کہ یہ طریقہ حضور بنی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ،ان کے بزرگ اصحابہ ، تابعین ا ور اتباع تابعین رضوان اﷲ تعالٰی اجمعین کے زمانے میں نہ تھا۔ بلکہ بزرگان دین کی نیاز کے لیے جو کھانا او ر شرینی ہے وہ مردار کی طرح ہے ___ تو اس مسئلہ میں جو واجب العمل حکم شرعی ہو کتاب کے حوالہ سے بیان فرمائیں۔ بیان کریں ا ور اجر پائیں۔ (ت)
الجوب: قول فیصل وسخن مجمل درین باب آنست کہ ایصال ثواب وہدیہ اجر بامواتِ مسلمین باجماع کافہ اہلسنت وجماعت امریست مرغوب ودر شرع مندوب۔ احادیث بسیار  از حضور سید الابرار علیہ افضل الصلٰوۃ من ملک الجبار  ودر ترغیب وتصویب ایں کاروارد شد۔ امام علامہ محقق علی الا طلاق در فتح القدیر وامام علامہ فخرالدین زیلعی در نصب الرایہ وامام علامہ جلا الدین سیوطی در شرح الصدور و فاضل علامہ علی قاری درمسلک متقسط وغیرہم فی غیر ہا بذکر برخی ازانہا پر داختہ اند وخود انکار  ایں کارنیا ید مگر از سفیہ جاہل یا ضال مطلق مبتد عان زمانہ راکہ خون پنہاں معتزلیت بجوش آمدہ است درپردہ ترخیص نیابت وتخصیص وکالت ، اہدائے ثواب را انکار کنندہ و پیش خویش اجماع قطعی اہلسنت را برہم زنند بازبشہادت احادیث کثیر  وجزم تصحیح جمہور ائمہ وصول ثواب خاص بقربات مالیہ نیست بلکہ مالیہ وبدنیہ ہر دور اعام  ہمیں ست مذہب ائمہ حنفیہ و بریں اند بسیارے از محققین شافعیہ وعلیہ الجمھور  و ھو الصحیح الرجیح المنصور باز  اجماع ایں ہر دو کہ ہم قرآن خوانند وہم تصدق کنند وثواب ہر دو بمسلماناں رسانند نیست مگر جمع حسن باحسن ومندوب وزنہار یکے بعد دیگرے منافی نیست کا لتلاوۃ من المصحف فی الصلٰوۃ نہ شرعی بانکار ایں جمع و ارشد کقراءۃ القراٰن فی الرکوع والسجود پس اور امحذور گفتن از دائرہ عمل بیرون رفتن ست۔
اس باب میں قول فیصل او ر اجماع کلام یہ ہے کہ مسلمان مُردوں کو ثواب پہنچانا اور اجر ہدیہ کرنا ایک پسندیدہ اور شریعت میں مندوب امر  ہے جس  پر تمام اہل سنت وجماعت کا اجماع ہے ___ اس عمل کو درست قراردینے او ر اس کی رغبت دلانے سے متعلق حضور سید الابرار علیہ الصلٰوۃ والسلام سے بہت سی حدیثیں وارد ہیں __ جن میں سے کچھ احادیث امام علامہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں امام علامہ فخرالدین زیلعی نے نصب الرایہ میں امام علامہ جلال الدین سیوطی نے شرح الصدور میں فاضل علامہ علی قاری نے مسلک متقسط میں اور دوسرے حضرات نے دوسری کتابوں میں بیان فرمائی ہیں ___ اس  عمل کا انکار  وہی کرے گا جو بے وقوف جاہل یا گمراہ صاحب باطل ہو __ اس  زمانہ کے  بدمذہبوں میں معتزلیت کا چُھپا ہوا خون جوش میں آگیا ہے معتزلہ کی نیابت اورخصوصی وکالت کے پردے میں ایصال ثواب کے منکر ہیں اور خود اہلسنت کے اجماع قطعی کے مخالف ہیں ۔ پھر احادیث کثیرہ کی شہادت او ر جمہور ائمہ کے جز م اور تصحیح سے ثابت ہے کہ ثواب پہنچنا قربتِ مالی سے خاص نہیں بلکہ مالی وبدنی دونوں کو عام ہے __ یہی ائمہ حنفیہ کا مذہب ہے ا ور اسی  پر بہت سے محققین شافعیہ بھی ہیں او ر اسی  پر جمہور  ہیں۔

اور یہی صحیح ، راجح اور نصرت یافتہ مسلک ہے۔ پھر بدنی ومالی دونوں کو جمع کرنا ا س طرح کہ قرآن بھی پڑھیں، صدقہ بھی کریں ،ا ور دونوں کا ثواب مسلمانوں کو پہنچائیں، یہ حسن کو حَسن او رمندوب کو مندوب کے ساتھ یکجا کرناہی توہے، ہر گز  ان دونوں میں کوئی منافات نہیں، جیسے نماز کے اند ر مصحف دیکھ کر تلاوت کرنے میں ہے، نہ ہی شریعت میں اس جمع سے منع وارد ہے جیسے رکوع وسجود میں قراءت قرآن سے متعلق ہے، پھر اس کو ممنوع ٹھہرانا عقل کے دائرے سے قدم باہرلانا ہے۔
امام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ العالی دراحیاء العلوم فرماید اذا لم یحرم  الآحاد فمن این یحرم المجموع ۱؎ ؟ وہمدرانست ان افراد المباحات اذا اجمتمعت کان ذلک المجموع مباحا ۲؎،
امام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں: جب الگ الگ افراد حرام نہیں تو مجموعہ کہاں سے حرام ہوجائے گا! ___ ا ور اسی میں ہے : جب مباحات کے افراد مجتمع ہوں تو مجموعہ بھی مباح ہی ہوگا __
 (۱؎ احیاء العلوم    کتاب آداب السماع والوجد    مکتبہ ومطبعہ الشہد الحسینی قاہرہ    ۲ /۲۷۳)

(۲؎ احیاء العلوم    کتاب آداب السماع والوجد    مکتبہ ومطبعہ الشہد الحسینی قاہرہ    ۲ /۲۷۳)
تمام تحصیل این اصل انیق امام المدققین ختام المحققین حضرت والدقدس سرہ الماجد درکتاب مستطاب ''اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد'' ارشاد فرموندہ اندو این معنی را از حدیث صحاح استنباط نمودہ، من شاء فلیتشرف بمطالعتہ، وخود معلّم اول طائفہ مانعیں مولوی اسمٰعیل دہلوی  راخوبی این اجمتاع قرآن وطعام مقبول ومسلم است وصراط مستقیم چناں راہ اعتراف وتسلیم پوید ، ''ہرگاہ ایصال نفعے بمیّت منظور دار د موقوف بر اطعام نہ گزارد اگر میسر باشد بہتر است و الاصرف ثواب سورہ فاتحہ و اخلاص بہترین ثواب ہاست ۳؎ اھ وشک نیست کہ طریقہ ایصال ثواب دعا بجناب رب الارباب ست جل جلالہ۔
اس عمدۃ قاعدے کا پورا بیان اہل تدقیق کے  پیشوا، اہل تحقیق کی مہر، حضرت والد قدس سرہ، نے کتاب مستطاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد میں کیا ہے اور صحاح کی حدیث سے اس معنٰی کا استنباد فرمایا ہے۔ جو چاہے ا س کے مطالعہ سے مشرف ہو __ خودطائفہ مانعین کے معلم اول مولوی اسمٰعیل دہلوی کو قرآن اور طعام کی اس یکجائی کا عمدہ ہونا قبول وتسلیم ہے، صراط مستقیم میں یوں اقرار و تسلیم کی راہ اختیار کی ہے: '' جب میّت کو کوئی فائدہ پہنچانامنظور  ہو کھانا کھلانے  پر موقوف نہ رکھے اگر میسر ہو بہتر ہے ورنہ صرف سورہ فاتحہ واخلاص کا ثواب بہترین ثواب ہے اھ ''___  ا ور شک نہیں کہ ایصال ثواب کا طریقہ یہی ہے کہ رب الارباب جل جلالہ کی باگاہ میں دعا ہو ۔
 (۳؎ صراطِ مستقیم    ہدایت ثالثہ دربدعا تیکہ الخ    مطبوعہ المکتبہ السلفیہ لاہور    ص۶۴)
امام الطائفہ درصراط مسقیم گوید '' ہر عبادتیکہ از مسلمان ادا شود ثواب آں  بروح کسے از گزشتگان برساند وطریق رسانیدن آں دعائے خیر بجناب الٰہی ست پس ایں خود البتہ بہتر  و مستحسن است ۱؎ الخ دو  دست برداشتن از آداب مطلق دُعاست در حصن حصین فرماید اٰداب الدعا منھا بسط الیدین ۔ ت مس : ورفعھا ۲؎ یعنی ہر دودست برداشتن بحکم حدیث صحاح ستہ از آداب دُعا است و از ائمہ وعلمائے ماچہ گوئی خود معلم ثانی طوائف منکرین درمسائل اربعین گوید '' دست برداشتن برائے دعاوقت تعزیت ظاہرا جواز  است زیرا کہ رفع یدین در دعا مطلقا ثابت شدہ پس دریں وقت  ہم مظائقہ نہ دارد ولیکن تخصیص آں برائے دعا وقت تعزیت ماثورہ نیست ۳؎ اھ''
امام الطائفہ نے صراط مسقیم میں لکھا ہے : ''جو عبادت کسی مسلمان سے ادا ہو او ر اس کا ثواب گزرے ہوئے لوگوں میں سے کسی کی روح کو پہنچائے ،ا ور اس کے پہنچانے کا طریقہ جنابِ الٰہی میں دعا ہے تویہ خو دبلاشبہ بہتر اور مستحسن ہے الخ''  اور ہاتھ اٹھانا  مطلق دعا کے آداب سے ہے ___ حصن حصین میں ہے : ''دعا کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ ہاتھوں کو پھیلائے ( ترمذی ، مستدرک حاکم) او ربلند کر ے ( صحاح ستّہ) ۔''معلوم  ہواکہ دونوں ہاتھ اٹھانے کا آداب دعا سے ہونا صحاح ستّہ کی حدیث سے ثابت ہے۔ ہمارے ائمہ اور  علماء کی کیا بات ہے خود طوائف منکرین کے معلم ثانی نے مسائل اربعین میں لکھا ہے : ''وقتِ تعزیت کی دعا میں ہاتھ اٹھانا ظاہر یہی ہے کہ جائز ہے ا س لیے کہ حدیث شریف سے مطلقاً دعا میں ہاتھ اٹھانا ثابت ہے تو اس وقت میں بھی کوئی مضائقہ نہ ہوگا ، مگر خاص وقتِ تعزیت کے لیے ہاتھ اٹھانا آثار میں منقول نہیں، اھ''
 (۱؎ صراط مسقیم    ہدایت اولٰی درذکر بدعا تیکہ الخ    المکتبہ السلفیہ لاہور    ص۵۵)

(۲؎ حصن حصین    آداب الدعائ        افض المطابع لکھنؤ    ص۱۷)

(۳؎ مسائل اربعین)
ببینید با آنکہ خصوصیات راغیر ماثور گفت اما بدلیل اطلاق استظہار جواز کرد۔  و در فعل او ہیچ  مضائقہ ندید ۔بالجملہ ازیں امور زنہار چیزے نیست کہ در شرع مطہرہ مستنکرات باشد ومجرد عدم درود خصوصیات رامطلقا مستلزم منع دانستن غلطی ست واضح وجہلے فاضح فقیر بعون القدیر ایں مبحث را در مجموعہ مبارکہ "البارقۃ الشارقۃ علٰی مارقۃالمشارقۃ"  روشن ترگفتہ۔ام وعلمائے سنت بارہا ایں مدعیان راتاخانہ رساندہ وبرخاک مذلت نشاندہ اند، حاجت تفصیل وتطویل نیست ،  اما آنچہ امام الطائفہ باوجود تسلیم عدم  ورود دریں باب گفتہ است شنیدن دارد، در تقریر ذبیحہ مطبوع رسالہ زبدۃ النصائح می گوید '' ہمہ او صناع از قرآن خوانی وفاتحہ خوانی و طعام خورانیدن سوائے کندن چاہ وامثال ودعائے واستغفار  واضحہ بدعت است، گو بد عت حسنہ بالخصوص است مثل معانقہ روز عید ومصافحہ بعد نماز صبح یا عصر ۱؎ اھ'' ارباب طائفہ امام خود شاں  پر سندکہ با آنکہ ایں طریقہ ہا را عموماً فاتحہ خوانی راخصوصاً بدعت ومحدث میدانی چہ گونہ حسنہ می گوئی وخلاف طائفہ راہ می پوئی، باز ذکر معانقہ عید سنگ آمدد سخت آمد، آرے تلون این امام متبعانش راکار بجان وکار با استخواں رساندہ است ولاحول ولاقوۃ الاّ با اﷲ العلی وکلام معلم ثانی حالا گزشت کہ باوجود عدم ثبوت خصوصیت مضائقہ نہ دانست۔
دیکھئے خصوصیت کو غیر ماثور بتانے کے باوجود ، دلیل اطلاق سے جواز کو ظاہر کہا اور ا س کے کرنے میں کبھی بھی کوئی چیز  بُری نہیں ہوتی، اور ان خصوصیات کے صرف وارد نہ ہونے کو مستلزم ممانعت سمجھنا تو ایک کھلی ہوئی غلطی اور شرمناک جہالت ہے۔ فقیرنے رَبِّ قدیر کی مدد سے یہ بحث '' البارقۃ الشارقۃ علٰی مارقۃ المشارقۃ'' میں زیادہ روشن طور  پر تحریر کی ہے ۔اور علمائے سنت نے بارہا  ان مدعیوں کو گھر تک پہنچایا اور خاکِ ذلت پر بٹھایا ہے، تفصیل و تطویل کی ضرورت نہیں ۔ لیکن امام الطائفہ نے اس باب میں عدم ورود تسلیم کرنے کے باوجود جو کچھ لکھا ہے وہ سننے کے قابل ہے۔ رسالہ ''زبدۃ النصائح'' میں طبع شدہ تقریر ذبحہ میں لکھا ہےـ: '' کنواں کھودنے اور اس جیسے کاموں اور دعا ، استغفار ، قربانی کے سوا قرآخوانی ، فاتحۃ خوانی، کھانا کھلانا سب طریقے بدعت ہیں، گو خاص بدعت حسنہ ہیں، جیسے عید کے دن معانقہ او ر نماز صبح یا عصر کے بعد مصافحہ۔'' ارباب طائفہ خود اپنے امام سے  پوچھیں کہ ان طریقوں کو عموماً اور فاتحہ خوانی کوخصوصاً بدعت اور نو ایجاد قراردینے کے باوجود '' حسنہ'' کیسے کہتے ہو؟ __ اور ہمارے گروہ کے خلاف کیسے جاتے ہو؟  پھر معانقہ عید کا ذکر تو ''سنگ آمد وسخت آمد'' ان کے لیے بڑی سخت چٹان ہے ___ ا س امام کو تلون مزاجی سے اس کے متبعین کی جان واستخوان پر بَن آتی ہے او ر ان کا سارا کام ہی تمام کردیاہے ولاحول ولاقوۃ الاﷲ بااﷲ العلی العظیم ___ اور معلم ثانی کا کلام ابھی گزرا کہ خصوصیت ثابت نہ ہونے کے باوجود کوئی مضائقہ نہ جانا ۔ (ت)
(۱؎ رسالہ زبدۃ النصائح)
Flag Counter