مسئلہ۱۸۲: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فاتحہ بہیئت مروجہ کہ کھانا سامنے رکھ کر درود و قرآن پڑھ کر ثواب اس کا بنام میّت کرتے ہیں او روہ کھانا محتاج کو دے دیتے ہیں جائز ہے یا نہیں؟ زید کہتا ہے کہ کھانا محتاج کو دینے سے پہلے ثواب میت کو نہیں پہنچاسکتے، لہذا پہلے کھانا دے اس کے بعد ثواب پہنچائے، اور کہتاہے کہ کھانا سامنے رکھ کر ناجائز وناروا ہے۔ آیا قول اس کا صحیح ہے یا غلط؟ بینوا توجروا (بیان کرو اور اجرا پاؤ۔ ت)
الجواب: فاتحہ بہیئت مروّجہ جس طرح سوال میں مذکور ، بلاریب جائز ومستحسن ہے ۔ اہلسنت کے نزدیک اموات کو ثواب پہنچانا ثابت ہے۔ او راس میں حدیثیں صحیح او ر روایتیں فقہی معتبر بہ کثرت وار۔ باقی رہا طعام اور قرآن کا جمع، خود ان کے امام الطائفہ معلمِ ثانی اسمٰعیل دہلوی نے صراط مسقیم میں اس اجتماع کو بہتر کہا۔
کما حیث قال :
ہرگاہ ایصال نفع بمیّت منظور دارد موقوف براطعام نہ گزارد ، اگر میسر باشد بہتر ست والاّ صرف ثوابِ سُورۃ فاتحہ واخلاص بہترین ثوابہا ست ۱؎ ۔
جب میّت کو نفع پہنچانا منظور ہو کھا نا کھلانے پر ہی موقوف نہ رکھے، اگر میسر ہو تو بہتر ورنہ صرف سُورہ فاتحہ واخلاص کا ثواب بہترین ثواب ہے ۔ (ت)
اور قبل اس کے کہ صدقہ محتاج کے ہاتھ میں پہنچے ثواب اس کا میّت کو پہنچانا جائز ، اور حدیث سیدنا سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے کہ سنن ابی داؤدو سنن نسائی میں مروی ثابت:
انہ قال یا رسول اﷲ ان اُم سعد ماتت فای الصدقۃ افضل قال الماء قال فحفر بیر اوقال ھذہ لام سعد ۲؎ ۔
یعنی انھوں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی کہ یا رسول اﷲ ! میری ماں نے انتقال کیا تو کون ساصدقہ افضل ہے؟ فرمایا: پانی ۔ انھوں نے کُنواں کھود کرکہا: یہ مادر سعد کے لیے ہے ۔ (ت)
(۲؎ سُنن ابی داؤد کتاب الزکٰوۃ باب فی فضل سقی المائ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۳۶)
(سنن النسائی کتاب الوصایا فضل الصدقۃ عن المیّت نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۱۳۳)
اس سے صاف متبادریہ کہ کُنواں تیار ہوجانے پر یہ الفاظ کہے، اورایک دو دن یا دس بیس برس بھی سہی تو صرف اس قدر پانی کا ثواب پہنچانا منظور تھا جو اس وقت آدمیوں جانوروں کے صَرف میں آیا، حاشا بلکہ جب تک کُنواں باقی رہے بحکم ھذہ لا م سعد سب کا ثواب مادر سعد کوپہنچے گا، اور سب کا ایصال منظور توتھا تو قبل تصرف ایصال ثواب ہر طرح حاصل،۔ او رخود احادیث مرفوعہ کثیرہ سے ثابت کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ثواب عمل قبول ایصال فرمایا۔ اور فقیر نے انھیں حدیثوں سے کھاناسامنے رکھنے کی اصل استنباط کی جس کی تفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے۔
رواہ البیھقی عن انس والطبرانی فی الکبیر عن سھل بن سعد وھو العسکری فی الامثال عن النواس بن سمعنان والدیلمی عن ابی موسٰی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنھم وزادان اﷲ عزوجل لیعطی العبد علٰی نیتہ مالایعطیہ علی علمہ وذلک ان النیۃ لاریاء فیھا والعمل یخالطہ الریاء ۱؎ ھذ ا الحدیث الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
(اسے بیہقی نے حضرت انس سے اور طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت سہل بن سعد سے اور طبرانی وعسکری نے امثال میں نواس بن سمعان سے اور دیلمی نے حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کیا، اس میں اتنا اور ہے ۔ ت) بیشک اللہ عزوجل بندہ کو اس کی نیت پر وہ ثواب دیتا ہے جوا س کے عمل پر نہیں دیتا۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ نیت میں ریاء نہیں ہوتی او رعمل کے ساتھ ریا کی آمیزش ہوجاتی ہے۔ یہ حضرت اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث ہے جو انھوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی ۔ (ت)
(۱؎ الفردوس بماثور الخطاب حدیث ۶۸۴۳ دارالکتاب العلمیۃ بیروت ۴ /۲۸۶)
زید کہ اسے ناجائز کہتا ہے حدیث کی مخالفت کرتا ہے۔ طرفہ تر یہ کہ خود امام الطائفہ میاں اسمٰعیل دہلوی ا پنی تقریر ذبیحہ میںاس تقریر وہابیہ کو ذبح کر گئے۔ لکھتے ہیں :
اگرشخصے بزے راخانہ پرور کند تاگوشت او خوب شود اور اذبح کر دوپختہ فاتحہ حضرت غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ خواندہ بخوراند خللے نیست ۲؎ ۔
اگوکوئی شخص کوئی بکری گھر پالے تاکہ اس کا گوشت عمدہ ہو پھر اس کو ذبح کرکے اور پکاکر حضرت غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی فاتحہ پڑھ کر کھلائے تو کوئی خلل نہیں ہے۔(ت)
(۲؎ زبدۃ النصائح)
ان حضرت سے پوچھا ہوتا کہ یہ
''فاتحہ خواندہ بخواندہ''
(فاتحہ پـڑھ کر کھلائے ۔ت) کیسی،
'' خوراندہ فاتحہ بخواندہ''
(کھلا کر فاتحہ پڑھے ۔ت) کہا ہوتا۔
اقول: بات یہ ہے کہ فاتحہ ایصال ثواب کا نام ہے، اور مومن کو عمل نیک کا ایک ثواب اس کی نیت کرتے ہی حاصل ، او ر عمل کیے پر دس ۱۰ ہوجاتا ہے، جیسا کہ صحیح حدیثوں میں ارشاد ہوا ۔ بلکہ متعدد حدیثوں میں فرمایا گیا کہ:
نیۃالمومن خیر من عملہ ۳؎
مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے،
(۳؎ الفردوس بماثور الخطاب حدیث ۶۸۴۳ دارالکتاب العلمیۃ بیروت ۴ /۲۸۶)
فاتحہ میں دو عمل نیک ہوتے ہیں: قرأتِ قرآن واطعام طعام۔ طریقہ مرّوجہ میں ثواب پہنچانے کی دعا اس وقت کرتے ہیں جب کہ کھانا دینے کی نیت کرلی۔ اور کچھ قرآن عظیم پڑھ لیا تو کم سے کم گیارہ ثواب اس وقت مل سکے۔ د س ثواب قراءت کے اور ایک نیتِ اطعام کا۔ کیا انھیں میّت کو نہیں پہنچاسکتے؟ رہا کھانا دینے کا ثواب ۔ وہ اگر چہ اس وقت موجود نہیں تو کیا ثواب پہنچانا شاید ڈاک یاپارسل میں کیسی چیز کا بھیجنا ہوگا جب تک وہ شے موجود نہ ہوکیا بھیجی جائے۔ حالانکہ اس کا طریقہ صرف جناب باری میں دعا کرنا ہے کہ وہ ثواب میّت کو پہنچائے ، خود امام الطائفہ صراط مسقیم میں لکھتا ہے :
کیا دعا کرنے کے لیے بھی اُس شے کا موجودفی الحال ہونا ضروری ہے۔ مگر ہے یہ کہ جہالت سب کچھ کراتی ہے، اور وقتِ فاتحہ کھانے کا قاری کے پیش نظر ہونا اگر چہ بیکار بات ہے مگر اس کے سبب سے وصولِ ثواب یا جواز فاتحہ میں کچھ خلل نہیں۔ جو اسے ناجائز وناروا کہے، ثبوت اس کا دلیل شرعی سے دے ورنہ اپنی طرف سے بحکم خدا ورسول کسی چیز کو ناروا کہہ دینا خدا ورسول پر افتراء کرنا ہے۔ ہاں اگر کسی شخص کایہ اعتقاد ہے کہ جب تک کھانا سامنے نہ کیاجائے گا ثواب نہ پہنچے گا، تویہ گمان اس کا محض غلط ہے۔ لیکن نفسِ فاتحہ میں اس اعتقاد سے بھی کچھ حرف نہیں آتا۔
ومن ادعی فعلیہ البیان
(اور جو دعوٰی کرے بیان اس کے ذمہ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم