Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
131 - 243
الحمداﷲ ا ب تو وضوحِ حق میں کچھ کمی نہ رہی۔ ذرا یہ بھی دیکھ لیجئے کہ ہمارے علماء نے خروج زن کے چند مواضع گنائے جن کا بیان ہمارے رسالہ
مروج النجالخروج النساء (۱۳۱۵ھ)
میں ہے۔ اور صاف فرمادیا کہ ان کے سوا میں اجازت نہیں ۔ اور اگر شوہر اذن دے گا تو دونوں گنہگار ہوں گے،
درمختار میں ہے :
لاتخرج الالحق لھا اوعلیھا اولزیارہ ابویھا کل جمعۃ مرۃ اوالمحارم کل سنۃ ولکونھا قابلۃ اوغاسلۃ لافیہا عدا ذلک وان اذن کان عاصین۱؎ ۔
عورت نہ نکلے مگر اپنے حق کے لیے یا اپنے اوپر کسی حق کے سبب ، یا ہر ہفتہ میں ایک بار والدین کی ملاقات کے لیے۔ یاسال میں ایک بار دیگر محارم کی ملاقات کے لیے۔ یا اس وجہ سے کہ وہ دایہ یا میّت کو نہلانے والی ہے۔ ان کے علاوہ صورتوں میں نہ نکلے۔ اگرشوہر نے اجازت دی تو دونوں گنہگار ہوں گے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار        کتاب النکاح    باب المہر        مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۰۲)
نو ازل امام فقیہ ابواللیث وفتاوٰی خلاصہ وفتح القدیر وغیر ہا میں ہے :
یجوز للخروج ان یأذن لھا بالخروج الٰی سبعۃ مواضع اذا استأذنتہ زیارۃ الابوین وعیادتھا وتعزیتھما اواحدھما وزیارۃ المحارم فان کانت قابلۃ او غاسلۃ اوکان لہاعلی اٰخرحق اوکان لاخر علیھا حق تخرج بالاذن ولغیر الاذن والحج علی ھذا وفیما عدا ذلک من زیارۃ الاجانب وعیادتھم والولیمۃ لایأذن لھا لواذن وخرجت کانا عصیین ۲؎ ۔
شوہر عورت کو سات مقامات میں نکلنے کی اجازت دے سکتا ہے: (۱) ماں باپ دونوں یا کسی ایک کی ملاقات (۲) ان کی عیادت (۳) ان کی تعزیت (۴) محارم کی ملاقات (۵) اور اگر دایہ ہو (۶) یامُردہ کو نہلانے والی ہو (۷) یا اس کا کسی دوسرے پر حق ہو یا دوسرے کا ا س کے اوپر حق ہو تو اجازت سے اور بلااجازت دونوں طرح جاسکتی ہے۔ حج بھی اسی حکم میں ہے۔ ان کے علاوہ صورتیں جیسے اجنبیوں کی ملاقات ، عیادت اور ولیمہ ان کے لیے شوہر اجازت نہ  دے اور اگر اجازت دی اور عورت گئی تو دونوں گنہگار ہوں گے ۔ (ت)
 (۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی    المجنس الخامس فی خروج المرأۃ من البیت    مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۲ /۵۳)
ملاحظہ ہوں ان میں کہیں زیارت قبور کا بھی استثناء کیا، کیا یہ استثناء کسی معتمد کتا ب میں مل سکتا ہے۔
 (۱۳) اقول وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الٰی ذری التحقیق
 (میں کہتا ہوں__ اور توفیق خداہی سے ہے۔ اور اسی کی مدد سے تحقیق تک رسائی ہے۔ ت)
ان تمام مباحث جلیلہ سے بحمد اﷲ تعالٰی ایک جلیل ودقیق توفیق انیق ظاہر ہوئی، عام مجوزینِ نفس زیارت قبر لکھتے ہیں کہ ا س کی اجازت عورتوں کو بھی ہوئی، زیارت قبور کے لیے خروج نساء نہیں کہتے میں  عام کتب میں اسی قدر   ہے اور مانعین زیارت قبر کے لیے عورتوں کے جانے کو منع فرماتے ہیں، ولہذا خروج الی المسجد کی ممانعت سے سند لاتے ہیں، اور ان کے خروج میں خوف فتنہ سے استدلال فرماتے ہیں۔تمام نصوص کہ ہم نے ذکر کیےاسی طرف جاتے ہیں، تو اگر قبر گھر میں ہو یاعورت مثلاً حج یا کسی سفرِ حائز کو گئی راہ میں کوئی قبر ملی اس کی زیارت کرلی بشرطیکہ جزع وفزع وتجدید حزن وبکار ونوحہ وافراط وتفریط ادب وغیرہا منکراتِ شرعیہ سے خالی ہو۔ کشف بزدوی میں جن روایات سے صحتِ رخصت پرا ستناد فرمایا ان کا مفاد اسی قدر ہے ۔
حیث قال والاصح ان الرخصۃ ثابتۃ للرجال والنساء جمیعا فقد روی ان عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کانت تزور قبر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی کل وقت وانھا لما خرجت حاجۃزارت قبرا اخیھا عبدرالرحمٰن ۱؎ ۔
وہ فرماتے ہیں اصح یہ ہے کہ رخصت مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ثابت ہے اس لیے کہ مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا ہر وقت قبر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی زیارت کرتی تھیں اور جب حج کو جاتیں تو راہ میں واقع اپنے بھائی عبدالرحمن کی قبرکی زیارت کرتیں۔ (ت)
 (۱؎ کشف الاسرار عن اصول البزدوی    بیان جواز زیارۃ القبور للنسائ    دارالکتاب العربی بیروت    ۳ /۱۸۶)
بحرالرائق وعا لمگیری  وجامع الرموز ومختار الفتاوٰی وکشف الغطاء وسراجیہ ودرمختار وفتح المنان کی عبارتیں جن سے تصحیح المسائل میں استناد کیا۔ ہمارے خلاف نہیں۔ ہاں مأتہ مسائل پر رد ہیں جس میں مطلق کہاتھا :
زنان را زیارت قبور بقول اصح مکروہ تحریمی ست ۲ ۔
عورتوں کے لیے زیارت قبور بقول اصح مکروہ تحریمی ہے۔ (ت)
 (۲؎ مأتہ مسائل    )
لاجرم وہی درمختار جس میں تھا۔
لابأس بزیارۃ القبور للنساء ۳؎
( عورتوں کے لیے زیارت قبور میں کوئی حرج نہیں۔ ت)
 (۳؎ درمختار            باب صلٰوۃ الجنائز        مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۲۴)
اسی میں ہے :
ویکرہ خروجھن تحریما ۴؎
(عورتوں کا نکلنا مکروہ تحریمی ہے ۔ت)
 (۴؎ درمختار            باب صلٰوۃ الجنائز        مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۲۴)
وہی بحراالرائق جس میں تھا :
الاصح ان الرخصۃ لھما ۱؎
(اصح یہ  ہے کہ رخصت مردوں عورتوں دونوں کے  لیے ثابت ہے۔ت)
 (۱؎ بحرالرائق     کتاب الجنائز    فصل السلطان احق بصلٰوۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۱۹۰)
اسی میں ہے :
لاینبغی للنساء ان یخرجن فی الجنازۃ لان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نھا ھن عن ذلک وقال انصر فن مازورات غیر ماجورات ۲؎ ۔
عورتوں کو جنازے میں نہ جانا چاہیے اس لئے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کے لیے اس سے ممانعت کی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ اگر جائیں تو ثواب سے خالی گناہ سے بھاری ہوکر پلٹیں گی۔ (ت)
 (۲؎بحرالرائق     کتاب الجنائز    فصل السلطان احق بصلٰوۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی      ۲ /۱۹۲)
اتباع جنازہ کو فرض کفایہ ہے جب اس کے لیے ان کا خروج ناجائز ہوا تو زیارت قبور کہ صرف مستحب ہے اس کے لیے کیسے جائز ہوسکتا ہے۔ پھر نفس زیارت قبر جس کے لیے عورت کا خروج نہ ہو اس کا جواز بھی عندا لتحقیق فی نفسہٖ ہے کہ جن شروط مذکورہ سے مشروط ان کا اجتماع نظر بعاوت زنانِ نادر ہے ا ورنادر پر حکم نہیں ہوتا۔ تو سبیل اسلم اس سے بھی روکنار ہے۔
ردالمحتار و منحۃ الخالق میں ہے :
ان کان ذلک لتجدید الحزن والبکاء والندب علی ماجرت بہ عادتھن فلا یجوز علیہ حمل حدیث لعن اﷲ زائرات القبور وان کان للاعتبار والترحم من غیر بکاء والتبرک بزیارۃ قبور الصالحین فلا بأس اذاکن عجائز ویکرہ اذاکن شواب کحضور الجماعۃ فی المسجد اھ زادفی ردالمحتار وھو توفیق حسن۳؎ اھ وکتبت علیہ اقول قد علم ان الفتوی علی المنع مطلقا ولو عجوز اولو لیلا فکذلک فی زیارۃ القبور بل اولی۔
اگر یہ زیارت غم تازہ کرنے اور رونے چلانے کے لیے ہو جیسا کہ عورتوں کی عادت ہے تو ناجائز ہے اور اسی پر یہ حدیث محمول ہے: ''خدا کی لعنت ان عورتوں پر جو قبروں کی زیارت کوجائیں'' اور اگر عبرت حاصل کرنے ، روئے بغیر رحم کھانے اور قبور صالحین سے برکت لینے کے لیے ہو تو جماعت مسجد کی حاضری کی طرح بوڑھیوں کے لیے حرج نہیں اور جوانوں کے لیے مکروہ ہے اھ __ ردالمحتار میں مزید اتنا اور ہے کہ ''یہ عمدہ تطبیق ہے اھ'' ا س پر میں نے (امام احمدرضانے) یہ حاشیہ لکھا ہے : اقول معلوم ہے کہ فتوٰی اس پر ہے کہ جماعتوں کی حاضری عورتوں کے لیے مطلقاً ممنوع ہے اگرچہ بوڑھی عورت ہو اور اگر چہ رات کو نکلے۔ تو یہی حکم زیارت قبور میں بھی ہوگا بلکہ یہاں بدرجہ اولٰی ہوگا۔ (ت)
 (۳؎ ردالمحتار    مطلب فی زیارۃ القبور     ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر    ۱ /۶۰۴)
 (۱۴) آپ نے ایک صورت شیخ فانی مرتعش سے پردے کے اندر توجہ لینے کی ذکر کی ہے ۔ اس میں کیا حرج ہے، جبکہ خارج سے کوئی فتنہ نہ ہو، نہ اسے یہاں سے علاقہ۔

(۱۵) مگروہ جو عورت کا خلیفہ ہونا لکھا ، صحیح نہیں، ائمہ باطن کا اجماع ہے کہ عورت داعی الی اللہ نہیں ہوسکتی۔ ہاں تدابیر ارشاد کردہ مرشد بتانے میں سفیر محض ہو تو حرج نہیں۔
امام شعرانی میزان الشریعۃ الکبرٰی میں فرماتے ہیں:
قد اجمع اھل الکشف علٰی اشتراط الذکورۃ فی کل داع الی اللّٰہ ولم یبلغنا ان احدا من نساء السلف الصالح تصدرت لتربیۃ المریدین ابد النقص للنساء فی الدرجۃ وان وردالکمال فی بعضھن کمریم بنت عمران واٰسیۃ امرأۃ فرعون فذلک کمال بالنسبۃ للتقوی والدین لابالنسبۃ للحکم بین الناس وتسلیکھم فی مقامات الولایۃ وغایۃ امرالمرأۃ ان تکون عابدۃ زاھدۃ کرابعۃ العدویۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا ۱؎۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اہل باطن کا اس پر اجماع ہے کہ داعی الی اللہ کیلئے مردہونا شرط ہے۔ او رہمیں ایسی کوئی روایت نہیں ملی کہ سلف صالحین کی مستورات میں سے کوئی خاتون تربیت مریدین کے لیے کبھی صدر نشین ہوئی ہو۔ وجہ یہ ہے کہ عورتیں مرتبہ میں ناقص ہیں، اور بعض خواتین مثلاً حضرت مریم بنت عمران او رحضرت آسیہ زوجہ فرعون کے بارے میں جو کامل ہونے کا ذکر آیا ہے تو یہ کمال تقوٰی اور دین داری کے لحاظ سے ہے لوگوں کے درمیان حاکم ہونے اور انھیں ولایت کے مقامات طے کرانے کے لحاظ سے نہیں__ عورت کی غایتِ شان یہ ہے کہ عابدہ ، زاہدہ ہو، جیسے رابعہ عَدَویّہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
 (۱؎ المیزان الکبرٰی    کتاب الاقصیۃ    مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۸۹)
Flag Counter