Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
130 - 243
(۱۰) غنیہ نے ان دونوں عبارتوں کے بیچ آپ کی عبارت منقول کردہ متصل بحوالہ تارتارخانیہ تھا، یہ شعبی سے جو کچھ نقل فرمایا وہ بھی ملاحظہ ہو:
سئل القاضی عن جواز خروج النساء الی المقابر قال لایسأل عن الجواز الفساد فی مثل ھذا وانما یسأل عن مقدار مایلحقھا من اللعن فیھا واعلم انھا کلما قصدت الخروج کانت فی لعنۃ اﷲ و ملائکتہ واذا خرجت تحفھا الشیاطین من کل جانب واذا اتت القبور یلعنہا روح المیت واذا  رجعت کانت فی لعنۃ اللہ۲؂ ۔
یعنی امام قاضی سے استفتاء ہوا کہ عورتوں کامقابر کو جانا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا: ایسی جگہ جواز وعدمِ جواز نہیں پوچھتے، یہ پوچھو کہ اس میں عورت پر کتنی لعنت پڑتی ہے۔ جب گھر سے قبور کی طرف چلنے کا ارادہ کرتی ہے اﷲ اور فرشتوں کی لعنت میں ہوتی ہے، جب گھر سے باہر نکلتی ہے سب طرفوں سے شیطان اسے گھیر لیتے ہیں، جب قبر تک پہنچتی ہے میّت کی روح اس پر لعنت کرتی ہے، جب واپس آتی ہے اﷲ کی لعنت میں ہوتی ہے (ت)
 (۲؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی الجنائز    سہیل اکیڈمی لاہور    ص ۵۹۴)
ملاحظہ ہو استفتاء کیا خاص فاسقات کے بارے میں تھا۔ مطلق عورتوں کے قبروں کو جانے سے سوال تھا ا س کا یہ جواب ملا اب جوا ب میں کہیں فاسقات کی تخصیص ہے۔ غرض یہ تمام عبارات جن سے آپ نے استدلال فرمایا آپ کی نقیص مدعا میں نص ہیں۔
 (۱۱)  یہاں ایک نکتہ او رہے جس سے عورتوں کی قسمیں بنانے، ان کے صلاح وفساد پر نظر کرنے کے کوئی معنی ہی نہیں رہتے، او رقطعاً حکم سب کو عام ہوجاتاہے اگر چہ کیسی صالحہ پارسا ہو۔ فتنہ وہی نہیں کہ عورت کے دل سے پیدا ہو وہ بھی ہے اور سخت تر ہے جس کا فساق سے عورت پر اندیشہ ہو۔ یہاں عورت کی صلاح کیا کام دے گی، حضرت سیدنا زبیر بن العوام رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اپنی زوجہ مقدسہ صالحہ ، عابدہ ۔زاہدہ۔ تقیہ، نقیہ حضرت عاتکہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کو اسی عملی طور سے متنبہ کرکے حاضری مسجد کریم مدینہ طیبہ سے بازرکھا ۔ ان پاک بی بی کو مسجد کریم سے عشق تھا، پہلے امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نکاح میں آئیں، قبل نکاح امیرالمومنین سے شرط کرالی کہ مجھے مسجد سے نہ روکیں، اس زمانہ خیر میں محض عورتوں کو ممانعت قطعی جزمی نہ تھی جس کے سبب بیبیوں سے حاضری مسجد اور گاہ گاہ زیارت بعض مزارات بھی منقول۔
صحیحین میں حضرت ام عطیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے :
نھینا عن اتباع الجنائز ولم یعزم علینا ۱؎ ۔
ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے سے منع فرمایا گیا مگر قطعی ممانعت نہ تھی۔
 (۱؎ صحیح البخاری        با ب اتباع النساء الجنازۃ    قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۷۰)
اسی پر غنیہ کی اس عبارت میں فرمایا کہ یہ اس وقت تھا جب حاضری مسجد انھیں جائز تھی اب حرام اور قطعی ممنوع ہے ۲؎ ۔
(۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیہ المصلی    فصل فی الجنائز        سہیل اکیڈمی لاہور    ص۵۹۵)
غرض اس وجہ سے امیر المومنین نے ان کی شرط قبول فرمالی۔ پھر بھی چاہتے یہی تھے کہ مسجد نہ جائیں، یہ کہتیں آپ منع فرمادیں میں نہ جاؤں گی، امیر المومنین بہ پابندی شرط منع نہ فرماتے، امیر المومنین کے بعد حضرت زبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے نکاح ہوا، منع نہ فرماتے وہ نہ مانتیں، ایک روز انھوں نے یہ تدبیر کی کہ عشاء کے وقت اندھیری رات میں ان کے جانے سے پہلے راہ میں کسی دروازے میں چھپ رہے۔ جب یہ آئیں اس دروازے سے آگے بڑھی تھیں کہ انھوں نے نکل کر پیچھے سے ان کے سرمبارک پر ہاتھ مارا اور چھپ رہے حضرت عاتکہ نے کہا:
ان ﷲ فسد الناس ۳؎
ہم اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں لوگوں میں فساد آگیا۔ یہ فرماکر مکان کو واپس آئیں اور پھر جنازہ ہی نکلا۔ تو حضرت زبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نھے انھیں یہ تنبیہ فرمائی کہ عورت کیسی ہی صالحہ ہو اس کی طرف سے اندیشہ نہ سہی فاسق مردوں کی طرف سے اس پر خوف کا کیا علاج!
 (۳؎الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ    ترجمہ ۶۹۵    عاتکہ بنت زید الخ    دارصادر بیروت    ۴ /۳۵۷)
اب یہ سب کو ایک پھانسی پر لٹکاناہوا یا مقدس پاک دامنوں کی عزت کو شریروں کے شر سے بچانا ! ہمارے ائمہ نے دونوں علتیں ارشاد فرمائیں، ارشاد ہدایہ
لما فیہ من خوف الفتنہ ۱؎
 (اس لیے کہ اس میں فتنے کا اندیشہ ہے ۔ت) دونوں کو شامل ہے، عورت سے خوف ہو یا عورت پر خوف ہو،
 (۱؎ الہدایۃ    باب الامامۃ      المکتبہ العربیہ کراچی     ۱ /۱۰۵)
اور آگے علت دوم کی تصریح فرمائی کہ:
لاباس للعجوز ان تخرج فی الفجر والمغرب والعشاء ھذا عند ابی حنیفۃ وقالا یخرجن فی الصلوات کلھا لانہ لافتنۃ لقلۃ الرغبۃ ولہ ان فرط الشق حاصل فتقع الفتنۃ غیر ان الفساق انتشار ھم فی الظھر والعصر والجمعۃ ۲؎ ۔
بوڑھی عورت کے لیے فجر، مغرب اور عشاء کے لیے نکلنے میں حرج نہیں، اور صاحبین کا قول یہ ہے کہ یہ تمام نمازوں میں جائے کیونکہ اس کی جانب رغبت کم ہونے کی وجہ سے کوئی فتنہ نہیں، امام اعظم کی دلیل یہ ہے کہ فاسقوں میں شہوت کی زیادتی انھیں بوڑھی عورت پر بھی برانگیختہ کرے گی اس طرح فتنہ واقع ہوگا، مگر یہ ہے کہ فاسقون کا اِدھر اُدھرچلنا پھرنا ظہر۔ عصر اور مغرب کے وقت ہوتا ہے (اس لیے فجر، مغرب اور عشاء میں اسے جانے کی اجازت دی گئی )۔ (ت)
(۲؎ الہدایۃ    باب الامامۃ    المکتبہ العربیہ کراچی  ۱ /۱۰۵)
محقق علی لاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا: بالنظر الی التعلیل المذکور منعت غیر المزنیۃ ایضا لغلبۃ الفساق دلیلا وان کان النص یبیحہ لان الفساق فی زماننا اکثر انتشار رھم و تعرضہم باللیل و عمم المتاخرون المنع للعجائز والشواب فی الصلوات کلھا لغلبۃ الفساد فی سائر الاوقات ۳؎ ۔
دلیل مذکور کے پیش نظر ایسی عورت کے لیے بھی ممانعت ہوئی جو خود بدکار نہیں، کیونکہ بدمعاشو ں کا غلبہ ہے اور رات کو بھی ممانعت ہوئی اگر چہ امام اعظم کے نص سے اس کی اباحت ثابت ہے، وجہ یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں فاسقوں کاگھومنا پھرنا اور چھیڑ چھاڑ کرنازیادہ تر رات ہی کو ہوتا ہے۔ اور متاخرین نے بوڑھی، جوان سب عورتوں کے لیے تمام نمازوں میں عام ممانعت کردی اس لیے کہ سبھی اوقات میں فساد وخرابی کا غلبہ ہے ۔(ت)
 (۳؎ فتح القدیر    باب الامامۃ         مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/)
اس مضمون کی عبارات جمع کی جائیں تو ایک کتاب ہو۔ خود اسی عمدۃ القاری جلد سوم میں اپنی عبارت منقولہ سے سوا صفحہ پہلے دیکھیے :
فیہ (ای فی الحدیث) انہ ینبغی (ای للزوج) ان یاذن لھا ولا یمنعھا ممافیہ منفعتھا وذلک اذا لم یخف الفتنۃ علیھا ولابھا وقدکان ھوا لاغلب فی ذلک الزمان بخلاف زماننا ھذا فان الفسادفیہ فاش والمفسدون کثیرون وحدیث عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا الذی یاتی یدل علٰی ھذا ۱؎ ۔
اس حدیث میں یہ مضمون ہے کہ جس کام میں عورت کے لیےمنفعت ہے اس کے لیے چاہئے کہ شوہر اسے نکلنے کی اجازت دے دے اور منع نہ کرے، اور یہ حکم اس صورت میں ہے جب عورت پر اور عورت کے سبب فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔ اور اس زمانے میں اکثری حالات اطمینان وبے خوفی ہی کی تھی، مگر اب ہمارے زمانے میں تو فساد اور برائی عام ہے اور مفسد بہت ہیں، ہم نے حالتِ امن کی جو قید ذکر کی ا سکی دلیل حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کی حدیث ہے ۔ (ت)
(۱؎ عمدۃ القاری شرح البخاری    باب خروج النساء الی المساجد    ادارۃالطباعۃ المنیریۃ بیروت    ۶ /۱۵۷)
اس کی جلد چہارم کی عبارت کا مطلب واضح کردیا کہ حکم کیا بیان فرمایا یہ کہ اب زیارت قبور عورتوں کو مکروہ ہی نہیں بلکہ حرام ہے۔ یہ نہ فرمایا کہ ویسی کو حرام ہے ایسی کو حلال ہے، ویسی کو توپہلے بھی حرام تھا، اس زمانہ کی کیا تخصیص آگے فرمایا خصوصاً زنان مصر اور اس کی تعلیل کی کہ ان کا خروج بروجہ فتنہ ہے۔ یہ وہی اولویت تحریم کی وجہ سے سن چکے کہ
عن الشافعی یباح لھن الخروج ۲؎
(امام شافعی سے روایت ہے کہ ان کا نکلنا جائز تھا۔ ت)
 (۲؎ عمدۃ القاری شرح البخاری    باب خروج النساء الی المساجد    ادارۃالطباعۃ المنیریۃ بیروت     ۶ /۱۵۷)
ولہذا کرمانی پھر عسقلانی پھر قسطلانی کہ سب شافعیہ ہیں، شروحِ بخاری میں اس طرف گئے۔ کرمانی نے قول امام تیمی کہ فساد بعض زناں کے سبب سب عورتوں کو ممانعت پر دلیل ہے۔ نقل کرکے کہا:
قلت الذی یعول علیہ ماقلناہ ولم یحدث الفساد فی الکل ۳؎ ۔
میں نے کہا: معتمد وہی ہے جو ہم نے بیان کیا ، اور فساد و خرابی سب میں نہیں آئی ہے ۔ (ت)
 (۳؎ عمدۃ القاری شرح البخاری    باب خروج النساء الی المساجد    ادارۃالطباعۃ المنیریۃ بیروت      ۱ /۱۵۹)
جلد چہارم میں ابو عمر عبدا البر سے دیکھیے :
اماالشواب فال تومن من الفتنۃ علیھن وبھن حیث خرجن ، ولاشیئ للمرأۃ احسن من لزوم قعربیتھا ۴؎ ۔
لیکن جوان عورتیں تو وہ جہاں بھی نکلیں ان کے سبب اور ان کے اوپر فتنہ سے بے خوفی نہیں۔ اورعورت کے لیے اپنے گھر کے اندر رہنا سب سے اچھا ہے (ت)
 (۴؎ عمدۃ القاری شرح البخاری   باب زیارت القبور        ادارۃالطباعۃ المنیریۃ بیروت    ۸ /۶۹)
Flag Counter