(۵) حکم کتب میں بہت واضح ہے، جواز نفس مسئلہ کافی ذاتہٖ حکم ہے او رممانعت بوجہ عارض غالب تو فتوٰی نہ ہوگا مگر منع مطلق پر ۔ فقہ میں اس کے نظائر بکثرت ہیں کہ برعایت قیود حکم جواز اور اس کی تصحیح تک کتب میں مصرح اور نظر بحال زمانہ حکم علماء منع مطلقاً جیسے جوارِ حرم ودخول زناں بہ حمام ونفقہ طالب علم ولعب شطرنج وغیرہا۔ اول وسوم کی عبارات گزریں، درمختار میں دربارہ دوم ہے۔
فی زماننا لا شک فی الکراہۃ ۳؎
(شہرکے عام حمام میں عورتو ں کا جانا ہمارے زمانے میں بلاشبہہ منع ہے ۔ت)
(۳؎ درمختار باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۷۸)
ہمارے نزدیک شطرنج کھلینا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے اور اسے جائز ٹھہرانے میں اسلام او رمسلمانوں کےخلاف شیطان کو مدد دیناہے ۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الکراہیۃ فصل فی البیع ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر ۵ /۲۵۳)
(۶) اس تقریر سے ا س کا جواب واضح ہوگیا کہ اگرچہ ایسی عورت ہزاروں میں ایک ہو ، جیسی ہزاروں میں ہزار ہوں، جب بھی معتبر نہیں کہ حکم فقہ باعتبار غالب کے ہوتا ہے نہ کہ ہزاروں میں ایک، یہیں سے بریانیوں کا حال کھل گیا، دس ہزار بریانیاں مردار مینڈھے دنبے بکرے کی ہوں اور ان میں دس ہزار مذبوح جانوروں کی مختلط ہوں، بیس ہزار حرام ہیں یہاں تک کہ ان میں تحری کرکے جس کی طرف علت کا خیا ل جمے، اسے کھانا بھی حرام نہ کہ دس ہزار میں ایک، درمختار میں ہے :
تعتبر الغلبۃ فی اوان طاھرۃ ونجسۃ وذکیۃ ومیّتۃ فان الاغلب طاھر تحری و بالعکس والسواء لا ۲؎۔
پاک وناپاک برتنوں او رمردار مٓذ بوح جانوروں میں کثرت کا اعتبار ہوگا اگر اکثر پاک ہیں توتحری کرے اور جس کی پاکی پر دل جمے اسے استعمال کرے اور ا گرناپاک زیادہ ہوں یا برابر ہوں تو تحری نہ کرے کہ اب کسی کا استعمال جائز نہیں ۔ (ت)
(۲؎ درمختار کتاب الخطروالاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۷)
ہاں ایک حلال جدا ممتاز معلوم ہو توکثرت حرام سے اس پر کیا اثر۔ مگر یہاں سن چکے کہ فساد وصلاح قلب مضمر، وتمیز متعذر، نامیسر، او رمنتقٰی کی عبارت ابھی گزری پھر غلبہ فساد متیقن ، توقطعاً مطلقاً حکم ممانعت متعین، جیسے وہ بیسیوں ہزار بریانیاں سب حرام ہوئیں حالانکہ ان میں یقینا دس ہزار حلال تھیں، یہی مسلک علمائے کرام چلے۔
(۷) عینی شرح بخاری جلد سوم کی عبارت آپ نے نقل کی اس میں نہ زنانِ مصر سے حکم خاص ہے نہ مغنیہ ودلالہ کی تخصیص۔ اس میں سولہ صنف فسادِ زناں تو بیان کیں جن میں دو یہ ہیں، اور فرمایا اور اس کے سوا اور بہت سے اصناف قواعد شریعت کے خلاف ، اور بتایا کہ ُ امّ المومنین اپنے ہی زمانہ کی عورتوں کو فرماتی ہیں کہ ان میں بعض امور حادث ہوئے، کاش ان حادثات کو دیکھتیں کہ جب ان کاہزارواں حصہ نہ تھے، اپنی عبارت منقولہ سے ایک ہی ورق پہلے دیکھئے جہاں انھوں نے اپنے ائمہ حنفیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کامذہب نقل فرمایا ہے کہ حکم مطلق رکھا ہے نہ کہ زنان فتنہ گر سے خاص۔ اورا س کی علت خوف فتنہ بتاتی ہے نہ کہ خاص وقوع، یہی بعینہ نص ہدایہ ہے :
یکرہ لھن حضور الجماعات یعنی الشواب منھن لما فیہ من خوف الفتنۃ ۱؎
جماعتوں میں عورتوں یعنی جوان عورتوں کی حاضری مکروہ ہے اس لیے کہ اس میں فتنے کا اندیشہ ہے ۔(ت)۔
(۱؎ا لہدایۃ باب الامامۃ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ /۱۰۵)
ہاں جن سے وقوع ہورہاہے ، جیسے زنانِ مصر ، ان کے لیے حرام بدرجہ اولٰی بتایا ہے کہ جب خوفِ فتنہ پر ہمارے ائمہ مطلقاً حکمِ حرمت فرما چکے توجہاں فتنے پورے ہیں وہاں کا کیا ذکر ۔ عبارت عینی یہ ہے:
قال صاحب الہدایۃ یکرہ لھن حضور الجماعات وقالت (عہ) الشراح یعنی الشواب منھن و قولہ الجماعات یتناول الجمع والاعیاد والکسوف والاستسقاء وعن الشافعی یباح لھن الخروج قال اصحابنالان فی خروجھن خوف الفتنۃ وھو سبب للحرام ومایفضی الی الحرام فھو حرام فعلی ھذا قولھم یکرہ مرادھم یحرم لاسیما فی ھذا الزمان الشیوع الفساد فی اھلہ ۲؎ ۔
صاحب ہدایہ نے فرمایا: عورتوں کے لیے جماعتوں کی حاضری مکروہ ہے۔ بعض شارحین نے کہا یعنی جوان عورتوں کے لیے ___ اور ''جماعتوں'' کالفظ جمعہ ، عیدین، کسوف، استسقاء سبھی کو شامل ہے، او رامام شافعی سے روایت ہے کہ ان کے لیے جانے کی اجازت ہے ۔ ہمارے مشائخ نے ممانعت کی وجہ یہ بتائی ہے کہ ان کے نکلنے میں فتنے کا اندیشہ ہے ،ا ور یہ حرام کا سبب ہے، اور جو حرام تک لے جانے والاہو وہ حرام ہے__ اس کے پیش نظر لفظ ''مکروہ'' سے ان کی مراد ''حرام'' ہے ، خصوصاً اس زمانے میں اس لیے کہ اب لوگوں میں خرابی او ربرائی عام ہوگئی ہے (ت)
عہ: اقول لابل ھو نفس نص الہدایۃ کما سمعت ۔ منہ غفرلہ (م)
میں کہتاہوں نہیں بلکہ خود ہدایہ کی عبارت ہے جیسا کہ سن چکے۔ منہ غفرلہ (ت)
(۲؎ اعمدۃ القاری شرح البخاری باب خروج النساء الی المساجد ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۶/۱۵۶)
پھر اسی صفحہ پر عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کاجمعہ کے دن عورتوں کو کنکریاں مار کر مسجد سے نکالنا اور امام اجل ابراہیم نخعی تابعی کا اپنے یہاں کی مستورات کو جمعہ وجماعت میں نہ جانے دینا ذکر کیا ۔ کما تقدم (جیسا کہ پہلے گزرا۔ ت) عنایہ سے گزرا کہ امیر المومنین فاروق اعظم نے عورتوں کو حضور مسجد سے منع فرمایا۔ کیا مدینہ طیبہ کی وہ بیبیاں کہ صحابیات وتابعات تھیں۔ اور ان امام اجل تابعی کی مستورات معاذاﷲ فتنہ گروہ اہل فساد تھیں، حاشا ہرگز نہیں، یا للعجب اگر صحابہ وتابعین کرام کو بھی کہا جائے کہ سب کو ایک لکڑی ہانکا اور متقین وفجار کا فرق نہ کیا__ حاشا ثم حاشا ہم__ تو ثابت ہوا کہ منع عام ہے صرف فاسقات سے خاص نہیں ا وران کا خصوصاً ذکر فرماکر زنانِ مصر کے خصائل گنانا اس لئے ہے کہ ان پر بدرجہ اولٰی حرام ہے نہ کہ فقط فتنے اٹھانے والیوں کو ممانعت ہے یا وہ بھی صرف مغنیہ ودلالہ کو۔
(۸) اسی لیے آپ کی منقولہ عبارت عینی جلدچہارم کا مطلب واضح کردیا کہ حکم یہ بیان فرمایا کہ اب زیارتِ قبور عورتوں کو مکروہ ہی نہیں بلکہ حرام ہے۔ یہ نہ فرمایا کہ ویسی کوحرام ہے ایسی کو حلال ہے۔ ویسی کو تو پہلے بھی حرام تھا اس زمانہ کی کیا تخصیص ! آگے فرمایا: خصوصاً زنان مصر۔ اور اس کی تعلیل کی کہ ان کا خروج بروجہ فتنہ ہے ۔ یہ وہی تحریم کی وجہ ہےنہ کہ حکم وقوع فتنہ سے خاص اور فتنہ گر عورتوں سے مخصوص۔ ہاں یہ مسلک شافعیہ کلا ہے۔ ابھی امام عینی سے سن چکے کہ
عن الشافعی یباح لھن الخروج ۱؎
(شافعی سے کہ ان کے لیے مسجدوں اور عیدین وغیرہ کے لیے نکلنا جائز تھا ۔ت)
(۱؎ عمدۃ القاری شرح البخاری باب خروج النساء الی المساجد ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۶ /۱۵۶)
ولہذا کرمانی، پھر عسقلانی، پھر قسطلانی کہ سب شافعیہ ہیں، شروح بخاری میں اس طرف گئے۔ کرمانی نے قول امام تیمی کہ اس حدیث میں فساد بعض زنان کے سبب سب عورتوں کی ممانعت پر دلیل ہے ۔ نقل کرکے کہا :
قلت الذی یعول علیہ ماقلنا ولم یحدث الفساد فی الکل ۲؎ ۔
میں نے کہا: معتمد وہی ہے جو ہم نے بیان کیا۔ فساد وخرابی سب عورتوں میں نہیں آئی ہے ۔(ت)
(۲؎ عمدۃ القاری شرح البخاری باب خروج النساء الی المساجد ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۶ /۱۵۶)
ان کے اس خیال کے دو شافی جواب ابھی گزرے اور تیسرا سب سے اعلٰی باذنہٖ تعالٰی عنقریب آتاہے۔ امام عینی نے یہاں اس سے تعرض نہ فرمایا کہ اسی حدیث کے نیچے ڈیڑھ ہی ورق پہلے اپنے مذہب اور اپنے ائمہ کا ارشاد بتاچکے تھے۔
(۹) عبارت غنیہ کہ آپ نے نقل کی اس سے اوپر کی سطر دیکھیے کہ اجازت ا س وقت تھی جب انھیں مسجدوں میں جانا مباح تھا۔ اب مسجدوں کی ممانعت دیکھئے سب کو ہے یا زنانِ مصر فتنہ گر کو ۔ اس کے سات سطربعد کی عبارت دیکھیے :
یعضدہ المعنی الحادث باختلاف الزمان الذی بسببہ کرہ لھن حضور الجمع والجماعات الذی اشارت الیہ عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا بقولہا لوان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم راٰی ما احدث النساء بعدہ لمنعھن کما منعت نساء بنی اسرائیل واذا قالت عائشۃ رضی اللہ تعالٰی عنہا ھذاعن نساء زمانہا فما ظنک بنساء زماننا ۱؎ ۔
اس کی تائید اختلاف زمانہ سے پیدا ہونے والے معنی سے ہوتی ہے جس کے سبب عورتوں کے لیے جمعہ او رجماعتوں کی حاضری مکروہ ہوگئ اس معنی کی جانب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے یوں اشارہ فرمایا: اگر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وہ باتیں دیکھتے جو عورتوں نے ان کے بعد پیدا کرلیں تو انھیں مسجدوں سے روک دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کوروک دیاگیا، حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما یہ جب اپنے زمانے کی عورتوں کے بارے میں فرمارہی ہیں تو ہمارے زمانے کی عورتوں کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے ؟ (ت)
(۱؎غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الجنائز سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۹۴)
دیکھیے اسی منع مساجد سے سندلی جس کاحکم عام ہے تو لما فی خروجھن من الفساد (ان کے نکلنے میں خرابی ہے۔ ت) سے فسادِ بعض ہی مراد ، اور اسی کی منع کل مستفاد، نہ کہ صرف فساد والیوں پر قصرارشاد۔