Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
128 - 243
 (۲) صحیح بخاری وصحیح مسلم وسُنن ابی داؤد میں اُم المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کا ارشاد اپنے زمانہ میں تھا:
لو ادرک رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علہ وسلم مااحدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء نبی اسرائیل ۲؎ ۔
اگرنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ملاحظہ فرماتے جو باتیں عورتوں نے اب پیدا کی ہیں تو ضرور انھیں مسجد سے منع نہ فرمادیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں منع کردی گئیں۔
 (۲؎ صحیح مسلم        باب خروج النساء الی المساجد    نور محمد اصح المطابع کراچی ۱/ ۱۸۳)
پھر تابعین ہی کے زمانے سے ائمہ نے ممانعت شروع فرمادی ، پہلے جو ان عورتوں کو پھر بوڑھیوں کو بھی، پہلے دن میں پھر رات کو بھی، یہاں تک کہ حکم ممانعت عام ہوگیا، کیااس زمانے کی عورتیں گربے والیوں کی طرح گانے ناچنے والیا ں یا فاحشہ دلالہ تھیں اب صالحات ہیں یا جب فاحشات زائد تھیں اب صالحات زیادہ ہیں یا جب فیوض وبرکات نہ تھے اب ہیں یا جب کم تھے اب زائد ہیں، حاشہ بلکہ قطعاً یقینا اب معاملہ بالعکس ہے۔ اب اگر ایک صالحہ ہے تو جب ہزار تھیں، جب اگر ایک فاسقہ تھی اب ہزار ہیں، اب اگر ایک حصہ فیض ہے جب ہزار حصے تھا، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لا یأتی عام الاوالذی بعدہ شرمنہ ۳؎ ۔
جو سال بھی آئے اس کے بعد والا اس سے بُرا ہی ہوگا۔ (ت)
 (۳؎ صحیح البخاری    باب الایأتی الزمان الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۴۷)

(فتح الباری شرح البخاری  باب الایأتی الزمان الخ        دارالمعرفۃ بیروت    ۱۳ /۱۷)
بلکہ عنایہ امام اکمل الدین بابرتی میں ہے کہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عورتوں کو مسجد سے منع فرمایا، وہ ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے پاس شکایت لے گئیں، فرمایا: اگر زمانہ اقدس میں حالت یہ ہوتی حضور عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت نہ دیتے۔
حیث قال ولقد نہی عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ النساء عن الخروج الی المساجد فشکون الٰی عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا فقالت لو علم البنی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ماعلم عمرمااذن لکن فی الخروج ۱؎ ۔
وہ فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عورتوں کو مسجد جانے سے روک دیا، وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے پاس شکایت لے کر گئیں، انھوں نے فرمایا: اگر نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یہ دیکھتے جو حضرت عمر نے دیکھا تو وہ بھی مسجدجانے کی اجازت نہ دیتے ۔(ت)
 ( ۱؎ العنایہ علی ھامش فتح القدیر    باب الامامۃ        نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۳۱۷)
پھر فامایا:
فاجتمع بہ علماؤناو منعوا الشواب عن الخروج مطلقا امام العجائز فمنھن ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن الخروج فی الظھروالعصر دون الفجر والمغرب والعشاء والفتوی الیوم علٰی کراھۃ حضور ھن فی الصلوات کلھا الظھور الفساد ۲؎ ۔
اسی سے ہمارے علماء نے استدلال کیا، اور جوان عورتوں کو جانے سے مطلقاً منع فرمایا۔ رہ گئیں بوڑھی عورتیں، ان کے لیے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ظہر وعصر میں جانے سے ممانعت اور فجر، مغرب اور عشاء میں اجازت رکھی، اور آج فتوٰی اس پر ہے کہ تمام نمازوں میں ان کی بھی حاضری منع ہے اس لیے کہ خرابیاں پیدا ہوچکی ہیں۔(ت)
 ( ۲؎ العنایہ علی ھامش فتح القدیر    باب الامامۃ        نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۳۱۷)
اسی عینی جلد سوم میں آپ کی عبارت منقولہ سے ایک صفحہ پہلے ہے :
وقال ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ المراۃ عورۃ واقرب ماتکون الی اﷲ فی قعربیتھا فاذا خرجت استشرفہا الشیطان وکان ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما یقوم یحصب النساء یوم المجمعۃ یخرجھن من المسجد وکان ابراہیم یمنع نساءہ الجمعۃ والجماعۃ ۳؎۔
یعنی حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں عورت سراپا شرم کی چیز ہے۔ سب سے زیادہ اﷲ عزّو جل سے قریب اپنے گھر کی تہ میں ہوتی ہے اور جب باہر نکلے شیطان ا س پر نگاہ ڈالتا ہے۔ اور حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما جمعہ کے دن کھڑے ہوکر کنکریاں مارکر عورتوں کو مسجد سے نکالتے۔ اور امام ابراہیم نخعی تابعی استاذ الاستاذ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اپنی مستورات کو جمعہ وجماعات میں نہ جانے دیتے۔
 (۳؎ عمدۃ القاری شرح البخاری    باب خروج النساء الی المساجد    ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت    ۶/ ۱۵۷)
جب ان خیر کے زمانوں میں ان عظیم فیوض وبرکات کے وقتوں میں عورتیں منع کردیں گئیں ، اور کاہے سے ، حضور مساجد وشرکت جماعات سے، حالانکہ دین متین میں ان دونوں کی شدید تاکید ہے۔ تو کیا ان ازمنہ شرور میں ان قلیل یا موہوم فیوض کے حیلے سے عورتوں کواجازت دی جائے گی، وہ بھی کاہے کی، زیارت قبو ر کو جانے کی، جو شرعا موکد نہیں، اور خصوصاً ان میلوں  کھیلوں میں جو خدا نا ترسوں نے مزاراتِ کرام پر نکال رکھے ہیں، یہ کس قدر شریعت مطہرہ سے منافقت ہے۔ شرع مطہرہ  کا قا عدہ ہے کہ جب مصلحت پرسلب مفسدہ کو مقدم رکھتی ہے
درء المفاسد اھم جلب المصالح
 ( خرابیوں کے اسباب دور کرنا خوبیوں کے اسباب حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ ت) جبکہ مفسدہ اس سے بہت کم تھا، اس مصلحت عظیمہ سے ائمہ دین امام اعظم وصاحبین ومن بعد ہم نے روک دیا ، اور عورتوں کی مسلیں نہ بنائیں کہ صالحات جائیں، فاسقات نہ آئیں، بلکہ ایک حکم عام دیا جسے آپ ایک پھانسی میں لٹکانا فرمارہے ہیں، کیا انھوں نے یہ آیتیں نہ سنی تھیں
افمن کان مؤمنا کمن کان فاسقا ۱؎۔ الم نجعل المتقین کالفجار ۲؎ ۔
کیا جو ایمان والا ہے وہ اس کی طرح ہوگا جو نا فرمان ہے؟ یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کردیں؟ (ت)
 (۱؎ القرآن        ۳۲ /۱۸) (۲؎ القرآن        ۳۸ /۲۸)
تو اب کہ مفسدہ جب سے بہت اشد ہے ۔اس مصلحت قلیل سے روکنا کیوں لازم ہوگا، اور عورتوں کی قسمیں کیونکر چھانٹی جائیں گی۔
 (۳) صلاح وفساد قلب امر مضمر ہے اوردعوے کے لیے سب کی زباں کشادہ اور محقق ومبطل نامعلوم معہذا، اصلاح سے فساد کی طرف انقلاب کچھ دشوار نہیں، خصوصاً ہو الگ کرخصوصاً عورتوں کے دل کہ قلب کیلئے بہت آمادہ۔
ولھذا رویدک انجشۃ رفقا بالقواریر
( انجشہ! آبگینوں کے ساتھ نرمی کی خاطر سواریاں آہستہ چلاؤ ۔ت) ارشاد ہوا مرد کہ اپنے نفس پر اعتماد کرے احمق ہے نہ کہ عورت، نفس تمام جہاں سے بڑھ کرجھوٹا۔ جب قسم کھائے ، حلف اٹھائے، نہ کہ جب خالی وعدوں پر امیددلائے
وما یعدھم الشیطٰن الاغرور ۳؂
( او رشیطان انھیں فریب ہی کے وعدے دیتا ہے ۔ت)
(۳؎ ا لقرآن    ۴ /۱۲۰)
بالخصوص اب کہ قطعاً فساد غالب او ر صلاح نادر ہے۔ اس صورت میں مفتی کو تفصیل کیو نکر جائز۔ یہ تفصیل نہ ہوگی بلکہ شیطان کو ڈھیل اور اس کی رسی کو تطویل۔ امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
الفائز بھذا مع السلامۃ اقل قلیل  فلا یبنی الفقہ باعتبار ھم ولایذکر حالھم قیدا فی الجواز، لان شان النفوس الدعوی الکاذبۃ و انھا لاکذب مایکون اذا حلفت فکیف اذا ادعت ۱؎ ۔ (ملخصا)
حرم پاک میں سکونت کرکے گناہ سے سلامت رہ جانیوالے حضرات کم سے کم تر ہیں فقہی کی بنیاد ان کے اعتبار سے نہ ہوگی، نہ ہی ان کا حال حکمِ جواز کی قید بناکر مذکور ہوگا، (بلکہ اکثر کا اعتبار کرکے مطلقاً عدم جواز کا حکم دیا جائے گا) اس لیے نفس کا حا ل یہ ہے کہ وہ جھوٹے دعوے کرتا ہے اور وہ جب قسم کھائے اس وقت بھی سب سے زیادہ جھوٹا ہوتا ہے پھر جب صرف دعوٰی کرے اس وقت کیسا ہوگا!
 (۱؎ فتح القدیر                کتاب الحج     مسائل منشورہ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۳ /۹۴)
ساداتِ ثلاثہ علامہ حلبی وعلامہ طحطاوی وعلامہ شامی فرماتے ہیں:
وھو وجیہ فینص علی الکراھۃ ویترک التقیید بالوثوق ۲؎ ۔
یہ کلام عمدہ ہے تو سکونتِ حرم کو صراحۃً مکروہ بتایا جائے گا اور یہ نہ کہا جائے گا کہ اگر اپنے نفس پر گناہ سے سلامتی کا بھروسہ رکھتا ہو تو مکروہ نہیں ۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار                کتاب الحج     مطلب فی المجاورۃ بالمدینہ الخ    اداۃ الطباعۃ المصریہ مصر    ۲ /۲۵۸)
منتقٰی شرح ملتقی میں ہے :
امامن کان بخلافھم فنادر فی ھذا الزمان فلایفرد بحکم دفعا لحرج التمییز بین المصلح والمفسد ۳؎ ۔
اس زمانے میں ایسے طالب علم کا وجود نادر ہے جوان بگڑے ہوئے طالبہ کے برخلاف ہو تو اس کے لیے کوئی الگ حکم نہ ہوگا کیونکہ یہ امتیاز کرنا دشوار ہے کہ مصلح کون ہے اور مفسد کون ہے ! (ت)
 (۳؎ منقی شرح الملتقی علی ھامش مجمع لانہر     کتاب النکاح فصل نفقہ الطفل الفقیر    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۵۰۰)
شرح لباب میں ہے :
لوکانت الائمۃ فی زماننا وتحقق لھم شأننا لصرحوا بالحرمۃ ۴؎ ۔
اگر ائمہ ہمارے زمانے میں ہوتے او رہماری حقیقتِ حال ان کے سامنے آتی تو وہ بھی سکونتِ حرم کو صاف صاف ناجائز ہی بتاتے (ت) ۔ (ان عبارتوں سے استناد یہ ہے کہ فقہی احکام اکثر کے لحاظ سے ہوتے ہیں مترجم)
 (۴؎ شرح الباب مع ارشاد الساری        فصل اجمعہ اعلٰی الخ            دارلکتاب العربی بیروت    ص۳۵۲)
 (۴) زیارتِ قبور پہلے مطلقاً ممنوع تھی  پھر اجازت فرمائی، علماء کو اختلاف ہو ا کہ عورتیں بھی اس رخصت میں داخل ہوئیں یا نہیں۔ عورتوں کو خاص ممانعت میں
حدیث لعن اﷲ زوارات القبور ۵؎
 (خدا کی لعنت ہے ان عورتوں پر جو قبروں کی زیارت کو جائیں، ت) سے قطع نظر کرکے تسلیم کیجئے کہ ہاں عورتوں کو بھی شامل ہوئی، مگر جس قدر اول کی عورتوں کو جن میں خصوصاً مساجد وجمعہ وعیدین کی اجازت بلکہ حکم تھا،
 (۵؎عمدۃ القاری شرح البخاری         باب زیارۃ القبور            ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت    ۸ /۶۹)
جب زمانہ فساد آیا ان ضروری تاکیدی حاضریو ں سے عورتوں کو ممانعت ہوگئی، تو اس سے یقینا بدرجہ اولٰی اسی غنیہ کے اسی صفحہ ۵۹۵ میں اسی آپ کی عبارت منقولہ سے پہلے اس کے متصل ہے :
ینبغی ان یکون التنزیہ مختصابز منہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حیث کان یباح لھن الخروج للمساجد والاعیاد وغیرہ ذلک وان یکون فی زماننا للتحریم ۱؎ الخ
ممانعت کا تنزیہی ہونا حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے عہد پاک سے خاص ہونا چاہئے جبکہ ان کے لیے مسجدوں اور عیدین وغیرہ کی حاضری جائز تھی ہمارے زمانے میں تو تحریمی ہونا ہی مناسب ہے ۔ الخ(ت)
 (۱؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی الجنائز    سہیل اکیڈمی لاہور        ص۵۹۵)
اسی عینی جلد چہارم میں آپ کی عبارت منقولہ سے چند سطریں پہلے امام ابو عمر سے ہے :
ولقد کرھہ اکثر العلماء خروجھن الی الصلوات فکیف الی المقابر ، وما اظن سقوط فرض الجمعۃ علیہن الا دلیلا علٰی امساکہن عن خروج فیما عداھا ۲؎ ۔
اکثر علماء نے نمازوں کے لیے عورتوں کاجانا مکروہ رکھا ہے توقبرستانوں میں جانے کا حکم کیا ہوگا؟ ،میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ ان سے فرض جمعہ ساقط ہوجانا اس بات کی دلیل ہے کہ انھیں اس کے ماسوا سے بھی روکا جائے گا ۔ (ت)
(۲؎ عمدۃ القاری شرح البخاری    باب زیارۃ القبور    ادارۃا لطباعۃ المنیریہ بیروت    ۸ /۶۹)
Flag Counter