| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز) |
الجواب بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط نحمدہ، ونصلی علٰی رسولہ الکریم ط مولانہ المکرم اکرم وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،
آپ کی رجسٹری ۱۵ ربیع الاوّل شریف کو آئی۔ میں ۱۲ ربیع الاول شریف کی مجلس پڑھ کر شام ہی سے ایسا علیل ہوا کہ کھبی نہ ہوا تھا، میں نے وصیت نامہ بھی لکھوا دیاتھا، آج تک یہ حالت ہے کہ دروازہ سے متصل مسجد ہے چار آدمی کرسی پر بٹھا کر مسجد لے جاتے اور لاتے ہیں میرے نزدیک وہی دو حرف کہ اول گزارش ہوئے کافی تھے اب قدرے تفصیل کروں،
(۱) پہلے گزارش کرچکا کہ عبارات رخصت میری نظر میں ہیں، مگرنظر بحال زمانہ میرےنہ میرے بلکہ منافقین کے باعث عورتوں کو مسجد کریم میں حاضری سے اﷲ جل وعلا ورسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ممانعت نہ فرمائی بلکہ منافقوں کو تہدید وترہیب ارو مردوں کو تقدم عورتوں کو تاخر کی ترغیب فرمائی ا ور میں اتنا اور زائد کرتا ہوں کہ صرف یہی نہیں بلکہ نساء کو حضور نے عیدین کی سخت تاکید فرمائی ، یہاں تک حکم فرمایا کہ برکت جماعت ودُعاء مسلمین لینے کو حیض والیاں بھی نکلیں، مصلّی سے الگ بیٹھیں، پر دہ نشین کنواریاں بھی جائیں، جس کے پاس چادر نہ ہو ساتھ والی اپنی چادر میں لے لے۔
صحیحین میں ام عطیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے ہے:
امرنا ان نخرج الحیض یوم العیدین وذوات الخدور فیشہدن جماعۃ المسلمین ودعوتھم وتعتزل الحیض عن مصلاھن قالت امرأۃ یارسول اﷲ احدٰنا لیس لہا جلباب قال لتلبسھا صاحبتھا من جلبابھا ۱؎ ۔
ہمیں حکم دیاگیا کہ عیدین کے دن حیض والی اور پردہ نشین عورتوں کو بھی ساتھ لے جائیں تاکہ یہ بھی مسلمانوں کی جماعت اور دعا میں شریک ہوں اور حیض والیاں نماز کی جگہ سے الگ رہیں، ایک عورت نے عرض کیا یا رسول اﷲ ہم میں کوئی عورت ایسی بھی ہوتی ہے جس کے پاس چادرنہیں ، فرمایا: اس کے ساتھ والی اپنی چادر کا حصہ اُڑھا دے ۔ (ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب صلٰوۃ العیدین نور محمد اصح المطابع کراچی ۱/ ۲۹۱) (صحیح البخاری کتاب صلٰوۃ العیدین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۳۴)
اور یہ صرف عیدین میں ہی امر نہیں بلکہ مساجد سے عورتوں کو روکنے سے مطلقاً نہی بھی اشاد ہوئی کہ اﷲ کی باندیوں کو اﷲ کی مسجد وں سے نہ روکو۔ مسند احمد وصحیح مسلم شریف میں ہے حضرت عبداﷲ عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
لاتمنعوا اماء اﷲ مساجد اﷲ ۱؎ ۔
اﷲ کی باندیوں کوا ﷲکی مسجدوں سے نہ روکو۔ (ت)
(۱؎ صحیح مسلم شریف باب خروج النساء الٰی المساجد نور محد اصح لمطا بع کراچی ۱/ ۱۸۳) (صحیح البخاری کتاب الجمعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۳)
یہ (عہ) حدیث صحیح بخاری کتاب الجمعہ میں بھی ہے۔ رسول اﷲ صـلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا امر وجوب کے لیے ہے اور نہی تحریم کے لیے، اور فیض وبرکت لینے کا فائدہ خود حدیث میں ارشاد ہوا۔ باینہمہ آپ ہی لکھتے ہیں کہ مسجد میں عورتوں کی نماز بند ہوئی ا س کو بندہ مانتا ہے ۔
عہ : غیرانہ لم یصرح فیہ باسم الصحابی فقیل عن عمر کما عند عبدالرزاق واحمد قیل عن ابن عمر کما عند مسلم واحمد واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
مگر اس میں صحابی کے نام کی صراحت نہیں، کہاگیا کہ یہ روایت حضرت عمر سے ہے جیساکہ مصنف عبدالرزاق اور مسند امام احمد میں ہے۔ ا ورکہا گیا کہ حضرت ابن عمر سے ہے رضی اﷲ تعالٰی عنہما ، جیسا کہ صحیح مسلم اور مسند امام احمد میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
درمختار کی عبارت آپ کے سے مخفی نہ ہوگی کہ:
یکرہ حضور ھن الجماعۃ والجمعۃ وعید ووعظ مطقا ولوعجوز ا لیلا علی المذھب المفتی بہ لفساد الزمان ۲؎۔
جماعت میں عورتوں کی حاضری___ اگر چہ جمعہ ، عید اور وعظ کے لیے ہو___ مطلقاً مکروہ ہے اگر چہ بوڑھی عورت رات کو جائے، یہی وہ مذہب ہے جس پر فسادِ زمانہ کے باعث فتوٰی ہے ۔(ت)
(۲؎ درمختار باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۸۳)
اسی طرح اور کتب معتمدہ میں ہے۔ ائمہ دین نے جماعت وجمعہ وعیدین درکنار وعظ کی حاضری سے بھی مطلقاً منع فرمادیا اگر چہ بڑھیا ہو، اگر چہ رات ہو۔ وعظ سے مقصود تو صرف اخذِ فیض وسماع امر بالمعروف ونہی عن المنکر وتصحیح عقائد واعمال ہے کہ توجہ مشیخت سے ہزار درجہ اعظم اور اس کی اصل مقدم ہے۔ اس کا فیض بے توجہ مشیخت بھی عظیم مفید ودافع ہر ضرر وشدید ہے۔ اور یہ نہ ہو تو جھ مشیخت کچھ مفید نہیں بلکہ ضرر سے قریب نفع سے بعید ہے۔ کیاامام اعظم وامام ابویوسف وامام محمد وسائرآئمہ مابعد رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو فیض حقیقت اقدس سے روکنے والا اور
معاذ اﷲ معاذاﷲ یریدون ان یطفؤانورﷲ بافواھھم ۱؎
(خدا کا نور اپنے منہ سے بجھانا چاہتے ہیں ۔ت) میں داخل ماناجائے گا، حاشا یہ اطبائے قلوب ہیں، مصالح شرع جانتے ہیں۔
(۱؎ القرآن ۹ /۳۲)