Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
126 - 243
رسالہ

جُمَلُ النّور فی نھی النساء عن زیارۃ القبور (۱۳۳۹ھ)

( نور کے جمُلے، عورتوں کو زیارت قبور سے روکنے کے بارے میں)
بسم اﷲا لرّحمن الرحیم

نحمدہ ونصلّی علٰی رسولہ الکریم
مسئلہ ۱۸۱: مولوی حکیم عبدالرحیم صاحب مدرس اول مدرسہ قادریہ احمد آباد گجرات محلہ جمال پور ۲۸ صفر ۱۳۳۹ھ 

مولانا موصوف نے ایک رجسٹری بھیجی جس میں بحرالرائق وتصحیح المسائل مولانا فضل رسول صاحب رحمہ اﷲ علیہ کے حوالے سے عورتوں کے لیے زیارتِ قبور کو جانے کی اجازت پر زور دیاگیا تھا، ان کو یہ جواب بھیجا گیا۔
الجواب

مولانا المکرم مولوی حکیم عبدالرحیم صاحب زید کر مہم السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ آپ کی دو رجسٹریاں آئیں ، تین مہینے سے زائد ہوئے کہ میری آنکھ اچھی نہیں تھی، ،میری رائے ا س مسئلہ میں خلاف پر ہے، مدت ہوئی اس بارے میں میرا فتوٰی تحفہ حنفیہ میں چھپ چکا، میں اس رخصت کو جو بحرالرائق میں لکھی ہے مان کر نظر بحالات نساء سوائے حاضری روضہ انور کہ واجب یا قریب بواجب ہے۔ مزارات اولیاء یا دیگر قبور کی زیارت کو عوررتوں کا جانا باتباع غنیہ علامہ محقق ابراہیم حلبی ہر گز پسند نہیں کرتا، خصوصا اس طوفان بے تمیزی رقص ومزامیر وسرودمیں آج کل جُہال نے اعراس طیبہ میں برپاکر رکھاہے اس کی شرکت تومیں عوام رجال کو بھی پسند نہیں رکھتا نہ کہ وہ جن کو انجشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حُدی خوانی بالحان خوش پرعورتوں کے سامنے ممانعت فرما کر انھیں نازک شیشاں فرمایا ۔والسلام

مولوی صاحب نے دوبارہ رجسٹری بھیجی ۔ جس پر جواب ارسال ہوا۔
مسئلہ: از احمد آباد گجرات محلہ جمال پور مرسلہ مولوی عبدالرحیم صاحب ۱۳ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ

مخدومی مکرمی معظمی جناب مولانا صاحب دام محبتکم، بعدسلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، کے واضح رائے عالی ہو  کہ محبت نامہ موصول ہو۔ فتوٰی کو آپ کے دیکھا، حضرت مولانا! مجھے آپ اس مسئلہ میں سمجھائے کہ مسجد نبوی میں تین سو مرد او رایک سو ستر عورتیں تھیں، یہ منافقین آخری صف میں کھڑے ہوئے تھے اور عورتوں کو جھانکتے تھے، نماز فجر وعشاء میں عورتیں توجہ انوار حقیقت محمدی وحقیقت قرآن کے لیے حاضر ہوتی تھیں تو منافقین کی نالائق حرکت کا انتظام خدائے تعالٰی اور قرآن عظیم نے یہ نہ کیا کہ منافقین اور فیض لینے والی عورتوں کویہ حکم دیا ہوتا کہ دونوں مسجد نبوی میں جمع نہ ہوں، او رفیض رسانی عورتوں کی اس بہانے سے بند نہ ہوئی بلکہ انتظام رسانی یہ ہواکہ
لقد علمنا المستقدمین منکم ولقد علمنا المستاخرین ۱؎o وان ربک ھو یحشرھم انہ حکیم علیم۲؎o
بیشک ہمیں معلوم ہیں تم میں کے آگے والے اور پیچھے والے اور بیشک تمھارا رب ان کو جمع کرے گا۔ بلاشبہہ وہ حکمت والا علم والا ہے ۔(ت)
(۱؎ القرآن      ۱۵/ ۲۴)	(۲؎ القرآن     ۱۵/ ۲۵)
او رانتظام حضرت نبی علیہ الصلٰوۃ والسّلام نے یہ کیا :
خیر صفوف الرجال اولہا وشرھا اٰخرھا و خیر صفوف النساء اٰخرھا وشرھا اولھا ۳؎ ۔
مردوں کی صفوں میں سب سے بڑھ کر اگلی ہے اور سب سے کم تر پچھلی ، اور عورتوں کی صفوں میں سب سے بہتر  پچھلی ہے اور سب سے کم تر اگلی ہے ۔(ت)
 (۳؂صحیح مسلم    باب تسویۃ الصفوف الخ    نور محمد اصح المطا بع کراچی    ۱/ ۱۸۲)
مسجد میں عورتوں کی نماز بند ہوئی اس کو بندہ مانتا ہے، فیض حقیقت محمدی وحقیقت قرآن لینے کو باپردہ پانچ دس عورتیں محلہ کی مل کر مرشد کے مکان پر جائیں اور مرشد طریقت مرتعش اور شیخ فانی پردہ میں بٹھاکر ان کو توجہ حقیقت محمدی اور قرآن کی دے ا س پر حکم حُرمت لگانا غلط اور فیض محمدی کا مقابلہ اور مورد
یریدون ان

یطفؤا نوراﷲ بافواھھم ۱؎
( اﷲ کا نور اپنے منہ سے بجھانا چاہتے ہیں ۔ت)بننا ہے۔ شیخ طریقت تو انا عرضنا الامانۃ ۲؎ الاٰیۃ
 (بیشک ہم نے امانت پیش کی الآیۃ ۔ت) میں جو امانت ہے اس کو ذاکرات کے سینہ میں باپردہ بٹھا کرتوجہ دے کر جماتا ہے۔ اور یہ اس امانت کی جڑ اکھاڑتاہے۔ یہ فیض جڑاکھاڑنے والے کو بے وقار کرکے اکھاڑ دے گا۔
(۱؎القرآن     ۹/ ۳۲)

(۲؎ القرآن   ۳۳/ ۷۲)
محمدی المشرب سنتِ حضرت نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام پر عمل کرتا ہے۔ حضرت نبی علیہ الصلٰوۃ السلام نے عورتوں کو توجہ دی، اول مرید کرکے، یہ بھی عورتوں کو مرید کرکے توجہ دیتا ہے۔طریقہ عالیہ قادریہ کی توجہ کلمہ طیبہ کے ذکر کی ہوگی، اب عورتوں کوپردہ میں بٹھاکر ذکر کلمہ طیبہ کا بتایا جائے گا ضربِ الا اﷲ قلب پر مارنا سکھایا جائے گا۔ پردہ میں عورت خلیفہ مرشد طریقت کی بیٹھ کر ذکرکلمہ طیبہ کا سکھاتی ہے

ا ورمرشدِطریقت اونچ نیچ سمجھاتے ہیں، پردہ میں ایک عورت نہیں محلہ کی دس پندرہ عورتیں بیٹھیں ہیں، یہاں خلوتِ اجنبیہ کا حکم نہیں لگتا۔یہ جلوت ہے۔ جلوت میں فیض رسانی طریقت عالیہ قادریہ کی ہوتی ہے۔ اور اسی طرح اس مجلس میں طریقہ نقشبندیہ مجددیہ کی توجہ بھی عورتوں کو دی جاتی ہے۔ بریلی میں حاضری کا کئی بارموقع ہوا ہے، وہاں یہ عمل دیکھنے میں نہیں آیا، نہ وہاں سُنا کہ کوئی مشائخ یہ کرتے ہیں ہمارے یہاں ڈولی میانہ مشکل سے ملتا ہے، غرباء مساکین میں قدرت ان سواریوں میں بیٹھنے کی نہیں۔ ا ور نہ قرآن عظیم نے ڈولی ومیانہ کا حکم دیا ہے___
یدنین علیھم من جلابیبھن ۳؎
 ( ان پر اپنی چادریں ڈال دیں ۔ت) اور
قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم ۴؎ وقل للمؤمنات یغضضن من ابصار ھن ۵؎
 ( ایمان والے مردوں سے فرماؤ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور ایمان والی عورتوں سے فرماؤ اپنی نظریں پست کریں ۔ت)
ولیضربن بخمرھن علٰی جیوبھن ۶؎
( اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں۔ ت) اس پردہ پر احمد آباد کی ذاکرات کاعمل ہے۔
 (۳؎ القرآن      ۳۳/۵۹)	(۴؎ القرآن   ۲۴/۳۰)	(۵؎ القرآن     ۲۴/۳۱)	(۶؎ا لقرآن    ۲۴/۳۱)
عمدۃ القاری شرح بخاری ج ۴ ص ۷۸: حاصل الکلام من ھذا کلہ ان زیارۃ القبور مکروھۃ للنساء بل حرام فی ھذا الزمان لاسیّما نساء مصر لان خروجھن علٰی وجہ الفساد والفتنۃ وانما رخصت الزیارۃ لتذکرامرالاٰخرۃ وللاعتبار بمن مضی وللتزھد فی الدنیا ۱؎
حاصل یہ کہ عورتوں کے لیے زیارت قبور مکروہ ہے بلکہ اس زمانے میں حرام ہے خصوصاً مصر کی عورتوں کے لیے اس لیے کہ ان کا جانا فتنہ اور خرابی کے طور پر ہوتا ہے زیارت کی رخصت اس لیے ہوئی تھی کہ امر آخرت کویا دکریں، وفات پانے والوں سے عبرت لیں، اور دنیا سے بے رغبت ہوں ۔(ت)
 (۱؎ عمدۃ القاری شرح البخاری    باب زیارت لقبور        حدیث ۴۲        ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت    ۸/ ۷۰)
یہ حکم مصر کی بغایہ مغنیہ دلالہ کا ہے اس حکم کو نیک بخت عورتوں پر لگانا غلط ہے۔
لوادرک رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مااحدثت  النساء
( اگررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وہ دیکھتے جو عورتوں نے اب پید اکیا ۔ ت) کی شرح عمدۃ القاری ج ۳ ص ۳۰ میں ہے:
بعضھن یغنین باصوات عالیۃ مطربۃ منھن صنف بغایا ۲؂
ان میں کچھ ایسی ہوتی ہیں جو طرب انگیز بلند آوازوں سے گاتی ہیں اور کچھ بدکار قسم کی ہیں ۔(ت)
 (۲؎ عمدۃ القاری شرح البخاری    باب خروج النساء الٰی المساجد  حدیث ۲۵۰   ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۶/ ۱۵۸)
احمد آ ۤباد میں تین کوس درگاہ حضرت گنج احمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کی ہے،مکان بہت پر فضا ہے اور تالاب سنگین ہے،وہاں دھنے کی قوم کی اور لکڑ بیچنے والی قوم کی عورتیں لہنگا ساڑھی پہن کر جاتی ہیں اورگربے گاتی ہیں اور ان کی قوم کی ضیافتیں ہوتی ہیں اس میں وہ عورتیں گربے گاتی ہیں ، حلقہ عورتوں کا بن جاتا ہے ا ور تالی بجاتی ہیں اور پھرتی جاتی ہیں رنڈیوں کی طرح گیت گاتی جاتی ہیں ا ن پر
بل حرام فی ھذا الزمان لاسیما نساء مصر
 ( بلکہ اس زمانے میں خصوصاً زنانِ مصر کے لیے حرام ہے ۔ت) کا حکم برابر عمدہ طورپر چسپاں ہے۔ اور غنیۃ المستملی کے صفحہ ۵۹۵ میں
وان یکون فی زماننا للتحریم لمافی خروجھن من الفساد ۳؎ اھ
 ( ہمارے زمانے میں تحریم کے لیے ہوگا کیونکہ ان کے جانے میں خرابیاں ہیں اھ ۔ت)
 (۳؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی لاجنائز البحث الخامس سہیل اکیڈمی لاہور    ص ۵۹۴)
اور جو عورتیں قوالی رنڈیوں کی اور قوالی مردوں کی سننے جاتی ہیں ان کو زیارت القبور کو جانا حرام ہے، ان کے حرام ہونے سے ذاکرات اور فیض لینے جانے والی عورتوں کوکیا نقصان ، اگر چہ ایک عورت ہزاروں میں ایک ہو۔ دس ہزار آدمیوں نے کُتے اور خنزیر کے گوشت کی بریانی پکائی ہے اور ایک نے بکری کے گوشت کی بریانی پکائی۔ دونوں بریانوں پر حکم حرمت او رحکم حلت غلط ، او کتے کی بریانی پر حکم اور بکری کے بریانی پر حکم حلت صحیح، دونوں کا حکم جدا مفتی کو بیان کرنا پڑھے گا۔
افمن کان مؤمنا کمن کان فاسقا لایستون ۴؎ ام نجعل المتقین کالفجار ۵؎ ۔
توکیا جو مومن ہے فاسق کی طرح ہوگا؟ دونوں برابرنہیں۔ یاپرہیز گار وں کو ہم بدکاروں کی طرح کردیں ؟ (ت)
 (۴؎ القرآن            ۳۲/۱۸) (۵؎ القرآن            ۳۸/ ۲۸)
اساف اور نائلہ نے جاہلیت میں (خانہ کعبہ کے اندر) زنا کیا اور قدرت الٰہیہ نے دونوں کو مسخ کردیا ایسے متبرک مکان میں دونوں نے خباثت کی، یا کوئی سفر حرمین طیبین میں خبیث عمل سے پیش آئے تو کیا خبیث کی خباثت کو دیکھ کر اور اسی سے استناد کرکے عورتوں کے حج وزیارت حضرت نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے عدم جواز کا فتوٰی جاری کر دیا جائے گا۔ ہرگز نہیں، حضرت معین الدین چشتی رحمۃ اﷲ علیہ کے مزار مقدس میں غربی دیوارمیں کلام مجید رکھا ہے۔ اس دیوار کے پیچھے عورتیں بیٹھ کر توجہ لیتی ہیں ۔ ذکر مراقبہ کرتی ہیں، بُرقع اوڑھ کر آتی ہیں، اختلاط مردوں او رعورتوں کا یہاں بالکل نہیں، اب یہ عورتیں نوراﷲ دل میں بھرنے کے لیے حاضرہوتی ہیں یہ فیض رسانی حقیقت محمدی کی عورتوں کو خواجہ غریب نواز قدسہ سرہ، العزیز کرتے ہیں، ا وراس فیض میں وہ قوت ہیں کہ لاکھوں کو سوں سے فیض لینے والیوں کو آپ بلالیتے ہیں۔ یہ جگہ مقام قوالی سے دور ہے اور نماز فجر سے اشراق تک اور مغرب سے عشاء کے بیچ میں اس پردے والے مکان میں عورتیں جمع ہوکر فیض لیتی ہیں اور اس وقت نقصان قوالی کا بالکل نہیں، ا وریہ عورتیں نیک بخت پردہ نشین بُرقع اوڑھ کر آنے والی ہیں، آپ نے اس کو آنکھوں سے نہیں دیکھا اور میں نے اسکو آنکھوں سے دیکھا ہے۔ بندہ اس کو شہادت کے طور پر بیان کرسکتا ہے۔ اور آپ کو آنکھوں سے دکھا کر تسلی کرسکتا ہے ۔ اب ان عورتوں پر حکم حرمت لگانا غلط ہے۔ سر خیز قصبہ احمد آباد میں جو عورتیں گربے گانے والیاں فاحشات ، مغنیات اور رنڈئیں اور باپردہ سوالاکھ کلمہ طیب کا ختم پڑھنے والی، ذکر حنفی ، مراقبہ ۔ فیض حقیقت محمدی لینے والی ذاکرات پر رنڈیوں کا حکم لگا کر دونوں کو ایک پھانسی میں لٹکادینا غلط ہے ۔ حقوق اولیاء وخیر خواہی اولیاء وخیر خواہی سید الاولین والآخرین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یہ نہیں
الدین النصیحۃ ﷲ ولرسولہ وللمؤمنین ۱؎
( دین خیرخواہی ہے اللہ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور ایمان والوں کے لیے ۔ت) یہ کہاں ہوئی۔
 (۱ ؂السنن للنسائی    کتاب البیعۃ النصیحۃ للامام    نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی    ۲/۱۸۵)
اولیاء فیض حقیقت محمدی کا دینے کو ذاکرات کو بلاتے ہیں، وہ باپردہ اور شریعت کے احکام کو سرپر رکھ کر حاضر ہوتی ہیں اور مفتی ان پر حکم عدم جواز لگائیں، اس صورت میں فیض حقیقت محمدی کو روکنا ہے۔، اس کانام دوستی حضرت نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام نہیں، ہم آپ سے چھوٹے او رآپ کے اقدام کو اپنے سروں پر رکھنے والے ہیں، مگر آپ کا قدم صراطِ مسقیم سے پھسل گیا تو عرض کرنا چاہئے ہُد ہُد دوپیسے کی چڑیا حضرت سلیمان علیہ الصلٰوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کرتا ہے :
احطت بمالم تحط بہ وجئتک من سبا بنبا یقین ۲؎ ۔
میں نے وہ دیکھا جو آپ نے نہ دیکھا او ر میں آپ کے شہر سبا سے یقینی خبرلایا ہوں ۔(ت)
(۲؎ا لقرآن  ۲۷/۲۲)
اول تو ایک مدت سے آنکھیں آپ کی رمد میں مبتلا ہیں اور ہاتھ بڑوں بڑوں سے ملایا ہے۔ طبیعت پریشان ہے۔ یہ قلم اس وقت میرا نہ سمجھئے ، آپ کے ہم غلام ہیں تو دست بستہ عرض کرتے ہیں، ا س کو آپ بغاوت نہ سمجھیں، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کو زیارت قبور کے وقت سلام کرنا حضرت نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے بتایا مشکوٰۃ شریف، مسلم شریف ، نسائی جز  ۱ صفحہ ۶۳۵ میں ہے :
ایں دلالت دارد برجواز مرنساء را ۱؎ ۔
اس میں عورتوں کے لیے جواز  زیارت کی دلیل ہے۔(ت)
 (۱؎اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ   باب زیارۃ القبور    فصل ثالث    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/ ۷۱۹)
امام نوی شرح مسلم کی جلد ۱ صفحہ ۳۱۴ میں فرماتے ہیں :
فیہ دلیل لمن جوز للنساء زیارۃ القبور ۲؎ ۔ الخ
اس میں عورتوں کے لیے زیارت قبور جائز ماننے والوں کے لیے دلیل ہے ۔(ت)
 (۲؎ شرح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الجنائز    فصل فی الذھاب الٰی زیارۃ القبور  نور محمد اصح المطابع کراچ ۱/ ۳۱۴)
فتح الباری پارہ ۵ مطبع انصاری دہلی ص۶۶۲ میں ہے :
اختلف فی النساء فقیل دخلن فی عموم الاذن وھوقول الاکثر ومحلہ اذا امنت الفتنۃ ۳؎ ۔
عورتوں کے بارے میں اختلاف ہوا، کہا گیا کہ اجازت کے عموم میں یہ بھی داخل ہیں، اور یہی اکثر قول ہے۔ اور ا س کا حکم کا موقع فتنہ سے امن کی حالت میں ہے (ت)
 (۳؎ فتح الباری شرح البخاری    باب زیارۃ القبور      مصطفی البابی مصر    ۳ /۳۹)
اب تطبیق سمجھ لیجئے کہ گربے گانے والی۔ قوالی سننے والی عورتوں کے لیے زیارت قبور اولیاء کو جانا حرام اور فیض الٰہی لینے والی عورتوں کو باپردہ شریف کے احکام کو بجالاکر ناجائز، میں نے مسئلہ اس طرح مشرح بیان کیاہے ۔ اس کو آپ صحیح سمجھتے ہیں یا میری سمجھ میں کوئی غلطی ہے مجھے سمجھائے، آپ میرے مربی او ر قبلہ وکعبہ حاجات ہیں ، خدا تعالٰی آپ کو صحت کُلیہ عاجلہ عطافرمائے ،آمین ثم آمین!
رقیمہ حکیم عبدالرحیم عفی عنہ مدرسہ قادریہ احمد آباد گجرات دکن جمالپور مسجد کانچ ۱۵ ربیع الاول شریف اور مصطفٰی میاں کو پاس بٹھا کر جواب ان سے لکھواکر میری تسلّی کردیجئے، میں غلط سمجھا ہوں تو صحیح سمجھائے، اور وہ فتوٰی جو تحفہ حنفیہ میں عدم جواز زیارت قبور نساء کے بارے میں ہے اس کی نقل بھی کرواکر روانہ فرمائے، اس کے دلائل سے بھی واقف ہونا بندہ چاہتا ہے۔
Flag Counter