Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
124 - 243
مسئلہ ۱۶۹ تا ۱۷۶: از پنڈول بزرگ ڈاک خانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ نعمت علی صاحب ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسائل میں کہ:

(۱) مردہ کے نام کھانا جو امیر وغریب کو کھلاتے ہیں کس کو کھا نا چاہیے او رکس کو نہیں؟ او ریوں بھی کہتے ہیں کہ مردہ کے نام کا کھانا مصلّی امیر وغریب سب کو کھلاتے ہیں جائز ہے یا نہیں؟

(۲) بزرگوں کے مزار پر عرُسوں میں یا اس کے علاوہ میں عورتیں جاتی ہیں یا ناپاکی کی حالت میں بھلائی کی طلب میں حاجت برآری کے لیے ، اور وہاں ٹھہرتی ہیں ا ور ان کے لیے ٹھہرنے کے لیے وہی قبرستان ہے، آیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر یہ باتیں بری ہیں تو ا س بزرگ میں تصرف اور قوت ا س کے روکنے کی ہے یا نہیں؟ اوریہ کہا جاتاہے کہ دربار بزرگان میں آنے والے ان کے مہمان ہیں، یہ صحیح ہے یا نہیں؟ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ بزرگ لوگ اپنے مزار سے تصرف نہیں کرسکتے، اور یہ دلیل لاتے ہیں کہ اگر وہ تصرف کرسکتے تو وہاں رنڈیاں گاتی ہیں، ناچتی ہیں، بجاتی ہیں، عورتیں غیرمحرم رہتی ہیں، ا ن کے بچے پیشاب وغیرہ کرتے ہیں توکیوں نہیں روکتے، یہ کہنا اور اس کی یہ دلیل صحیح ہے یا نہیں؟ اس کا کیاجواب؟

(۳) بزرگوں کے مزار سے جو چراغ کی روشنی غیبی سے ہوتی ہے یہ کیسی ہے ا ورا س سے اس صاحب مزار کی بزرگی ثابت ہوتی ہے یا نہیں؟

(۴) بزرگوں کے مزار پر فاتحہ ، قرآن پڑھنے اور کھڑے ہوکر وسیلہ چاہنے کے لیے عمارت بنادے اور عرس کرے کرائے تو جائز ہے یانہیں؟

(۵) قبر پر درخت لگانا، دیوار کھینچنا یا قبرستان کی حفاظت کے لیے اس کے چاروں طرف کھود کر جس میں جدید قدیم قبریں بھی ہیں محاصرہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟

(۶) کسی بزرگ کے روضہ کے گرد قبریں اور وسعت جگہ کے لیے اس قبہ سے لگاکر اسی گرد کے قبر پر مثل سائبان کے پایہ زینہ دے کر چھپر ڈالنا جائز ہے یا نہیں؟

(۷) ظاہر ولی اﷲ یعنی زندہ اور صاحب مزار ولی اﷲ سے ظاہر طریقہ سے ہمکلام ہونے کی کوئی خبرہے یا نہیں؟

(۸) کوئی شخص اپنی زندگی میں قُل کرائے ، فاتحہ پڑھوائے، آیا جائز ہے یا نہیں، او راس کا ثواب اپنے لیے بعد وفات رکھے، یعنی یہ کہے کہ میرے مرنے کے بعد مجھے اس کا ثواب ملے۔
الجواب

(۱) مردے کا کھاناصرف فقراء کے لیے ہو، عام دعوت کے طور پر جو کرتے ہیں یہ منع ہے، غنی نہ کھائے،
کما فی فتح القدیر ومجمع البرکات
 (جیسا کہ فتح القدیر اور مجمع البرکات میں ہے ۔ت)

(۲) عورتوں کو مقابر اولیاء ومزارات عوام دونوں پر جانے کی ممانعت ہے۔ اولیاء کرام کا مزارات سے تصرف کرنا بیشک حق ہے۔ اور وہ بیہودہ دلیل محض باطل ہے۔ اصحاب مزارات دارِ تکلیف میں نہیں وہ اس وقت محض اہل تکوینیہ کے تابع ہیں، سیکڑوں ناحفاظیاں لوگ مسجدوں میں کرتے ہیں اﷲ عزوجل توقادر مطلق ہے کیو ں نہیں روکتا؟ حاضرانِ مزار مہمان ہوتے ہیں مگر عورتیں ناخواندہ مہمان۔
 (۳) اگر منجانب اﷲ ہے تو ضرور بزرگی ثابت ہوتی او راگر بزرگی ثابت ہے تو منجانب اﷲ ہے ورنہ امر متحمل ہے۔ شیطان بھی بہت کرشمے دکھاتا ہے، حضور سید نا غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی ازواجِ مطہرات سے ایک بی بی جب اندھیرے میں جاتیں ایک شمع روشن ہوجاتی، ایک روز حضور نے ملاحظہ فرمایا اسے بجھادیا اور فرمایا کہ یہ شیطان کی جانب سے ہے پھر ایک ربانی نور ان کے ساتھ فرمادیا
کما فی بھجۃ الاسرارو معدن الانوار
 ( جیساکہ بہجۃ الاسرار اور معدن الانوار میں ہے ۔ت)
 (۴) جائز ہے
کمافی مجمع بحار الانوار
(جیسا کہ مجمع بحار الانوار میں ہے ۔ت) ہاں منکراتِ شرعیہ مثل رقص ومزامیر سے بچنا لاز م ہے۔

 (۵) حفا ظت کے لیے حصار بنانے میں حرج نہیں۔ا ور درخت اگر سایہ زائرین کے لیے ہوں تو اچھا ہے

مگر قبر سے جدا ہوں۔

(۶) کسی قبر پر کوئی پایہ چُننا جائز نہیں۔

(۷) بکثرت ہیں کہ امام جلال الدین (سیو طی) کی شرح الصدور وغیرہ میں مذکور ۔

(۸) جائز ہے اور قبول ہو ا تو ثواب ملے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۷۷:ا ز گوالیار مرسلہ مولوی محمود الحسن صاحب ۱۳ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورتوں کوقبروں پر فاتحہ کو جانادرست ہے یا نا درست؟
الجواب

اصح یہ ہے کہ عورتوں کو قبروں پر جانے کی اجازت نہیں ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۷۸: از نصیر آباد تعلقہ جل گاؤں ضلع خانداس مرسلہ بسم اﷲ منشی ۲ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیارت قبور میں عورتوں کے واسطے کیا حکم ہے؟ دیگر کسی کے بزرگوں کے پاس سے پشت درپشت کسی اولیاء اﷲ کی مجاوری او رخدمت گزاری ملی ہے تو فاتحہ دینا اس قبر پر صندل چڑھانا، غلاف چڑھانا، مجاور مرد لوگ موجود ہوکر عورت کو جائز ہے، اس مزارپرہمیشہ مرد مجاور رہا کرتے ہیں، وہ عورت مجاور کے خاندان سے ہے مگر نہایت بدچلن ہے۔ اس عورت کو کیا اختیار ہے؟
الجوابعورتوں کو زیارت قبور منع ہے۔ حدیث میں ہے:
لعن اﷲ زائرات القبور ۱؎
اﷲ کی لعنت ان عورتوں پرجو قبروں کی زیارت کوجائیں،
 (۱؎ عمدۃ القاری شرح البخاری    باب زیارۃ القبور    ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت    ۸/ ۶۹)
مجاور مردوں  کو ہونا چاہئے، عورت مجاور بن کر بیٹھے اور آنے جانے والوں سے اختلاط کرے یہ سخت بد ہے، عورت کو گوشہ نشینی کا حکم ہے، نہ یوں مردوں کے ساتھ اختلاط کا ، جس میں بعض اوقات مردوں کے ساتھ اسے تنہائی بھی ہوگی، اوریہ حرام ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter