Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
123 - 243
مسئلہ ۱۶۴: ۴ جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قبروں کوبوسہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ زیارت قبور کی نشست و برخاست کا طریقہ کیا ہے؟
الجواب

قبروں کا بوسہ لینا نہ چاہے ۔ زیارت قبر میّت کے مواجہ میں کھڑے ہوکر ہو۔ او راس کی طرف سے جائے کہ اس کی نگاہ کے سامنے ہو، سرہانے سے نہ آئے کہ اسے سر اُٹھا کر دیکھنا پڑے۔ سلام وایصال ثواب کے لیے اگر دیر کرنا چاہتاہے رُو بقبر بیٹھ جائے اور پڑھتا رہے، یا ولی کا مزارہے تو اس سے فیض لے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۶۵ تا ۱۶۶: 

(۱) قبور شہداء یا اولیاء اﷲ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم پر جاکر اور قبرشریف ہی پر مالیدہ یا شرینی مع پھول وغیرہ نیاز کرنا کیسا ہے، چاہئے یانہیں؟

(۲) جس شہید یا اولیاء اﷲ کے مزار کا حال ہم کو معلوم نہیں ہے کہ آیا کسی کی مزار ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو کس کی ہے؟ مرد اہل اسلام ، یہودی یا نصارٰی یا عورت یہود، یا نصارٰی یا مسلمان کی، تو اس مزار پر فاتحہ پڑھنا یا بطریق مذکور نیاز وغیرہ کرنا کیسا ہے، چاہئے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

(۱) قبور مسلمین کی زیارت سنّت او رمزارات اولیاء کرام و شہداء رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کی حاضری سعادت برسعادت اور انھیں ایصال ثواب مندوب وثواب۔ اور مالیدہ وشیرینی خصوصیاتِ عرفیہ میں اگر وجوب نہ جانے حرج نہیں، اور قبر پر لے جانے کی نہ ضرورت نہ اس میں معصیت۔ ہاں اسے شرعاً لازم جانے بغیر اس کے فاتحہ کا قبول نہ سمجھے تویہ اعتقاد فاسد ہے ،اس اعتقادسے احتراز لازمِ ہے۔قبور مسلمین خصوصاً اولیاء پر پھول چڑھانا حسن ہے، عالمگیری وغیرہ میں اس کی تصریح فرمائی ۔ مگر شیرینی وغیرہ جواس قسم کی چیزیں لے جائے اس کوقبر پر نہ رکھے۔ یہ ممنوع ہے۔
 (۲) جس قبر کایہ بھی حال معلوم نہ ہو کہ یہ مسلمان کی ہے یا کافر کی، ا س کی زیارت کرنی، فاتحہ دینی ہرگز جائز نہیں کہ قبر مسلمان کی زیارت سنت ہے ا ور فاتحہ مستحب، اور قبر کافرکی زیارت حرام ہے او راسے ایصال ثواب کاقصد کفر،
قال اﷲ تعالٰی
ولا تقم علٰی قبرہ۱؎ وقال تعالٰی ومالہ فی الاٰخرۃ من خلاق۲؎ وقال تعالٰی ان اﷲ حرمھا علی الکافرین ۳ ؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا اس کی قبرپر کھڑے بھی نہ ہونا۔ اور فرمایا، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور فرمایا بیشک اﷲ نے ان دونوں کو کافروں پر حرام کیا۔ (ت)
 (۱؎ لقرآن      ۹/ ۸۴)	(۲؎القرآن   ۲/ ۱۰۲ و ۲۰۰)	(۳؎ القرآن       ۷/ ۵۰)
مسئلہ ۱۶۷: کسی اولیاء اﷲ یا شہید رحمۃ اﷲ علیہ کے مزار شریف پر پھول یا کپڑے کی چادر منت مان کر چڑھانا کیسا ہے۔ چاہئے یا نہیں؟
الجواب

یہ منت کوئی شرعی نہیں
اذلیس من جنسہ واجب
 (اس لیے کہ اس کی جنس سے کوئی واجب نہیں ۔ت) ہا ں پھول چڑھانا حسن ہے
کماتقدم
 ( جیسا کہ گزرچکا ۔ت) اور قبور اولیائے کرام قدسنا اﷲ باسرارہم پر چادر بقصد تبرک ڈالنا مستحسن ہے ۔
قال اﷲ تعالٰی:
ذلک ادنی ان یعرفن فلا یوذین ۴؎ ۔
وہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ پہچان ہو جائے تو انھیں ایذانہ دی جائے۔ (ت)
 (۴؎ القرآن    ۳۳/ ۵۹)
امام عارف باﷲ علامہ سیدی عبدا لغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے
کشف النور عن اصحاب القبور ۵؎
میں اس کی تصریح فرمائی، پھر علامہ شامی نے عقود الدریہ میں اسے نقل کیا اور مقرر رکھا۔
 (۵؎ کشف النور عن اصحابہ القبور مع الحدیقۃالندیۃ    مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ص۱۴)
مسئلہ ۱۶۸: از کلکتہ زکریا اسٹیٹ۲۲ مسئولہ مولوی عبدالحق صاحب ومولوی مبارک کریم صاحب بمعرفت حاجی لعل خاں صاحب ۲۶ رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیخ نے مرید کو وصیت کی تھی کہ میری قبرکا کل سامان روشنی و قرآن خوانی ولنگر خان عرس وغیرہ کا تم انتظام کرنا۔ چنانچہ مرید نے بموجب وصیت تمام سامان کیا، کل اخراجات کا متکفل ہوا۔ اب سوال یہ ہے کہ جو لوگ چادر وشیرینی ونقد جنس مزار پر چڑھاتے ہیں وہ کس کاحق ہے؟ اس مرید کا جس نے یہ سامان اور اخراجات کئے اور جو خادم ہے یا وہ فرزندِ شیخ کا؟
الجواب

چادر جو مزار پر ڈالی جائے وہ کسی کا حق نہیں، نہ اس مرید خادمِ مزار کا، نہ فرزند صاحب مزار کا، نہ وہ وقف ہو، بلکہ وہ ڈالنے والے کی ملک پر رہتی ہے ، جیسے کفن کہ تبرعاً کسی نے میّت کو دیا۔
درمختارمیں ہے :
لایخرج الکفن عن ملک المتبرع ۱؎ ۔
کفن تبرع کرنے والے (بطور احسان دینے والے ) کی ملک سے نہیں نکلتا ۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    باب صلٰوۃالجنائز  مطبع مجتبائی دہلی  ۱/ ۱۲۱)
ردالمحتار میں ہے:
لوافترس المیّت سبع کان للمتبرع لاللورثۃ نھر ۲؎ ۔
اگر میّت کو کسی درندے نے کھا لیا تو کفن جو رہ گیا وہ تبرع کرنے والے کا ہوگا ورثہ کا نہیں۔ نہر۔ (ت)
 (۲؂ردالمحتار     باب صلٰوۃالجنائز    ادارۃ الطباعۃ المصریۃ ، مصر    ۱/ ۵۷۱)
باقی اور چڑھاوے ا گر چہ وہ چادریں ہو ں جو مزار پرنہ ڈالیں نہ اس پر ڈالنے کو دیں۔ بلکہ دیگر نذور کی طرح سمجھیں، ان میں عرف عام یہ ہے کہ خادم مزار ہی ان کا مالک سمجھا جاتا ہے۔ اسی قصد سے لوگ لاتے اور اس کا انتفاع وتصرف دیکھتے ،جانتے ، روا رکھتے ہیں
والمعروف کا لمشروط
 ( معروف ، مشروط کی طرح ہے۔ت)تو وہ خدمت والا ہی ان کا مالک ہے ترکہ نہیں کہ فرزند کو جائے ۔ اور اس قسم کے چڑھاوے شرع میں کہیں مطقاً منع نہیں، نہ یہ نذورِ شرعی ، بلکہ عرف ہے کہ اکابر کے حضور جوکچھ لے جاتے اسے نذرکہتے ہیں ، جیسے بادشاہ کی نذریں گزریں۔ بعض متاخرین نے منع کیا میّت کے لیے منت ماننے کو منع کیا ہے، وہ صورت یہاں عام مواقع میں نہیں، اکثر چڑھاوے منت ہی نہیں ہوتے،نہ یہ نذر شرعی نذر۔ اوریہاں مباحث نفسیہ ہیں کہ ہم نے تعلیقاتِ ردالمحتار میں ذکر کیں،
معہذا امام علامہ عارف باﷲ سیدی عبدالغنی سیدی اسمٰعیل بن عبدالغنی قدس سرہ القدسی

حدیقہ ندیہ شریف میں فرماتے ہیں:
ومن ھذا القبیل زیارۃالقبور والتبرک بضرائح الاولیاء والصالحین والنذرلھم بتعلیق ذلک علی حصول شفاء اوقدم غائب فانہ مجاز عن الصدقۃ علی الخادمین بقبورھم کما قال الفقھاء فیمن دفع الزکوٰۃ لفقیر وسماھا قرضا صحح لانہ العبرۃ بالمعنی لاباللفظ وکذلک الصدقۃعلی الغنی ھبۃ والھبۃ للفقیر صدقۃ ۱؎ ۔
اسی قبیل سے ہے قبروں کی زیارت اور اولیاء وصالحین کے مزارات سے برکت لینا اور کسی بیمار کی شفا یابی یا کسی غائب کی آمد کی شرط کرکے ان کے لیے نذر پیش کرنا کہ دراصل یہ قبروں کے خدام پر صدقہ سے مجازہے جیسا کہ فقہا نے اس شخص کے بارے میں فر مایا جوفقیر کو زکٰوۃ دے او راسے قرض کہے تو زکٰوۃ ادا ہوجاتی ہے اس لیے کہ اعتبار معنی کا ہے لفظ کا نہیں، اسی طرح غنی پر صدقہ ہو تو ہبہ وعطیہ ہے اورفقیر کو ہبہ ہو توصدقہ ہے ۔(ت)

نذر اولیاء کانفیس بیان ہمارے فتاوٰی افریقہ میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ الحدیقہ الندیۃ فی الطریقۃ المحمدیۃ    الخلق الناس والاربعون الخ        مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد     ۲/ ۱۵۱)
Flag Counter