Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
120 - 243
بالجملہ حاصل حکم یہ ہے کہ قبور عامہ ناس پر روشنی جب خارج سے کوئی مصلحت مصالح مذکورہ کے امثال سے نہ ہو ضرور اسراف ہے اور اسراف بیشک ممنوع ، فقہاء اسی کو منع فرماتے ہیں، کہ یہی علت منع بتاتے ہیں، اور اگر زینت قبر مطلوب ہو تو قبر محل زینت نہیں، اب بھی اسرا ف ہوا، بلکہ کچھ زائد، یوں ہی اگر تعظیم قبر مقصود ہو کہ یہاں تعظیم نسبت نہیں رہے مزارات محبوبان الٰہ، ان میں اگر زینت قبر یا تعظیم نفس قبر کی نیت ہو یہاں بھی وہی ممانعت رہے گی کہ یہ نیتیں شرعاً محمود نہیں، او ر اگر ان کی روح کریم کی تعظیم وتکریم مقصود ہو، اب نہ اسراف ہے کہ نیت صالحیہ موجود ہے، نہ تعظیم قبر ،بلکہ تعظیم روح محبوب، اور وہ شرعاً بلاشبہہ مطلوب، امام اجل تقی الدین سبکی وامام نورالدین سمہودی وامام عبدالغنی نابلسی رحمہم اﷲ تعالٰی اسی کو جائزبتاتے ہیں او رکسی کے قلب پر حکم لگا نا کہ اسے تعظیم قبر ہی مقصود ہے نہ کہ تعظیم روحِ ولی محض خراف وبدگمانی وحرام بنص قرآنی ہے۔
قال اﷲ تبارک وتعالٰی :
ولاتقف مالیس لک بہ علم ان السمع والبصر کل اولئک کان عنہ مسؤلا ۔ ۲؎
اور اس کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں۔ بیشک کا ن، آنکھ ہر ایک سے باز پرس ہوگی ۔(ت)
 (۲؎ القرآن    ۱۷/ ۳۶)
وقال اﷲ تبارک وتعالٰی :
یاایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرامن الظّن ان بعض الظن اثم ۳؎ ۔
اے ایمان والو! زیادہ گمان سے بچو، بلاشبہہ بعض گمان گناہ ہیں (ت)
(۳؎ القرآن    ۴۹/ ۱۲)
وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم افلا شققت عن قلبہ ۱؎ ۔
او ر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:تو تونے ا س کا دل کیوں نہ چاک کیا ؟ (ت)
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل    حدیث اُسامہ بن زید        دارالفکر بیروت        ۵/ ۲۰۷)
وقال  صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایّاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۲؎ ۔
اور سرکار دوعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: گمان سے بچوکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے (ت)
 (۲؎ صحیح البخاری    باب قول اﷲ تعالٰی من وصیۃ الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۳۸۴)
اور تعظیم رُوح اور تعظیم قبر میں فرق نہ کرنا سخت جہالت ہے، عارف نابلسی کاا رشاد گزرا، اور امام سمہودی فرماتے ہیں:
لیس القصد تعظیم بقعۃ القبر بعینھا بل من حل فیھا ۳؎ ۔
خاص زمین قبرکی تعظیم مقصود نہیں بلکہ اس کی تعظیم مقصود ہے جو اس میں فروکش ہے ۔(ت)
 (۳؎ وفاء الوفاء    الفصل الثانی من الباب الثامن     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۱۳۶۶)
بلکہ امام احمد بن حنبل رحمہ اﷲ علیہ مسند شریف میں بسند حسن روایت فرماتے ہیں:
اقبل مروان یوما فوجد رجلا واضعا وجہہ علی القبر فاخذ مروان برقبتہ ثم قال ھل تدری ماتصنع فاقبل علیہ فقال نعم انی لم اٰت الحجر انما جئت رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولم اٰت الحجر سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یَقُولُ لاَتَبْکُوْا عَلَی الدِّیْنِ اِذَا وَلِیَہ اَھْلُہ وَلٰکِنْ اِبْکُوْا عَلَی الدِّیْنِ اِذَا وَلِیَہ غَیْرُ اَھْلِہٖ۔ ۴؎
یعنی مروان نے اپنے زمانہ تسلط میں ایک صاحب کو دیکھا کہ قبر اکرم سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر اپنا منہ رکھے ہوئے ہیں مروان نے ان کی گرد ن مبارک پکڑ کر کہا: جانتے ہو کیا کررہے ہو؟ اس پر ان صاحب نے اس کی طر ف متوجہ ہوکر فرمایا: ہاں میں سنگ وگِل کے پاس نہیں آیا ہوں میں تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حضور حاضر ہو ا ہوں ، میں اینٹ پتھر کے پاس نہ آیا، میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا دین پر نہ رؤو جب اس کا اہل ا س پر والی ہو ، ہاں اس وقت دین پر رؤو جبکہ نااہل والی ہو۔
(۴؎ ،مسند احمد بن حنبل    حدیث ابی ایوب الانصاری    دارالفکر بیروت        ۵/ ۴۲۲)
یہ صحابی سیدنا ابو ایّوب انصاری تھے رضی اﷲ تعالٰی عنہ__ تو تعظیم قبر وروح مطہر میں فرق نہ کرنا مروان کی جہالت اور اسی کے ترکہ سے وہابیہ کو پہنچی ، اور تعظیم قبر سے جدا ہو کر تعظیم روح کریم کی برکت لینا صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی سنت ہے۔ اورا ہلسنت کوان کی میراث ملی، وﷲ الحمد۔
تنبیہ: سب سے زائد اہم بات یہ ہے کہ زید صاحب سمجھیں تو بہت کچھ حق مانیں، ہدایت کے شکر گزار ہوں یہ کہ تحریر زید کا خاتمہ کلمہ سخت شنیع وشتم فظیع پر ہواکہ ''اس قدر وعید  کے بعد بھی کوئی شخص اس میں کٹ جحتی کرے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قبر میں تصفیہ کے قابل موسٰی بدین خود عیسٰی بدین خود ۔'' زید نے دو فریق بنائے ایک کہ حق پربتایا ا ور دوسرے کو کٹ حجتی کرنے والا ، وعید الہٰی کے مقابل ہٹ دھرمی سے پیش آنے والا۔

اور اس پر مثال وہ ڈھادی کہ موسٰی بدین خود او رعیسٰی بدین خود ، اس تمثیل کی تطبیق کی جائے تو معاذ اﷲ جو حاصل نکلے ا س کے قہر و خباثت کا کیا اندازہ ہو سکتا ہے ، ایسی جگہ انبیاء کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام کا ذکر سخت جرأت وگستاخی وبد زبانی و دریدہ دہنی ہے۔ توبہ فرض ہے اور اللہ تعالٰی ہادی،
وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا ومولٰنا محمد واٰلہٖ وصحبہ وابنہ وحزبہ وبارک وسلم، واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
اللہ تعالٰی ہمارے آقا مولٰی حضرت محمد، ان کی آل ، ان کے اصحاب ، ان کے فرزند اور ان کی جماعت پر درود وسلام اور برکت نازل فرمائے، ا ورخدائے پاک برتر خوب جاننے والا ہے ۔(ت)
مسئلہ ۱۵۰ : از بنارس تھانہ بہلوپورہ محلہ احاطہ روہیلہ مرسلہ حافظ عبدالرحمن رفوگر ۲۸ محرم ۱۳۳۲ھ

حضرت کی خدمت میں عرض یہ ہے کہ بزرگوں کے مزار پر جائیں تو فاتحہ کس طرح سے پڑھا کریں ا ور فاتحہ میں کون کون سی چیزیں پڑھا کریں؟
الجواب

بسم اﷲ الرحمن الرحیم، نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم ط
حافظ صاحب کرم فرفا سلمکم، مزار شریفہ پر  حاضرہونے میں پائنتی کی طرف سے جائے اور کم ازکم چار ہاتھ کے فاصلے پر مواجہہ میں کھڑا ہو اور متوسط آواز بادب عرض کرے السّلام علیک یا سیدی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ پھر درودغوثیہ تین بار، الحمد شریف ایک بار ، آیۃ الکرسی ایک بار، سورہ اخلاص سات بار، پھر درود غوثیہ سات بار ، اور وقت فرصت دے تو سورہ یٰسں او رسورہ ملک بھی پڑھ کر اللہ عزوجل سے دعا کرے کہ الہی ! اس قرأت پر مجھے اتنا ثواب دے جو تیرے کرم کے قابل ہے، نہ اتنا جو میرے عمل کے قابل ہے او راسے میری طرف سے اس بندہ مقبول کو نذر پہنچا، پھر اپنا جو مطلب جائز شرعی ہو ا س کے لیے دعا کرے اورصاحب مزار کی روح کو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قراردے ، پھر اس طرح سلام کرکے واپس آئے، مزار کو نہ ہاتھ لگائے نہ بوسہ دے اور طواف بالاتفاق ناجائز ہے اور سجدہ حرام ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۵۱ و ۱۵۲: از شہر علی گڑھ محلہ مدار دروازہ مرسلہ عمر احمد سوداگر پارچہ بنارسی ۴ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:

(۱)قبر پر جانے سے مردہ کو معلوم ہوتا ہے کہ میرا کوئی عزیز آیا یاکوئی شخص آیا، یا نہیں معلوم ہو تا اور زندہ کو مردہ کی قبر پر جانے سے مردہ کو کسی قسم کی تکلیف یاراحت ہوتی ہے یانہیں، اور وہ کچھ پڑھ کر ثواب بخشے تومردہ کو علم ہوتا ہے یا نہیں؟

(۲) زید  قبر پرکسی عزیز کی روز جاتا تھا پھر جانا بند کردیا، یہ دریافت طلب ہے کہ اس مردہ کو زید کے آنے اور جانے سے کسی قسم کی تکلیف یا راحت ہوتی تھی یا نہیں؟
الجواب

(۱) قبر پر کوئی جائے تو مردہ دیکھتا ہے اور جو کچھ کلام کرے و ہ سنتا ہے اور جو ثواب پہنچائے مردہ کو پہنچتا ہے، اگرکوئی عزیز یا دوست جائے تو اس کے جانے سے مردہ کو راحت اور فرحت ملتی ہے، جیسے دنیا میں، یہ سب مضامین صحاح احادیث میں وارد ہیں،
وقدفصلنا ھا فی حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات
 ( ہم نے حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات میں ا ن کو تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ت)

(۲) اس کاجواب سوال سابق کے جواب میں آگیا ، بیشک اعزّہ واحباب کے جانے سے اموات کو فرحت ہوتی ہے اور دیرلگانے سے ان کا انتظار رہتا ہے، وفیہ حکایۃ نفیسۃ فی شرح الصدور ( اس سلسلے میں شرح الصدور(للسیوطی) کے اندر ایک نفیس حکایت ہے۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter