Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
119 - 243
اختیار شرح مختار اور اسی آپ کی مستند عٰلمگیری میں ہے:
ثم ینھض فیتوجہ الی قبرہ صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولا یضع یدہ علٰی جدار التربۃ فھو اھیب واعظم للحرمۃ ویقف کما یقف فی الصلوۃ۲؎ اھ قدر الحاجۃ۔
یعنی پھر کھڑا ہو کر قبر اکرم حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہو ،اور تربت کریمہ کی دیوار پر ہاتھ نہ رکھے کہ اس میں زیادہ ہیبت وتعظیم حرمت کریمہ ہے ،اور یوں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جیسانماز میں کھڑا ہو تا ہے اھ بقدر ضرورت ۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ    خاتمہ فی زیارت قبر البنی صلی اﷲ علیہ وسلم    نورانی کتب خانہ پشاور۱/ ۲۶۵)
منسک متوسط اور اس کی شرح مسلک متقسط علی قاری میں ہے :
ولیغتنم ایام مقامہ بالمدینۃ المشرفۃ فیحرص علی ملازمۃ المسجد وادامۃ النظر الی الحجرۃ الشریفۃ ان تیسراو القبۃ المنیفۃ ان تعسر مع المھابۃ والخضوع والخشیۃ والخشوع ظاھراً وباطناً فانہ عبادۃ کالنظر الی الکعبۃ الشریفۃ ۳؎ ۔
یعنی مدینہ طیبہ میں حاضری کے دنوں کو غنیمت جانے اکثر اوقات مسجد کریم میں حاضر رہے او رہوسکے تومزار اطہر کے حجرہ مقدسہ ورنہ اس کے گنبد مبارک ہی کودیکھتا رہے ۔ خوف وادب اور خشوع وخضوع کے ساتھ کہ اس پر نگاہ ہی عبادت ہے جیسے کعبہ معظمہ پر نظر ۔(ت)
 (۳؎ المسلک المتقسط شرح منسک متوسط مع ارشاد الساری     فصل ولیغتنم ایام مقامہ    دارالکتب العربی بیروت ص ۳۴۱)
علامہ القاری فاکہی مکی تلمیذ امام ابن حجر مکی رحمہمااﷲ تعالٰی حسن التوسل فی زیارۃ افضل الرسل صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں فرماتے ہیں:
ومنھا ان لا یستد بر القبر الشریف۴؎۔
یعنی آداب میں سے ہے: کہ قبر اقدس کو پشت نہ کرے،
 (۴؎ حسن التوسل فی زیارۃ افضل الرسل)
سیدا قدس قدس سرہ نے خلاصۃ الوفاء میں فرمایا:
فی الصلٰوۃ ولا فی غیرھا ۱؎
نہ نماز میں ادھرپیٹھ کرے نہ غیر نماز میں پھر امام عزالدین بن عبدالسلام سے نقل فرمایا:
اذا اردت صلٰوۃ فلا تجعل حجرتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وراء ظھرک ولابین یدیک والادب معہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد وفاتہ مثلہ فی حیاتہ فما کنت صانعہ فی حیاتہ فاصنعہ بعد وفاتہ من احترامہ والا طراق بین یدیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ ۲؎
جب تو نما زپڑھنا چاہے توحجرہ مطہر ہ مزار اطہر کوپیٹھ نہ کر، نہ نماز میں اپنے سامنے رکھ، حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا ادب بعد وفات بھی ویسا ہی ہے جیسا عالم حیات ظاہر میں تھا، تو جیسا تو اس وقت ادب کرتا او رحضور کے سامنے سرجھکا تا ایسا ہی مزارِاطہر کے حضور کر۔
 (۱؎۲؂ وفاء الوفاء    الفصل الرابع من الباب الثامن    احیاء التراث العر بی بیروت    ۴/ ۱۴۱۰)
یہ سب تعظیم نہیں تو اور کیا ہے۔ اس قسم کے ارشاداتِ ائمہ اگر جمع کئے جائیں تو ایک دفتر ہو، ا ور خود اس سے زیادہ اور کیا تعظیم قبر اطہر ہوگی، جو حدیث میں ہے کہ خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے خواب میں جمال جہاں آراکی زیارت سے مشرف ہونے کے لیے تعلیم فرمائی در منظم امام ابوالقاسم محمد لولوی بستی میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من صلی علٰی روح محمد فی الارواح و علٰی جسدہٖ فی الاجساد  وعلٰی قبرہ فی القبور راٰنی فی منامہ ومن راٰنی فی منامہ رانی یوم القیامۃ ومن رانی یوم القیامۃ شفعت لہ و من شفعت لہ شرب من حوضی وحرم اﷲ جسدہ علی النار ۳؎ ۔
جو محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی روحِ اقدس پر ارواح میں ، اور جسد اطہر پرا جسام میں، اور قبرا نور پر قبور میں درود بھیجے وہ مجھے خواب میں دیکھے، ا ور جو خواب میں دیکھے مجھے قیامت میں دیکھے گا۔ او رجو مجھے قیامت میں دیکھے گا میں اس کی شفاعت فرماؤں گا۔ اور جس کی میں شفاعت فرماؤں گا وہ میرے حوضِ کریم سے پئے گا اور ا ﷲ عزوجل اس کے بدن پر دوزخ کوحرام فرمائے گا۔
 (۳؎ درمنظم امام ابوالقاسم محمد لولوی بستی)
اللھم ارزقنا بجاھہٖ عندک اٰمین
 (ا ے اللہ ! ہمیں نصیب فرما ان کی اس وجاہت کے طفیل جو تیرے حضور ان کے لیے ہے۔ الہٰی قبول فرما ۔ت)
علماء فرماتے ہیں یعنی یُوں درود شریف پڑھو :
اللّھم صل علٰی رُوح سیدنا محمد فی الارواح اللّٰھم صل علی جسد سیدنا محمد فی الاجسام اللّٰھم صلّ علٰی قبر سیدنا محمد فی القبور۔
قبر کریم پر درود بھیجنے کا حکم ہوا، اور دورد وہ تعظیم ہے کہ بالاستقلال انبیاء وملائکہ علیہم الصلٰوۃ والسلام کے سواکسی کے لیے جائز نہیں۔
 (۳۸) رہی تیسری وجہ کہ وہ آثار جہنم سے ہے۔ والعیاذ باﷲ تعالٰی۔

اقول اس کی غایت ایک تفاول ہے وہ ا س قابل نہیں کہ جس کے لحاظ نہ کرنے پر مسلمان لعنت کا مستحق ہو، تو یہ اس کی تو جیہ نہیں ہوسکتہی، شرع کوا یسی فالوں کا اتنا عظیم لحاظ ہوتا تو میّت کو گرم پانی سے نہلانے کا حکم نہ ہوتا کہ وہ بھی آثار جہنم سے ہے۔
قال اﷲتعالٰی: یصب علیہ من فوق رؤسھم الحمیم ۱؎ ۔
اس ( جہنمی) پر انکے سروں کے اوپر سے گرم پانی بہایا جائے گا۔ (ت)
 (۱؎ القرآن        ۲۲/ ۱۹)
حالانکہ وہ شرعاً مطلوب ہے۔ درمختارمیں ہے :
یصب علیہ ماء مغلی بسدران تیسر والا فماء خالص ۲؎ ۔
اس (میّت) پر بیری جوش دیا ہو ا پانی بہایا جائے اگر میسر ہو، ورنہ سادہ پانی ۔(ت)
 (۲؎ درمختار   باب صلٰوۃ الجنائز    مطبع مجتبائی دہلی   ۱/ ۱۲۰)
ردالمحتار ونہر الفائق میں ہے :
  افادان الحار افضل سواء کان علیہ وسخ اولا۔ ۳؎
اس سے مستفادہوا کہ گرم پانی بہتر ہے میّت کے جسم پر میل ہو یا نہ ہو ۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار      باب صلٰوۃ الجنائز    ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر    ۱/ ۵۷۵)
اور بفرضِ تسلیم ا س کا محل وہی ہے کہ خاص قبروں پر چراغ رکھیں کہ فال ہے تو اس میں ہے نہ کہ اس کے گرد یا مناروں یا احاطہ کی دیواروں پر ''علماء نے تفاول کے سبب جب پکی اینٹ قبر میں لگانی مکروہ بتائی کہ وہ آگ دیکھے ہوئے ہے والعیاذ باﷲ تعالٰی، تصریح فرمائی کہ یہ اس صور ت میں ہے کہ خاص لحد پر پختہ اینٹیں لگائیں جو قریب میّت ہے ورنہ بالائے قبر اس میں حرج نہیں ،یہ خود آگ ہے۔ اس میں بالائے قبر بھی حرج ہے مگر حول میں حرج

مسلم نہیں ، ردالمحتار میں ہے :
یسوی اللبن علیہ والقصب لاالاجر المطبوخ والخشب لو حولہ اما فوقہ فلایکرہ ۔ ۱؎
اس پر کچّی اینٹ ا ور بانس چُن دیں، پکی اینٹ اور لکڑی اس کے گرد نہ رکھیں، ہاں اوپر ہو تو حرج نہیں۔ (ت)
 (۱؎ درمختار   باب صلٰوۃ الجنائز   مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۲۵)
ابن ملک بدائع میں ہے :
لانہ مما مستہ النار فیکرہ ان یجعل علی المیّت تفاولا ۲؎ ۔
        اس لیے کہ اس پر آگ کا اثر پہنچا ہو اہے تو تفاول کے سبب میّت پر چننا مکروہ ہے ۔(ت)
(۲؎ بدائع الصنائع  فصل فی سنۃ الحفر  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۳۱۸)
حلیہ میں ہے:
قال الامام التمرتاشی ھذا اذاکان حول المیّت فلوفوقہ لایکرہ ۳؎ ۔
امام تمرتاشی نے فرمایا: یہ اس وقت ہے جب خاص میّت کے گرد ہو ، اوپر ہو تو مکروہ نہیں ۔(ت)
 (۳؎ حلیۃ المحلی  شرح منیۃ المصلی)
(۳۹)کس نادانی کا اعتراض ہے کہ علی معنی حقیقی پر لیں تو کوئی شخص قبر کے نیچے یا قبر کے بیچ میں چراغ جلائے تو وہ جائز ہوجائے۔ دربارہ مسجد تو آپ کو بھی مسلّم کہ علٰی معنی حقیقی پر ہے تو کوئی شخص قبرکے نیچے یاقبر کے بیچ میں مسجد بنائے یا نماز پڑھے تو وہ جائز ہوجائے، کیونکہ حدیث میں قبر پر کی ممانعت ہے۔ اب بھی کہیے کہ استغفراﷲ ۔ یہ حدیث کے ساتھ مضحکہ کرناہے۔
(۴۰) کثرتِ چراغاں کا ذکر روشنی روضہ انور میں گزرا او راس کے متعلق احیاء العلوم شریف کی ایک عبارت اور لکھیں کہ موافقین کے دل روشن ہوں اورمخالفین کی آنکھیں چکاچوند سے جلیں، امام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی قبیل کتاب آداب النکاح میں فرماتے ہیں:
حکی ابوعلی الرودباری رحمہ اﷲ تعالٰی عن رجل انہ اتخذ ضیافۃ فاوقدفیھا الف سراج وقال لہ رجل قداسرفت فقال لہ ادخل فکلما اوقد تہ لغیر اﷲ فاطفئہ فدخل الرجل فلم یقدر علی اطفاء واحد منھا فانقطع ۱؎ ۔
یعنی امام اجل عارفِ اکمل، سند الاولیاء حضرت سید نا امام ابوعلی رودباری رضی اﷲ تعالٰی عنہ (کہ اجلّہ اصحاب سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہیں ۳۲۲ ہجری میں وصال شریف ہے، اما م عارف باﷲ استاذ ابوالقاسم قشیری قدس سرہ نے رسالہ مبارک میں ان کی نسبت فرمایا
اظرف المشائخ واعلمھم بالطریقۃ
 (مشائخ میںسب سے زیادہ عقلمند اور طریقت کے سب سے بڑے عالم ۔ت)حکایت فرماتے ہیں کہ ایک بندہ صالح نے احباب کی دعوت کی اس میں ہزار ہا چراغ روشن کیے، کسی نے کہا آپ نے اسراف کیا ، صاحب خانہ نے فرمایا: اندر آئیے جو چراغ میں نے غیر خدا کے لیے روشن کیا  وہ گُل کردیجئے، معترض اندر گئے، ہر چند کوشش کی ایک چراغ بھی نہ بجھا سکے، آخر قائل ہوگئے وﷲ الحمد۔
 (۱؎ احیاء العلوم والدین    ا لباب الرابع من آدا ب الضیافۃ    مکتبہ ومطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ    ۲/ ۲۰)
Flag Counter