علامہ ممدوح اس حکایت کا خاتمہ ان لفظوں میں فرماتے ہیں:
وھو اول من علق قنادیل الذھب فی الحرمین الشریفین من سلاطین اٰل عثمان خلد ا ﷲ تعالٰی سلطنتھم وقد سبق بھذہ المنقبۃ الشریفۃ اٰبائہ السلاطین العظام ۳؎ ۔
یعنی سلاطین آل عثمان میں کہ ا ﷲ عزوجل ان کی سلطنت کو ہمیشہ رکھے، سلطان مرادخاں نے اس کی پہل کی کہ حرمین محترمین میں سونے کی قندیلیں آویزاں کیں، وہ اس عظیم منقبت میں اپنے باپ داداسلاطین پر سبقت لے گئے۔
(۳؎ الاعلام باعلام بلد اﷲ الحرام )
اس خاتمہ سے دو فائدے ظاہر ہوئے، ایک یہ کہ سلاطین عثمانیہ سے پہلے سلاطین بھی سونے کی قندیلیں حاضر کرتے، سلاطین عثمانیہ سے پہلے یہ سعادت سلطان محمد مرادخاں نے پائی ۔ دوسرے یہ کہ علامہ ممدوح ا س کا استحسان فرماتے ، اور اسے منقبت شریفہ بتاتے ہیں۔
اب پھر عبارات سابقہ خلاصۃ الوفاء کی طرف رجوع کیجئے ا وروہ سنئیے جوا مام ممدوح سیدی نورالدین سمہودی اس عبارت کے اثناء میں اس جانفرا روشنی کے بیان میں حکم فرماتے ہیں وہ عبارت یہ ہے:
وقد الف السبکی تالیفا سماہ تنزیل السکینۃ علٰی قنادیل المدینۃ وذھب فیہ الی جوازھا وصحۃ وقفھا وعدم جواز صرف شیئٍ منھا لعمارۃ المسجد ۴؎ ۔
بیشک امام اجل تقی الملۃ والدین علی بن عبدالکافی متوفی ۷۵۶ ھ رحمہ اﷲ تعالٰی نے خاص اس باب میں ایک کتاب تالیف فرمائی جس کانام '' تنزیل السکینۃ علٰی قندیل المدینۃ'' رکھا اور اس کتاب میں ا ن کا وقف صحیح ہونا بیان فرمایاا ور یہ کہ ان کو مسجد کی عمارت میں صرف کرنا جائز نہیں۔
(۴؎ وفاء الوفاء فصل ۲۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۹۵ ۔ ۵۹۱)
یہ امام اجل وہ ہیں جن کی نسبت امام ابن حجر فرماتے ہیں:
الا مام المجمع علٰی جلالتہ واجتھادہ ۵؎
یہ وہ امام کہ ان کی جلالتِ شان وقابلیت اجتہاد پر اجماع ہے۔
(۵؎ امام ابن حجر)
صلاح صفدی نے کہا:
الناس یقولون ماجاء بعد الغزالی مثلہ وعندی انھم یظلمونہ وما ھو عندی الامثل سفین الثوری ۱؎ ۔
لو گ کہتے ہیں امام حجۃ الاسلام کے بعد کوئی امام تقی الدین سبکی کے مثل پیدا نہ ہوا ا ور میرے نزدیک وہ ان کی شان گھٹاتے ہیں، میرے نزدیک توو ہ امام سفیان ثوری کے ہمسر ہیں۔
(۱؎ صلاح صفدی)
جواجلہ اکابر تابعین سے تھے وہ اس روشنی کو فقط جائز ہی نہیں بتاتے بلکہ فرماتے ہیں کہ اس پر رحمتِ الہٰی کا سکینہ اُترتا ہے۔ غالباً اب تو زیدصاحب اپنے تمام وساوس سے باز آکر اپنی قسم پوری کریں گے۔
(۳۰) حدیث مذکور کو زید نے بالجزم رسول خدا کا ارشاد بتایا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔ یہ سخت بیباکی وجرأت ہے ۔ وہ حدیث صحیح نہیں ۔ ا س کی سند کا مدار ابوصالح باذام پر ہے ۔ باذام کو ائمہ فن نے ضعیف بتایا۔
یہیں سے ظاہر ہو ا کہ یہ حدیث قابلِ احتجاج نہیں کہ حدیثِ ضعیف دربارہ احکام حجت نہیں ہوتی، تحسین ترمذی باعتبار ترجمہ باب سے کہ اسے
باب ماجاء فی کراھیۃ ان یتخذ علی القبر مسجدا
میں وارد کیا اور قبور پر مسجد نہ بنانے میں بیشک احادیث متعدد وارد۔ خود جامع ترمذی میں ہے:
وفی الباب عن ابی ھریرۃ وعائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما ۳؎
( اس باب میں حضرت ابوہریرہ و حضرت عائشہ صدیقہ رضی ا ﷲ تعالٰی عنہما سے بھی روایت ہے ۔ت)
(۳؎ جامع الترمذی ابواب الصلٰوۃ باب ماجاء فی کراھیۃ ان یتخذ علی القبر الخ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱/ ۴۳)
بخلاف چراغ کہ اِس کی ممانت میں یہی حدیث ضعیف باذام ہے ۔ اس کا یہ ٹکڑا حسن نہیں۔ خود امام ترمذی اپنی اصطلاح میں فرماتے ہیں :
ماذکرنا فی ھذا الکتاب حدیث حسن فانما اردنا حسن اسنادہ عندنا کل حدیث یروی لایکون فی اسنادہ من یتھم بالکذب ولایکون الحدیث شاذا ویرویہ من غیروجہ نحو ذالک فھو عند نا حدیث حسن ۱؎۔
اس کتاب میں ہم نے جسے حدیث حسن بتایا اس سے یہی مراد ہے کہ وہ ہمارے نزدیک حسن ہے جس حدیث کی
سند میں کوئی متہم بالکذب نہ ہو، نہ ہی وہ حدیث شاذ ہو، اور ایسے ہی متعدد طُرق سے مروی ہو، وہ ہمارے نزدیک حدیث حسن ہے ۔(ت)
(۱؎ جامع ا لترمذی ابواب الصلٰوۃ ماجاء فی کراھیۃ ان یتخذ علی القبرالخ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱/ ۴۳)
حدیث مانعین سے تین(۳) جواب ہیں:
پہلا یہ کہ حدیث سرے سے صحیح ہی نہیں اور سب میں اخیر تنزل کا جواب کہ امام نابلسی کے ارشاد سے گزرا۔ اور اوسط جواب یہ ہے کہ حدیث میں لفظ علٰی ہے اس سے قبر پر چراغ رکھنے کی ممانعت ہوئی،اسے ہم بھی تسلیم کرتے ہیں، ظاہر کہ علٰی کے معنی حقیقی یہ ہیں ، اور حقیقت سے بلا ضرورت عدول نا مقبول ، وہ عدول ہی تاویل ٹھہرے گا۔ اور اگر وجہ موجّہ نہ رکھتا ہو مردود رہے گا۔
تاویل یہ ہے کہ لفظ کو اس کے معنٰی ظاہر سے پھرا جائے ، مگر طرفہ یہ کہ زید نے معنی حقیقی مراد لینے کا نام تاویل رکھا او رتاویل بھی کیسی ضعیف ، اور نہ صرف ضعیف بلکہ معاذ اﷲ حدیث کے ساتھ مضحکہ۔ اس ظلم شدید کی کوئی حد ہے۔ او رنہ دیکھا کہ امام علامہ نابلسی قدس سرہ القدسی اس حدیث کی شرح میں کیا فرماتےہیں:
المتخذین علیھا ای القبور یعنی فوقھا ۲؎ ۔
قبروں پر یعنی ان کے اوپر ۔ (ت)دیکھو اس معنی حقیقی کی تصریح فرمائی جسے زیدنے معاذ اﷲ مضحکہ بنایا۔
میں ضمیر جانب اصحابِ کہف ہے ، اور آدمی کے جسم کے اوپر مسجد بنانے کے کوئی معنٰی نہیں تو مجاز متعین ہے، بخلاف حدیث کہ اس میں ضمیر جانب قبور ہے۔ اور قبر پر چراغ رکھنا ممکن، بلکہ بعض جگہ عوام سے واقع ہے ، تو اسے آیت پر قیاس کرنا محض سُوئے فہم ہے۔ وہ چمک کر کہا تھا کہ'' کیا اس کے یہ معنی ہیں اصحاب کہف کے سینہ پر سنگ بنیاد مسجد کا رکھیں گے۔'' وہ خود اپنے شبہہ کے پاؤں میں تیشہ ہے۔ یہ معنی صحیح نہ ہونا ہی حقیقت سے صاف اور مجاز کا قرینہ ہوا، یہاں کہ بے تکلف معنی حقیقی بن رہے ہیں ا ن سے پھیرنے والا کون، اور مجاز کے لیے بے قرینہ کیا۔
(۳۴) دوسری مثال قبر پر چڑھاوا چڑھانے کی دی ، اور نہ سمجھا کہ یہاں مجاز لفظ '' پر'' میں نہیں کہ علی بمعنی عند ہو، جس طرح تم حدیث میں لے رہے ہو، قبر کے نزدیک کسی چیز کے چڑھانے کے کیا معنی ، بلکہ مجاز خود یہاں چڑھاوے کے لفظ میں ہے۔ صدقہ کہ جُہّال کسی مریض وغیرہ کے لیے چورا ہے میں رکھتے ہیں اسے اوتارا کہتے ہیں کہ اسے ذلیلوں خبیثوں شیطانوں کے لیے کرتے ہیں، اور نذور کہ مزارات طیبہ کے حضور لاتے ہیں اسے چڑھاوا کہتے ہیں کہ بلند مرتبہ معظموں کے حضور پیش کرتے ہیں، یہ اتار چڑھاؤ باعتبار مرتبہ ہے۔ نہ باعتبار جہت تحت و فوق۔ او رنہ سہی اگر ایک جگہ کوئی لفظ معنی مجازی میں مستعمل ہو تو اس کے حوالے سے دوسری جگہ بھی خواہی نخواہی اسے حقیقت سے توڑ کر مجاز پر ڈھالنا کون سی منطق ہے!
(۳۵) ملا قاری نے جو اس حدیث میں علٰی کو معنی حقیقی پر لیا، زید صاحب اس کی توجیہ یہ فرماتے ہیں کہ وجہ ممانعت یعنی مشابہت یہود ونصارٰی معنی مجازی یعنی قریب قبر میں نہیں رہتی، اس بنیاد پر معنی حقیقی لیے، یعنی معنٰی حقیقی ہی لینا محتاج وجہ خارجی ہے، اگر خارج سے کوئی وجہ اس کی نہ ملے تو معنی حقیقی نہ لیں گے، اس اُلٹی سمجھ کا کیا ٹھکانا ہے ! علامہ ملا قاری کی عبارت دیکھئے:
قیدعلیھا یفید اتخاذ المساجد بجنبھا لابأس بہ ۱؎ ۔''علیھا''
( قبروں پر) کی قید یہ افادہ کررہی ہے کہ ان کے پہلو میں مسجد بنائیں توکوئی حرج نہیں (ت)
(۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب المساجد ومواضع الصلٰوۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲/ ۴۴۴)
ملاحظہ ہو لفظِ ''علی ''سے یہ ثابت کیا کہ برابر تو حرج نہیں یا برابر میں حرج نہ ہونے سے علی کو اپنے معنی حقیقی پرلیا۔
(۳۶) علی قار ی جب یہاں دربارہ مسجد علی کو معنی حقیقی پر لے چکے ، جو آپ کو بھی مسلّم ہے۔ اور یہاں ایک ہی لفظ علٰی ہے جس سے مساجد و سرج کا یکساں علاقہ ہے کہ
والمتخذین علیھا المساجد والسرج ۲؎
( قبروں پر مسجدیں اور چراغ بنانے والے ۔ت)
(۲؎ جامع الترمذی باب ماجاء فی کراھیۃ ان یتخذ علی القبر مسجداً امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱/ ۴۳)
اب اگر دربارہ قبورعلٰی کو معنی مجازی پرلیجئے تو کھلا ہو ا جمع بین الحقیقۃ والمجاز ا وروہ باطل ہے۔ لاجرم دربارہ قبور بھی علٰی کو معنی حقیقی پر رکھیں گے، تو جس نے ان کی طرف اسے نسبت کیا ان کے لازم کلام سے استدلال کیا یہ ان پر اتہام کدھر سے ہوجائے گا۔
(۳۷) علی قاری نے دربارہ سُرج جو تین وجہ ممانعت نقل کرکے لکھا :
کذا قال وبعض علمائنا ۳؎
(ایسا ہی ہمارے بعض علماء نے فرمایا ۔ت)
(۳؎ ،مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب المساجد ومواضع الصلٰوۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲/ ۴۴۴)
قطع نظر اس کے کہ یہ نقل عن المجہول ہے او رہمارے فقہاء نے اسی وجہ اول پر اقتصار فرمایا ہے کہ اسراف واتلافِ مال ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا، اور یہی وجہ خود آپ کی مستند بزازیہ میں مصرح تھی جسے آپ نے حذف کردیا، اور اوپر روشن ہو لیا کہ یہ وجہ صرف قبور عوام میں پائی جاتی ہے، جبکہ وہاں نہ مسجد ہونہ قبر، سرراہ نہ کوئی تلاوت وغیرہ میں مشغول۔ باقی دو وجہوں میں تعظیم قبور بھی عوام میں متحقق ہوگی خصوصا قبور فُساق میں جن کی نسبت آپ فرق پوچھ رہے ہیں، کہ'' بزرگوں کی قبروں پر کیوں کرتے ہیں، فاسق فاجر کی قبرپر کیوں نہیں کرتے ۔'' فاسق فاجر کی قبرپر کریں تو نفس قبر کی تعظیم ٹھہرے کہ مقبورمعظم نہیں بخلاف مزارات کرام کے وہاں قبر یعنی خشت وگلِ کی تعظیم نہیں بلکہ ان کی روح کریم کی تعظیم ہے۔ جیساکہ امام نابلسی نے فرمایا:
تعظیما لروحہ المشرفۃ۱؎ الخ
( ان کے روح مبارک کے لیے الخ ۔ت) تعظیم قبور معظمین کہ حقیقۃ تعظیم معظیمن ہے۔ کس نے منع کی؟