(۲۶) خود ہی سمجھ کر تعامل ہے نہ مجرد عمل عوام اس کا یہ علاج کیا کہ تعامل حرمین شریفین کا بعد قرون ثلثہ کے سند نہیں۔ قرون ثلثہ کی تخصیص کا قضیہ ہمارے رسالہ ردّ وہابیہ میں جابجا ہوچکا اور مسئلہ تعامل حرمین شریفین بھی کتاب مستطاب
'' اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد''
قاعدہ یازدہم میں واضح فرمادیا گیا، یہاں اسی قدر کافی کہ شیخ محقق جذب القلوب شریف میں حدیث صحیح بخاری :
انھا طیبۃ تنفی الذنوب کما تنفی الکیر خبث الفضۃ
(بیشک وہ طیبہ ہے، گناہوں کو دور کرتا ہے جیسے بھٹی چاندی کا میل دور کرتی ہے ۔ت) وغیرہ بیان کرکے فرماتے ہیں:
(۲۷) آگے ترقی کرکے تعامل حرمین شریفین کو بالکل ساقط ونا معتبر کردیا۔ قرونِ ثلٰثہ کا استثناء بھی اڑگیا، اور دلیل یہ کہ حجت صرف قرون وحدیث واجماع وقیاس مجتہدین ہیں، ابھی کہا تھا کہ'' چراغاں کا جواز اگر آج بھی کسی عالم مستند کی کتاب سے نکل آئے تو مجھ کو کدنہ ہوگی۔'' او رممانعت کے لیے شاہ رفیع الدین صاحب کے فتوے اور قاضی صاحب پانی پتی کی مالا بد وارشاد دالطالبین سے استناد کیا ۔ یہ لوگ اوران کا کلام بھی قرآن ہے ، نہ حدیث، نہ اجماع، نہ قیاس مجتہدین۔پھر یہ پانچویں حجت کہاں سے نکل آئی!
(۲۸) ابھی جواہر الفتاوٰی وفتاوٰی عالمگیریہ سے گزرا کہ دینداروں کے افعال سند ہوتے ہیں، یہ چھٹی حُجت ہوئی۔
(۲۹) اب یہ بفضل اﷲ عزوجل ہم وہ عبارات جانفزا ذکر کریں جن سے یہ ثابت ہو کہ روضہ انور میں کیسی روشنی ہوتی ہے اور کَے برسوں سے رائج ہے۔ جب سلطنت عثمانیہ کی بنیاد بھی نہ پڑی تھی، اوریہ کہ وہ خاص روضہ اطہر ہی کے واسطے ہے نہ کہ بہ نیت مسجد، ا وریہ کہ وہ بمنظوری علماء کرام ہے نہ کہ صرف فعلِ سلاطین۔ اور یہ کہ کیسے امام جلیل نے اس کے جواز کا روشن فتوٰی دیا ،نہ فتوٰی بلکہ خاص اس باب میں مستقل رسالہ تصنیف فرمایا، والحمدﷲ۔ عالمِ مدینہ طیبہ امام اجل سید ابوالحسن علی نورالدین بن عبد اﷲ سمہودی مدنی قدس سرہ معاصر امامِ اجل جلال الملۃ والدین سیوطی رحمہما اﷲ تعالٰی نے ( کہ دونوں حضرات کی وفات شریف ۹۱۱ ھ میں ہوئی) کتاب مستطاب خلاصۃ الوفاء باخبار دارالمصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تصنیف ۸۹۳ ہجری کے باب رابع کی شانز دہ گانہ فصلوں میں تفصیل نمبر ۱۱ روضہ اقدس کے تزک واحتشام وشیشہ آلات وسامان روشنی کے بیان میں وضع فرمائی، اورفصل نمبر ۱۴ مسجد مقدس کے ستونوں، چراغوں وغیرہ کے بیان میں جدا لکھی، اس فصل مسجد میں فرمایا:
بصحن مسجد اربع مشاعل تشعل فی لیالی الزیارات المشہورۃ وماعلمت اول من احدثھا وبالمسجد سلاسل کثیرۃ للقنادیل علمت بعد الحریق والمرتب للوقود منھا یزید وینقص لما لا یخفی ۱؎ ۔
مسجد کریم کے صحن میں چارمشعلیں ہیں کہ زیارت کی مشہور راتوں میں روشن کی جاتی ہیں اور مجھے معلوم نہ ہوا کہ اول یہ مشعلیں کس نے رکھیں، اور مسجد میں قندیلوں کی بہت سی زنجیریں ہیں کہ آتشزدگی کے بعدبنیں او ران کی روشنی کا راتب گھٹتا بڑھتا ہے جس کا سبب ظاہر ہے۔
(۱؎ وفاء الوفاء فصل ۳۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۶۸۱)
ا ورا س فصل روضہ انور میں فرمایا:
امامعالیق الحجرۃ الشریفۃ التی تعلق حولہا من قنادیل الذھب والفضۃ ونحوھما فلم اقف علی ابتداء حدوثھا الاا ن ابن النجار قال مالفظہ فی سقف المسجد الذی بین القبلۃ والحجرۃ علی رأس الزوار اذ وقفوا معلق نیف واربعون قندیلا کباراو صغارا من الفضۃ المنقوشۃ والساذجۃ وفیھااثنان من بلور وواحد من ذھب وفیھما قمر من فضۃ مغموس فی الذھب، وھذہ تنفذ من البلدان من الملوک وارباب الحشمۃ انتہی، وعمل من ذکر مستمر بذلک لم تزل ھذہ القنادیل فی زیادۃ ومن احسن مارأیت من معالیق الحجرۃ قندیل من فولاد کبیر احسن التکوین مخرما مکفتا بذھب یضیئ اذااسرج فیہ وعلیہ مکتوب ان الناصر محمد بن قلادون علقہ بیدہ ھناک ۱؎۔ انتھی ملتقطاً
حاصل یہ ہے کہ روضہ انور کا سامان روشنی،سونے کی قندیلیں اور چاندی کی، اوران کے مثل اور قیمتی چیزوں کی کہ روضہ مطہر کے گرد آویزاں کی جاتی ہیں، مجھے معلوم نہ ہو ا کہ ان کی ابتداء کب سے ہے ، ہاں امام حافظ الحدیث محمد بن محمد بن النجار متوفی ۶۴۲ھ نے اپنی کتاب الدرالثمینہ فی اخبار المدینہ میں فرمایا کہ سقف مسجد کریم کے اتنے ٹکڑے میں کہ دیوار قبلہ سے حجرہ مقدسہ تک ہے۔ جب زائرین مواجہہ اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں کھڑے ہوں، ان کے سروں پر چالیس سے زائد قندیلیں آویزاں ہیں۔بڑی بڑی زاور چھوٹی چاندی کی نقشی اور ساری اور ان میں دو بلور کی ہیں ، ایک سونے کی اور ایک چاندی کا چاند ہے سونے میں مغرق، او ریہ شہروں شہروں سے سلاطین واُمراء حاضر کیا کرتے ہیں انتہی۔ اوریہ دستور برابر چلاآتاہے ہمیشہ ان قندیلوں میں ترقی ہوتی رہی ، اور روضہ مطہرہ کی تمام آویزاں روشنیوں میں سب سے زیادہ خوبصورت جو میں نے دیکھی وہ فولادی بڑی قندیل ہے کہ نہایت خوبصورت بنی ہوئی ہے اس کے پیٹ اور کنارو ں پر سونا چڑھا ہوا ہے کہ اس میں روشنی کرنے سے دمکنے لگتاہے اس پر لکھا ہوا ہے کہ ناصرالدین محمود بن قلادون نے اسے یہاں اپنے ہاتھ سے لٹکایا ، انتہی ملتقطاً
(۱؎ وفاء الوفاء فصل ۲۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۵۸۴ تا ۵۸۹)
یہاں تو آپ کو یہ معلوم ہوا کہ روشنی خاص روضہ منورہ کے لیے ہے اور یہ کہ کتنی کثیر وشاندارہے اور یہ کہ صدہا سال سے ہے اور یہ کہ عثمانی سلطنت سے بھی پہلے سے ہے۔ اب مجمع علمائے کرام کا ذکر سنئے علامہ قطب الدین مکی حنفی معاصرامام ابن حجر مکی رحمہما اﷲ تعالٰی کتاب الاعلام باعلام بیت الحرام ص ۳۰ میں اس واقعہ کا ذکرفرماتے ہیں، جب سلطان مراد خان بن سلطان سلیم خان بن سلیمان خان رحمہم الرحمن نے ۹۸۴ ھ میں باب عالی سے سونے کی تین قندیلیں بیش بہا جواہرات سے مرصّع محمد چادیش خان کے ہاتھ حاضر کی ہیں کہ وہ کعبہ معظمہ کے اندر آویزاں کی جائیں، اور ایک حجرہ مزار اطہر میں چہرہ انور کے مقابل صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم ۔
جب مکہ معظمہ میں آئے حضرت شریف مکہ سیدی حسن بن ابی نہی حسنی اور ناصر حرم محترم قاضی مدینہ منورہ شیخ الاسلام سید العلماء سیدی حسین حسینی مکی اور قاضی مکہ معظمہ مولانا مصلح الدین لطفی بگ زادہ مع جملہ اعیان واکابر حرم محترم حاضر ہوئے،۔ فرماتے ہیں:
وکافۃ العلماء والفقھاء والموالی ۱؎
یعنی مکہ معظمہ کے تمام علماء وفقہاء وسردار گرد کعبہ معظمہ جمع ہوئے، پھر آستانہ عالیہ کی طرف سے حضرت شریف ودیگر عظماء کو خلعت پہنائے گئے، کعبہ معظمہ کا دروازہ کھولا گیا، سیدنا الشریف نے خلعت پہنا اور طوافِ کعبہ معظمہ کیا، ادھر وہ طواف میں ہیں، اُدھر رئیس مؤذنان قبہ زمزم پر سلطنت وشریف کے لیے بآواز بلند دعا کررہاہے اور تمام حاضرین دعا وآمین میں مشغول ہیں، بعد فراغ طواف ورکعتین طواف حضرت شریف کعبہ معظمہ کے اندر حاضر ہوئے اور اپنے دست مبارک سے قندیلیں آویزاں کیں، سب حاضرین جملہ علماء وفقہاء واُمراء وعظماء نے فاتحہ پڑھی اور دُعائیں کیں، اور جلسہ ختم ہوا، علامہ ممدوح فرماتے ہیں:
ان کے پاس مدینہ طیبہ کے اکابر وعمائد وعلماء وصلحاء سب جمع ہوئے۔حرم کریم میں محفلِ عظیم منعقد کی گئی۔
(۳؎ الاعلام باعلام بلد اللہ الحرام ) (۴؎ الاعلام باعلام بلد اللہ الحرام )
وفتحت الحجرۃ الشریفۃ النبویۃ علی ساکنھا افضل الصلٰوۃ وعلق ذلک قندیل تجاہ وجہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ ۱؎ وقرئت الفواتح وحصل الدعاء ۲؎۔
حجرہ طاہرہ مزار پرانوار حضرت سید الابرار صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کھو لاگیا اور وہ سو نے کی قندیل جواہر بے بہا سے مرصع رُوئے انور سید اطہر صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے مواجہ اقدس میں آویزاں کی گئی ۔ حاضرین نے فاتحہ پڑھی او ردعا کی، اور مجلس بخیر وخوبی ختم ہوئی ۔