Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
116 - 243
 (۲۰) مسجد میں روشنی خشت وگل کی ذات کے لیے نہیں ہوتی بلکہ نمازیوں کے واسطے، بلکہ نماز میں بھی اصل نظر صرف فرائض پر مقصود ہے کہ اصالتاً بنائے مسجد انہی کے لیے ہے۔ ولہٰذا جہاں تہجد وغیرہ نوافل خواں وذاکرین شب بھر مسجد میں رہتے یا رات کے سب حصّوں میں ان کی آمدورفت مسجد میں رہتی ہو، اور ا س وجہ سے وہاں شب بھر روشنی رکھنے کی عادت ہو یا واقف نے خود اس کی تصریح کردی ہو، ایسی جگہ کے علاوہ باقی تمام مساجد میں تہائی رات کے بعد روشنی گل کردینے کا حکم ہے کہ اب اسراف وتضییعِ مال ہے ۔
فتاوٰی ٰخانیہ وفتاوٰی عٰلمگیریہ وغیرہ میں ہے :
لاباس بان یترک سراج المسجد الی ثلث اللیل ولایترک اکثر من ذلک الااذا شرط الواقف ذلک اوکان ذٰلک معتاداً فی ذٰلک الموضع ۱؎ ۔
مسجد کا چراغ مسجدمیں تہائی رات تک جلتا چھوڑ دینے میں حرج نہیں، او راس سے زیادہ نہ جلایا جائے، لیکن جبکہ واقف نے اس کی شرط رکھی ہو یا وہاں اس کا رواج ہو۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوقف  منشی نولکشور لکھنؤ۴/ ۷۱۶)
سراج وہاج پھر ہندیہ میں ہے :
لو وقف علی دھن السراج المسجد لایجوز وضعہ جمیع اللیل بل بقدر حاجۃ المصلین وجوز الی ثلث اللیل اونصفہ اذا احتاج الیہ للصلٰوۃ فیہ ۲؎ ۔
اگرمسجد کے چراغ کے لیے وقف کیا تو پوری رات چراغ جلانا جائز نہیں بلکہ تہائی رات تک جواز ہے یا نصف شب تک جبکہ نماز کے لیے اس کی ضرورت ہو ۔(ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ    الباب الحادی عشر فی المسجد الخ    نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۴۵۹)
اور مسجد اکرم سرکار اعظم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں نماز عشاء کے بعد کوئی رہنے نہیں پاتا، لوگوں  کو باہر کرکے سحرتک دروازے بند رکھتے ہیں، اوریہ عادات آج سے نہیں صدہا سال سے ہے۔ امام جلیل ابوالحسن سمہودی کتاب وفاء الوفاء میں جس کی تصنیف ۸۸۶ھ میں فرمائی، پھر اس کے خلاصہ خلاصۃ الوفاء میں فرماتے ہیں:
یطاف لاخراج الناس من المسجد بعد العشاء الاخرۃ بفوانیس ستۃ رتبھا شیخ الخدام شبل الدولۃ کافور المظفری الحریری وکان الطواف قبلہ بشعل من السعف ۳؎ ۔
نما زعشاء کے بعدلوگوں کو مسجد کریم سے باہر کرنے کیلئے اب چھ فانوس لے کر دورہ کرتے ہیں جن کو خدام کے شیخ شبل الدولہ کافورالمظفری الحریری نے بنایا ہے جبکہ قبل ازیں کھجور کی شاخ کی شمع سے دورہ ہوتا تھا۔ (ت)
 (۳؎ وفاء الوفاء    فصل ۳۱ عدد قنادیل المسجد    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۸۲ ۔ ۶۸۱)
نیز اس پر اس سے بہت پہلے کی وہ جلیل القدر معجزہ خسف بدخواہان ابوبکر وعمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی عظیم حکایت دال ہے جو اسی کتاب وفاء الوفاء تصنیف ۸۸۶ ہجری ، اور اس سے پہلے کتاب ریاض النضرۃامام محب الدین طبری متوفی ۶۹۴ ہجری ، وکتاب تاریخ المدینہ للامام الجلیل ابی محمد عبداﷲ المرجانی میں مذکور و ماثور ہے، اوران سب سے پہلے خادمِ روضہ مطہرہ نے امام ابوعبدا اﷲ قر طبی کے سامنے اسے روایت کیا ، اس کی اصل خود امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ثابت ۔ بلاذری  نے ابو سعید مولٰی ابی اسید رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔
قال کان عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ یعس فی المسجد بعد العشاء فلا یری احدا لااخرجہ الارجلا قائما یصلی ۔۱؎
فرمایا: امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نماز عشاء کے بعد مسجد کریم میں دیکھ بھال کے لیے دورہ فرماتے جسے دیکھتے مسجد سے باہر فرمادیتے مگر جو شخص کھڑا نماز پڑھ رہا ہو۔
 (۱؎ وفاء الوفاء    فصل ۳۰ فی تحصیب المسجد    احیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۶۶۹)
بااینہمہ مسجد کریم میں صبح تک روشنی رہتی ہے۔ اور فقہائے کرام نے اس کے جواز کی تصریح فرمائی ۔ وہی بزازیہ کتاب الوقف فصل رابعہ ملاحظہ کیجئے،
یجوز ترک سراج المسجد فیہ من المغرب الی العشاء لاکل اللیل الااذاجرت العادۃ بذلک کمسجد سیدنا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۲؎ ۔
جائزہے مسجد کے چراغ کا مسجد میں چھوڑنا مغرب سے عشاء تک نہ کہ تمام شب، مگر جب کہ اس کی عادت ہو جیسے کہ مسجد نبوی صلی اﷲ تعالٰی علیہ والہٖ وسلم۔
 (۲؎ فتاوٰی بزازیہ علی ھامش فتاوٰی ہندیہ    کتاب الوقف        نورانی کتب خانہ پشاور    ۶/ ۲۶۹)
اس سے بھی روشن کہ یہ روشنی نمازیوں کے لیے نہیں ہے بلکہ روضہ اقدس کے لیے ہیے او ر ہم عنقریب کلام ائمہ اس کی تصریح نقل کریں گے۔ وباﷲ التوفیق۔

(۲۱) زید صاحب نے یہ روشنی مزار اطہر کے لیے نہ ہونے کی وہ بھاری دلیل گھڑی جس کے بوجھ میں خود ہی دب کر رہے۔ ذرایہ نئی منطق جہاں بھر سے بھی جدا منطق الطیر سے سوا' ملاحظہ ہو کہ '' قبر شریف در حقیقت روپوش ہے بھلا روشنی اس کے لیے ہوسکتی ہے'' گویا جو شے نظر نہ آئے اس سے اعتناء اس کی تکریم ہو ہی نہیں سکتی ۔اہل اللہ پر عبادت قبورکا الزام رکھا تھا جس کی تکذیب کو ان کا اہل اللہ ہونا ہی بس تھا مگر کہیں یہ مسئلہ عباد صنم کی تائید نہ کرے، وہ یہی کہتے ہیں کہ بے دیکھے تعظیم کیسی؟

(۲۲) حجرہ مطہرہ کی آرائش او راس پر وہ ہزارہا روپے کی تیاری کا غلاف شریف یہ بھی شاید مسجد ہی کے لیے ہو کہ مزار کریم تو مستور ہے۔

(۲۳) غنیمت ہے کہ اس مسئلہ میں تعظیم قبور کا الزام توقطع ہوا، مزارات اولیائے کرام عموماً جہاں جہاں روشنی ہوتی ہے خصوصاً ایّام اعراس میں غلافوں سے روپوش ہوتے ہیں تو بطور زید بھی یہ روشنی تعظیم قبور کے لیے نہیں ہوسکتی ۔
 (۲۴) دوسری بات یہ کہ روشنی منجانب سلطان ہوتی ہے جس نے بنک قائم کیا۔ اس کہنے کا محل جب تھا کہ فعلِ سلطان سے کسی نے استناد کیا ہوتا کہ یہ روشنی ا س لیے جائز ہوتی ہے کہ سلطان کی طرف سے ہوتی ہے او رجب ایسا نہیں تو بے محل محض سلطان ترکی کو باتباع لہجہ نصارٰی مکروہ لفظ ٹرکی سے تعبیر کرکے بلاوجہ سلطان اسلام کی عیب چینی' کیا مصلحت ہوئی حدیث میں ہے  :
السطان ظل اﷲ فی الارض فمن اکرمہ اکرمہ اﷲ ومن اھانہ اھانہ اﷲ ۱؎ ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر والبیھقی فی الشعب عن ابی بکرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔
سلطان زمین میں اﷲ تعالٰی کا سایہ ہے جواس کی عزت کرے ا ﷲ تعالٰی اس کو عزت دے، اور جو اس کی توہین کرے ا ﷲ تعالٰی اسے ذلّت دے۔ اسے طبرانی نے معجم الکبیرمیں او ربیہقی نے شعب الایمان میں حضر ت ابوبکرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے انھوں نے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا۔
 (۱؎ شعب الایمان    باب فی طاعۃ اولی الامر    حدیث ۷۳۷۳    دارالکتب العلمیہ بیروت        ۶/ ۱۷)
لاجرم یہ اپنی طرف سے عدم جوا ز روشنی پر اقامت دلیل ہے، یہ ضرورت اس کے ذکر کی طرف ہوئی اگر چہ اب بھی شرع مطہرمسئلہ  کی روش سے دور ہے کہ اس کی سند کتابت بعض اخبارات ہی ہوگی او راخباری بیانات جیسے ہوتے ہیں معلوم ہیں ۔ امام حجۃ الاسلام نے احیاء العلوم میں تصریح فرمائی ہے کہ کسی مسلمان کی طر ف نسبت کبیرہ حرام ہے، جب تک تواتر سے یقینی الثبوت نہ ہو ، کہ محض اخباری گپیں، اگر صحیح بھی ہو ں  توممکن بلکہ مظنون کہ وہ اس نئی جماعت حریت کی طرف سے ہوگا تو سلطان کے سر اس کبیرہ کا باندھنا محض جزا ف ہے پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ '' بینک سو د دینے کے لیے ہے یا معاذاﷲ سُود لینے کے لیے، سلطنت میں اس وقت وہ وسعت کہاں کہ لوگوں کو کثیر المقدار قرض دے، وہ خود اپنی ضروریات شدیدہ کے لیے روپے کی حاجتمند ہے او رحاجت شرعیہ کے وقت سود دینے کی اجازت ہے۔ درمختار میں ہے :
یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح ۲؎ ۔
نفع دینے کی شرط پر حاجتمند کو قرض لینا جائز ہے (ت)
 (۲؎ الاشباہ والنظائر    بحوالہ القنیہ والبغیہ    القاعدۃ السادسہ        ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۱/ ۱۲۶)
بہر حال حاصل دلیل یہ ہے کہ یہ سلطان کی طرف سے ہے اور سلطان فاسق ہیں، ا ور جو فاسق کی طرف سے ہو سب ناجائز ہے۔ اس دلیل کی خوبی اس کے کبرٰی کی کلیت سے ظاہر قرآن پر اعراب لگانا تو شاید سخت ہی بدتر کام ہوگا کہ حجاج جیسے ظالم اظلم کی طرف سے ہے ۔
 (۲۵) سلطانِ اسلام سے فارغ ہوکر حرمین شریفین کی طرف متوجہ ہوئے کہ وہاں کا بڑا حصہ ڈاڑھی کترواتاہے، الحمد  ﷲ کہ کلیہ نہ کہا، ہر جگہ ہمیشہ بڑا حصہ عوام کا ہوتا ہے۔ اگر عام طور پر صدہا سال سے ایک فعل کریں اور وہ بھی مسجد میں، اور وہ بھی مسجد اقدس سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں، اور وہ بھی کارِ خیر وموجب اجر وتعظیم شعائرا ﷲ واجلال حرمات اﷲ جان کر ۔ بااینہمہ جماہیر علماء روزانہ دیکھیں ا ور منع نہ فرمائیں توا ستناد تقریر علماء سے ہوگا نہ کہ فعلِ عوام سے۔
Flag Counter