یعنی موت کی پہلی چندراتوں میں شمعیں گھروں سے قبروں کے سرہانے لے جانا بدعت ہے، ایسا ہی فتاوٰی سراجیہ میں ہے۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر فی زیارۃ القبور نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۱)
فتاوٰی سراجیہ دیکھئے اس میں بھی یہ عبارت بعینہٖ اسی طرح ہے۔ اس کے بعد اتنا زائد ہے۔
ذکرہ الشیخ الامام الزاھد الصفار البخاری رحمہ اﷲ تعالٰی فی کتاب الاعتقاد ۱؎ ۔
یہ مسئلہ شیخ امام زاہد صفار بخاری رحمہ اﷲ تعالٰی نے کتا ب الاعتقاد میں ذکر فرمایا ۔
(۱؎ فتاوٰی سراجیہ کتاب الکراہیۃ منشی نولکشور لکھنؤ ص ۷۳)
ظاہر ہے کہ یہاں قبور عوام کا ذکرہے کہ اعراس طیبہّ یا مزارات اولیاء کی روشنی فقط پہلی چند راتوں میں نہیں ہوتی، او رظاہر ہے کہ وہ ایک عادت خاصہ کا بیان ہے ورنہ لیالی اول کی تخصیص بے وجہ تھی، اب جس طر ح یہاں جُہّال میں رواج ہے کہ مردہ کی جہاں کچھ زمین کھود کرنہلاتے ہیں جسے عوام لحد کہتے ہیں، چالیس رات چراغ جلاتے اوریہ خیال کرتے ہیں کہ چالیس شب روح لحد پرآ ۤتی ہے اندھیرادیکھ کر پلٹ جاتی ہے، یوں ہی اگر وہاں جُہال میں رواج ہوکہ موت سے چندرات تک گھروں سے شمعیں جلا کر قبروں کے سرہانے رکھ آتے ہوں او ریہ خیال کرتے ہوں کہ نئے گھر میں بے روشنی کے گھبرائے گا۔ تواس کے بدعت ہونے میں کیا شبہہ ہے۔ اور اس کا پتا یہاں بھی قبروں کے سرہانے چراغ کے لیے طاق بنانے سے چلتا ہے، اور بیشک اس خیا ل سے جلانا فقط اسراف و تضییعِ مال ہی نہیں کہ محض بدعت عمل ہو، بلکہ بدعتِ عقیدہ ہوئی کہ قبر کے اندر روشنی واموات کااس سے دل بہلنا سمجھا، ولہذا امام صفار رحمہ اﷲ تعالٰی نے اس مسئلہ کو کتاب الاعتقاد میں ذکر فرمایا ۔ اب ملاحظہ ہو کہ اس روایت کو ہمارے مسئلہ سے کیا تعلق رہا!
وَالْاِحْتِمَالُ یَقْطَعُ الْاسَتِدْلاَلَ
(اور احتمال ، استدلال ختم کردیتا ہے ۔ت)
(۱۵) اس روایت میں اخراج کا لفظ بھی قابل لحاظ ہے، قبور عوام ہی کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہاں نہ کوئی مکان ہوتا ہے نہ حاضر رہنے والے، نہ کوئی سامانِ روشنی، گھر ہی سے چراغ لے جانا پڑتا ہے بخلاف مزاراتِ طیبہ کے کہ وہاں گھر سے لے جانے کی حاجت نہیں ہوتی، تو ذکر قبور عوام ہی کا ہے، اور اگر زید نہ مانے اور اسے چراغاں مزارات طیبہ کی نسبت جانے تو آٹھ برس سے تو اس روشنی کا ثبوت ہوگیا، جسے زید نے مشائخ زمانہ کا فعل کہا کہ امام زاہد صفار رحمہ اﷲ تعالٰی کی وفات ۵۳۴ ھ میں ہے۲
کمافی الطبقات الکبری وکشف الظنون
( جیسا کہ طبقات کبرٰی اورکشف الظنون میں ہے ۔)
(۲؎ کشف الظنون )
(۱۶) سب سے زیادہ خوفناک تحریف یہ ہے
تَتَّخِذُوْنَ عَلَیْھِمْ مَّسَاجِدَ
کو قرآن عظیم کا لفظ کریم بنالیا، حالانکہ یہ جملہ قرآن عظیم میں کہیں نہیں، یہ تینوں لفظ متفرق طور پر ضرور قرآن عظیم میں آئے ہیں مثلا
تتخذون مصانع ۳؎۔ انعمت علیھم۴؎ ۔ومساجد یذکرفیھا اسم اﷲ ۵؎۔
مگر اس ترکیب وترتیب سے کہیں نہیں___
(۳؎ القرآن ۲۶ / ۱۲۹) (۴؎ القرۤان ۱/ ۷) (۵؎ القرآن ۲/ ۱۱۴)
وہ بولے جو اس کام میں غالب رہے تھے قسم ہے کہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے ۔(ت)
(۱؎ القرآن ۱۸ / ۲۱)
پھر بھی دیوبندی صاحبوں کے حال سے غنیمت ہے کہ وہ تو انہونی کتابیں دل سے گھڑلیتے ہیں، اُن کے صفحے بنالیتے ہیں، ان کی عبارتیں دل سے تراش لیتے ہیں، اور اکابر اولیائے کرام وعلمائے عظام کی طرف نسبت کردیتے ہیں ، دیکھو دیوبندیوں کی لال کتا ب '' سیف النّقٰی'' اور اس کے رَد میں العذاب البیئس وغیرہ تحریرات کثیرہ ۔
ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
(۱۷) زید کو اقرار ہے کہ فعل مشائخ قدیم چلا آتا ہے اگر چہ کہیں تو انھیں مشائخ زمانہ لکھا، کہیں پیر زادے اور کہیں مجاور، جن کے لیے قبور ذریعہ معاش ہیں، مگر شروع میں تحریر فرماچکے ہیں کہ'' میں بقسم شرعی باور کراتاہوں کہ میں نے کوشش کی کہ چراغانِ قبور کا کسی تاویل سے استحسان ثابت ہوجائے تو میں رسمِ قدیم کی مخالفت نہ کروں ۔'' او راس کا جواب وہ دیا کہ '' پیرزادگا ن صالح ہوں، اہل اﷲ ہوں،۔ معصوم نہیں۔'' زید صاحب معصوم کے سوا کسی کی نہیں مانتے، مگر افسوس ، جب وہ صالحین ہیں، اہل اﷲ ہیں تو یہی عالمگیری جس کی سند سے آپ انھیں بدعتی بنانا چاہتے ہیں ان کے افعال کو دین میں سند وحجت بتاتی ہے، فتاوٰی عالمگیری میں مشائخ کرام ہی کے ذکر میں ہے:
یتمسک بافعال اھل الدین کذافی جواھر الفتاوٰی ۲؎ ۔
تمسک کیا جائے اہل دین کے افعال سے۔ ایسا ہی جواہر االفتاوٰی میں ہے۔
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب السابع عشر فی الغناء واللہو الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۱)
(۱۸) سرکار اعظم حضور پر نور مدینہ طیبہ صلی اﷲ تعالٰی علٰی من طیبہا وآلہٖ وبارک وسلم میں وہ جلیل وجمیل روشنی، وہ جانفرا دلکشاروشنی، وہ دل افروز وہابی سوز روشنی کہ نہایت تزک واحتشام سے ہوتی ہے، اس کے جواب میں زید نے یہ تاویل گھڑی کہ وہ روشنی مسجد کریم کے لیے ہے، نہ کہ مزارِ اقدس کے واسطے صلی اﷲ تعالٰی علی صاحبہٖ وآلہٖ وبارک وسلم ۔ شاید زید کو زیارت سراپا طہارت نصیب نہ ہوئی، اپنے قصبہ کی کسی مسجد پر قیاس کیا جہاں دمڑی کے چراغ میں دھیلے کا تیل، وہاں کے فرشی جھاڑوں او رکثیر التعداد فانوسوں اور ہزارہا روپے کے شیشہ آلات او ران کی دل نواز جمگمگاہٹ دیکھو تو آپ کی خشن بے ذوق طبیعت کے طور پر یہ مسجد کے لیے کب جائز ہو ، وہی بزازیہ جس سے یہ سند لائے اسی کی دربارہ مسجد بھی سنیے، اس کی کتاب الوصایا فصل اول میں ہے:
قال ثلث مالی فی سبیل اﷲ ففی النوازل لو صرف الی سراج المسجد یجوز لکن الی سراج واحد فی رمضان وغیرہ ۱؎ ۔
یعنی اگر کوئی اپنے تہائی مال کی وصیت راہِ خدا کے لیے کرے تو اس سے مسجد کا چراغ بھی جلاسکتے ہیں، مگر صرف ایک چراغ ، رمضان ہو یا غیر رمضان۔
(۱۹) زید صاحب کو چاہئے ذراحج و زیارت سے مشرف ہو وہاں ان مسجد الحرام شریف میں کچھ ہانڈیاں گرد مطاف نظر آئیں گی کہ ساری مسجد کریم کو پوری روشنی نہیں دیتی، او رسرکارِ اعظم میں وہ نظر آئے گا جس سے آنکھیں چندھیا جائیں، اگر یہ روشنی مسجد کے لیے ہوتی تو مسجد الحرام شریف زیادہ مستحق تھی کہ وہ مسجد مدینہ طیبہ سے افضل بھی ہے اور وسعت میں بھی کئی حصے زیادہ۔ نہیں نہیں، بالیقین وہ تجمل روضہ پر انوار حضور سید الابرار صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے ہیں، جسے ہر سمجھ والا بنگاہ اولین ادراک کرلیتا ہے۔ میرے دل سے ان لفظوں کا ذوق نہیں جاتا جو ایک مسلمان زائر نے حج کے بعد شان وتجمل روضہ انور دیکھ کر کہے تھے کہ یہاں شانِ محبوبیت کھلتی ہے۔ اس نے کہ گھر سے پاک ہے اپنا گھر یوں سادہ رکھا ہے اور کاشانہ محبوب کے یہ سازو سامان ہیں، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ دیکھیے نگاہ ظاہر پرا س شان وشکوہ کا کیسا اثر پڑا کہ اس ناظر کے دل میں ایمان جگمگا اٹھا۔ اسی حکمت کے لیے تو علمائے کرام نے تجمل ظاہر پسند فرمایا ہے۔ ورنہ حاشا ﷲ ؎
حاجت مشاطہ نیست روئے دلآرام را
( دل کو سکون دینے والے چہرے کے لیے آرائش کی ضرورت نہیں ۔ت)
اے اﷲ! ہمیں ایمانِ کامل نصیب کر اور اسی پر موت دے اپنے حبیب اور اپنے عروس مملکت کے طفیل۔ اﷲ تعالٰی ان پر اور ان کی آل پر درود وسلام اور برکت نازل فرمائے۔ الہٰی قبول فرما ! (ت)