Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
114 - 243
 (۸) جب زید کے نزدیک وہ تعبد ہے توقطعا شرک ہوا ،ا ور شرک ہر گز معاف نہ ہوگا
ان اﷲ لا یغفر ان یشرک بہ ۳؎
 (بیشک اﷲ شرک کو نہیں بخشتا ۔ت) پھر اس جملہ کا کیا محل رہا کہ '' خدا معاف کرنے والا ہے ۔''
 (۳؂القرآن ۴/ ۴۸)
جب ہزارہا بندگان صالحین واہل اﷲ پر یہاں تک  بدگمانی ہے کہ تعبد غیر کا الزام ان کے سر تھوپا جاتا ہے، اور نہ صرف ظن بلکہ اس پر جزم کیا جاتاہے ۔ تواس کی کیا شکایت کہ فقیر کے پاس سے جواب مسئلہ نہ پہنچنے کو پیرزادوں کی رعایت کے سبب سکوت عن الحق پر محمول کیا، فتاوٰی میں اس سوال کے جواب میں ،متعدد مقامات پر مذکور سالہا سال سے اس پر مستقل فتوٰی مرقوم۔ خاص اس باب میں چھبیس برس سے رسالہ ''طوالع النور'' مکتوب،

پھر رعایت وخوف سے سکوت کیامعنی !فقیر کے یہاں علاوہ ردِّ وہابیہ خذلہم اﷲ تعالٰی ودیگر مشاغل کثیرہ دینیہ کے کار فتوٰی اس درجہ وافر ہے کہ دس مفتیوں کے کام سے زائد ہے۔ شہر ودیگر بلاد امصار جملہ اقطار ہندوستان وبنگال وپنجاب و ملیبار وبرہما وارکان و چین وغزنی وامریکہ وافریقہ حتی کہ سرکار حرمین شریفین محترمین سے استفتاء آتے ہیں ا ور ایک وقت میں پانچ پانچ سو جمع ہوجاتے ہیں۔ اس میں اگر جواب میں تاخیریں ہوں یابعض استفتاء تحریر ٫جواب سے رہ جائیں تو کیا جائے شکایت ہے
لا یکلف اﷲ نفساً الا وسعھا ۱؎
 (خداکسی کو اس کی وسعت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا ۔ت)
(۱؎ا لقرآن        ۲/ ۲۸۶)
ان صاحب کا استفتاء باوصف تلاش کاغذات میں نہ نکلا، ممکن ہے کہ ہجوم انبار میں نہ ملا ہو یا آیا ہی نہ ہو یا بھیجا ہی نہ ہو اور جس طرح اہل اﷲ پر تعبد غیر کا خیال بندھ گیا اس کا بھیجنا متخیل ہوا ہو۔ بہر حال رعایت کی صورت یہ نہیں ہوتی، ہاں ہاں!کھلی کھلی رعایت و اغماض اور اپنے ساختہ متبوع کی خاطرحق سے صریح اعراض وہ ہے جو حضرات دیوبند کرتے ہیں، اسمٰعیل دہلوی صاحب نے اپنی کتاب مسمی بہ '' ایضاح الحق'' میں زمان ومکان وجہت سے اﷲ عزوجل کو منزہ ماننا او راس کے دیدار بلاکیف وجہت ومحاذات حق جاننا بدعت حقیقیہ کے قبیل سے بتایا جبکہ اس عقیدہ کو کوئی دینی عقیدہ تصور کرے جس سے صاف روشن کہ مذہبی طور پر اﷲ عزوجل کو زمان ومکان وجہت سے پاک جاننا او راس کا دیداربلاکیف ماننا ضلالت وگمراہی و فی النار ہے۔ اوراہل سنت کے تمام ائمہ سلف و خلف معاذاﷲ سب بدعتی وگمراہ تھے، ایک مسلمان نے دہلوی صاحب کے اس اقوال کا دیوبندی صاحبوں سے استفتاء کیا اور حسبِ دستور مسائل عمرو ،بکر لکھ کر دریافت کرتے ہیں دہلوی صاحب کانام نہ لکھا اس پر عالیجناب شیخ الگناگہہ جناب مولوی رشید احمد) گنگوہی صاحب نے یہ جواب تحریر فرمایا:
الجواب: '' یہ شخص اہلسنت وجماعت صالحین سے جاہل اور بے بہرہ ہے اور یہ اعتقاد اور مقولہ جو درج سوال ہے کفر ہے۔ نعوذ باﷲ منہ۔ حضرت سلف صالحین اور ائمہ دین کایہی مذہب ہے اوریہی احادیث صحیحہ وکلام شریف کی آیات سے ثا بت ہے کہ حق تعالٰی جل شانہ زمان ومکان وجہت سے پاک ہے، اور دیدار اس کا بہشت میں مسلمانوں کو نصیب ہوگا، چنانچہ عقاید اس سے مشحون ہیں، واﷲ تعالٰی اعلم، بندہ رشید احمد گنگوہی ۔'' اوراس پر حضرات دیوبند مولوی محمود حسن صاحب وعزیز الرحمان صاحب وغیر ہما نے مہریں کیں، اور جناب اسمٰعیل صاحب دہلوی پر بددین ، ملحد، زندیق کی چوٹیں جڑیں، علی الخصوص ہمارے ذکر کے قابل عالیجناب مولوی اشرفعلی تھانوی صاحب ہیں جنھوں نے اس حکم کفر دہلوی صاحب پر یوں تصدیق فرمائی :
'' الجواب الصحیح۔اشرفعلی عفی عنہ''۔
جب حضرات یہ فتوٰی دے چکے ، اب مسلمانوں نے پندرہ سوال کا استفتاء ان حضرات سے کیا ا وراسمٰعیل دہلوی صاحب اور ان کی ناقص کتاب '' ایضاح الحق'' کانام وکلام کھو ل کر دکھایا کہ مفتی صاحبو! وہ شریعت کا حکم اب بھی مانو گے یا طائفہ کے پیر جی کو خدا کی حکومت سے باہر جانو گے؟ ۲۸ صفر ۱۳۲۹ ھ کو یہ استفتاء طبع ہو کر شائع ہوا ، تین برس ہونے کو آئے ہیں سب صاحب ساکت وخاموش درخوابِ خرگوش ، مشکل تو یہ ہے کہ بولیں توکیا بولیں، قسمت کا لکھا کیونکر دھولیں، اپنے منہ اپنے امام الطائفہ پر کفر کا فتوٰی لگا چکے ہیں اب ا س سے پھریں توکیونکر، اور امام الطائفہ پر حکمِ کفر کریں تو کیونکر؟ اب وہ فتوٰی سانپ کے منہ کی چھچھوندر ہوگیا کہ اگلے تو اندھا ، نگلے تو کوڑھی، چارنا چار سکوت کی اوڑھی ، اسے حق پوشی کہتے ہیں، اسے ناحق کوشی کہتے ہیں،اسے پیر جی پرستی کہتے ہیں، اسے بادہ خیانت کی بدمستی کہتے ہیں، بلاپس ہو ، جواب نہ دیتے دل میں پشیماں تو ہوتے کہ جسے خود اپنے فتووں میں کفر بکنے والا ، بددین ملحد، زندیق لکھ چکے، اب تواس کی غلامی چھوڑیں، اسے پیشوا ماننے سے منہ موڑیں ، مگر حاشا ؎

چُھٹتی کہاں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
اب تک وہ ویسا ہی چنین وچناں، ویساہی امام، یہ اس کے ویسی ہی چناں چنیں، ویسے ہی غلام۔

مسلمانو! انصاف کرو،یہ کون سادین ہے ، کون سی دیانت ہے، اور اس پر ادعائے ایمان وامانت ہے،
ولاحول ولاقوۃ الاّباﷲ العلی العظیم۔
مسلمانو ! اس کا تعجب نہیں کہ اﷲ واحد قہار محمدرسول اﷲ سید الابرار جل جلالہ وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی سخت سے سخت توہینیں کرنے والے کیوں اپنے باطل پر ایسے اڑے ہیں؟ کیوں چاہِ ضلالت میں اوپر تلے یوں اوندھے پڑے ہیں، عجب تو یہ ہے کہ دیکھنے والے یہ کچھ ان کے کوتک دیکھیں ا ور پھر ان کے جُبّہ ودستار کے دام میں پھنیں، گویا یہ حرکات ایک سہل سی بات، ناقابل التفات، کوئی کسی کا دس پانچ روپے کا مال چرالے یا دغا سے دبالے ہمیشہ کو نظرو ں سے گرجائے، چو ردغا باز نام قرار پائے۔ ا ورمعاذ اﷲ ! اگرکوئی کسی مشہور بنام علم پر ایسا الزام عائد ہو تواس کی تشہیر حد سے زائد ہو،دس پانچ روپے کا جُرم یوں ناقابل تلافی، اور خاص دین و مذہب وعقائد میں ایسی چوری خیانت سب معافی، معافی کیسی خطاہی نہیں، وضوئے تمیز کبھی ٹوٹا ہی نہیں، یہ کیا ظلم ہے؟ کیا بے پروائی ہے، کیسی آنکھوں پر چربی چھائی ہے۔ مسلمانو! آنکھ کھولو، ورنہ پیشی فردا کے لیے مستعد ہولو ؎
بروز حشر شود ہمچو صبحِ معلومت    کہ باکہ باختہ عشق درشبِ دیجور

( حشر کے دن صبح کی طرح تجھ پر واضح ہوگا کہ تونے اندھیری رات میں کس سے عشق بازی کی ہے ۔ت)
اس تمام شرمناک واقعہ کی تفصیل اور وہ پندرہ سوال ایک مختصر رسالے '' دیوبندی مولویوں کا ایمان'' میں ہے،

اسے ملاحظہ کیجئے، کہ حق واضح ہے اور خیانت وحق پوشی دونوں کی پوری پہچان ہے۔ جس صاحب کو انکار ہو، گنتے گنتے بھول گئے، پھر گن لو، جناب مولوی تھانوی صاحب سے ان سوالوں کے جواب دلوالو، بہادری تو جب ہے کہ ان کے منہ کی مہر کھلوالو۔ کچھ ایسا بہت سا قضیہ نہیں، کچھ علمی مباحث دقیقہ نہیں، حق گوئی حق پوشی کا سیدھا سا امتحان ہے کہ دہلوی صاحب کا جب تک نام معلوم نہ تھا کفر والحاد کا حکم مرقوم تھا، اب کہ قائل معلوم ہوا کہ وہ حکم کس لیے معدوم ہوا، کیا کوئی نئی شریعت آگئی،تحذیر الناس نئی نبوت کا سکہ جماگئی جس نے شریعت مصطفویہ علٰی صاحبہا افضل الصلٰوۃ والتحیۃ منسوخ کردی۔ امام جی کی قبر
اَمْ لَکُمْ بَرَآءَ ۃٌ فَی الزُّبُرِ
 ( کیا تمھارے لیے کتابوں میں کوئی براءت ہے ۔ت) سے بھردی، او راگر نہیں تو کیوں نہیں اپنے ہونٹ کھولتے؟ کیوں نہیں وہ حُکمِ کفر والحاد بولتے ؟
بیّنوا توجّروا، بیّنوا توجروا، بیّنو اتوجروا
 (بیان کرکے اجر پاؤ۔ ت) او رنہیں تو زید صاحب ہی اتنا ثواب لیں اس فتوے کے ساتھ وہ سوال بھی حاضر ہوتے ہیں حضرت تھانوی صاحب سے اب جواب لیں، زید صاحب کی تحریر پکار رہی ہے کہ ان کو انصاف وحق جوئی سے دلچسپی ہے وہ ضرور تھانوی صاحب کی خبر لیں گے اور اب جواب نہ ملنے پر انصاف کرلیں گے، اے رب توفیق دے،ہدایت طریق دے،
آمین آمین، والحمد ﷲ رب العالمین۔
Flag Counter