Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
113 - 243
 (۱) امام ممدوح قدس سرہ نے جس طرح اصل مسئلہ کا فیصلہ فرمایا ، زید کے اس بے معنٰی اعتراض کی بھی کہ ''اہل اﷲ کے مزار پر کرتے ہیں معمولی آدمی کی قبر پر نہیں کرتے'' غلطی ظاہر فرمادی کہ ان پہلے تین فوائد عامہ کے بعد چوتھے فائدہ میں خاص مزارات اولیاء کرام کی تخصیص فرمائی، نیز اس کا وجوب ائمہ سلف دے چکے ہیں جن کا ارشاد مجمع بحارالانوار سے گزرا کہ مزارات اولیاء کرام وعلمائے عظام پر بنائے عمارت جائز ہے، عوام وفساق کی قبور پر کیوں نہ اجازت دی،

اقول آدمی اگر آیہ کریمہ
ذٰلک ادنی ان یعرفن فلایؤذین ۱؎
 ( وہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ ان کی پہچان ہو جائے تو انھیں ایذا نہ دی جائے، ت) کہ حکمتِ جلیلہ سے آگاہ ہو جس سے وجہ استنباط طوالع النور میں مذکور تو ایسا مہمل اعتراض ہر گز خیال میں بھی نہ آئے۔
(۱؎ القرآن ۳۳/ ۵۹)
امام ممدوح قدس سرہ نے زید کے اس سوال کا کہ'' بزرگوں کی قبروں پر کیوں کرتے ہیں، کسی فاسق وفاجر کی قبر پر کیوں نہیں کرتے'' جواب ارشاد فرمایا کہ
تعظیماً لروحہ المشرقۃ علٰی تراب جسدہ ۲؎ الخ
یعنی ان کی روح کی تعظیم کی جاتی ہے اور لوگوں کو دکھا یا جاتا ہے کہ یہ مزار محبوب کا ہے اس سے تبرک وتوسل کرو کہ تمھاری دُعا مستجاب ہو۔
(۲؎ الحدیقۃ الندیۃ    ایقاد الشموع فی القبور    مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۲/ ۶۳۰)
امام ممدوح قدس سرہ نے زید کے اس توہم کا بھی علاج فرمادیا کہ
تعظیما لروحہ
 ( ان کی روح کی تعظیم کے لیے ۔ت) معاذ اﷲ! یہ تو ان کی عبادت نہیں ان کی روح پاک کی تعظیم ہے۔ ہرتعظیم عبادت ہوتو تعظیم انبیاء علیہم الصّلوٰۃ والسلام تو نصوص قطعیہ قرآن عظیم سے فرض ہے۔
قال اﷲ تبارک وتعالٰی:
لتؤ منوا باﷲ ورسولہ وتعزروہ وتوقروہ ۳؎ ۔
ہم نے اپنے رسول کو اس لیے بھیجا کہ اے لوگو! تم اﷲ ورسول پرایمان لاؤ او ررسول کی تعظیم وتوقیر کرو۔
(۳؎ القرآن        ۴۸/ ۹)
وقال تبارک وتعالٰی :
الذین یتبعون الرسول النبی الامی الٰی قول عزو جل والذین اٰمنوا بہ وعزروہ و نصروہ واتبعواالنورالذی انزل معہ اولٰئک ھم المفلحون۔ ۱؎
وہ جو پیروی کریں گے اس رسول نبی اُمی یعنی بے پڑھے غیب کے علوم جاننے بتانے والے کی، تو جو اس نبی پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اوراس کی مدد کریں اور اس کے ساتھ جو نور اترا اس کے پیروہوں وہی لوگ مراد کو پہنچیں گے۔
(۱؎ القرآن      ۷/ ۱۵۷)
وقال اﷲ تبارک وتعالٰی:
لئن اقمتم الصلٰوۃ واٰتیتم الزکٰوۃ واٰمنتم برسلی وعزرتموھم واقرضتم اﷲ قرضا حسنا لاکفرن عنکم سیاٰتکم ولادخلنکم جنت تجری من تحتھا الانھٰر ۔۲؎
بیشک اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو او رمیرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور میرے رسولوں کی تعظیم کرو اﷲ کے لیے قرض حسن دوتوضرور میں تمھارے گناہ تم پر سے اتار دوں گا ضرور تمھیں بہشتوں میں داخل فرماؤں گا جن کے نیچے نہریں بہیں۔
(۲؎ القرآن      ۵/ ۱۲)
بلکہ قرآن عظیم نے توماں باپ کی تعظیم بھی فرض کی۔
قال اﷲ تبارک و تعالٰی :
واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ ۳؎ ۔
اور جھکادو تم ان (ماں باپ) کے واسطے نرمی کے بازو رحمت سے۔
(۳؎ القرآن        ۷/ ۲۴)
کیا معاذ اﷲ قرآن عظیم نے انبیاء و والدین کی عبادت کا حکم فرمایا ہے !
 (۴) امام ممدوح قدس سرہ نے شبہہ تعظیم قبر کا بھی جواب فرمادیا کہ:
تعظیما لروحہ الٰی قولہ قدس سرہ و الاعمال بالنیات ۴؎۔
یعنی تعظیم خشت وگلِ نہیں بلکہ روحِ محبوب کی تعظیم مقصود ہو جو بلاشبہہ محمود ہے اور اعمال کا مدار نیت پر ہے۔
 (۴؎ الحدیقۃ الندیۃ    ایقادا لشموع فی القبور    مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۲/ ۶۳۰)
اﷲ اﷲ! کیسے نفیس وجامع کلمات ارشاد فرمائے ، گویا اپنے نور باطن سے ادراک فرمالیا تھا کہ زید و امثالہ کو یہ شبہات عارض ہوں گے ، سب کا جواب ان دولفظوں میں فرمادیا کہ تعظیما لروحہ۔
 (۵) زید نے کبھی تعبد کو تقرب سے تعبیرنہیں کیا کہ'' محض تعبداً یعنی ازراہ تقرب کیا جاتا ہے'' اور کبھی تقرب کو تعبد سے تفسیر کیا کہ '' اگر تقرب بمعنی تعبد منظور نہیں تقرب یعنی تعبد ہے'' گویا اس کے خیال میں تقرب وتعبد شیئ واحد یعنی ایک ہی چیز ہے ، یہ محض باطل ہے، بلکہ تقرب تعبد کے اعم  سے اعم ہے، تعبد سے تعظیم اعم ہے کما علمت ( جیسا کہ اوپر معلوم ہوچکا ۔ت)اور تعظیم سے تقر ب اعم ہے کہ بنائے رباط وارسال ہدایا۔ تقرب ہے تعظیم نہیں
وتفصیل المقام فی تعلیقاتنا علٰی ردالمحتار
 ( اور اس مقام کی تفصیل ہمارے حاشیہ ردالمحتار میں ہے ۔ت)
 (۶) اسے تقرب بروجہ تعبد بتانا مسلمانوں پر کیسی سخت بدگمانی اور اس پر جرم کرنا مسلمان پر کیساصریح ظلم و افتراء ہے۔ درمختار میں منیۃ الفتاوٰی وذخیرۃ وشرح وہبانیہ سے ہے :
انا لانسیئ الظن بالمسلم انہ یتقرب الٰی الاٰدمی بھٰذا النحو۔۱؎
کسی مسلمان کے متعلق ہم یہ بدگمانی نہیں کرسکتے کہ وہ کسی انسان کی طرف اس طرح کا تقرب کرے گا۔ (ت)
(۱؎ درمختار    کتاب الذبائح    مطبع مجتبائی دہلی        ۲/ ۲۳۰)
ردالمحتار میں ہے:
ای علی وجہ العبادۃ لانہ المکفر وھذا بعید من حال المسلم ۲؎ ۔
یعنی عبادت کے طور پر تقرب اس لیے کہ اس سے آدمی کافر ہوجاتا ہے اوریہ مسلمان کے حال سے بعید ہے ۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار   کتاب الذبائح         ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر    ۵/ ۱۹۷)
(۷)طرفہ یہ کہ زید نے کہا '' پیرزادے اس کوکرتے چلے آئے ہیں مگر پیرزادہ گان صالح ہوں، اہل اﷲ ہوں معصوم نہیں، جہاں ہزاروں نیک کام مشائخ زمانہ کرتے ہیں، ایک یہ ناجائز بھی کسی مصلحت سے کرلیا، خدا معاف کرنے والا ہے ۔'' سبحان اﷲ ! صالح بھی ہیں، اہل اﷲ بھی ہیں، اور غیر خدا کے عابد بھی ہیں، اس سے بڑھ کر محال کیا ہوگا!
Flag Counter