اے اﷲ ! تیرے لیے دائمی حمد ہے۔ اپنے سراج منیر اور ان کی آل پر ہمیشہ رحمت نازل فرما۔ اے نور، اے نور کے نور، اے ہر نور قبل نور، اے نور کے بعد نور، تیرے لیے نور ہے، تجھ سے نور ہے، تیری طرف نور ہے، تونور اور نور کانور ہے اپنے نور انوار پر، اور ان کی آل پر جو روشن چراغ ہیں اور ان کے اصحاب پر جو تابناک مصباح ہیں درود نازل فرما ایسا درود جس سے ہمارے چہرے، ہمارے سینے، ہمارے دل اور ہماری قبریں روشن ہوجائیں، الہٰی قبول فرما ۔(ت)
امام علامہ عارف باﷲ سیدی عبدالغنی بن اسمٰعیل بن عبد الغنی نابلسی قدسنا اﷲ بسّرہ القدسی کتاب مستطاب حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ مطبع مصر جلد دوم ص ۴۲۹ میں فرماتے ہیں:
قال الوالد رحمہ اﷲ تعالٰی فی شرحہ علٰی شرح الدرر من مسائل متفرقۃ اخراج الشموع الی القبور بدعۃ اتلاف مال کذا فی البزازیۃ اھ وھذا کلہ اذاخلا عن فائدۃ وامااذاکان موضع القبور مسجدا اوعلٰی طریق اوکان ھناک احد جالس اوکان قبر ولی من الاولیاء اوعالم من المحققین تعظیماً لروحہ المشرقۃ علٰی تراب جسدہ کاشراق الشمس علی الارض اعلاماللناس انہ ولی لیتبرکوا بہ ویدعوا اﷲ تعالٰی عندہ فیستجاب لھم فھو ا مرجائز لامنع منہ والاعمال بالنیات ۱؎ ۔
یعنی والد رحمہ اﷲ تعالٰی نے حاشیہ درر و غرر میں فتاوٰی بزازیہ سے نقل فرمایا کہ قبروں کی طرف شمعیں لے جانا بدعت اور مال کا ضائع کرنا ہے، یہ سب اس صورت میں ہے کہ بالکل فائدہ سے خالی ہو، اور اگر شمعیں روشن کرنے میں فائدہ ہو کہ موضع قبور میں مسجد ہے یا قبور سرراہِ ہیں یا وہاں کوئی شخص بیٹھا ہے یا مزار کسی ولی اﷲ یا محققین علماء میں سے کسی عالم کا ہے وہاں شمعیں روشن کریں ا ن کی روح مبارک کی تعظیم کے لیے جو اپنے بدن کی خاک پر ایسی تجلی ڈال رہی ہے جیسے آفتاب زمین پر، تاکہ اس روشنی کرنے سے لوگ جانیں کہ یہ ولی کا مزار پاک ہے تاکہ اس سے تبرک کریں او ر وہاں اﷲ عزوجل سے دعامانگیں کہ ان کی دعا قبول ہوتو یہ امر جائز ہے اس سے اصلاً ممانعت نہیں، اور اعمال کا مدار نیتوں پر ہے ،
روی ابوداؤد والترمذی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لعن زائرات القبور والمتخذین علیھا المساجد والسرج ای الذین یوقدون السرج علی القبور عبثا من غیر فائدۃ ۱؎۔ کماذکرنا۔
ابوداؤد اور ترمذی نے ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
نے قبروں پر جانے والی عورتوں اور قبروں پر مسجدیں بنانے والوں اور چراغ رکھنے والوں پر لعنت فرمائی یعنی اُن لوگوں پر جوکسی فائدہ کے بغیر قبروں پر چراغ جلاتے ہیں جیساکہ ہم نے ذکر کیا ہے (ت)
یعنی یہ مذکورہ بالاحدیث کہ راویت کی گئی ہے۔ اس سے بھی مراد وہی صورت ہے کہ محض عبث بلافائدہ قبور پر شمعیں روشن کریں ورنہ ممانعت نہیں، ملاحظہ ہو وہی حدیث ہے وہی عبارت فتاوٰی بزازیہ ہے، ان علامہ جلیل القدر عظیم الفخر رحمہ اﷲ تعالٰی نے ان کے معنی روشن فرمادئے اور تصریحاً ارشاد کیا کہ مقابر میں شمعیں روشن کرنا جب کسی فائدہ کے لیے ہو ہرگز منع نہیں، فائدہ کی متعدد مثالیں فرمائیں:
(۱) وہاں کوئی مسجد ہوکہ نمازیوں کو بھی آرام ہوگا اور مسجد میں بھی روشنی ہوگی۔
(۲) مقابر برسرراہ ہوں روشنی کرنے سے راہ گیروں کو نفع پہنچے گا اور اموات کو بھی کہ مسلمان مقابر مسلمین دیکھ کر سلام کریں گے،۔ فاتحہ پڑھیں گے، دعاکریں گے، ثواب پہنچائیں گے، گزرنے والوں کی قوت زائد ہے تو اموات برکت لیں گے، او راگر اموات کی قوت زائد ہے تو گزرنے والے فیض حاصل کریں گے۔
(۳) مقابر میں اگر کوئی بیٹھا ہو کہ زیارت یا ایصال ثواب یا افادہ یا استغفار کے لیے آیا ہے توا سے روشنی سے آرام ملے گا ،قرآن عظیم دیکھ کر پڑھنا چاہے تو پڑھ سکے گا۔
(۴) وہ تینوں منافع مزارات اولیاء کرام قدسنا اﷲ تعالٰی باسرارہم کو بھی بروجہ اولٰی شامل تھے کہ مزارات مقدسہ کے پاس غالباً مساجد ہوتے ہیں، گزرگاہ بھی بہت جگہ ہے اور حاضرین زائرین خواہ مجاورین سے تونادراً خالی ہوتے ہیں مگر امام ممدوح ان پر اکتفا نہ فرما کر خود مزارات کریمہ کے لیے بالتخصیص روشنی میں فائدہ جلیلہ کا افادہ فرماتے ہیں کہ ان کی ارواح طیبہ کی تعظیم کے لیے روشنی کی جائے۔
اقول ظاہر ہے کہ روشنی دلیل اعتناء ہے او راعتناء دلیل تعظیم۔ اور
تعظیم اہل اﷲ ایمان وموجب رضائے رحمان عزجلالہ۔ قال اﷲ عزوجل:
جو الہٰی آداب کی چیزوں کی تعظیم کرے تو اس کے لیے ا س کے رب کے یہاں بہتری ہے ۔
(۱؎ القرآن ۲۲/ ۳۰)
اس کی نظیر مصحف شریف کا مطلاً ومذہب کرناہے کہ اگر چہ سلف میں نہ تھا، جائز ومستحب ہے کہ دلیل تعظیم و ادب ہے۔ درمختار میں ہے :
جاز تحلیۃ المصحف لما فیہ من تعظیمہ کما فی نقش المسجد ۲؎ ۔
مصحف شریف مطلاً ومذہب کرنا جائز ہے کیونکہ اس میں اس کی تعظیم ہے جیسا کہ مسجد کو منقش کرنے میں (ت)
(۲؎ درمختار کتاب الحظروالا باحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵)
یوں ہی مساجد کی آرائش ان کی دیواروں پر سونے چاندی کے نقش ونگار کہ صدرِ اول میں نہ تھے، بلکہ یہ حدیث میں تھا :
لتزخرفنّھا کما زخرفت الیھود والنصارٰی ۳؎۔ رواہ ابو داؤد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
تم مسجدوں کی آرائش کروگے جیسے یہود ونصارٰی نے آرائش کی، اسے ابوداؤد نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ (ت)
(۳؎ سنن ابوداؤد باب فی بناء المسجد آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۶۵)
مگر اب ظاہری تزک واحتشام ہی قلوب عامہ پر اثر تعظیم پیدا کرتا ہے۔لہذا ائمہ دین نے حکم جوازدیا۔ تبیین الحقائق میں ہے :
لا یکرہ نقش المسجد بالجص وماء الذھب ۴؎ ۔
گچ او ر سونے کے پانی سے مسجد میں نقش بنانا مکروہ نہیں ہے (ت)
(۴؎ تبیین الحقائق فصل کرہ استقبال القبلہ مطبعۃ کبرٰیامیریہ مصر ۱/ ۱۶۸)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ کما فی نقش المسجدای ماخلا محرابہ ای بالجص وماء الذھب ۵؎ ۔
اس کا قول، جیسا کہ مسجد کی آرائش میں، یعنی محراب کے علاوہ، یعنی گچ اور سونے کے پانی سے ۔(ت)
(۵؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب فی البیع ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۵/ ۲۴۷)
(۳) یونہی مسجدوں کے لیے کنگرے بنانا کہ مساجد کے امتیاز اور دور سے ان پر اطلاع کا سبب ہیں، اگرچہ صدرا ول میں نہ تھے، بلکہ یہ حدیث شریف میں ارشاد ہوا تھا:
اِبْنوُ ا الْمَسَاجِدَ واتخذوھا جْمًّا ۱؎ ۔ رواہ ابن ابی شیبۃ والبیھقی فی السنن عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
مسجدیں مُنڈی بناؤ، اسے ابن ابی شیبہ نے اور سنن میں بیہقی نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔(ت)
(۱؎ السنن الکبرٰی باب فی کیفیۃ بناء المسجد دارصادر بیروت ۲/ ۴۳۹)
دوسری حدیث میں ہے :
اِبْنُوْا مَسَاجِدَکُمْ جُمًّا وَابْنُوْا مَدَآئِنَکُمْ مُشْرَفَۃً ۲؎۔ رواہ ابن ابی شیبۃ فی المصنف عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
یعنی مسجدیں مُنڈی بناؤ اُن میں کنگرے نہ رکھو، اور اپنے شہر اونچے کنگرے دار بناؤ__ اسے مصنف میں ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا (ت)
(۲المصنف لابن ابی شیبہ ادارۃ القرآن العلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۳۰۹)
اور جسے مسلمان اچھا سمجھیں وہ خدا کے یہاں بھی اچھا ہے(ت)
(۳؎ مسند احمد بن حنبل دارالفکر بیروت ۱/ ۳۷۹)
امام ابن المنیر شرح جامع صحیح میں فرماتے ہیں :
استنبط کراھیۃ زخرفۃ المسجد لاشتغال قلب المصلی بذٰلک اولصرف المال فی غیر وجھہ نعم اذا اوقع ذلک علی سبیل تعظیم المساجد ولم یقع الصرف علیہ من بیت المال فلا باس بہ ولواوصی بتشیید مسجد وتحمیرہ وتصفیرہ نفذت وصیّتہ لانہ قدحدث للناس فتاوی بقدر ما احدثواوقد احدث الناس مؤمنھم وکافرھم تشیید بیوتھم وتزیینھا ولوبنینا مساجد ناباللبن وجعلنٰھا متطامنۃ بین الدور الشاھقۃ و ربما کانت لاھل الذمۃ لکانت مستہانۃ ۱؎۔
یعنی حدیث سے مستنبط کیا گیا ہے کہ مسجدوں کی آرائش مکروہ ہے کہ نمازی کا خیال بٹے گا یا اس لیے کہ مال بیجا خرچ ہوگا۔ ہاں اگر تعظیم مسجد کے طور پر آرائش واقع ہو ا ور خرچ بیت المال سے نہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں ، اور اگر کوئی شخص وصیت کر جائے کہ اس کے مال سے مسجد کی گچ کاری او راس میں سرخ و زرد رنگ کریں تو وصیت نافذ ہوگی کہ لوگوں میں جیسی نئی نئی باتیں پیدا ہوتی گئیں ویسے ہی ان کے لیے فتوے نئے ہوئے کہ اب مسلمانوں کا فروں سب نے اپنے گھروں کی گچکاری اور آرائش شروع کردی، اگرہم ان بلند عمارتوں کے درمیان جو مسلمین تو مسلمین کافروں کی بھی ہوں گی کچّی اینٹ اور نیچی دیواروں کی مسجدیں بنائیں تونگاہوں میں ان کی بے وقعتی ہوگی۔
(۱؎ ارشاد الساری شرح البخاری باب بنیان المساجد دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۴۴۰)
اسی قبیل سے ہے مزارات اولیاء کرام وعلمائے عظام قدست اسرارہم پر عمارات کی بناء کہ باوصف حدیث مسلم وابوداؤد ونسائی ومسند احمد:
عن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نھی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان یقعد علی القبروان یجصص وان یبنی علیہ ۲؎۔
حضرت جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے قبر پر بیٹھنے،اسے گچ سے پکی کرنے اور اس پر عمارت بنانے سے منع فرمایا ۔(ت)
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الجنائز البناء علی القبر نور محمد اصح المطابع کراچی ۱/ ۳۱۲)
جس میں صراحۃً اس کی ممانعت ارشادہوئی ہے سلفاً وخلفاً ائمہ کرام و علمائے اعلام نے جائز رکھی تکملہ مجمع بحارالانوار جلد ثالث صفحہ ۱۴۰ میں ہے :
قد اباح السلف البناء علی قبور الفضلاء الاولیاء والعلماء لیزورھم ویستریحون فیہ ۳؎ ۔
بیشک ائمہ سلف صالحین نے اہل فضل اولیاء وعلماء کے مزارات طیبہ پر عمارت بنانا مباح فرمادیا کہ لوگ ان کی زیارت کریں اور ان میں راحت پائیں۔
ھو وان کان احداثا فھو بدعۃحسنۃ وکم من شیئ کان احداثاً وھوبدعۃ حسنۃ وکم من شیئ یختلف باختلاف الزمان والمکان۔۱؎
یعنی یہ اگر چہ نَو پیدا ہے پھر بھی بدعت حسنہ ہے اور بہت سی چیزیں ہیں کہ نئی پیدا ہوئیں اور ہیں اچھی بدعت، اور بہت احکام ہیں کہ زمانے یا مقام کی تبدیلی سے بدل جاتے ہیں۔
یعنی ایسی جگہ احکامِ سابقہ سے سند لانا حماقت ہے، جوحاجت اب واقع ہوئی اگر زمانہ سلف میں واقع ہوتی تو وہ بھی حکم کرتے جواس وقت ہم کرتے ہیں، جیسے ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے فرمایا:
لَوْرَاٰی النّبِی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مَااَحْدَثَ النِّسَآءُ لَمَنَعَھُنَّ الْمَسَاجِدَکَمَا مِنْعَتْ نَسَاءُ بَنِیْ اِسْرائَیلَ ۲؎ ۔
یعنی اگر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ملاحظہ فرماتے جو باتیں عورتوں نے اب تک نکالی ہیں،انھیں مسجدوں سے منع فرمادیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجدوں سے منع کیا گیا تھا۔ (ت)
(۲؎ صحیح مسلم باب خروج الفساد الی المساجد نور محمداصح المطابع کراچی ۱/ ۱۸۳)
اور آخر ائمہ دین نے عورات کو مسجدوں سے منع فرماہی دیا، حالانکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا تھا :
اَتَمْنَعُوْا اِمَاء اﷲِ مَسَاجِدَ اﷲِ ۳؎۔ رواہ احمد ومسلم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
اﷲ تعالٰی کی باندیوں کو اﷲ تعالٰی کی مسجدوں سے نہ روکو اسے امام احمد ومسلم نے حضرت ابن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا (ت)
(۳؎صحیح مسلم باب خروج الفساد الی المساجد نور محمداصح المطابع کراچی ۱ /۱۸۳)
کیا ائمہ دین نے نظر بحال زمانہ جو حکم فرمایا اسے حدیث کی مخالفت کہا جائے گا؟ حاش ﷲ!ایسا نہ کہے گا مگر احمق ، کج فہم، یوں ہی یہ تازہ تعظیموں کے احکام ہیں۔ سلف صالحین کے قلوب تعظیم شعائراﷲ سے مملو تھے۔
ظاہری تزک واحتشام کے محتاج نہ تھے، تو ان کے وقت میں یہ باتیں عبث وبے فائدہ تھیں اور ہر عبث مکروہ۔ اور اس میں مال صرف کرنا ممنوع، اب کہ بے تزک واحتشام ظاہری قلوب عوام میں وقعت نہیں آتی ان باتوں کی حاجت ہوئی، مصحف شریف پر سونا چڑھانے کی اجازت ہوئی مسجدوں میں سونے کے کلس ،سونے چاندی کے نقش نگار کی اجازت ہوئی، مزارات پر قبہ بنانے، چادر ڈالنے ، روشنی کرنے کی اجازت ہوئی، ان تمام افعال پر بھی احادیث واحکام سابقہ پیش نہ کرے گا مگر سفیہ ونافہم۔ یہ مختصر شرح ہے اس ارشاد امام ممدوح قدس سرہٰ کی، اور اس کی تفصیل بازغ وتحقیق بالغ ہمارے رسالہ
طوالع النور فی حکم السراج علی القبور
میں ہے
وباﷲا لتوفیق۔
یہی امام جلیل کشف النور میں ، پھر علامہ شامی ردالمحتار فصل اللبس اور عقودالدریہ مسائل شتی میں مزارات اولیاء کرام پر غلاف ڈالنے کی نسبت بھی اسی تعظیم سے استدلال فرماتے ہیں
کما بیناہ فی فتاوٰنا
( جیسا کہ ہم نے
اپنے فتاوٰی میں اسے بیان کیا ہے۔ ت) اس کے علاوہ خاص روشنی مزار کریم کی نسبت ان سے بھی بہت اقدم امام اجل واقلم کا ارشاد بعونہٖ تعالٰی عنقریب آتا ہے۔ زید نے ایک ہی عالم مستند کا قول ملنے پر قبول وسرنہا دن کا وعدہ کیا تھا۔ ان تحقیقات ائمہ مستندین اجلہ معتمدین و وعدہ زید کے بعد زیادہ کی حاجت نہیں، مگر اجمالاً بعض جملے اور گزارش ہوں کہ عوام بھائی شبہہ میں نہ پڑیں، واﷲ الموفق: