Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
111 - 243
رسالہ

بَرِیقُ الْمَنَارْ بِشُمُوْعِ الْمَزَارْ

(منارے کی چمک مزار کی شمعوں سے)(۱۳۳۱ھ)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم  نحمدہ ونصلّی علٰی رسولہ الکریم۔
مسئلہ ۱۴۹: از لکھنؤ محلسرا ڈاکخانہ چوک مرسلہ مولوی محمد احمد صاحب علوی خلف مولوی حبیب علی صاحب مرحوم ۸ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مزاراتِ اولیاء اﷲ پر روشنی کرنا جائز ہے یانہیں؟ زید کہتا ہے کہ روشنی مزاراتِ اولیاء اﷲ پرناجائز ہے کیونکہ اس میں تعبد منظور ہوتاہے، چنانچہ زید کی تحریر بجنسہٖ ذیل میں نقل کی جاتی ہے، آیا مسلک زید کا نزدیک علمائے دین ومفتیان شرع متین قابل قبول وعمل ہے

یا نہیں؟
نقلِ تحریرِ زید یہ ہے:
میں بقسم شرعیہ اس کو باور کراتا ہوں کہ میں نے کوشش کی کہ چراغانِ قبور کا کسی تاویل سے استحسان ثابت ہو جائے تومیں  رسم قدیم کی مخالفت نہ کروں، چنانچہ فتاوٰی عالمگیری کو دیکھا اس میں نکلا کہ
اخراج الشموع الی المقابر بدعۃ لااصل لہ
 ( مزارات پر چراغان کرنا بدعت ہے اس کی کوئی اصل نہیں ۔ت) اسی طرح فتاوٰی بزازیہ میں ہے۔ دُرمختار میں بھی یہی نکلا۔ پھر میں نے حدیث شریف کو دیکھا۔ مشکوٰۃ شریف میرے پاس تھی اس میں یہ حدیث نکلی :
لعن رسول اﷲ زائرات القبوروالمتخذین علیھا المساجد والسرّج ۱؎۔ رواہ الترمذی والنسائی۔
لعنت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے زائرات قبور پر اورجو پکڑیں قبروں پر مسجدیں ( یعنی قبروں کی طرف 

سجدہ کریں) اور قبروں پر چراغ روشن کریں۔ اسے ترمذی اور نسائی نے روایت کیا۔
 (۱؎ الجامع للترمذی    با ب کراھۃ ان یتخذ علی القبر مسجداً    نور محمد اصح المطابع کراچی    ص ۷۳)
اس کے بعد میں نے حضرت شاہ رفیع الدین صاحب محدث دہلوی برادر شاہ عبدالعزیز صاحب ختم المحدثین کے فتوے مطبوعہ مطبع مجتبائی ص ۱۴ کو دیکھا اس میں لکھاہے:
پس امداد بدعاء وختم واطعام بدعتے مباح است (یعنی درعرس سالانہ بزرگان دین اگر صلحائے وقت جمع شدہ قرآن شریف خوانند وخیرات کردہ ثواب رسانند مضائقہ ندارد، ایں رابدعت مباح بایدگفت) وجہ قبح ندارد ۔ اما ارتکاب محرمات از روشن کردن چراغ ہا وملبوس ساختن قبور وسرودہا نواختن معازف بدعات شنیعہ اند حضور چنیں مجالس ممنوع اگر مقدور باشد محلِ حدیث من رأی منکم منکراً فلیغیرہ بیدہ وان لم یستطع فبلسانہ وان لم یستطع فبقلبہ وذٰلک اضعف الایمان ۲؎ عمل باید کرد از مقام زجر پراگندہ کردن اسباب بدعت کافی ۳؎۔
دعا، ختم قرآن اور کھانا کھلانے کے ذریعے مدد کرنا ایک جائز بدعت ہے( یعنی بزرگان دین کے سالانہ عرس میں اگر اس زمانے کے نیک لوگ جمع ہو کر قرآن شریف پڑھیں اور خیرات کرکے ثواب پہنچائیں تو کوئی مضائقہ نہیں اسے بدعت مباحہ کہا جاسکتا ہے) قبیح ہونے کی کوئی وجہ نہیں،لیکن حرام باتوں کا ارتکاب جیسے چراغ روشن کرنا، قبروں کو ملبوس کرنا، گانے ، باجے بجانا شنیع بدعتیں ہیں، ایسی مجلسوں میں شرکت منع ہے اگر قدرت ہو تو حدیث پاک'' جو تم میں کوئی برائی دیکھے تو اپنے ہاتھ سے روک دے، یہ نہ ہوسکے تو زبان سے، یہ بھی نہ ہوسکے تودل سے برا جانے اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے '' پر عمل کرنا چاہئے، زجر کی جگہ اسباب بدعت کو منتشر کردینا کافی ہے (ت)
 (۲؎الجامع للترمذی    ابواب الفتن   نور محمد اصح المطابع کراچی ص ۳۱۶)     (۳؎ فتاوٰی شاہ رفیع الدین)
اس کے علاوہ قاضی ثناء اﷲ پانی پتی رحمۃ اﷲ علیہ نے مالابدمنہ میں اور ارشاد الطالبین میں لکھا ہے کہ؟
'' چراغاں کردن بدعت است،پیغمبر خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم برشمع افروزاں نزد قبروسجدہ کنند گان لعنت گفتہ '' ۱؎۔ ارشاد الطالبین ص ۱۰
 (قبور پر) چراغاں کرنا بدعت ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے قبرکے نزدیک چراغاں کرنے اور سجدہ کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے ۔(ت)
 (۱؎ مالابدّمنہ (فارسی) کتاب الجنائز  مکتبہ شرکت علمیہ ملتان ص ۷۰ و ۷۱)
خلاصہ یہ کہ چراغاں جو بغرض خاص تقرب کیا جاتا ہے یابغرض زینت۔ یہاں تک کہ بعض لوگ منت مانتے ہیں اور اس کا ایفاء کرتے ہیں اور اہل اﷲ کے مزار پر کرتے ہیں معمولی آدمی کی قبر پر نہیں کرتے ہیں، ا س طرح جب کتبِ حدیث و فقہ وتحریراتِ علماء میں نکلا تو میں نے بلاخوف وخطر اس کو ترک کردیا اور جس قدررقم کا تیل آتا تھا وہ میں نے شربت وبرف میں صرف کردیا۔ نظر انصاف سے دیکھا جائے کہ یہ کیا سنگین جرم ہے، نمازنہ  پڑھے، جماعت کا پابند نہ ہو ، ڈاڑھی منڈائے وہ سب قابل عفو ہے لیکن چراغاں نہ کرنا جس کے لیے اس قدر شدید وعید آئی ہے وہ ایسا جرم ہے کہ فوراً وہابیت کا دعوٰی دے دیا جاتا ہے۔ چونکہ اس کے کہنے والے اکثر جاہل ناخواندہ لوگ تھے میں نے اس کی طرف تو جہ بھی نہیں کی، میں نے یہ سمجھاتھا کہ اگر صاحب فتاوٰی بزازیہ و عالمگیریہ وصاحب مشکوٰۃ او ر شاہ رفیع الدین صاحب محدث دہلوی اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی یہ سب وہابی ہیں تو میں الحمد للہ وہابی ہوں، یہ امر بھی قابل گزارش ہے کہ میں نے مولوی احمد رضاخاں صاحب کو ایک عریضہ بھیجااور اس میں استفتاء چراغان کاکہا اورجواب کے لیے ٹکٹ بھی رکھ دئے لیکن خاں صاحب موصوف نے اس کا جواب نہیں دیا، شکل یہ ہے کہ اگر حق جواب لکھا جائے تو پیرزادے ناخوش ہوتے ہیں اگر ناحق لکھا جائے تو قرآن وحدیث وفقہ کے خلاف ہوتا ہے، بہت تلاش سے بعض لوگوں کی تحریرات سے ایک آدھ چراغ کا جواز اس طرح سے نکلتا ہے کہ کسی دوسری مصلحت سے چراغ جلایا جائے،لیکن چراغاں کا جواز اگر آج بھی کسی مستند عالم کی کتاب سے نکل آئے تو مجھ کوس ا س معاملہ میں کدنہ ہوگی، صرف دو امور میں جس کی وجہ سے لوگوں کو خلجان ہوتاہے:

اول یہ کہ پیرزادے اس کوکرتے چلے آئے ہیں مگر پیرزادوں  کا فعل ناسخ قول  رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نہیں ہے، پیرزادگان کچھ معصوم نہیں ہیں، صالح ہوں، اہل اﷲ ہوں، لیکن معصوم نہیں، جہاں تک ہزاروں نیک مشائخ زمانہ کرتے ہیں وہاں ایک امرِ ناجائز بھی کسی مصلحت سے انھوں نے کرلیا، خدا تعالٰی معاف کرنے والا ہے، غور سے دیکھا جائے کہ غیر محارم کے سامنے آنا شرعاً جائز ہوجائے گا۔
دوسرا امر باعثِ خلجا ن یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں قبرمبارک پر روشنی ہوتی ہے، اس خطرے کو جواب حسب ذیل ہیں:

(۱) تعامل حرمین شریفین کا بعد قرون ثلٰثہ مشہود لہا بالخیر کے سند نہیں ہے۔

(۲) قبرشریف حجرہ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنھا میں واقع ہے جس کے چاروں طرف مسجد نبوی ہے اور مسجد میں روشنی کرنے کا ثواب احادیث میں موجود ہے۔

(۳) قبر شریف درحقیقت روپوش ہے آج ہفت اقلیم کا بادشاہ بھی اس کو نہیں دیکھ سکتا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ 

خلیفہ ہارون الرشید نے سیڑھی لگا کر دیکھنا چاہا ناکامیاب رہا۔

(۴) مدینہ منورہ میں روشنی منجانب سُلطان ٹرکی ہوتی ہے، گورنمنٹ ٹرکی نے عثمانیہ بینک قائم کرکے سود کا لین دین شروع کردیا ہے، کیا گورنمنٹ کے بھی فعل سے سود جائز ہوسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔

(۵) نزدیک اہلسنت والجماعت کے حجت شرعی صرف چار ہیں: قرآن وحدیث واجماع وقیاس مجتہدین صرف تعامل حرمین کوئی سند نہیں۔

(۶) بڑا حصہ حرمین شریفین کا داڑھی کترواتاہے، کیا داڑھی کتروانے کے جواز میں کوئی شخص یہ سند پیش کرسکتا ہے کہ وہاں کے لوگ داڑھی کترواتے ہیں ، لہذا یہ فعل جائز ہے، وہاں کے علماء سے خود فتوٰی لیا جائے وہ داڑھی کتراتے چراغاں کرنے کو یقینا ناجائز کہیں گے۔
 (۷) اب ایک تاویل ضعیف او رایجاد ہوئی ہے کہ متقدمین ومتاخرین کسی کو بھی نہیں سوجھی، یعنی قبر پر چراغ جلانے کی ممانعت ہے لیکن قبر کے گرد جلانے میں ممانعت نہیں ہے کیونکہ حدیث شریف میں لفظ علٰی بمعنی پرواقع ہے، اردو میں کیا قبرپر چڑھا واصرف اسی کو کہتے ہیں جو خاص اس جگہ پر کیا جائے جتنے حصہ کو قبر کہتے ہیں ، بعض قبرکی صورت کوہانِ شتر کے مانند ہوتی ہے اس پر چڑھا واغالباً ممکن بھی نہ ہوگا، لیکن قبر پر چڑھا وا تو اتنا وسیع ہے کہ گرد قبر سے بلکہ دروازے کے آس پاس بھی کوئی رکھ دے تو وہ قبر کا چڑھاوا سمجھا جائے گا اور رسول خدا (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) کے فرمانے کی یہ تاویل ضعیف ہے۔ قرآن شریف سورہ کہف میں
لَنَتَّخِذَنَّ (عہ) عَلَیْھِمْ مسجد ا۱؎
 ( قسم ہے کہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے ۔ت) کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ اصحابِ کہف کے سینہ پر سنگِ بنیاد مسجد کا رکھیں گے ، استغفراﷲ ۔
 (۱؎ القرآن    ۱۸ / ۲۱)
عہ : زید کی اصل عبارت میں تتخذون ہے۔
ایک صاحب نے یہ کمال کیا کہ ملاعلی قاری کی نسبت کہہ دیا کہ انھوں نے گر د قبر کے چراغ جلانے کو جائز کہا ہے، حالانکہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ مطبوعہ مصر صفحہ ۴۷ میں حدیث مندرجہ مشکوٰۃ شریف مذکور بالا کی شرح میں انھوں نے صر ف مسجد کو اطرافِ قبرمیں بنانے کی اجازت اس بنیاد پر دی ہے کہ عبادت یہود ونصارٰی یہ تھی کہ وہ قبر پر مسجد بناتے تھے، اور چونکہ مشابہت یہود و نصارٰی کی وجہ سے ممانعت ہوئی تھی لہذاجب مشابہت نہ رہی تویہ فعل جائز ہوگیا۔ لیکن چراغ کی ممانعت کے وجوہ حضرت ملا علی قاری نے تین لکھے ہیں:
اوّلاً تضییع مال۔
دوم چراغ کا آثار جہنم سے ہونا بوجہ ناریت۔
سوم تعظیم قبور۔

ہر گز ملا قاری نے گرد قبر کے چراغ جلانے کی اجازت نہیں دی ہے، یہ ان پر اتہام ہے۔ سمجھنے کی بات ہے کہ جوانھوں نے وجوہ ممانعت لکھے ہیں کیا وہ گرد قبر کے چراغ جلانے سے جاتے رہیں گے جو وہ اجازت دیتے ہیں، بقسمِ شرعی باور کراتاہوں کہ اگر کسی عالم مستند نے چراغاں قبر کے لیے جلانے کو جائز کردیا ہو تو میں پہلا شخص اس تاویل پر عمل کرنے کے لیے تیار ہوں گا، سچ یہ ہے کہ مجاوروں نے جن کے لیے قبور ذریعہ معاش ہیں انھوں نے ان باتوں کی ایجاد کی ہے۔یہ سب بحث چراغ جلانے میں ہیں نہ کہ چراغاں میں، جو محض تعبداً یعنی ازراہ تقرب کیا جاتاہے، لوگ تیل بتی کی منت مانتے ہیں، سال کے سال شب عرس کو کرتے اور اس کو مذہبی فعل سمجھتے ہیں، اگر تقرب یعنی تعبد منظور نہیں ہوتا تو لوگ چراغاں بزرگوں کی قبر پر کیوں کرتے ہیں، کسی فاسق فاجر کی قبر پر کیوں نہیں کرتے! اس سے ظاہر ہے کہ منشاءِ چراغاں محض تقرب یعنی تعبد ہے۔ اگر ایسی تاویل جائز سمجھی جائے توکوئی شخص قبر کے نیچے یا قبر کے بیچ چراغ جلائے کیونکہ حدیث میں قبر پر کی ممانعت ہے، استغفراﷲ! یہ توحدیث کے ساتھ مضحکہ کرنا ہے۔ اگر اس وعید کے بعد بھی کوئی شخص پھر اس میں خلاف کرے یاکٹ جحتی کرے، توا س کا جواب یہ ہے کہ یہ بات قبرمیں تصفیہ کے قابل ہے۔ موسٰی بدین خود، عیسٰی بدین خود، انتہی تحریر زید

اب جوکچھ ازر راہ انصاف وتتبع کتب حضرات اہلسنت والجماعت محقق ہووے اس سے معزز فرمائے، اور کیا یہ اقوال زید کے صحیح اور موافق سلف کے ہیں، بہ تشریح وتفصیل تام ارشادہو، اﷲ تعالٰی آپ کو جزائے خیر عنایت فرمائے۔
Flag Counter