Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
110 - 243
مسئلہ ۱۴۸ـ:ا ز جوناگڑھ کا ٹھیا واڑ سرکل مدار المہام مرسلہ مولوی امیر الدین صاحب ۱۰ ذی قعدہ ۱۳۱۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی بزرگ کے مزار پرلوبان جلانا شرع شریف میں کیا حکم رکھتا ہے؟ اور جو شخص جلانے والے کو فاسق اور بدعتی کہے اس کا کیا حکم ہے ؟ بینوا توجروا
الجواب

عود لوبان وغیرہ کوئی چیز نفسِ قبر پر رکھ کرجلانے سے احتراز چاہئے اگر چہ کسی برتن میں ہو
لما فیہ من التفاؤل القبیح بطلوع الدخان علی القبر والعیاذ باﷲ
 ( کیونکہ اس میں قبر کے اوپر سے دھواں نکلنے کا بُرا فال پایا جاتاہے،

اورخدا کی پناہ ۔ ت) صحیح مسلم شریف میں حضرت عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی:
انہ قال لابنہ وھو فی سیاق الموت اذاانامت فلا تصٰحبنی نائحۃ ولانارا۱؎ الحدیث۔
انھوں نے دم مرگ اپنے فرزند سے فرمایا جب میں مرجاؤں تو میرے ساتھ نہ کوئی نوحہ کرنے والی جائے نہ آگ جائے ۔ الحدیث (ت)
 (۱؎ صحیح مسلم   کتاب الایمان    نور محمد اصح المطابع کراچی ۱/ ۷۶)
شرح المشکوٰۃ للامام ابن حجر المکی میں ہے :
لانھا من التفاؤل القبیح ۲؎
 ( کیونکہ آگ میں فال بد ہے ت) مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے:
انھا سبب للتفاؤل القبیح ۳؎
 ( یہ فال بدکاسبب ہے ۔ت)
 (۲؎ مرقاۃ بحوالہ امام ابن حجر مکی    کتاب الجنائز     مکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ    ۴/ ۱۹۶)

(۳؎ مرقاۃ شرح مشکوٰ،ۃ        کتاب الجنائز     مکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ    ۴/ ۱۹۶)
اورقریب قبر سلگا کر اگر وہاں کچھ لوگ بیٹھے ہوں نہ کوئی تالی یا ذاکر ہو بلکہ صرف قبر کے لیے جلا کر چلاآئے تو ظاہر منع ہے کہ اسراف و اضاعتِ مال ہے۔ میّت صالح اس غرفے کے سبب جو اس کی قبر میں جنت سے کھولا جاتاہے او ربہشتی نسیمیں بہشتی پھولوں کی خوشبوئیں لاتی ہیں، دنیا کے اگر لوبان سے غنی اور معاذاﷲ جو دوسری حالت میں ہو اسے اس سے انتفاع نہیں۔ تو جب تک سند مقبول سے نفع معقول نہ ثابت ہو سبیلِ احتراز ہے۔
ولایقاس علی الورد والریا حین المصرح باستحبابہ فی غیر ماکتاب کما اوردناعلیہ تصریحات کثیرۃ فی کتابنا حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات، فان العلۃ فیہ کما نصوا علیہ انھا مادامت رطبۃ تسبح اﷲ تعالٰی فتؤنس المیّت لاطیبھا۔
اس کا قیاس پھولوں پر نہیں ہوسکتا جن کے مستحب ہونے کی صراحت متعدد کتابوں میں موجود ہے جیساکہ

ا س پر کثیر تصریحا ت ہم نے اپنی کتاب حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات میں نقل کی ہیں اس لیے حسبِ تصریح علماء ان کے استحباب کی علت یہ ہے کہ وہ پھول جب تک تر رہیں گے اﷲ تعالٰی کی تسبیح کرتے اور میّت کا دل بہلاتے رہیں گے__ خوشبودار ہونا علّت نہیں (ت)

اوراگر بغرض حاضرین وقت فاتحہ خوانی یا تلاوت قرآن مجید وذکر الہٰی سلگائیں تو بہتر ومستحسن ہے۔
وقد عھد تعظیم التلاوۃٰ والذکر وتطییب مجالس المسلمین بہ قدیما وحدیثا۔
اور تلاوت وذکر کی تعظیم اور اس سے مسلمانو ں کی مجلسوں میں خوشبو پھیلانا زمانہ قدیم وجدید میں متعارف ہے (ت)

جو اسے فسق وبدعت کہے محض جاہلانہ جرأت کرتا ہے یا اصول مردود وہابیت پر مرتاہے۔ بہر حال یہ شرع مطہرپر افترا ہے، اس کا جواب انھیں دو آیتوں کا پڑھنا ہے :
قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صٰدقین ۱؎ قل اٰﷲ اذن لکم ام علی اﷲ تفترون ۔۲؎ واﷲ تعالٰی اعلم
تم کہو اپنی دلیل لاؤ اگر سچے ہو___ تم کہو کیا خدا نے تمھیں اذن دیا ہے یا اﷲپر افترا کرتے ہو۔ (ت) واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؂القرآن         ۲/ ۱۱۱)       (۲؂القرآن            ۲/ ۱۱۷)
Flag Counter