| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز) |
مسئلہ ۱۳۹: از شہر کہنہ مسئولہ رحمت علی خادمِ مزارشاہدانہ رحمہ اﷲ تعالٰی ۹ رجب المرجب ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ارضی مذبح جس پر دکاندار لوگ خوانچہ لگا کر بیٹھ جاتے ہیں بذریعہ ٹھیکہ مالک تھا اور دکاندار وں پر دو دو چار چار پیشے روزانہ کے حساب سے مقرر کر لیے تھے بعد چند روزکے اندورن میعاد ٹھیکہ زید سے عمرو نے ٹھیکہ لگایا اور دکانداروں پر اول سے زیادہ کرایہ مقرر کرلیا، مگر دکاندار لوگ کرایہ زیادہ حسب منشاء عمرو کو نہ دے سکے اور مجبور ہو کر اراضی تکیہ جو متصل مذبح کے ہے حسب رضامندی فقیر جابیٹھے اور فقیر کو دو پیسے روز ہر دکان دار دینے لگا، عمر و کو یہ بات ناپسند خاطرہوئی او ردینی برادروں قصابان سے اپنا عذر کیا، چنانچہ عمرو ٹھیکیدار ونیز اکثر برادرانِ عمرو کہ جو وہاں کی اشیاء کے خریدار بھی ہیں باتفاق سب نے فقیر پر دباؤ ڈالا او رکہا کہ منجملہ دو پیسے کے ڈیڑھ پیسہ عمرو کو اور نصف فقیر کو ہر دکاندار دے، ایسی صورت میں عمرو کو ڈیڑھ پیسہ لینا کہ جو عمرو کی زمین سے کسی دکاندرا کو کچھ تعلق نہیں ہے چاہئے یا نہیں؟ دوم تکیہ کی اراضی میں دکاندار وں کو خوانچہ لگاکر بیٹھنا اور کرایہ فقیر کو دینا اور فقیر کو لینا جائز ہے یا نا جائز ہے؟ بینوا توجروا
الجواب دونوں باتیں حرام ہیں، نہ تکیہ کی زمین دکان داروں کو کرایہ پر دی جاسکتی ہے نہ ان کا کرایہ فقیر کو حلال ہوسکتاہے، اور اگر فقیر کی اپنی مملوک کوئی زمین ہوتی تو اس پر دباؤ ڈال کر کوئی کوڑی عمرو کو دلوانا
قطعاً حرام تھا تو یہ حرام در حرام ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۴۰ تا ۱۴۵: از شیرکوٹ مسئولہ مظہر الحسن صاحب ۹ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: (۱) ازروئے شریعتِ اسلام قبرستان کی بیع ورہن وغیرہ جائز ہے یا نہیں؟ (۲) قبرستان کی زمین کسی کی ذاتی ملکیت ہوسکتی ہے یا نہیں، اور مخصوص قبرستان بنانا کیسا ہے اور اسی کی نسبت کیا احکام شرعی ہیں؟ (۳) قبروں کو منہدم یا مسمار کرکے اس میں کھیتی وغیرہ کرنا کیسا ہے، اور اگر کوئی شخص مسلمان ہوکر ایسا کرے تو اس کے لیے شرعاً کیا حکم ہے؟ (۴) قبروں کو منہدم یا ویران کرتے یاکھودتے ہوئے دیکھ کر کوئی مسلمان ایسا کرنے والے کو روکنے کا شرعا مجاز ہے یانہیں؟ (۵) قبرستان میں یا اس کی متعلقہ زمین میں بول وبراز ، گندگی وغیرہ پھینکنا یا قبرستان کو گندگی کا مخزن بنانا کیسا اور اس کی نسبت کیا حکم ہے؟ (۶) مسلمانوں پر قبرستان کی حرمت کس حدتک واجب ہے؟
الجواب ( ۱ و۲) عامہ قبرستان وقف ہوتے ہیں، اور وقف کی بیع حرام و رہن حرام ہے، اور جو خاص قبرستان کسی کی ملک ہوجس میں اس نے مردے دفن کیے ہوں مگر اس کام کے لیے وقف نہ کیا ہو ،کہ وہ بھی مواضع قبور کو نہ بیچ سکتا ہے نہ رہن کرسکتا ہے کہ اس میں توہین امواتِ مسلمین ہے، اور ان کی توہین حرام ہے۔ (۳) حرام ہے مگر یہ کہ کسی کی مملوک زمین میں بےاس کی اجازت کے کسی نے مردہ دفن کردیا ہواور اس نے اسے جائز نہ رکھا تو اسے اس کے نکلوادینے اور اپنی زمین خالی کر لینے اور کھیتی وعمارت ہر شے کا اختیار ہے۔ (۴) جو شخص ایسے جرم شدید کامرتکب ہو ہر مسلمان پرواجب ہے کہ بقدر قدرت اسے روکے جو اس میں پہلو تہی کرے گا اسے فاسق کی طرح عذاب نار ہوگا۔
قال تعالٰی کانوا لایتناھون عن منکر فعلوہ بئس ماکانوا یفعلون ۔۱؎
اﷲ تعالٰی فرماتا ہے: وہ ایک دوسرے کو برے کام سے روکتے نہ تھے، وہ سب کیا ہی برا کام کرتے تھے (ت)
(۱؎ القرآن ۵/ ۷۹)
(۵) حرام ، حرام، سخت حرام ہے اور اس کا مرتکب مستحقِ عذاب نار وغضب جبّار ہے۔ (۶) قبور مسلمین پر چلنا جائز نہیں، بیٹھنا جائز نہیں، ان پر پاؤں رکھنا جائز نہیں، یہاں تک کہ ائمہ نے تصریح فرمائی ہے کہ قبرستان میں جو نیا راستہ پیدا ہو اس میں چلنا حرام ہے۔ اور جن کے اقربا ایسی جگہ دفن ہوں کہ ان کے گرد اور قبریں ہوگئیں اور اسے ان قبور تک اور قبروں پر پاؤ ں رکھے بغیر جانا ممکن نہ ہو، دور ہی سے فاتحہ پڑھے اور پاس نہ جائے زیادہ تفصیل ہمارے رسالہ
اھلاک الوھابیین میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۴۶: از سکندر پور ضلع بلیا پاٹی گلی مسئولہ محمد حسین وعطا حسین ۲۲ رمضان ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زینب نے اپنے نواسہ بکر کو اپنی زمینداری ہبہ کی او رلکھ دیا کہ توابع لواحق اس کے جو کچھ ہے ہبہ کردیا۔ بکر نے عمرو کے ہاتھ اس زمینداری کو مع جملہ حقوق توابع لواحق بیع کردیا اور اس کے اندر قبرگاہ واہبہ کا بھی ہے توا س کے اندر عمرو مشتری کی قبر بناناجائز ہے یا نہیں یا اس قبر گاہ پر متصرف ہونا مشتری عمرو کا درختان انبہ وغیرہ کا پھل کھانا یالکڑی لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور وہ قبر گاہ بغیر دیوار بے مرمت اور خراب ہو تو عمرو بنواسکتا ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب ہبہ وبیع سے قبرستان وقف مستثنٰی ہیں۔ مشتری کی قبربھی اس میں بن سکتی ہے۔ واہبہ وغیرہ کی قبر کی مرمت بھی وہ کرسکتاہے۔ جو درخت اس میں ہیں وہ مشتری کی ملک ہیں جو چاہے کرے، قبرستان اگرچہ وقف ہو اس کے درخت وقف نہیں
کما بینہ فی الھندیۃ وغیرھا
( جیساکہ ہندیہ وغیرہا میں بیان کیاگیا ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۴۷: از کلکتہ زکریا اسٹریٹ نمبر ۲۲ مسئولہ مولوی عبدالحق صاحب ومولوی مبارک کریم صاحب بمعرفت حاجی لعل خاں صاحب ۲۶ رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس مرید خاص نے مزار کچھ زمین ومکانات اپنے خرچ اور آفس ومال گودام کے لیے نیز اس لیے کہ زائرین قیام کریں اور مجالس اس میں قائم ہوں تیار رکھتے تھے، نہ وہ زمیں ومکانات وقف کئے نہ کبھی حالتِ حیات شیخ نے نامزد کئے نہ بعد وفات شیخ بنام مقبرہ اس نے بہ ضرورت تجارت اس اراضی ومکانات کو مبلغ کثیر پر رہن رکھا ہے۔ اب فرزند شیخ کہتے ہیں کہ یہ سب مکانات وغیرہ ہمارے نام کردو، توکیا فرزند شیخ کایہ دعوٰی صحیح ہوسکتا ہے اور کیا مرید کو اختیار ہے کہ قبل فک رہن اس جائداد کوفرزند شیخ کے نام کردے اور کیا وہ فرزند شیخ اس مرید کی جائداد بجبر واکراہ اپنے نام کروا کرسکتا ہے۔ آیا شریعت میں مرید پر کچھ استحقاقِ مال شیخ یا وارثانِ شیخ کا ہے؟
جواب از لکھنؤ: ھوالمصوب صورت مذکورہ میں زمین ومکانات وانتظام مقبرہ پر دعوٰی فرزند شیخ کا باطل ہے ، مرید پر مال استحقاق شیخ کا یا وارثان شیخ کا شرعاً نہیں ہے اور مرید جائداد مرہون بغیرفک رہن کسی شخص کودے نہیں سکتا ، نہ فرزند شیخ مرید پر کوئی جبر کرسکتا ہے ۔
واﷲ تعالٰی اعلم ۔ محمد عبدالمجید
الجواب فرزند شیخ کا دعوٰی باطل ، اور اسے جبر کاکوئی اختیار نہیں۔
قال تعالٰی لاتأکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ۔۱؎
(۱القرآن ۴/ ۲۹)
باری تعالٰی ارشادفرماتا ہے: اپنے مال آپس میں ناحق نہ کھاؤ مگر یہ تمھاری باہمی رضامندی سے کوئی سودا ہو ۔(ت) زمین ومکانات ومقبرہ سب ملک مرید ہیں اس کے ورثاء کے قبضے میں رہیں گے، مرید پر شیخ کا مال استحقاق بمعنی وجوب شرعی بحیثیت شیخیت نہیں،اگرچہ طریقۃً وہ اور اس کا مال سب گویا ا س کے شیخ کا ہے، یا شریعۃً بوجوہ دیگر وجوب ہوسکتا ہے، فرزند شیخ کا یہ مطالبہ کرنا سوال ہے اور سوال بلا ضرورت حرام ہے،ہاں اگر مرید رضائے خود چاہے تو اپنا مال اس کے نام کرسکتا ہے اگر چہ قبل ادائے دین مرتہن باذن مرتہن۔ واﷲ تعالٰی اعلم