حتی کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جن کی نعلین پاک کی خاک اگر مسلمان کی قبر پر پڑ جائے تو تمام قبر جنت کے مشک، عنبر سے مہک اُٹھے، اگر مسلمان کے سینے او رمنہ اور سر اور آنکھوں پر اپنا قدم اکرم رکھیں اس کی لذت و نعمت وراحت وبرکت میں ابدالآ باد تک سرشار وسرفراز رہے۔ وہ فرماتے ہیں:
لان امشی علٰی جمرۃ اوسیف احبُّ الیّ من ان امشی علٰی قبر مسلم ۳؎۔ رواہ ابن ماجۃ بسند جید عن عقبۃ بن عامر رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
بے شک چنگاری یا تلوار پرچلنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں، اسے ابن ماجہ نے سند جید کے ساتھ عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔
(۳؎ سنن ابن ماجۃ باب ماجاء فی النہی عن المشی علی القبور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۳)
او ر وہابیہ کو اس کی فکر ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کو قبروں پر مکان بنیں، لوگ چلیں پھریں، قضائے حاجت کریں، بھنگی اپنے ٹوکرے لے چلیں ؎
اگر ایں ست پسند تونصیب بادا
( اگر یہی تجھے پسند ہے تو تجھے تصیب ہو ۔ت)
ولاحول ولاقوۃ الاّ باللہ العلی العظیمo واذا اخذت المسئلۃحقھا من البیان ولنکف عنان القلم o حامدین ﷲ سبحنہ وتعالٰی علی ما علم وصلی اﷲ تعالٰی علی سید نا ومولٰنا محمد واٰلہٖ واصحابہ وسلم واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم عز شانہ احکم۔
طاقت وقوت صرف اﷲ تعالٰی کے لیے ہے جب میں نے مسئلہ کما حقہ بیان کردیا تواب چاہئے اﷲ تعالٰی کی حمد کرتے ہوئے قلم کو روکیں کہ اسی نے علم دیا، اور درود و سلام ہو ہمارے آقا ومولاحضرت محمدصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرا ور آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم عز شانہ احکم(ت)تمّت
9_7.jpg
( بے شک حق یہی ہے اور حق ہی اتباع کے زیادہ لائق ہے ۔ت) (محمد سلطان)
اس میں جو کچھ بیان ہے سب مطابق احکام شریعت وسلف صالحین ہے ، مسلمان ان سب کو تمسک کریں، مؤلّف علاّم کو خدائے برتر جزائے خیر دے او رمقبول خاص وعام کرے اور مجھ کو بھی ثواب سے محروم نہ فرمائے،
مسائل بالا کہ علمائے دین متین وفضلائے امت (رسول مقبول صلی اﷲ تعالٰی علیہ والہٖ وسلم) تحریر وتقریر فرموند ہمہ حق و راست ودرست اند۔ شاکی اینہا مردود وفاسق اند۔
اوپر والے مسائل جن کو علمائے دین متین وفضلائے امّتِ رسول مقبول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے لکھا ہے اور بیان کیا سب کے سب درست اور صحیح ہیں ان میں شک کرنیوالے مردود اور فاسق ہیں (ت)
العبد الضعیف الراجی الٰی رحمۃ اللطیف محمد نعیم پشاوری عفی اﷲ عنہ وعن والدیہ والمومنین والمومنات ،آمین ثم آمین۔
جو کچھ مولانائے مجیب جامع المعقول والمنقول حلالِ مہمات فروع واصول مولوی محمد عمر الدین صاحب الحنفی القادری ''جزاہ اﷲ تعالٰی خیر الجزاء'' نے صورت مسئولہ میں تحریر فرمایا ہے وہ سب حق صواب ہے ، جوابِ لاجواب ہے، پسندیدہ اولی الالباب ہے۔ حنیف مذہب کے مطابق قبروں کو کھود کر صاف میدان کردینا او ر اس پر مکان وغیرہ بنانا ہر گز درست نہیں، اس کی تحقیق مولائے مجیب نے عمدہ طور سے فرمائی ہے۔ کوئی دقیقہ فروگذاشتہ نہیں کیا، معترضوں کے کل اعتراض نہایت خوش اسلوبی سے اٹھادئے ہیں او رمنکروں کے سب خدشات دفع کردئے ہیں پھر تحریر مہر تنویر فاجل کامل ، عالم، عامل، محقق علوم عقلیہ، مدقق فنون نقلیہ قالع اصول مبتدعین، قامع اوہام نجدین،حامی سنن ماحی فتن مجدد مأتہ حاضرہ، حجۃ قاہرہ مولٰنا الحاج احمد رضا خاں صاحب ادام اﷲ تعالٰی فیوضاتہم تو منکروں پربجلی سی کڑک پڑی، رشید گنگوہی کی تحریر پر تزویر کے تو خوب پرخچے اڑائے ، ایسا امر کوئی فرو گزاشت نہ ہواکہ جس کے لکھنے کی کسی کو تکلیف ہو۔ پس فقیر نے طول دینا مناسب نہ سمجھا۔ لہذا اختصار سے کام لیا گیا، ان فتووں کا انکار بجز ، فرقہ نجدییہ وہابیہ ، اسمٰعیلیہ، ہندیہ، اسحاقیہ، رشیدیہ گنگوہیہ شیطانیہ خذ لہم اﷲ تعالٰی فی الدنیا والآخرۃ کے کوئی نہ کرے گا، اہل سنت وجماعت کو ان دجاجلہ ضلالت کیش وابالسہ ابطالت اندیش کی صحبت سے پرہیز کرنا لازم ہے او رسلام وکلام قطع کرنا واجب ہے۔
واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب والیہ المرجع والماٰب
حررہ الراجی الٰی لطف ربہ القوی عبدالنبی الامی السید حیدر شاہ القادری الحنفی تجاوز اﷲ تعالٰی عن ذنبہ الجلی والخفی، وحفظ عن موجبات الکی والغی بحرمۃ النبی الہاشمی الامّی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی اٰلہ واصحابہ وسلم۔
متوطن کچھ بھوج المعروف بہ پیر بھروالہ نزیل بمبئی۔
9_8.jpg
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمد ﷲ الذی رزق الانسان علماً وسمعاً وبصرافی الحیات وبعد الممات، فالموتٰی یعرفون الزّوار ویسمعون الاصوات والصلوۃ والسلام الاتمام الاکملان علٰی من ھدانی الی الصراط المستقیم وقانا بہا من نارالجحیم التی اعدت للکٰفرین والماردین من النیا شرۃوالمکذبین لرب العالمین، والمفضلین للشیطان اللعین علٰی علم الاولین والاٰخرین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلی الہ واصحابہ وابنہ وحزبہ اجمعین، وعلینا بھم یا ارحم الراحمین، وبعد فلما رأیت جواب ناصر الدین المتین ومولٰنا المولوی محمد عمر الدین وجدتہ موافقا للسنۃ دافعا للفتنۃ، ونظرت تحریر المولوی رشید احمد گنگوہی فما ھو الاضلال مبین وھتک لحرمۃ المومنین ، وماردبہ علیہ خاتم المحققین عمدۃ المدققین عالم اھل السنۃ مجدد المائۃ الحاضرہ سیدی ومرشدی و کنزی وذخری لیومی وغدی مولٰنا المولوی محمد احمد رضاخان ابدہ اﷲ لواھب الفیض والمواھب فلا اجد لسانا ثناء علیہ غیر ان اقول لا شک انہ الصدق الصراح والحق القراح فجزاھم اﷲ خیرالجزاء عن الاسلام والمسلمین بحرمۃ سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب وعندہ ام الکتاب قالہ بفمہ و رقمہ بقلمہ محمد المدعو بظفر الدین المحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی الرضوی المجددی البہاروی العظیم اٰبادی۔
محمدی سنی حنفی قادرے ابوالبرکاتی محمد ظفر الدین
سب تعریفیں اس اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جس نے انسان کو زندگی اوربعد از موت جاننے ، سننے او ردیکھنے کی قوت بخشی، اتم واکمل ، درود وسلام ہو اس ذات پر جس نے ہمیں سیدھی راہ دکھائی او رہمیں نار جہنم جو کافروں سرکشوں، رب العالمین کو جھٹلانے والوں شیطان لعین کو اولین وآخرین کے علم پر فضیلت دینے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے، سے بچایا، درود وسلام ہو آپ پر اور آپ کے آل ، اصحاب ، بیٹے، گروہ سب پر اور ان کے وسیلہ سے ہم پر یا ارحم الراحمین ، بعد ازیں جب میں نے دین متین کے ناصر مولٰنا مولوی محمد عمردین کے جواب کو غور سے دیکھا تو اسے سنت کے موافق اور فتنہ سے مدافع پایا، او رمولوی رشید احمد گنگوہی کی تحریر پر نظر کی تو اسے گمراہ کن اور توہین مومنین سے مملوپایا، اور خاتم المحققین، عمدۃ المدققین، عالمِ اہل سنت، مجدد مأتہ حاضرہ میرے سردار،۔
یرے مرشد م میرے کل اور آج کے لیے ذخیرہ وخزانہ مولٰنا احمد رضاخاں ( اﷲ تعالٰی اس کی عطاؤں اورفیض کو ہمیشہ جاری رکھے) نے جو اس پر ردفرمایا میرے پاس ایسی زبان نہیں کہ اس کی تعریف کرسکوں، ہاں ا تنا ضرور کہوں گا کہ بے شک وہ صاف سچ او رخالص حق ہے، اﷲ تعالٰی سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے طفیل اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے انھیں جزائے خیر عطا فرمائے، اﷲ تعالٰی بہتر جانتا ہے اوراصل کتاب اسی کے پاس ہے۔ محمد ظفر الدین محمدی سنی حنفی قادری برکاتی رضوی مجددی بہاروی عظیم آبادی نے اسے بزبان خو دکہا ہے او راپنے قلم سے لکھا ہے ۔(ت)