Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
107 - 243
گنگوہی صاحب کی تین چالاکیاں اوران کا الٹا پڑنا
ثامناً مجیب صاحب نے ناحق اس حکایت غیر مذہب پر قناعت کی کہ فقط بیچارے مردہ مسلمانوں کی قبریں ، طلبہ اور مدرسہ کے بھنگی بہشتی سے پامال کرانے کی گنجائش ملی۔ اس ذکر اصحابناکو کیوں نہ لیا کہ مسجدوں میں چلانے، گھوڑے یا گدھے باندھنے کی راہ چلتی۔
بل ھو اشنع واخنع وھو اتخاذ موضع المسجد حشاو کنیعا لقولہ وذکراصحابنا ان المسجد اذاخرب ودثر ولم یبق حولہ جماعۃ، والمقبرۃ اذا عفت ودثرت تعود ملکا لاربابھا، ''قال'' فاذا عادت ملکا یجوز ان یبنی موضع المسجد داراً وموضع المقبر مسجد اوغیر ذلک۱؎ لان الدّارلابدّلھا من تلک الاشیاء۔
بلکہ یہ زیادہ برا ہے کہ مسجدکو اصطبل یاباڑہ بنالیا جائے کیونکہ انھوں نے کہا : ہمارے اصحاب نے ذکر کیا کہ مسجد جب ویران ہوجائے او راس کے گرد کوئی جماعت نہ رہے او رقبرستان جب مٹ جائے تو ان پر ان کے سابق مالک کی ملک لوٹ آتی ہے، انھوں نے فرمایا کہ جب یہ چیزیں مِلک میں آگئیں تو مسجد کی جگہ کو گھر اور قبرستان کی جگہ کو مسجد وغیرہ بنانا درست ہوا ، کیونکہ گھرکے لیے ان چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔
 (۱؎عمدۃ االقاری    باب ھل تنبش قبور مشرکی الجاہلیہ الخ    ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت        ۴/ ۱۷۹)
مگر آپ نے ضرور ہوشیاری برتی،

 اولاً جانتے تھے کہ کتب معتمدہ مذہب مشہورہ متداولہ میں اسے صراحۃً ردکیا اور اس کے خلاف پر بشد ومدفتوٰی دیا ہے تنویر الابصار و درمختار میں ہے:
ولوخرب ماحولہ استغنٰی عنہ یبقی مسجدا عند الامام والثانی ابداً الی قیام الساعۃ وبہ یفتی ۔ ۲؎
او راگر اس کااردگرد ویران ہوگیا اور اس کی ضرورت نہ رہی تو مسجد باقی رہے گی، امام صاحب او رامام ثانی (امام ابویوسف) کے نزدیک ہمیشہ قیامت تک ، اور اسی پر فتوٰی ہے
 (۲؎ درمختار  کتاب الوقف  مطبع مجتبائی دہلی  ۱/ ۳۷۹)
حاوی القدسی وبحرالرائق وردالمحتار میں ہے:
واکثرالمشائخ علیہ مجتبی وھو الاوجہ فتح ۳؎۔ اھ
اسی پر اکثر مشائخ ہیں، مجتبٰی، اوریہی اوجہ ہے۔ فتح (ت)
(۳؎ردالمحتار   کتاب الوقف   مصطفی البابی مصر ۳/ ۴۰۶)
ثانیاً یہ قول امام محمد رحمۃاﷲ تعالٰی علیہ جسے علامہ عینی نے اصحابنا کی طرف نسبت کیا، خاص اسی حالت میں ہے جب وہ شے موقوف اس غرض کی صلاحیت سے بالکل خارج ہوجائے جس کے لیے واقف نے وقف کی تھی اصلاً کسی طرح اس کے قابل نہ رہے۔ ردالمحتار میں ہے :
ذکر فی الفتح مامعناہ انہ یتفرع علی الخلاف المذکور مااذا انھدم الوقف ولیس لہ من الغلۃ مایعمربہ فیرجع الی البانی اوورثتہ عند محمد خلا فا لابی یوسف لکن عند محمد انما یعود الٰی ملکہ ماخرج عن الانتفاع المقصود للواقف بالکلیۃ ۔۴؎
فتح میں ذکر کیا گیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ خلاف مذکور پر یہ متفرع ہوتاہے کہ جب وقف عمارت منہدم ہوجائے اور اس کی آمدنی نہ ہو جس سے اسے تعمیر کیا جائے تو وہ بنانے والے یا اس کے ورثاء کی طرف لوٹ جائے گا امام محمد کے نزدیک ، اس میں ابویوسف کے خلاف ہے۔ لیکن محمد کے نزدیک اس کی ملک میں صرف وہی لوٹے گا جس سے بالکل نفع ممکن نہ ہو۔یہ بات مقبرہ مذکور میں کیونکر متصور ہوکہ ہنوز تہائی میدان حسبِ بیان سائل بالکل خالی پڑا ہے
(۴؎ ردالمحتار     کتاب الوقف   مصطفی البابی مصر    ۳/ ۴۰۶)
ثالثاً شاید یہ بھی کچھ اندیشہ گزرا کہ ا س مقبرے کے ساتھ مسجد کی بھی خیر نہیں، مباداعوام بھڑک جائیں ان وجوہ سے ذکر اصحابنا چھوڑ کر قال ابن القاسم کایہ سرا پکڑا، مگر غافل، کہ جن تین اندیشوں سےگریز فرمایا وہی تینوں یہاں بھی آپ پر عائد بلکہ مع شیئ زائد:
اوّل تو وجہ سابع میں دیکھ چکے کہ خلاف مفتٰی بہ ہونا درکنار وہ دوسرے  مذہب کا کوئی قول ضعیف بھی نہیں۔

اور ثانی یو ں کہ کلام ابن القاسم میں عفت ودرست ہے۔ عفاء دروس نیست ونابود وناپید وبے نشان ہوناہے، یہ اس مقبرے پرکہا ں صادق کہ سائل کہتا ہے ، پرانی شکستہ قبریں پائی جاتی ہیں تو ابھی نیست ونابود و ناپید نہ ہوا اور اس روایت خارجہ نے بھی آپ کو کام نہ دیا۔
او رثالث یوں کہ جب ان کی رائے میں مجرد وقفیت موجب اتحاد معنٰی وجواز اقامت بجائے یک دگر ہے تو جیسے مقبرے کو مسجد کرنا روا، یوں ہی مسجد کومقبرہ ۔ یوں مسجد کو سراء اور سرائے کو بیت الخلا،
فان الکل وقف من اوقاف المسلمین لا یجوز تملیکہ لاحد فمعنی الکل علی ھذا واحد
 ( کیونکہ یہ سب مسلمانوں کے اوقاف میں سے وقف کی صورتیں ہیں توکسی کو اس کا مالک بناناجائز نہیں اس اعتبار سے سب کامعنی ایک ہے ) پھر مفرکدھر!
تاسعاً ذرابراہ مہربانی تھوڑی دیر کو ہوش میں آکر فرمائے کہ ابن القاسم نے کہا مقبرے کو بعد بے نشانی مسجد کردینا روا، او رابولقاسم محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: مقابر پر مسجد بنانا حرام، آپ کے نزدیک یہ دونوں حکم حالت واحد پر وارد جب تو آپ کاایمان ہے کہ ابن القاسم کی بات کو حق جانیں اور ابوالقاسم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد نہ مانیں، اور اگرحالت مختلف ہے تو پہلے وہ فرق معین کیجئے جس پر ان دونوں احکام کا انقسام ہوگا، کیا فقط نو کہن کا تفرقہ ہے کہ نئی قبروں پر مسجدبنانا حرام، اور جہاں ذرا پرانی پڑیں، اب ان پر نمازا جائز ہوگی یا فقط اوپر کا نشان مٹ جا ناچاہئے یا یہ ضرور ہے کہ لاشوں کے تمام اجزا، ساری ہڈیاں بالکل خاک ہوجائیں، مردے بجمیع اجزاء تراب خالص کی طرف استحالہ کریں، اس کے بعد روا ہے۔
اوّل توبداہۃً بالکل ، اور شاید بعلّت وہابیت آپ کے یہاں تو شرک ہو اور ثانی بھی اسی کی مثل ہو کہ نشان بالانہ قبر ہے نہ قبر کے لیے رکن شرط، تو اس کا عدم و وجود یکساں، معہذا اس مقبرے میں یہ صورت بھی ہنوز متحقق نہ ہوئی کہ نشان قبر موجود ہیں اور آپ کا حکم بے تخصیص ثلث خالی صاف مطلق ہے کہ ''مدرسہ وقفی بنانا گورستان میں درست ہے'' اور آپ کے مقلد نے اس اطلاق کی صریح تصریح کردی ہے کہ'' بناء مدرسہ اس جگہ میں خصوصاً حصہ خالی میں درست ہے۔'' اس خصوص نے عموم کو واضح کردیا، لاجرم ثالث لیجئے گا، اب یہ آپ پر لازم تھا کہ دلیل شرعی سے اس مدت کی تعیین کرتے، جس میں مردے کی ہڈی پسلی کا اصلاً نام ونشان نہیں رہتا۔ سب سے پچھلی جومیّت دفن ہوئی اسے اتنی مدت گزر چکی، ان دو مرحلوں کو بغیر طے کئے حکم جواز لگا دینا محض جہل تھا، اتنا یاد رکھئے کہ مجرد شک یہاں کام نہ دے گاکہ
''الیقین لا یزول بالشک''
(شک سے یقین زائل نہیں ہوتا ۔) عقل ونقل کاقاعدہ اجماعیہ ہے وجود مانع یعنی بعض اجزائے اموات پر یقین نہ ہو، حکمِ حرمت وممانعت ہی رہے گا اور آپ کے لیت ولعل سے کام نہ چلے گا،تو ظاہر ہوا کہ اس روایت خارجہ عن المذہب کا دامن پکڑنا بھی محض سوءَ فہم وبندگی وہم تھا وباﷲ العصمۃ۔
عاشراً لطف یہ ہے کہ اس روایت خارجہ میں شرط استغناء عن الدفن لگائی گئی ہے۔ آیا اس سے یہ مراد کہ اس کے سوادوسری جگہ دفن ہوسکتاہو، جب تو یہ شرط محض لغو وعبث ہے، وہ کون سا گورستان ہے جس کی طرف احتیاج دفن بمعنی لولاہ لامتنع (ا گر وہ نہ ہو تو منع ہے ۔ت) ہے ۔ نہ ہر گز تعطل و ویرانی ،اوقاف میں صرف اس قدرملحوظ ہوتا ہے کہ یہاں مطمح النظر دو امر رہتے ہیں، ایک عدم محتاجین یعنی وہاں آبادی نہ رہی، لوگ متفرق ہوگئے، اب حاجت کسے ہو، جیسے جواب دوم میں عٰلمگیری ومحیط سے دربارہ مسجد وحوض گزر ا کہ
خرب ولایحتاج الیہ لتفرق الناس
( جو ویران ہوجائے لوگوں کے وہاں سے چلے جانے کی وجہ سے اس کی احتیاجی نہ رہے ۔ت) دوسرے عدم حاجت بوجہ عدمِ صلوح، یعنی وہ شے کسی مانع وقصور ونقص کے سبب اب اس کام کی نہ رہی، مثلاً زمین پر پانی نے غلبہ کیا کہ دفن کی گنجائش نہ رہی،
فتاوٰی کبرٰی وجامع المضمرات وہندیہ واسعاف وغیرہا میں ہے:
امرأۃ جعلت قطعۃ ارض لھا مقبرۃ واخرجتھا من یدھا ودفنت فیھا ابنھا وتلک القطعۃ لاتصلح المقبرۃ لغلبۃ الماء عندھا فیصیبھا فساد فارادت بیعھا، ان کانت الارض بحال لایرغب الناس عن دفن الموتٰی لقلۃ الفساد لیس لھا البیع وان کانت یرغب الناس عن دفن الموتٰی لکثرۃ الفساد فلھا البیع ۱؎ ۔
ایک عورت نے اپنی زمین کے ایک ٹکڑے کو قبرستان بنادیا اور اسے اپنے ہاتھ سے نکالا او راس میں اس اپنے بیٹے کو دفن کردیامگر یہ ٹکڑا غلبہ پانی کی وجہ سے قبرستان کے لیے درست نہ رہا تو اس نے اسے بیچنے کا ارادہ کیا، اگر زمین ایسی ہے کہ لوگ اس میں اپنے مردوں کو دفن کرنے سے پہلو تہی نہیں کرتے ہیں کیونکہ فساد زائد نہ تھا تو وہ عورت اس ٹکڑے کو بیچ نہیں سکتی او راگر لوگ اس میں زیادہ خرابی کی وجہ سے مردے دفن نہیں کرتے ہیں تو وہ عورت بیچ سکتی ہے۔
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ  کتاب الوقف  الباب الثانی عشر فی الرباطات الخ    نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۴۷۱)
پر ظاہر کہ صور ت مستفسرہ میں ہرگز نہ عدم محتاجین ہے نہ عدم صلوح، پھر شرط استغناء کب متحقق ہوئی اور تغیر وقف کی اجازت کس گھر سے ملی، تو روشن ہواکہ مجیب سوم کا اس روایت خارجہ سے
تمسک محض تشبث الغریق بالحشیش
 ( ڈوبتے کوتنکے کا سہارا ۔ت) تھا۔
ولاحول ولا قوۃ الاّباﷲ العلی العظیم۔ ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی بالتوفیق۔
تنبیہ:یہ مجیب سوم پر تلک عشرۃ کاملۃ ہیں اور ان کارد ان کے سب اتباع واذناب کے رو سے مغنی
؎ وکل الصید فی جوف الفراء
 (یہ عرب کا قول بطور مثل اس وقت بولا جاتا ہے جب بہت سی حاجتوں میں سے بڑی حاجت پوری ہوجائے)
اور اذناب کے پاس ہے ہی کیا سوا امام زیلعی کے ۔ روایت امام زیلعی رحمہ اﷲ تعالی علیہ جسے خود مولوی گنگوہی صاحب نے کچھ سوچ سمجھ کر چھوڑدیا او ر روایت فقہیہ نہ لکھنے کے لیے بے مہلتی کا بہانہ لیا، مجیب اول نے لکھی مجیب دوم سلمہ نے جوا ب دیا، بعض اذناب سوم نے بے تعرض جواب پھر اسی کا اعادہ کیا، مگر جناب گنگوہی صاحب چرکے کہ یہاں مقبرہ وقف میں کلام ہے۔ مجھے خاص دوسرے مکان وقفی کی اجازت نکالنی مشکل پڑی ہے، ہل چلانا ، کھیتی کرنا کہ اس روایت امام زیلعی میں جائز ہو رہا ہے، کس گھر سے جائز کرسکوں گا لہذا ہوشیارانہ اس سے عدول کیاجو اذناب کی سمجھ میں نہ آیا، غالباً اب تو ناظرین نے اس روایت کا محل ومحصل سمجھ لیے ہوں گے۔
صاحبو ! اس سے مقصود زمین مملوک ، یعنی اگر کسی کی ملک میں کوئی میّت دفن کردی گئی ہو،تو جب وہ بالکل خاک ہوجائے مالک کو رواہے کہ وہاں کھیتی کرے، گھر بنائے جو چاہے کرے،
لان الملک مطلق والمانع زال وھذا  ایضا اذاکان ذٰلک باذنہ  والاففی الغصب لہ اخراج المیّت وتسویۃ الارض کما ھی لحدیث لیس لعرق ظالم حق ۱؎ ۔
کیونکہ ملک مطلق ہے او رمانع زائل ہوگیا اوریہ بھی اس صورت میں ہے جبکہ اس کی اجازت سے ہو، ورنہ غصب کی صورت میں اسے حق ہے کہ میّت کو نکالے او ر زمین برابر کرے جیسے کہ تھی، کیونکہ حدیث میں ہے کہ زمین پر ظالم کاحق نہیں۔
 (۱؎ المعجم الکبیر    حدیث ۵        مکتبہ فیصلیہ بیروت    ۱۷/ ۱۴)
علاّمہ مدقق علائی قدس سرہ نے درمختار میں اسے ایسے نفیس سلسلے میں منسلک کیا جس نے معنی مرادی کو کھول دیا، مجیب اول نے یہ روایت وہیں سے اخدکی، مگر علامہ مدقق کے اشارات تک ہر فہم کی دسترس کہاں !

در مختار میں فرمایا :
لایخرج منہ بعد اھالۃ التراب الالحق اٰدمی کان تکون الارض مغصوبۃ اواخذت بشفعۃ، ویخیر المالک بین اخراجہ و مساواتہ بالارض کما جاز زرعہ والبناء علیہ اذا بلٰی وصار تراباً زیلعی ۲؎ ۔
مُردے کو مٹی ڈالنے کے بعد صرف حقوق العباد کی وجہ سے نکالا جائیگا، جیسے زمین مغصوبہ ہو یا شفعہ سے لی گئی ہو، اور مالک کو اختیار ہوگا کہ اسے نکالے یا زمین برابر کردے، جیسے کہ اس پر عمارت بنانا او رکھیتی باڑی کرنا مردوں کے گلنے سڑنے اور مٹی ہوجانے کے بعد درست ہے زیلعی (ورنہ مقبرہ وقفی میں کھیتی کرنا کسی کے نزدیک جائز نہیں )
(۲؎ درمختار    باب صلوٰۃ الجنائز    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۲۶)
ہدایہ میں ہے:
فی غایۃ القبح ان یقبر فیہ الموتٰی سنۃ و یزرع سنۃ ۱؎ ۔
یہ بات انتہائی قبیح ہے کہ ایک سال ا س میں مردے دفن کیے جائیں اور ایک سال کھیتی باڑی کی جائے ۔(ت)
 (۱؎ الہدایۃ        کتاب الوقف            المکتبۃ العربیۃ کراچی            ۲/ ۶۱۸)
بات یہ ہے کہ وہابیہ کی نگاہ میں قبور مسلمین بلکہ خاص مزارات اولیائے کرام علیہم الرضوان ہی کی کچھ قدر نہیں، بلکہ حتی الوسع ان کی توہین چاہتے ہیں اور جس حیلے سے قابوُ چلے انھیں نیست ونابود وپامال کرانے کی فکر میں رہتے ہیں ان کے نزدیک انسان مرا اور پتھر ہوا، جیسے وہ خود اپنی حیات میں ہیں کہ
مالا یسمع ولایبصر ولایغنی عنک شیئًا
( جو سنے نہ دیکھے او رنہ تیرے کچھ کام آئے، ت)حالانکہ شرع مطہر میں مزاراتِ اولیاء تو مزارات عالیہ عام قبور مسلمین مستحقِ تکریم وممتنع التوہین ، یہاں تک کہ علماء فرماتے ہیں :'' قبر پر پاؤں رکھناگناہ ہے کہ سقفِ قبر بھی حق میّت ہے۔''
Flag Counter