زمین وقف میں کوئی عمارت دُوسری غِرض کے لیے وقف نہیں ہوسکتی
(اور گنگوہی صاحب کی نادانی)
خامساً تنہا عمارت وقف ہوگی یا تنہا زمین یا دونوں، ثانی بدیہی
البطلان ہے لان الوقف لایوقف
( کیونکہ وقف کا دوبارہ وقف جائز نہیں ۔ت) یوں ہی
ثالث لانہ علیہ یتوقف
( کیونکہ وہ وقف پر موقوف ہے ۔ت) اول کا جواز ارض غیر محتکرہ میں اس صورت میں ہے کہ یہ عمارت اسی کا م پر وقف ہو جس پر اصل زمین کا وقف ہے
ھوالصحیح بل ھو التحقیق وبہ التوفیق
( یہ صحیح ہے بلکہ یہی تحقیق ہے اﷲ تعالٰی کی توفیق ہے ۔ت) تو زمین مقبرہ اور دیواریں مدرسہ محض وسوسہ۔
فتاوٰی علامہ خیرالدین رملی میں ہے :
سئل فی کرم مشتمل علٰی عنب وتین وارضہ وقف سیدنا الخلیل علیہ وعلٰی نبیّنا وسائر الانبیاء افضل الصلٰوۃ واتم السلام من الملک الجلیل ادّعٰی رجل بانّہ وقف جدہ ھل تسمع دعواہ، اجاب لاتسمع ولاتصح، اذاالکرم اسم للارض والشجر وان ارید بہ الشجر فوقف الشجر علٰی جہتہ غیر جہۃ الارض مختلف فیہ وقدقال صاحب الذخیرۃ وقف البناء من غیر وقف الارض لم یجزھوالصحیح وان ارید کل من الارض والشجر فبطلانہ بدیھی التصور وان ارید الارض فبدیھیۃ البطلان اولٰی۱؎ اھ ملتقطا۔
اب باغ کے بارے میں دریافت کیا گیا جس میں انگور اور انجیر ہیں اور اس کی زمین جس کو حضرت ابراہیم علٰی نبینا وسائرالانبیاء افضل الصلوٰۃ واتم السلام من الملک الجلیل نے وقف کیا تھا، ایسے باغ پر ایک شخص نے دعوٰی کردیا کہ یہ اس کے دادا نے وقف کیا تھا، کیا اس کا دعوٰی سُنا جائے گا؟ جواب دیا، نہیں ، کیونکہ باغ زمین اور درختوں کے مجموعے کانام ہے، اوراگر اس سے مراد درخت ہوں تو درختوں کا زمین کی جہت کے بغیر وقف کرنا مختلف فیہ ہے، صاحبِ ذخیرہ نے کہاہے کہ عمارت کا وقف کرنا زمین کے بغیر جائز نہیں، یہی صحیح ہے۔ اور اگر زمین اور درخت سب مراد ہوں تو اس کا باطل ہونا ظاہر ہے اور اگر صرف زمین مراد ہو تواس کا باطل ہونا اور بھی ظاہر ہے اھ ملتقطا۔
(فتاوٰی خیریۃ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۷۶)
اسی میں اس کے متصل ہے:
کیف یصح للواقف وقفہا علٰی نفسہ و ھی وقف الخلیل علیہ الصلٰوۃ والسلام ۱؎ اھ وھذا معنی قولہ فبطلانہ بدیھی التصور۔
واقف اس کو اپنے اوپر کیونکر وقف کرسکتا ہے حالانکہ یہ وقف ابراہیم علیہ السلام کا ہے اھ یہی معنی ہیں ان کے قول کے کہ اس کابطلان ظاہر ہے
(۱؎فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۷۷)
ردالمحتار میں ہے:
الذی حرّرہ فی البحر اخذا من قولہ الظھیریۃ وامّا اذا وقفہ علی الجھۃ التی کانت البقعۃ وقفاً علیہ جاز اتفاقاً تبعاً للبقعۃ وان قول الذخیرۃ لم یجزھو الصحیح مقصور علٰی ماعداصورۃ الاتفاق وھومااذا کانت الارض ملکاً اووقفاً علٰی جہۃ اخری ۲؎ اھ وعلی ھذا فینبغی ان یستثنٰی من ارض الوقف مااذاکانت معدۃ للاحتکار وبہ یتضح الحال ویحصل التوفیق بین الاقوال ۲؎ اھ ملخصا ، وقد اوضحناہ فیما علّقنا علیہ۔
جوبحر میں تحریر کیاہے وہ ظہیریہ کے قول سے ماخوذ ہے او راگر اسی جہت پر وقف کیا جس پر وہ خطّہ وقف تھا تو وقف اسکی اتباع میں بالاتفاق جائز ہے، اورذخیرہ کا قول ''جائز نہیں'' صحیح ہے اور یہ اتفاق کی صورت کے غیر پر مقصور ہے او ر یہ اس وقت ہے جبکہ زمین ملک یا وقف ہوکسی دوسری جہت پر، اس بناء پر زمین وقف سے اس صورت کا استثنا ضروری ہے جبکہ وہ زمین احتکار کے لیے تیار کی گئی ہو۔ اس سے صورتِ حال واضح ہوجاتی ہے اور تمام اقوال میں توفیق حاصل ہوجاتی ہے اھ ملخصا اور ہم نے ردالمحتار کی تعلیقات میں اس کی خوب وضاحت کی ہے۔
(۲؎ ردالمحتار کتاب الوقف مصطفی البابی مصر ۳/ ۴۲۸)
گنگوہی صاحب کی سخت نافہمی، متعلقہ روایتوں کو بے علاقہ بتانا
سادساً مدرسہ یا کتب خا نہ جو بنایا جائے گا جبکہ شرعاً وقف نہیں ہوسکتا، لاجرم بانیان پر رہے گا اور اب یہ صراحۃً وقف تصرف مالکانہ اور اپنے انتفاع کے لیے اس میں عمارت بنانا ہوگا، تو آفتاب کی طرح واضح ہے کہ قاضی خاں وعٰٗلمگیری و محیط کی عبارات جو مجیب دوم سلمہ نے نقل کیں کہ مقبرہ اگر چہ مندرس ہوجائے اس میں قبر کا نشان درکنار، اموات کی ہڈی تک نہ رہے، جب بھی اس سے انتفاع حرام، اور ہمیشہ اس کے لیے حکم مقبرہ رہے گا، اسی طرح فتاوٰی ظہریۃ و خزانۃ المفتین واسعاف کی عبارات کہ:
مقبرۃ قدیمۃ بمحلۃ لم یبق فیھا آثار المقبرۃ لایباح لاھل المحلۃ الانتفاع بھا وان کان فیھا حشیش یحش منھا ویخرج الحشیش الی الدّواب، ولاترسل الدواب فیھا ۱؎۔
جوقبرستان پُرانا ہو اس میں مقبرے کے آثار باقی نہ رہے ہوں تو اس سے اہل محلہ نفع حاصل کرسکتے ہیں ، اگر اس میں گھاس ہو تو وہ بھی کاٹی جاسکتی ہے، کاٹ کر باہر لائی جائے مگر جانور قبرستان میں نہ چھوڑے جائیں۔قطعاً مفید مدّعا تھیں۔
(۱؎ فتاوٰی ظہیریہ)
اور مجیب صاحب سوم کا یہ زعم کہ: '' مجیب صاحب نے جو روایت نقل کی ہے اس سے بھی مدعا ثابت نہیں ہوتا، محض سوءِ فہم اور جہل مبین۔''
( گنگوہی صاحب کی سخت بے علمی، نصوص مذہب کو چھوڑ کر ایک مالکی عالم سے استناد)
گنگوہی صاحب پر گرفت
سابعاً مجیب سوم کو جب فقہ میں کوئی راہ نہ ملی ، ناچارمتون وشروح وفتاوائے مذہب سب بالائے طاق رکھ کر نصوص اصول وفروع فقہ حنفی سب سے آنکھ بند کرکے شرح صحیح بخاری سے ایک روایت خارج عن المذہب پر قناعت کی کہ ابن القاسم نے کہا کہ میری رائے میں جب مقبرے کے آثار مٹ جائیں او راس کی حاجت نہ رہے تووہا ں مسجد بنا لینا جائز ہے۔
عربی لفظوں کاترجمہ دیکھ لیا، اب یہ ادراک کسے کہ یہ ابن القاسم کون ہیں؟ کس مذہب کے عالم ہیں؟ ان کا قول مذہب حنفی میں کہاں تک سنا جاسکتا ہے؟ او ر وہ بھی خاص ان کی رائے، اور وہ بھی اصول و فروعِ مذہب کے صریح خلاف، مجیب صاحب علامہ عینی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ شرح جامع صحیح میں صرف اقوال مذہب پر اقتصار نہیں کرتے، بلکہ ائمہ اربعہ او ران سے بھی گزر کربعض دیگر سابق ولاحق بلکہ بعض بد مذہبوں مثلاً داؤد ظاہری وابن حزم تک کے اقوال نقل کر جاتے ہیں، بلکہ بارہا این وآن ہی کے قول پر قناعت فرماتے ہیں اور ائمہ مذہب کا مذہب بیان میں نہیں لاتے، جاہل کہ تراجم علماء سے آگاہ نہیں آپ کی طرح دھوکا کھاجاتا ہے اور خادم علم بحمد اﷲ تعالٰی فرقِ مراتب وتفرقہ مذاہب کی خبر رکھتا ہے۔ علامہ عینی یہاں کسی کتاب فقہ کی تحریر میں نہیں یہ اسطرادی بالائی فوائد ہیں جن سے اقاویل ناس پر اطلاع مقصود اور مذہب تو اصلاً وفرعاً کتبِ مذہب میں مضبوط ہوچکا ۔ ان کی ان نقول کا اکثر مادہ تصانیف ابن المنذ رو ابن بطال وغیرہما شافعیہ وغیرہم ہیں ان کی عادت ہے کہ محلِ نقل میں سطریں کی سطریں بلکہ کہیں صفحے بلا غروبے تغیر لفظ نقل فرماتے ہیں جس پرا ن کے امام عصری امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اﷲ تعالٰی نے الدرر الکامنہ میں تنبیہ کی،یہاں بھی صدر کلام
ذکر ما یستنبط منہ من الاحکام
سے آپ کی منقولہ حکایت تک اسی قسم کی عبارت ہے عالم تو متعدد وجہ سے پہچانے گا کہ یہ کلام حنفیہ نہیں۔ آپ نے اتنا ہی دیکھا ہوتا کہ اس عبارت میں ہے:
( کوفہ والے، شافعی اور اشہب اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے اس طرف گئے ہیں کہ حصو ل مال کیلئے انکی قبروں کو اکھاڑنا جائز) حنفیہ کا محاورہ نہیں کہ اپنے ائمہ کا مذہب یوُں بیان کریں کہ کوفے والے ادھر گئے ہیں، قائل حنفی ہوتاتو
'' ذھب ائمتنا یا اصحابنا یا علماؤنا وامثال ذلک''
لکھتا ۔یہ ابن القاسم واشہب(عہ) دونوں حضرات مالکی مذہب عالم ہیں۔ خود امام ہمام کے شاگرد ، اور ان کے مذہب میں اہل روایت ودرایت جیسے ہمارے ہاں زفر و حسن بن زیاد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم، آپ کی مقدس بزرگی کہ مذہب حنفی کے صریح خلاف ایک مالکی عالم کی رائے پر فتو ی دیتے ،اور اپنے زعم میں اسے مذہب حنفی کی روایت سمجھ رہے ہیں حالانکہ ہمارے ائمہ تو ہمارے ائمہ وہ اس مذہب کے بھی امام مجتہد سید نا امام مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہ یہ ابن القاسم ہمارے علماء سے نہیں ، مگر ہاں جب نافہمی کی ٹھہری تو آپ کو کیا لگتا ہے کہ اس ذکر اصحابنا کو بھی قال ابن القاسم کے تحت میں داخل اور انھیں کے مقولے میں شامل مانتے۔
عہ: دونوں حضرات کے مزار فائض الانوار قرافہ میں یکجا ہیں، علماء فرماتے ہیں ان دونوں مزار کے بیچ میں دعا قبو ل ہوتی ہے ۱۲ منہ حفظ ربہ