ثانیاً قبرستان کو جو وقف مشہور کردیتے ہیں یہ سب جگہ جاری نہیں ، اس '' یہ'' کا مشار الیہ شہرت ہے
یا واقفیت، اول صحیح ہے مگر مہمل وندائے بے محل، سوال اس صورت میں خاصہ سے ہے جہاں شہرت موجود ہے اس پر حکم کے لیے ہر جگہ شہرت کیا ضرور، یوں ہی دوم بھی اگر مقصود سلب واقفیت بحال انتقائے شہرت ہو، اور ان ہی دونوں صورتوں میں یہ قول کہ'' اکثر جگہ دیکھا گیا کہ گورستان وقف نہیں ہوتا'' رُوبصحت رکھتا ہے اگر چہ کثیر واکثر میں فرق نہ کرنا ضیق نطاق بیان اور اگر نفی واقفیت شہرت مراد تو محض مردود و ظاہر انفساد، اور اب وہ شہادت مشاہدہ اکثر بلاد صراحتاً حکایت بے محکی عنہ ہے متون وشروح وفتاوٰئے مذہب میں تصریحات جلیہ ہیں کہ شہرت مثبت واقفیت ومسوغ شہادت ہے۔
کلام مجیب دوم سلمہ میں بھی اس کی بعض نقول منقول، پھر باوصف تسلیم دلیل شرعی نفی مدلول جہل قطعی، یہاں شہادت شہرت کونہ ماننا نہ اسی مقبرے بلکہ عامہ اوقافِ قدیمہ یکسر مٹادینا ہے، طول عہد کے بعد شہود معاینہ کہاں، اور مجرد خط حجت نہیں، فتاوٰی خیریہ میں ہے:
لایعمل بمجرد الدفتر ولامجرد الحجۃ لما صرح بہ علماءُ نا من عدم الاعتماد علی الخط وعدم العمل بہ کمکتوب الوقف الذی علیہ خطوط القضاۃ الماضین وانما العمل فی ذلک بالبینۃ الشرعیۃ ۱؎ ۔
صرف تحریر پر عمل نہ ہوگا اور نہ صرف دلیل پر کیونکہ ہمارے علماء نے تصریح کردی ہے کہ خط پر اعتماد نہیں اور اس پر عمل نہیں، جیسے وہ وقف نامہ جس پر گزشتہ قاضیوں کی تحریریں ہوں، اس معاملے میں شرعی گواہوں پر ہی عمل ہوگا۔
(۱؎ فتاوٰی خیریۃ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۱۸)
اسی میں ہے:
کتاب الوقف انما ھو کاغذ بہ خط وھولا یعتمد علیہ ولایعمل بہ، کما صرّح بہ کثیر من علمائنا ، والعبرۃ فی ذالک للبیّنۃ الشرعیۃ وفی الوقف یسوغ للشاھدان یشھد بالسماع ویطلق، ولایضرّ فی شھادتہ قول بعد شہادتہ لم اعائن الوقف ولکن اشتھر عندی او اخبرنی بہ من اثق بہ ۲؎ ۔
وقف کی تحریر تو ایک کاغذ ہے جس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی عمل کیا جاسکتا ہے جیسا کہ ہمارے بہت سے علماء نے تصریح کی ہے، اعتبار اس معاملہ میں شرعی گواہوں کا ہے او ر وقف میں گواہ کے لیے جائز ہے کہ سُن کر گواہی دے اور اطلاق رکھے، او راس کی شہادت میں ادائے شہادت کے بعد یہ کہنا کہ میں نے وقف کا معائنہ نہیں کیا، لیکن میرے نزدیک مشہور ایسا ہی ہے یا مجھے قابل اعتماد شخص نے خبر دی ہے کچھ مضر نہیں ۔
(۲؎فتاوٰی خیریۃ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۰۳)
اب اگر شہرت بھی منقول نہ ہو تو ہزاروں وقف سوا اس کے کہ محض بے ثبوت وباطل قرار پائیں اور کیا نتیجہ ہے
وقف میں تبدیلی حرام ہے اور گنگوہی صاحب کی سفاہت
ثالثاً مقبرے کے لیے وقف تسلیم کر کے اس میں مدرسہ وغیرہ دوسرے مکان وقفی بنانے کو درست بتانا ظلم واضح وجہل فاضح ہے کہ اس میں صراحۃً تغیر وقف ہے او ر وہ حرام ہے حتی کہ متولّی بھی وقف پر ولایت رکھتا ہے نہ کہ اجنبی حتی کہ علماء نے تغیر ہیأت کی بھی بے اذن واقف اجازت نہ دی، نہ کہ تغیر اصل وقف، عقود الدریہّ میں ہے:
لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ فلا یجعل الداربستانا ولا الخان حمّاما ولا الرباط دکّاناً الاّ اذاجعل الواقف الی الناظر ماٰیری فیہ مصلحۃ الوقف ۲؎ ۔
وقف کو اس کی ہیئت سے تبدیل کرنا جائز نہیں، لہذا گھر کو باغ اور سرائے کو حمام او ر رباط کو دکان بنانا جائز نہیں، ہاں واقف نے اگر نگرانِ وقف کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ ہر وہ کام کرسکتا ہے جس میں وقف کی مصلحت ہو تو ٹھیک ہے۔
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب الرابع عشر فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰)
فتح القدیر و ردالمحتار وشرح الاشباہ للعلامۃ البیری میں ہے :
الواجب ابقاء الوقف علٰی ماکان علیہ دون زیادۃ اخری ۳؎ ۔
وقف کو اپنی اصل حالت پر باقی رکھنا واجب ہے بغیر اس کے کہ اس پر کوئی دوسری زیادتی کی جائے ۔(ت)
(۳؎ فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۰)
وقف کرنے کے لیے مالک ہونا شرط ہے، شیئ ایک بار وقف ہوکر دوبارہ وقف نہیں ہوسکتی
( اور گنگوہی صاحب کی ناواقفی )
رابعاً مدرسہ یا کتب خانہ یاکوئی مکان کیا خالی دیواروں کا نام ہے۔ ہر عاقل ادنٰی عقل والا بھی جانتاہے کہ زمین ضرور اس میں داخل ، تنہا دیواروں کوبناء وعملہ کہتے ہیں، نہ بیت وخانہ، مدرسہ جائے درس،محل درس زمین ہے یا دیواروں پر بیٹھ کر درس ہوگا؟ او ریوں بھی ہو تا ہم قرار استقرار کو انتہا علی الارض سے کیا چارہ،اور یہ زمین ایک بار ایک جہت کے لیے وقف ہوچکی ہے دوبارہ وقفیت کیو نکر معقول کہ واقف کا وقتِ وقف مالکِ موقوف ہونا شرط وقف ہے ہمارے مذہب میں بالاتفاق اہل وقوف اس پر صحت وقف موقوف اور وقفِ بعد تمامی کسی کی ملک نہیں، تو پھر اصل واقف بھی اگردوبارہ اسے وقف کرنا چاہے محض باطل ہوگا، نہ کہ زید وعمرو بلکہ حکم عام ہے، خواہ وقف دوبارہ جہت اُخرٰی پر ہو یا اسی جہتِ اولٰی پر کہ علی الاول تحویل باطل ہے اور علی الثانی تحصیل حاصل والکل باطل۔
بحرالرائق وعٰلمگیریہ وغیرہمامیں ہے :
اماشرائطہ فمنھا العقل والبلوغ ومنھا ان یکون قربۃ ومنھا الملک وقت الوقف ویتفرع علٰی اشتراط الملک انہ لایجوز وقف الاقطاعات ولا وقف ارض الحوز للامام ۱؎ ملتقطا۔
بہر حال وقف کی شرائط تو ان میں سے بلوغ او رعقل ہے او ران میں سے اس کا عبادت کیلئے ہونا ہے اور وقتِ وقف ملک کاہونا ہے ملک کی شرط پر یہ بھی متفرع ہے کہ جاگیر کاوقف جائزنہیں، او امام کی گھیری ہوئی زمین کا وقف بھی جائز نہیں۔ ،ملتقطاً
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف باب الاول فی تعریف الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۵۲ تا ۳۵۴)
اسعاف میں ہے:
اتفق ابویوسف ومحمد رحمھما اﷲ تعالٰی ان الوقف یتوقف جوازہ علی شروط بعضھا فی المتصرف کالملک فان الولایۃ علی المحل شرط الجواز والولایۃ تستفاد بالملک اوھی نفس الملک ۲؎ ۔
ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اﷲ تعالٰی نے اتفاق کیا ہے کہ وقف کاجواز بعض شرائط پر موقوف ہے، کچھ تواس میں سے متصرف ہیں جیسے ملک ، کیونکہ ولایت ''محل'' شرط جوازہے اور ولایت یا تو ملک سے مستفاد ہے یا وہ خود ملک ہے۔
(۲؎اسعاف)
اسی میں ہے:
لو وقف ارضااقطعہ ایّاھا السلطان فان کانت ملکالہ او مواتا صح وان کانت من بیت المال لایصحّ ۳؎ ۔
اگر کوئی شخص نے بادشاہ کی دی ہوئی جاگیر وقف کردی تو اگر وہ اس کی ملک ہے یا وہ مردہ زمین ہے تو صحیح ہے اور اگر بیت المال سے ہے تو صحیح نہیں۔