صورت مسئولہ میں اس مقام پر کتب خانہ ومدرسہ بنانا ناجائز ہے اس لیے کہ یہ جگہ جب مقبرے کے نام سے مشہور اور وقف ہے تو شرعاً یہ مقبرہ سمجھا جائے گا اور اس مقبرے کے لیے زمین وقف ہوگی اور اس کی شہرت اس کے ثبوت کے لیے دلیل کافی ہے۔درمختار میں ہے :
تقبل فیہ الشھادۃ بالشُّھرۃ ۱؎الخ ملخصاً
( اس میں شہرت کی بنا پر شہادت قبول کی جاتی ہے الخ ۔ت)
(۱؎ درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الوقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۸)
اسی طرح ردالمحتار میں ہے عالمگیریہ میں ہے:
الشھادۃ علی الوقف بالشھرۃ تجوز ۲؎ا لخ
(وقت پر شہادت شہرت کی بناء پر جائز ہے الخ ۔ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الفصل الثانی فی الشہادۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۳۸)
او راس کے مندر س ہوجانے سے دوسرا کوئی نفع لینادرست نہ ہوگا۔ قاضی خاں مطبوعہ مصر جلد ثالث ص ۳۱۴ پر ہے :
مقبرۃ قدیمۃ بمحلۃ لم یبق فیہا اٰثار المقبرۃ ھل یباح لاھل المحلۃ الانتفاع بھا قال ابو نصر رحمہ اﷲ تعالٰی لایباح ۳؎ ۔
ایک محلے میں پرانا قبرستان ہے جس کے نشانات باقی نہیں رہے، کیا اہل محلہ اس سے نفع حاصل کرسکتے ہیں، ابونصر رحمہ اﷲ تعالٰی نے کہا کہ مباح نہیں ہے ۔
(۳؎ فتاوٰی قاضی خاں فصل فی المقابر والرباطات ۴/ ۷۲۵)
عٰلمگیری میں جلد ثانی مطبوعہ مصر صفحہ ۴۷۰ و ۴۷۱ :
سئل القاضی الامام شمس الائمۃ محمود الاوزجندی عن المقبرۃ اذا اندرست و لم یبق فیھا اثر الموتٰی لاالعظم ولاغیرہ ھل یجوز زرعھا واستغلالہا قال لاولھا حکم المقبرۃ۔ کذافی المحیط ۱؎ ۔
قاضی شمس الائمہ محمود اوزجندی سے ایسے مقام قبرستان کے بارے میں دریافت کیا گیا جس کے نشانات مٹ گئے ہوں اور اس میں ہڈیاں تک نہ رہی ہوں کیا اس میں کھیتی باڑی کرنا او ر اسے کرائے پر دینا جائز ہے، فرمایا: نہیں ، وہ قبرستان کے حکم میں ہے جیسا کہ محیط میں ہے۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی عشر فی الرباطات الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۷۱ ۔ ۴۷۰)
نہ عدم جوازانتفاع بالمقبرہ امام زیلعی کی اس عبارت ہی کے خلاف ہے اس لیے کہ انھوں نے ''جوا زمیّت'' کے بوسیدہ او رخاک ہوجانے پر مرتب فرمایا ہے، اور یہاں عدمِ جواز اس وجہ سے نہیں بلکہ بہ سبب مقبرے کے وقف ہونے میں ہے۔ جیسا کہ مصحح نے عٰلمگیریہ مطبوعہ مصرمیں لکھاہے، عبارت منقولہ عٰلمگیریہ پر یہ عبارت لکھی ہے:
قولہ قال لاھذا لاینا فی ماقالہ الزیلعی، لان المانع ھنا کون المحل موقوفا علی الدفن فلا یجوز استعمالہ فی غیرہٖ فلیتامل ولیحرر اھ مصححہ ۲؎ ۔
ان کا قول '' انھوں نے کہا نہیں'' یہ زیلعی کے قول کے منافی نہیں کیونکہ یہاں مانع حمل کا دفن کے لیے موقوف ہونا ہے تواس کا استعمال غیر میں جائز نہیں ، غور کرنا چاہیے اور اسے محفوظ کرنا چاہئے اھ مصحح۔
(۲؎ حاشیہ فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی عشر فی الرباطات الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۷۱)
او رمسائل سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ غیر جنس کی طرف وقف جائز نہیں، عٰلمگیریہ جلد ثانی ص ۴۷۸ میں ہے :
سئل شمس الائمۃ الحلوانی عن مسجد اوحوضٍ خرب لایحتاج الیہ لتفرق الناس ھل للقاضی ان یصرف اوقافہ الٰی مسجدٍ اٰخر اوحوض او اٰخر۔ قال تعم، ولو لم یتفرق الناس ولکن استغنی الحوض عن العمارۃ وھناک مسجد محتاج الی العمارۃ اوعلی العکس ھل یجوز للقاضی صرف وقف ما استغنی عن العمارۃ الٰی عمارۃٍ ماھو محتاج الی العمارۃ فقال لا، کذافی المحیط ۳؎ ۔
شمس الائمہ حلوانی سے مسجد یا حوض کے بارے میں دریافت کیا گیا جو ویران ہوں اور ان کی ضرورت نہ رہی ہو کیونکہ وہاں آبادی نہیں رہی، کیا قاضی ا س کے اوقاف کو دوسری مسجد یا دوسرے حوض میں صرف کرسکتا ہے؟ فرمایا: ہاں اوراگر لوگ وہیں رہتے ہوں مگر اس حوض کی ضرورت نہ رہی ہو اور وہاں مسجد عمارت کی محتاج ہو یا بالعکس تو کیا قاضی اس وقف کی آمدنی جس کی ضرورت نہ ہو دوسرے محتاج وقف کی تعمیر پر خرچ کرسکتا ہے؟ تو فرمایانہیں۔ محیط میں اسی طرح ہے۔
(۳؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب الثالث عشر فی الاوقاف الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۷۸)
لہذا اس زمین میں جو دفن کے لیے وقف ہو مدرسہ وغیرہ بنانا جائز نہ ہوگا گو خالی ہی کیوں نہ ہو، او ردوسرے اس کا خالی ہونا فقط شہادت سے کہ ہماری عمر میں ہمارے علم میں کوئی میّت دفن نہ کی گئی، ثابت نہیں ہوسکتا بلکہ اس قد یم مقبرے کا پر ہونا سمجھا جاتا ہے کہ جب دو تہائی زمین میں قبریں اس قدر پرانی ہیں کہ سو (۱۰۰) برس کے لوگوں کے ہوش سے قبل کی ہیں تو ایک ثلث میں اس سے بھی پہلے کی ہوں گی او روہ بالکل منہدم ہوگئی ہوں او زمین صاف معلوم ہوتی ہو، زمین بھر جانے کی وجہ سے دفن کرنا چھوڑ دیاگیا ہو، ہاں اگر کوئی شخص بیان کرے کہ جب سے یہ زمین مقبرے کے لیے وقف ہوئی کوئی میّت اس تہائی میں نہ دفن کی گئی تو البتہ خالی ہونا ثا بت ہوسکتا ہے پھر بھی مدرسہ وغیرہ سوائے دفن کے دوسرے کام میں لانا ناجائز ہے۔
الجواب
یہ جواب صحیح نہیں ہے اور مجیب صاحب نے جو روایت نقل کہ ہے اس سے بھی مدّعا ثابت نہیں ہوتا۔الحاصل وہ قبرستان وقف نہیں ہے توکچھ کلام نہیں ہے اور قبرستان کو جو وقف مشہور کردیتے ہیں یہ سب جگہ جاری نہیں ، اکثر جگہ دیکھا گیا ہے کہ گورستان وقف نہیں ہوتا اور بعد تسلیم اس بات کے کہ وہ وقفی ہے اس صور ت میں کہ وہاں دفن اموات کا ایک مدت دراز سے بند ہے تواس میں دوسرا مکان وقفی بنا دینا درست ہے۔ لہذا مدرسہ وقفی بنانا اس گورستان میں جائز ہے، چنانچہ اس روایت سے واضح ہے، یعنی عینی شرح بخاری جلد ۲ صفحہ ۳۵۹:
فان قلت ھل یجوز ان تبنی المساجد علی قبور المسلمین قلت قال ابن القاسم لو ان مقبرۃ من مقابر المسلمین عفت فبنی قوم علیہا مسجداً لم اربذالک باسا،۔؎ وذالک لان المقابر وقف من اوقاف المسلمین لدفن موتا ھم لایجوز لاحدٍ ان یملکھا فاذا درست واستغنی عن الدفن فیھا جاز صرفھا لای المسجد لان المسجد ایضاً وقف من اوقاف المسلمین، لا یجوز تملیکا لاحد فمعنا ھما علی ھذا واحدٌ ۱؎ ۔
اگر تم کہو، کیا مسلمانوں کی قبروں پر مساجد کا بنانا جائز ہے؟ میں کہوں گا : ابن قاسم نے کہا اگر مسلمانوں کا کوئی قبرستان ختم ہوجائے اور وہاں کچھ لوگ مسجد بنالیں تو میں اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا، کیونکہ قبرستان بھی مسلمانوں کا ایک وقف ہے ان کے مردوں کو دفن کرنے کے لیے، کسی کے لیے اس کا مالک بننا جائز نہیں، اب جبکہ وہ مٹ گیا او ر اس میں دفن کی ضرورت نہیں رہی تو اسے مسجد کے استعمال میں لانا جائز ہوا کیونکہ مسجد بھی مسلمانوں کے اوقاف میں سے ایک وقف ہے کسی کو اس کا مالک بناناجائز نہیں۔ لہذا ان دونوں کا مقصد ایک ہے۔
(۱؎ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری باب حل تنبش قبور المشرکین الخ ادارۃ الطباعۃ المنیرۃ بیروت ۴/ ۱۷۹)
درکُتبِ فقہیہ میں بھی روایاتِ جواز موجود ہیں مگر بندے کو مہلت نہیں، فقط،
واﷲ تعالٰی اعلم ۔ رشید احمد گنگوہی عفی عنہ
رشید احمد (۱۳۰۱ھ)
الجواب صحیح۔ بندہ محمود عفی عنہ
الجواب صحیح۔ بندہ مسکین محمد ٰیسین عفی عنہ
الجواب صحیح۔ غلام رسول عفی عنہ
محمد ٰیسین عفی عنہ
جبکہ وہ مقبرہ نہایت کہنہ ہے اور اس وقت دفن کرنا وہاں متروک ہوگیا ہے توبناء مدرسہ اس جگہ میں خصوصاً حصہ خالی میں درست ہے۔ البتہ اگر وہ مقبرہ فی الحال دفنِ اموات میں کام آتاہو توکوئی اوربناء اس میں درست نہیں ہے۔
قال فی عٰلمگیریۃ، ولوبلی المیّت وصار ترابا جاز دفن غیرہ فی قبرہ وزرعہ والبناء علیہ کذا فی التبیین ۲؎ ۔
عٰلمگیریہ میں ہے کہ اگر میّت پرانی ہوجائے او رمٹی ہوجائے تو دوسرے کو اس قبر میں دفن کرنا جائز ہے او راس میں کھیتی کرنا اور اس پر عمارت بنانا بھی جائز ہے جیسا کہ تبیین میں ہے۔
(۲؎فتاوٰی ہندیۃ الفصل السادس فی القبر والدفن نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۶۷)
فقط، واﷲ تعالٰی اعلم۔ کتبہ عزیز الرحمن عفی عنہ فتوکل علی العزیز الرحمن (۱۳۰۷ھ)
9_6.jpg
الجواب
اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جواب اول غلط صریح، او رحکم ثانی حق و صحیح او رتحریر ثالث جہل قبیح ہے۔
گنگوہی صاحب کابے محل شقشقہ
اوّلاً سوال میں صاف تصریح تھی کہ'' ایک سطح وقف زمین ، پھر مجیب سوم کی تشقیق کہ '' اگروہ قبرستان نہیں'' الخ محض شقشقہ بے معنی ہے،