تنفیحِ مقام وتفضیحِ اوہام نجدیہ لیام، نقل درفتوٰی فقیر غفرلہ ملک الانعام
فتوٰی اُولٰی
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ: از کلکتہ امرتلالین نمبر ۸ مرسلہ حاجی لعل خاں صاحب وبار دوم بلفظٖ از کانپور بازار نیا گنج کمپنی دادوجی دادا بھائی سورتی، مرسلہ عبدالرحیم صاحب ۲۰ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین رحمہم اﷲ تعالٰی اس مسئلے میں کہ ایک طرف چند پرانی قبریں پائی جاتی ہیں او رباقی ایک تہائی سطحِ میدان پڑا ہوا ہے او ر وہاں عمر رسیدہ قریب اسی(۸۰) سے سو(۱۰۰) برس کے بزرگوں سے تحقیق کرنے پر وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کے ہوش سے ہم لوگوں کے جاننے میں کسی حصہ اس سطح زمین میں کوئی میّت دفن نہیں ہوا ہے، اس پر چند مسلمانان عالی ہمت نے اس تہائی خالی سطح زمین پر مدرسہ اور کتب خانہ بنانے کے لیے حاکم وقت سے درخواست کی تھی۔ تحقیق کرنے کے بعد کہ وہاں کوئی قبر نہیں ہے، حاکم وقت نے اجازت دے دی، ان حضرات نے مدرسہ وکتب خانہ بنانے کے لیے تمام سامان فراہم کیا ہے۔ اس صورت میں ایسے مقام پر مدرسہ کتب خانہ بنانا درست ہے یا نہیں؟ اور مدرسہ کی نیو( بنیاد) کھودتے وقت اگر احیاناً وہاں مردے کی بوسیدہ ہڈی نکلے تو اس کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب
وقف کی تبدیل جائز نہیں، جو چیز جس مقصد کے لیے وقف ہے اسے بدل کر دوسرے مقصد کے لئے کردینا روانہیں، جس طرح مسجد یا مدرسہ کو قبرستان نہیں کرسکتے یونہی قبرستان کو مسجد یا مدرسہ یا کتب خانہ کردینا حلال نہیں۔
سراج وہاج پھر فتاوٰی ہندیہ میں ہے :
لایجوز تغیر الوقف عن ھیأتہ فلا یجعل بستاناً ولا الخان حماماً ولا الر باط دکاناً الاًاذا جعل الواقف الی الناظر مایری فیہ مصلحۃ الوقف۱؎ اھ قلت فاذالم یجز تبدیل الھیأۃ فکیف بتغییر اصل المقصود۔
وقف کواس کی ہیئت سے تبدیل کرنا جائز نہیں لہذا گھر کا باغ بنانا اور سرائے کا حمام بنانا او ر ر باط کا دکان بنانا جائز نہیں، ہاں جب واقف نے نگہبان پر معاملہ چھوڑ دیا ہو کہ وہ ہر وہ کام کرسکتا جس میں وقف کی مصلحت ہوتوجائز ہے اھ قلت( میں کہتاہوں) جب ایک ہیت کی تبدیلی جائز نہیں تو اصل مقصود کی تغیر کیونکر جائز ہوگی!
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰)
او راس پارہ قبرستان میں سو برس سے کوئی قبر نہ ہونا اسے قبرستان ہونے سے خارج نہیں کرسکتا۔ امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کے قول مفتٰی بہ پر واقف کے صرف اتنا کہنے سے کہ میں نے یہ زمین مسلمان کیلئے وقف کی یا اس زمین کو مقبرہ مسلمین کردیا، وہ تمام زمین قبرستان ہوجاتی ہے اگر چہ ہنوز ایک مردہ بھی دفن نہ ہوا ۔ اورامام محمد کے قول پر ایک شخص کے دفن سے ساری زمین قبرستان ہوجاتی ہے۔
اسعاف پھر ردالمحتار میں ہے:
تسلیم کل شیئ بحسبہٖ ففی المقبرۃ بدفن واحد وفی السقایۃ بشربہ وفی الخان بنزولہ ۱؎ ۔
ہر چیز کا سپرد کرنا اس کی حیثت کے مطابق ہوتا ہے تو مقبرے میں ایک شخص کو دفن کرنا ہے او رسقایہ میں ایک گھونٹ پانی پینا ہے او رسرائے میں اترنا ہے۔
(۱؎ ردالمحتار کتاب الوقف مصطفی البابی مصر ۳/ ۴۰۵)
ہدایہ وہندیہ میں ہے:
وعند ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی یزول ملکہ بالقول کما ھو أ صلہ ، وعند محمد رحمہ اﷲ تعالٰی اذا استقی الناس من السقایۃ وسکنوا الخان والرباط ودفنوافی المقبرۃ زال الملک ویکتفی بالواحد لتعذر فعل الجنس کلہ وعلی ھذا البئر والحوض ۲؎ ۔
اورابویوسف کے نزدیک اس کی ملک کہنے سے زائل ہوجائیگی جیسی کہ یہ وقف کی اصل ہے اور امام محمد کے نزدیک جب لوگ سقایہ سے سیراب ہوں او رسرائے اور رباط میں رہیں، او ر مقبرہ میں دفن کریں تو ملک زائل ہوجائیگی او رایک پر اکتفا ء کیا جائے گا کیو نکہ تمام جنس کا فعل متعذر ہے او ر کُنویں اور حوض کا حکم بھی ایسا ہی ہے۔
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الثانی عشر فی الرباطات الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۶۵)
تنویر ، درر اور وقایہ وغیرہا میں ابویوسف کا قول مقدم رکھا اور تم اس کی ارحجیت وقف اور قضا میں جان چکے ہو۔پس صورت مستفسرہ میں وہاں مدرسہ وکتب خانہ بنانا ہی جائز نہیں اگر چہ مُردے کی ہڈی نہ نکلے اور نکلنے کی حالت میں ممانعت اور اشد ہوجائے گی کہ قبرمسلم کی بے حرمتی ہوئی
کما بیّنا فی الاٰمر باحترام المقابر
( جیسا کہ ہم نے رسالہ الآمر باحترام المقابر میں بیان کیا ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۳؎ ردالمحتار کتاب الوقف مصطفی البابی مصر ۳/ ۴۰۵)
فتوٰی ثانیہ
مسئلہ: از کانپور مسجد رنگیاں مرسلہ مولوی شاہ احمد حسن صاحب مرحوم بوساطت جناب مولانا مولوی وصی احمد صاحب ۲۱ جمادی الآخرہ ۱۳۲۱ھ
بخدمت سراپائے برکت مولٰنا مولوی صاحب مجدد مائۃ حاضرہ، صاحبِ حجتِ قاہرہ امام جماعت عالم سنت مولٰنا وسیدنا المولوی محمد احمد رضا خاں صاحب تمت فیوضا تہم وعمّت سکنتہ المشارق والمغارب، السلام علیکم
و رحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ کانپوری مولوی احمد حسن صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ کہتے تھے کہ بالفعل ایک اشد ضرورت ہے وہ کہ یہ جامع العلوم والوں نے ایک فتوٰی لکھا ، مستفتی میرے پاس لایا، میں نے ان کے خلاف جواب لکھا، جامع العلوم والوں نے اس کو دیوبند بھیجا،انھوں نے اپنے ہم مذہبوں کے جواب کی تصدیق کی۔ مستفتی پھر میرے پاس آیا کہ اب میں کس کے قول پر عمل کروں ، میں نے کہا کہ جو فیصلہ حکم کرے اس پر عمل کرو، حضرت مولٰنا سے بڑھ کر حکم کون ہے۔ لہذا اس استفتاء کو اپنے ہمراہ لیتے جاؤاور مولانا سے جواب لکھوالاؤ، اور فوراً روانہ کردو۔چونکہ میرا ارادہ حاضری کا تھا میں نے استفتاء لے لیا او راتفاق کہ میں حاضر نہ ہوسکا، اور یہ بہت ضروری ہے لہذا اس عریضے میں ہمراہ سید عبدالشکور صاحب حاضر خدمت کرتا ہوں اسی وقت فیصلہ لکھ دیجئے اور سید صاحب ہی کے ہمراہ واپس فرمائے کہ میں روانہ کردوں، مولوی احمد حسن صاحب انتظار میں ہوں گے،
نقل استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ سطح زمین قبرستان کے نام سے مشہور ہے جس کی ایک طرف چندپرانی شکستہ قبریں پائی جاتی ہیں الخ، بعینہ سوال آمدہ ازکلکتہ امرتلالین واز کانپور بازار گنج، ۲۰ربیع الآخر ۱۳۲۱ ھ کے عنقریب فتاوٰی میں گزرا۔
جواب اہالی مدرسہ جامع العلوم
ایسے مقام پر کتب خانہ اور مدرسہ بنانا جائز ہے لعدم المانع( کہ مانع معدوم ہے ۔ت) اور اگر بوسیدہ ہڈی اتفاقی طور پر نکل آئے تو اس کو کہیں دفن کردے۔
وقال الزیلعی ولویلی المیّت وصار تراباً جاز دفن غیرہ فی قبرہ و زرعہٖ والبناءُ علیہ ۱؎ اھ شامیۃ ص ۵۹۹ واﷲ اعلم۔
امام زیلعی نے فرمایا اگر میّت بوسیدہ ہوکر مٹی ہوجائے تو اس کی قبر میں دوسرے کو دفن کرنا اور اس کی قبرپر کھیتی کرنا اور عمارت بنانا جائز ہے اھ شامیہ ص ۵۹۹ واﷲ اعلم (ت)