امام حافظ ابن مندہ قاسم بن مخیمرہ سے راوی : '' کسی شخص نے ایک قبر پر پاؤں رکھا، قبر سے آواز آئی:
الیک عنیّ ولاتؤذنی ۴؎
( اپنی طرف ہٹ دور ہو اے شخص میرے پاس سے )اور مجھے ایذا نہ دے ''۔
ذکر ھما العلامۃ السیوطی فی شرح الصدور اقول وفیھما تائید لما علیہ عامۃ علمائنا خلافاً للامام ابی جعفر ومن تابعہ من بعض المتاخرین
ان دونوں کو علامہ سیوطی علیہ الرحمۃ نے شرح الصدور میں درج فرمایا اقول ان دونوں روایتوں میں اس کو تائید ہوتی ہے جس پر ہمارے عام علماء ہیں، بخلافامام ابو جعفر اور ان کے تا بع بعض متاخرین کے۔
(۴؎شرح الصدور بحوالہ ابن مندہ عن القاسم بن مخیمرہ باب تاذیہ بسائروجوہ الاذی خلافت اکیڈمی سوات ص ۱۲۶)
او راس فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ نے حضرت سیدی ابوالحسن نوری مدظلہ العالی سے سنا کہ ہمارے بلاد میں مارہرہ مطہرہ کے قریب ایک جنگل میں گنجِ شہیداں ہے، کوئی شخص اپنے بھینس لیے جاتا تھا، ایک جگہ زمین نرم تھی، ناگاہ بھینس کاپاؤں جارہا، معلوم ہو ایہاں قبر ہے، قبر سے آواز آئی : ''اے شخص! تونے مجھے تکلیف دی، تیری بھینس کا پاؤں میرے سینے پر پڑا ۔''
( اس میں لطیف قصّہ ہے جو شہداء کے بارے میں اﷲ تعالٰی کی قدرت عظیمہ اور عجیب صناعی پردلالت کرتا ہے ۔ ت)
اب بحمد اﷲ تعالٰی حکمِ مسئلہ مثل آفتاب روشن ہوگیا، جب حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے قبر پر بیٹھنے اور اس سے تکیہ لگانے اور مقابر میں جوتا پہن کر چلنے والوں کو منع فرمایا، اور علماء نے اس خیال سے کہ قبور پر پاؤں نہ پڑے گورستان میں جو راستہ جدید نکالا گیا ہو اس میں چلنے کو حرام بتایا او رحکم دیا کہ قبر پر پاؤں نہ رکھیں بلکہ اس کے پاس نہ سوئیں، سنت یہ ہے کہ زیارت میں بھی وہاں نہ بیٹھیں بلکہ بہتریہ ہے کہ بلحاظِ ادب پاس بھی نہ جائیں، دور ہی سے زیارت کرآئیں اور قبرستان کی خشک گھاس اگر جانور کو کھلانا جائز فرمایا مگر یوں کہ یہاں سے کاٹ کر لے جائیں نہ کہ جانوروں کو مقابر میں چرائیں، اور تصریح فرمائی کہ مسلمان زندہ ومردہ کی عزت برابر ہے، او رجس بات سے زندوں کو ایذا پہنچتی ہے مُردے بھی اس سے تکلیف پاتے ہیں ا ور انھیں تکلیف دینا حرام ، تو خود ظاہر ہوا کہ یہ فعل مذکور فی السوال کس قدر بے ادبی و گستاخی وباعث گناہ او راستحقاق عذاب ہے۔ جب مکان سکونت بنایا گیا تو چلنا پھرنا، بیٹھنا لیٹنا، قبورکو پاؤں سے روندنا ، ان پر پاخانہ ، پیشاب ، جماع سب ہی کچھ ہوگا اور کوئی دقیقہ بے حیائی اور اموات مسلمین کی ایذا رسانی کا باقی نہ رہے گا
والعیاذ باﷲ رب العٰلمین۔
علماء فرماتے ہیں: جہاں چالیس مسلمان جمع ہوتے ہیں ان میں ایک ولی اﷲ ضرور ہوتا ہے
کما صرح بہ العلامۃ المناوی رحمہ اﷲ تعالٰی فی التیسیر شرح الجامع الصغیر
( جیساکہ علامہ مناوی رحمہ اﷲ تعالٰی نے تیسیر شرح جامع صغیر میں تصریح کی۔ ت)
اور ظاہر ہے کہ مقابر مسلمین میں صدہا مسلمانوں کی قبریں ہوتی ہیں بلکہ خدا جانے ایک ایک قبر میں کس کس قدر دفن دفن ہیں، تو بالضرورت ان میں بندگان مقبول بھی ضرور ہوں گے، بلکہ اس امر کی اموات میں زیادہ امید ہے کہ بہت بندے خدا کے جو زندگی میں آلودہ گناہ تھے بعد موت پاک وطیب ہوگئے۔ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الموت کفارۃ لکّلِ مسلمٍ ۱ اخرجہ ابو نعیم والبیھقی فی شعب الایمان عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ وقال السیوطی صححہ ابن العربی۔
موت کفارہ گناہ ہے ہر سُنی(عہ)مسلمان کے لیے۔ اسے ابو نعیم اور بیہقی نے شعب الایمان میں انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیااور علامہ سیوطی نے فرمایا کہ ابن عربی نے اس کی تصحیح کی ۔
(۱؎ شعب الایمان حدیث ۹۸۸۶ دارلکتب العلمیۃ بیروت ۷/ ۱۷۱)
عہ: فائدہ جلیلہ: محاورہ قرآن وحدیث میں مومن ومسلم خاص اہلسنت کو کہتے ہیں زمانہ نزولِ قرآن عظیم وارشاد حدیث کریمہ میں صرف اہل سنت وجماعت ہی تھے، ا س زمانے برکت نشان میں کسی بدمذہب ومبتدع کا ہونا محال تھا کہ بدمذہبی شبہ وتاویل سے پیدا ہوتی ہے جسے یقین قطعی سے بدلنے والے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دنیا میں جلوہ فرما تھے، اگر شبہ گزرتا حضور کشف فرماتے، شبہ والامانتا تو سُنی ہوتا، نہ مانتا تو کافر ہوجاتا، یہ بیچ کی شق وہاں ممکن ہی نہ تھی، ولہذا آیہ کریمہ
'' ویتبع غیر سبیل المؤمنین''
سے جب علماء نے حجیتِ اجماع پر استدلال کیا تصریح فرمادی کہ مبتدعین کااتفاق اجماع میں ملحوظ نہیں کہ مومنین سے مراد اُمتِ اجابت ہیں۔ مبتدعین اُمتِ اجابت نہیں اُمت دعوت ہیں دیکھوتوضیح وتلویح بحث اجماع وغیرہ۔ یہ فائدہ نفیسہ یادرکھنے کاہے کہ
انما المؤمنون اخوۃ ''
وغیرہا آیات واحادیث میں مومنین سے اہلسنت ہی مراد ہیں، انھیں کے باہم اتفاق واتحاد کا حکم ہے ۔ ندوۃ خذلہا اﷲ تعالٰی کی تعمیم اور تمام گمراہوں، بدمذہبوں سے اتحاد و داد کی تعلیم سب بے دینوں کی تکریم وتعظیم پر ان نصوص کو پیش کرنا محض بددینی اور ضلالت ہے
والعیاذ باﷲ تعالٰی ۱۲منہ
اسی طرح نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے حکم دیا کہ فاجر معلن کے فسق وفجور کا اس کی اندگی میں اعلان کیا جائے تاکہ لوگ ا س سے احتراز کریں۔
اخرج ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ والترمذی فی النوادر والحاکم فی الکنی، والشیرازی فی الالقاب وابن عدی فی الکامل والطبرانی فی الکبیر والبیھقی فی السنن والخطیب فی التاریخ ، کلھم عن الجارد عن بھزبن حکیم عن ابیہ عن جدہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اترعون عن ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا الفاجر بما فیہ یحذرہ الناس ۱؎ ۔
ابن ابی الدنیا نے ذمِ الغیبۃ میں اور ترمذی نے نوادر میں اور حاکم نے کنی میں او رشیرازی نے القاب میں اور ابن عدی نے کامل میں اور طبرانی نے کبیر میں اور بیہقی نے سنن میں اور خطیب نے تاریخ میں سب نے جارود سے ، جاورد نے بہزبن حکیم سے، انھوں نے اپنے باپ سے اور ان کے دادانے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی کہ کیا تم فاجر کاذکر کرنے سے ڈرتے ہو، لوگ اسے کب پہچانیں گے، فاجر کی بُرائیاں بیان کرو تاکہ لوگ اس سے بچیں ۔
(۱؎ نوادر الاصول اصل نمبر ۶۶فی ذکر الفاجر الخ دارصادر بیروت ص ۲۱۳
تاریخ بغداد ترجمہ ۳۷۴۵ و ۳۷۵۱ دارالکتاب العربی بیروت ۷/ ۲۶۲ و ۲۶۸ و ۱/ ۳۸۲)
اوربعد موت کیسا ہی فاسق فاجر ہو اس کے برا کہنے اور اس کی برائیاں ذکر کرنے سے منع فرمایا کہ وہ اپنے کئے کو پہنچ گیا۔
اخرج الامام احمد والبخاری والنسائی عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال لاتسبوا الاموات فانھم قدا فضوا الی ماقدموا ۱؎۔ واخرج ابوداؤد والترمذی والحاکم والبیھقی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذکر محاسن موتاکم وکفّوا عن مساویھم ۲؎ واخرج النسائی بسند جید عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنھا عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتذکروا ھلکاکم الابخیر ۳؎ ۔
امام احمد، بخاری اور نسائی نے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کی انھوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے، فرمایا :'' تم مردوں کو برا نہ کہو کیونکہ انھوں نے جو کچھ کیا تھا وہ اس کی جزا کو پہنچے''۔ اور ابوداؤد،ترمذی، حاکم، بیہقی نے ابن عمر سے انھوں نے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی کہ ''تم اپنے مُردوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی برائیوں سے درگزر کرو''۔ اور نسائی نے بسند جید عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کی اور انھوں نے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے کہ '' تم اپنے مردوں کو بھلائی سے ہی یاد کرو ۔''
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ماینہی من سب الاموات قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۷)
(۲؎ سنن ابی داؤد باب مافی النہی عن سب الموتٰی آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۱۵)
(۳؎ سنن النسائی النہی عن ذکر الہلکی الابخیر مکتبہ سلفیہ لاہور ۱/ ۲۲۲)
بعد اس اطلاع کے بھی اگر ایسے اشخاص اپنی حرکت سے باز نہ آئیں تو اب ان کی گستاخیاں عوام مومنین کے ساتھ ہی نہیں بلکہ حضرات اولیائے کرام کے ساتھ بھی ہوں گی، اور اشد واعظم مصیت اس کی جواولیاء کی جناب رفیع میں گستاخی ہو، نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: اﷲ جل جلالہ فرماتا ہے:
من عادی لی ولیا فقد اٰذنتہ بالحرب ۴؎۔ رواہ الامام البخاری عن سیدنا ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جو میرے کسی ولی سے دشمنی باندھے میں نے اس سے لڑائی کا اعلان کردیا، اسے امام بخاری نے سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔
(۴؎ صحیح البخاری کتاب الرقاق باب التواضع قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۶۳)
اقول وکفی بالجامع الصحیح حجۃً وان کان فی قلب الذھبی ماکان۔
اقول دلیل کے طور پر جامع صحیح کا حوالہ کافی ہے اگر چہ مریب کے دل میں کچھ شک گزرے۔
غرض ان لوگوں پر ضرور ہے کہ اپنے حال سقیم پر رحم کریں اور خدائے جبار قہّار جل جلالہ کے انتقام سے ڈریں اور مسلمانوں کے اموات کو ایذانہ پہنچائیں، آخر انھیں بھی اپنے امثال کی طرح ایک دن زمین میں جانا اور بیکس بے بس ہوکر پڑنا ہے۔ جیسا کہ آج یہ لوگوں کے ساتھ پیش آتے ہیں ویسا ہی اور لوگ کل ان کے ساتھ کریں گے۔
عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کما تدین تدان ۱؎۔ اخرجہ ابن عدی فی الکامل عن ابن عمرواحمد فی المسند عن ابی الدرداء وعبدالرزاق فی الجامع عن ابی قلابۃ مرسلاً وھو عندالاٰخرین قطعۃ حدیث، قلت ولہ شواھد جمۃ، وھو من جوامع کلمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
سرکار دوعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا فرمان ہے جیسا کروگے ویسا بھرو گے،۔ اسے ابن عدی نے کامل میں ابن عمر سے ، احمد نے مسند میں ابی الدردا سے اور عبدالرزاق نے جامع میں ابو قلابہ سے مرسلاً روایت کیاہے، او رآخری دو کے نزدیک یہ حدیث کاٹکڑا ہے، قلت (میں کہتاہوں) اس کے لیے شواہد کثیر ہیں اور یہ حدیث حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے جامع کلمات میں سے ہے (ت)
(۱؎ کنزالعمال بحوالہ ابن عدی عن ابن عمر حدیث ۴۳۰۳۲ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۵/ ۷۷۲)
اﷲ تعالٰی کی طرف شکوے کہ یہ بلا ان جاہلوں میں ان اجہلوں کی پھیلائی ہوئی ہے جنھوں نے اموات کو بالکل پتھر سمجھ لیا کہ مرگئے اور خاک ہوگیے، نہ اب کچھ سنیں نہ سمجھیں، نہ کسی چیز سے ایذا یا راحت پائیں او رجہاں تک بَن پڑا قبور مسلمین کی عظمت قلوبِ عوام سے چھیل (سلب کر) ڈالی ۔