Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
101 - 243
اقول وھذا نص علی مااخترنا من کراھۃ التحریم اذالا اثم فی المکروہ تنزیھا۔ لان مرجعہ الٰی  خلاف الاولٰی ، ولا نہ ربما تعمدہ النبی صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم بیاناً للجواز والنبی  معصوم عن تعمد الاثم ولان الموثم لایجوز فلا معنی لبیان الجواز ولانھم صرحوانہ یجامع الاباحۃ کما فی اشربۃ ردالمحتار، ابی السعود، والمعصیۃ لاتجامعھا ولانھم یعبرون عنھا بنفی الباس وای باسٍ اعظم من الاثم والان الموثم واجب الترک وماوجب ترکہ کان فعلہ مقار بالحرام وھذا معنی کراھۃ التحریم والانھم نصوا ان فاعل المکروہ تنزیھا لا یعاقب اصلا کما فی التلویح مع مااعتقدنا ان اﷲ تعالٰی  ان یعاقب علٰی  کل جریرۃ ولوصغیرۃ فھذہ بحمد اﷲ تعالٰی  سبعۃ دلائل ناطقۃ بان ماوقع عن بعض(عہ)  ابناء الزمان فی رسالۃ شرب الدخان من ان  المکروہ تنزیھا من الصغائر غلط فاحش وخطاء عظیم نعم قد صرح صاحب البحر فی بحرہ ان المکروہ تحریما منھا فتثبت ولاتخبط۔
اقول (میں کہتا ہوں) یہ بھی ہمارے اختیار کردہ قول کراہت تحریمہ صراحت کرتا ہے ، کیونکہ مکروہ تنزیہی میں کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ وہ صرف خلافِ اولٰی  ہے نیزحضور صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے بیان جوازِ کے لیے قصداً ایسا کیا اور نبی قصداً گناہ کرنے سے معصوم ہوتا ہے، او رگناہ میں مبتلا کرنے والی چیز کا ارتکاب جائز نہیں ہوتاتو بیانِ جواز کے کیا معنی ؟ پھر یہ اباحت کے ساتھ مجتمع ہوتا جیساکہ اشربہ ردالمحتار میں ابی السعود سے ہے  اور معصیت اباحت کے ساتھ مجتمع نہیں ہوتی ہے۔ پھر اس کی تعمیر نفی باس سے کرتے ہیں اور گناہ سے بڑھ کر کون باس عظیم ہوگا ، اور اسی لیے گنہگار بنانے والی چیز واجب الترک ہے اور جس چیز کا ترک واجب ہو اس کا فعل حرام کے قریب ہوگا اور یہی معنی کراہت تحریم کے ہیں، اوراس لیے بھی کہ فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ مکروہ وہ تنزیہی کے فاعل پر بالکل گناہ نہ ہوگا جیسا کہ تلویح میں ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اﷲ چھوٹے سے چھوٹے جُرم پر سزادے سکتاہے بحمد اﷲ تعالٰی  یہ ساتھ دلائل ہیں جن سے معلوم ہواکہ بعض بناءِ زمانہ نے رسالہ شرب الدخان میں مکروہ تنزیہی کو صغائر سے بتاکر فاحش غلطی اور خطاء عظیم کی ہے۔ البتہ صاحبِ بحرنے اپنی بحرمیں تصریح کی ہے کہ مکروہ تحریمی صغائر سے ہے۔ پس اسے سمجھ اور دیوانہ نہ بن۔
عہ:   ھو المولوی عبدالحی اللکہنوی ۱۲
 وہ مولوی عبدالحی لکھنوی ہے ۱۲(ت)
نورالایضاح اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں ہے :
فصل فی زیارۃ القبور ندب زیارتھا من غیر ان یطأ  القبور  ۱؎ ۔
''فصل زیارت قبور کے بیان میں'' زیارت قبور مستحب ہے مگر قبریں نہ روندی جائیں ۔
 ( ۱؎ مراقی الفلاح علی ھامش الطحطاوی فصل فی زیارۃ القبور نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۳۴۰)
اسی میں ہے :
کرہ وطؤھا بالاقدام لما فیہ من عدم الاحترام، وقال قاضی خان لو وجد طریقا فی المقبرۃ وھو یظن انہ طریق احد ثوہ لایمشی فی ذلک وان لم یقع فی ضمیرہ لابأس بان یمشی فیہ ۱؎ اھ ملخصا۔
قبروں کو پیروں سے روندنا مکروہ ہے کیونکہ اس میں بےحرمتی ہے۔ قاضی خاں نے کہا کہ اگر کسی شخص نے قبرستان میں کوئی راستہ دیکھا جس کے بارے میں اسے گمان ہے کہ یہ لوگوں نے نیا بنالیا ہے تو وہ اس پرنہ چلے  اگر اس کے دل میں اس قسم کا خیال پیدا نہ ہوتو چلنے میں مضائقہ نہیں اھ ملخصاً،
 (۱؎ مراقی الفلاح علٰی  ھامش حاشیۃ الطحطاوی فصل فی زیارۃ القبور نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۴۲)
اقول وھذا ایضادلیل مااخترناہ فانہ علق نفی البأس ان لایقع فی قلبہ انہ طریق علٰی  قبر فافادو البأس فیما اذا وقع ذلک فی نفسہ وایضاقد تقدم التصریح بالحرمۃ عن الشامی والطحطاوی عن علمائنا رحمھم اﷲ تعالٰی ۔
اقول (میں کہتا ہوں)یہ بھی ہمارے قول کی دلیل ہے کیونکہ اس میں جواز کی صورت دل میں اس خیال کا نہ آناہے کہ یہ راستہ قبروں پر بنایا گیا ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہو اکہ اگر اس کے دل میں اس قسم کاخیال پیدا ہو تو پھر مضائقہ ہوگا۔ نیز شامی اور طحطاوی جو ہمارے علماء ہیں رحمہم اﷲ تعالٰی  ان سے منقول شدہ حرمت کی تصریح پہلے گزر چکی ہے ۔
علامہ اسمٰعیل نابلسی حاشیہ درر وغرر میں فرماتے ہیں:
لاباس بزیارۃ القبور والدعاء للاموات ان کانوا مومنین (عہ) من وطئ القبور۔ کما فی البدائع والملتقط۲؎ اھ۔
قبروں کی زیارت اور مردوں کے حق میں دعا کرنے میں حرج نہیں بشرطیکہ قبریں نہ روندی جائیں، جیساکہ بدائع اور ملتقط میں ہے۔
عہ : علٰی  صیغۃ المفعول ای اٰمنین ۱۲
  مؤمنین صیغہ مفعول ہے یعنی جب وہ محفوظ رہیں۱۲ (ت)
 (۲؎ الحدیقۃ الندیۃ بحوالہ شرح الدرر الصنف الثامن فی آفات الرجل مکتبہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۵۰۵)
طریقہ محمدیہ میں ہے :
من اٰفات الرجل المشی علی المقابر ۳؎ اھ۔
  پَیر کی آفتوں میں سے قبروں کاروندنا ہے ۔اھ
 (۳؎ طریقہ محمدیہ    الصنف الثامن فی آفات الرجل    مطبع ہندو پریس دہلی    ۲/ ۲۵۹)
امام علامہ محقق علی الاطلاق ان لوگوں پر اعتراض فرماتے ہیں جن کے اعزّاء واقراباء کے گرد مخلوق دفن ہے،وہ ان قبروں کو روند تے ہوئے اپنے عزیزوں کی گورتک جاتے ہیں، انھیں چاہئے کنارِ گورستان سے زیارت اور دعا کرلیں اور ان کی قبروں کے قریب نہ جائیں۔
  فقد قال فی الفتح یکرہ الجلوس علی القبرو وطؤہ فما یصنعہ الناس ممن وفنت اقاربہ ثم دفن حوالیھم خلق من وطأتک القبور الی ان یصل الٰی  قبر قریبہٖ مکروہ ۱؎ ۔
چنانچہ فتح میں کہا: قبرپر بیٹھنا اور اس کوروندنا مکروہ ہے، تووہ لوگ جن کے رشتہ داروں کے گرد دوسروں کی قبریں ہوں ان کا ان قبروں کو روندنا اپنے قریبی رشتہ دار کی قبر تک پہنچنے کے لیے مکروہ ہے ۔
 (۱؎ فتح القدیر     فصل فی الدفن      مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۲/ ۱۰۲)
امام محدث حافظ الحدیث ابوبکر بن ابی الدنیا حضرت ابو قلابہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے راوی ہے :
اقبلت من الشام الی البصرۃ فنزلت الخندق فتطھرت وصلّیت رکعتین باللیل ثم وضعت راسی علٰی  قبرٍ فنمت۔ ثم انتبھت فاذا بصاحب القبر یشتکی ویقول لقد اٰذیتنی منذ اللیلۃ ۲؎الخ۔
یعنی میں ملک شام سے بصرہ کوآتاتھا۔ رات کو خندق میں اُترا۔ وضو کیا اور دورکعت نماز پڑھی۔ پھرا یک قبر پرسر رکھ کر سورہا، جب جاگا تو ناگاہ سُنا کہ صاحب قبر شکایت کرتا اور فرماتا ہے کہ تونے رات بھر مجھے ایذا پہنچائی الخ۔
 (۲؎ شرح الصدور  بحوالہ ابن ابی الدنیا باب ماینفع المیّت فی قبرہ خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص ۱۲۸)
ابن ابی الدنیا اور امام بہیقی دلائل النبوۃمیں حضرت عثمان نہدی سے وہ مینا تابعی سے راوی: ''میں مقبرے میں گیا ، دورکعات پڑھ کر لیٹ رہا۔ خدا کی قسم! میں خوب جاگ رہاتھا کہ سُنا، صاحب قبر کہتا ہے :
قم فقد اٰذیتنی ۳؎
 ( اُٹھ کہ تونے مجھے ایذا دی ) ۔''
(۳؎ دلائل النبوۃ للبہیقی  باب ماجاء فی الرجل الخ    دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۷/ ۴۰)
Flag Counter