| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز) |
فی النوادر والتحفۃ والبدائع والمحیط وغیرھا ان اباحنیفۃ کرہ وطء القبر ولقعود او النوم اوقضاء الحاجۃ علیہ ۱؎کذا نقل العلامۃ ابن امیر الحاج فی الحلیۃ۔ اقول والکراھۃ عند الاطلاق کراھۃ تحریم کما صرحوا بہ مع مایفیدہ من النھی الواردفی الاحادیث معللاً بالایذاء والایذاء حرام فھذا ماندین اﷲ تعالٰی بہ وان قیل وقیل۔
تحفہ، بدائع اور محیط وغیرہ میں ہے کہ ابو حنیفہ نے قبر کا روندنا ، بیٹھنا، سونا، اس پرقضائے حاجت کرنا مکروہ کہا ہے، اسی طرح ابنِ امیر الحاج نے حلیہ میں نقل کیا میں کہتا ہوں جب کراہت مطلق ہو تو مراد کراہت تحریم ہوتی ہے جیساکہ فقہاء نے تصریح کی ہے ، پھر اس نہی سے بھی تائید ہوتی ہے جو احادیث میں ایذاء کی علت سے متعلق وارد ہے اور ایذا حرام ہے پس دیانتداری کی بات یہی ہے ، اب خواہ کوئی کچھ کہتا رہے۔
(۱؎ بدائع الصنائع فصل فی سُنۃ الدفن ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۳۲۰ تحفۃ الفقہاء باب الدفن وحکم الشہداء دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/ ۲۵۷)
حاشیہ طحطاوی علی شرح نورالایضاح میں سراج وہاج سے ہے :
ان لم یکن لہ طریق الاّ علی القبر جازلہ دلیل علیہ للضرورۃ ۲؎ اھ اقول وھذا ایضا دلیل علی مااخترنا من کراھۃ التحریم فان المفھوم المخالف معتبر فی الروایات وکلام العلماء بالاتفاق فافادان المشی لایجوز بلاضرورۃ ومالایجوز فادناہ کراھۃ التحریم۔
اگرقبر پر ہی سے راستہ ہو تو اس پر چلنا ضرورتاً جائز ہے۔ اھ اقول (میں کہتا ہوں) اس سے بھی ثابت کہ ہماراقول کراہت تحریمی کا درست ہے، کیونکہ مفہوم مخالف روایات اور کلام علماء میں بالاتفاق معتبر ہے، تو معلوم ہوا کہ بلاضرورت قبر پر چلنا ناجائز ہے او رجو ناجائز ہو اس کا ادنٰی درجہ مکروہ تحریمی ہے۔
(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی زیارۃ القبور نور محمد کارخانہ تجارت کتب کرا چی ص۳۴۰)
سیدی عبدالغنی بابلسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں :
قال الوالد رحمہ اﷲ تعالٰی فی شرح علی الدرر ویکرہ ان یوطء القبر لماروی عن ابن مسعود ۳؎ الخ و ذکر اثرالذی رویناہ۔
والد صاحب نے درر کی شرح میں فرمایا کہ قبر کا روندنا مکروہ ہے جیسا کہ ابنِ مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ سے مروی ہے الخ، پھر آپ نے وہی اثر ذکر کیا جو ہم روایت کرچکے ہیں ۔
(۳؎ حدیقہ ندیہ الصنف الثامن من الاصناف التسعۃ فی آفات الرجل نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۵۰۴)
اور محیط سے نقل فرمایا :
یکرہ ان یطاء علی القبر بالرجل ویقعد علیہ ۱؎ اھ قولہ یعنی بالرجل قلت فسّر بذٰلک لتلاّ یحمل علی الجماع۔
قبر کو پیر وں سے روندنا او راس پر بیٹھنا مکروہ ہے اھ قلت پیروں سے ورندنے کی تشریح اس لیے کردی کہ جماع پر محمول نہ کیا جائے۔
(۱؎ حدیقہ ندیہ الصنف الثامن من الاصناف التسعۃ فی آفات الرجل نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۵۰۴)
اقول ویکرہ ایضاً بل اشد لما فیہ من زیارۃ الاستخفاف کا لوطأ علی سطح المسجد مع الدلالۃ علٰی تناھی القلب فی تناسی الموت، فکان الحمل علی الوطأ بالرجل لیکون ادخل فی النھی عن الوطأ بمعنی الجماع بطریق دلالۃ ینبغی ان یفھم، او رجامع الفتاوٰی سے لائے : انہ والتراب الذی علیہ حق المیّت فلا یجوز ان یوطأ۲؎۔ اور مجتبٰی سے لائے : ان المشی علی القبور یکرہ۳؎۔
اقول (میں کہتا ہوں) جماع بھی مکروہ ہے بلکہ اس کی کراہت زائد ہے کیونکہ اس میں زیادہ توہین ہے، جیسے مسجد کی چھت پر وطی کرنا، پھر اس میں موت کا بھول جانا بھی شامل ہے۔لہذا پیروں سے روندنے پر محمول کرنا اس لیے ہے تاکہ جماع کی ممانعت پر بطریق دلالت النص دلالت کرے، یہ مطلب نہیں کہ وطی مکروہ نہیں، اسی طرح سمجھنا چاہئے، او رجامع الفتاوٰی سے نقل کیا کہ یہ وُہ مٹی ہے جس پر میّت کا حق ہے لہذا اس کو روندناجائز نہیں، اور مجتبٰی میں ہے : قبروں پر چلنا مکروہ ہیے۔
(۲؎ حدیقہ ندیہ الصنف الثامن من الاصناف التسعۃ فی آفات الرجل نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۵۰۴) (۳؎ حدیقہ ندیہ الصنف الثامن من الاصناف التسعۃ فی آفات الرجل نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۵۰۴)
اور شرعۃ الاسلام وشرح شرعہ سے: من السنۃ ان لایطأ القبور فی نعلیہ فان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یکرہ ذلک ۴؎ الخ۔ اور امام شمس الائمہ حلوانی سے : وانہ قال یکرہ ۵؎۔ اور امام علی ترجمانی سے: قال یأثم بوطئ القبور لان سقف القبر حق المیّت ۶؎ اھ۔
شرعۃ الاسلام اور اس کی شرح میں ہے: سنت یہ ہے کہ جوتوں سمیّت قبریں نہ روندی جائیں کیونکہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اسے مکروہ سمجھتے تھے __ اور شمس الائمہ حلوانی نے کہا کہ یہ مکروہ ہے __ اور امام علی ترجمانی سے ہے کہ قبروں کے روندنے سے گنہگار ہوگا کیونکہ قبرکی چھت میّت کا حق ہے۔
(۴؎ حدیقہ ندیہ الصنف الثامن من الاصناف التسعۃ فی آفات الرجل نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۵۰۵) (۵؎ حدیقہ ندیہ الصنف الثامن من الاصناف التسعۃ فی آفات الرجل نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۵۰۵) (۶؎ حدیقہ ندیہ الصنف الثامن من الاصناف التسعۃ فی آفات الرجل نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۵۰۵)