Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
99 - 144
مسئلہ۱۳۶۸: از شہر کانپور توپ خانہ بازار قدیم مسجد صوبیدار مرحوم معرفت مولانہ مولوی حافظ عبید اﷲ صاحب مرسلہ محمد جعفر ۶ ربیع الاول۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مجموعہ خطب علمی کا پڑھنا نماز جمعہ و عیدین میں جائزہے یا نہیں؟ چونکہ اس خطبہ میں کچھ اشعار اردو کے بھی شامل ہیں اسی وجہ سے تمام ہندوستان کے لوگ جن کی زبان اردو ہے اس کو بہت شوق سے سنتے ہیں اور اکثر بزرگ اس خطبہ کو بکثرت نماز جمعہ وعیدین میں پڑھا کرتے ہیںسید محبوب علی شاہ صاحب سکندریہ حیدر آباد دکھن جومرید بھی کرتے ہیں اور وعظ بھی فرماتے ہیں انھوں نے بمبئی محلہ کماٹی پورہ گلی نمبر۵ میں بآواز بلند بعد نماز جمعہ یہ فرمایا کہ مجموعہ خطب علمی کا پڑھنا اور سننا نماز جمعہ وعیدین میں ناجائز ہے اس سے نماز نہیں ہوتی ہے کیونکہ علمی کا مذہب رافضی تھا، لہذا بکمال ادب مستدعی ہوں کہ اس مسئلہ میں شرعا کیا حکم ہے، آیا مجموعہ خطب علمی کا پڑھنا اور سننا نماز جمعہ و عیدین میں ناجائز ہے یا نہیں، اور علمی کا مذہب کیا تھا؟ علمی نے خطبہ میں صحابہ کرام کی تعریف اور مدح بھی کی ہے مع حوالہ کتاب مطلع فرمائے، کہ نماز جمعہ وعیدین مجموعہ خطب مذکور بالا پڑھنے سے جائز ہوگی یا نہیں؟ اور درحقیقت اگر علمی کا مذہب اہلسنت والجماعت تھا تو جو شخص علمی کو رافضی کہے اس کے حق میں کیا حکم ہے اوراس کے پیچھے نمازپڑھنا جائز ہے یا نہیں، اور اس کا مرید ہونا کیساہے ؟ بینوا توجروا
الجواب

مولٰنا محمد حسن علمی بریلوی رحمۃ اﷲ علیہ سُنّی صحیح العقیدہ اور واعظ وناصح اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کے مداح اور میرے حضرت جد امجد قدس سرہ العزیز کے شاگرد تھے انھیں رافضی نہ کہے گا مگر کوئی ناصبی یا خارجی، دکھنی صاحب نے اگر کسی کی سُنی سنائی بے تحقیق کہہ دی تویہ آیۃ کریمہ:
فتبینوا ان تصیبوا قوما بجھا لۃ فتصبحوا علی مافعلتم نٰدمین ۱؎o
تحقیق کرلو کہیں جہالت کی وجہ سے کسی قوم پر حملہ آور نہ ہوجاؤ تو پھر تم اپنے کئے پر نادم ہوجاؤ۔ (ت)کاخلاف کیا
 (۱؎القرآن    ۴۹/۶)
صحیح حدیث:
لاتذکروا موتاکم الابخیر ۲؎  رواہ البخاری وغیرہ۔
اپنے فوت شدگان کو اچھائی سے یاد کیا کرو، اسے بخاری وغیرہ نے روایت کیا ۔(ت)
 (۲؎ اتحاف السادۃ المتقین    کتاب آفات اللسان  الافۃ الثامنۃ    مطبوعہ دارالفکر بیروت  ۷/۹۱ ─۴۹۰)
اور حدیث صحیح :
کفا بالمرء کذابا ان یحدث بکل ماسمع ۱؎ رواہ مسلم وغیرہ۔
کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ سنی سنائی بیان کردیتا ہے، اسے مسلم وغیرہ نے روایت کیا۔ (ت)
 (۱؎ صحیح مسلم    النہی عن الحدیث بکل ماسمع            مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی   ۱/۸)
آیت کا ارشادیہ ہے کہ غیر ثقہ کی خبر خوب كی تحقیق کرلو کہیں کسی کو جہالت سے آزاردے بیھٹو پھر اپنے کئے پر پچھتاتے ہو، اور حدیث اول کا کہ اپنے اموات کو خیر ہی سے یاد کرو اور دوم یہ کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کو یہ بہت ہے کہ جو کچھ سنے اس پر اعتبار کرکے لوگوں سے بیان کردے اور اگر اپنی طرف سے کہا تو آفت سخت تر ہے:
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من ذکر امرأ بما لیس فیہ لیعیبہ بہ حبسہ اﷲ فی نارجھنم حتی یاتی بنفاذ ماقال فیہ ۲؎۔
جو کسی کے عیب لگالے کو وہ بات بیان کرے جو اس میں نہیں اﷲ اسے نار جہنم میں قید کرے گا یہاں تک کہ اپنے کئے کی سند لائے۔
(۲؎ معجم اوسط    حدیث ۸۹۳۱      مکتبۃ المعارف الریاض    ۹/۴۳۲)
دوسری روایت میں ہے :
کان حقا علی اﷲ ان یذیبہ یوم القیٰمۃ فی النار حتی یاتی بانفاذ ماقال ۳؎ ۔ رواہ طبرانی بسند صحیح عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اﷲ پر حق ہے کہ جب تک اپنی اُس بات کا ثبوت پیش نہ کرے اُسے اتشِ دوذخ میں پگھلائے، اسے طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ ابی درداء رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے روایت کیا۔
 (۳؎معجم الاوسط     بحوالہ الطبرانی ا لکبیر    باب فی الشہود    دارالکتاب بیروت        ۴/۲۰۱)
اور بفرضِ غلط اگر معاذ اﷲ کوئی بد مذہب ہی خطبہ تصنیف کرے اور وہ صحیح ہو اس میں کوئی بد مذہبی نہ ہو تواس کے پڑھنے سے نماز کیوں ناجائز ہونے لگی۔ یہ دل سے مسئلہ گھڑنا اور شریعتِ مطہرہ پر افتراء کرنا ہے، ہاں اردو زبان خطبہ میں ملانا نہ چاہئے کہ خلاف سنت متوارثہ ہے یہ دوسری بات ہے اسے عدمِ جوازِ نماز سے کیا علاقہ ، شخص مذکور اگراپنی ان حرکات پر مصر  رہے اور تائب نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز نہ چاہئے نہ اس کے ہاتھ پر بیعت،
ویتوب اﷲ علی من تاب
 ( اﷲ تعالٰی  ہر تو بہ قبول کرنے والے پر کرم فرماتا ہے، ت) واﷲ تعالٰی  اعلم بالصواب
مسئلہ۱۳۶۹: از سرکوں تحصیل کھٹیما ڈاک خانہ ٹنک پور مرسلہ ننھّے خاں صاحب ۱۳ جمادی الآخرہ۱۳۳۸ھ

جمعہ کی نماز ہر شخص پر فرض ہے سوا اُن کے جن کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے مستثنی فرمادیا، مشکوٰۃ شریف صفحہ۱۱۳ باب وجوب الجمعہ میں طارق ابن شہاب سے مرفوعاً روایت ہے کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے کہ جمعہ حق ہے اور واجب ہے مگر چار پر ، غلام اورعورت اور نابالغ اور بیمار، یعنی ان چار کے سوا سب پر واجب ہے ،خود کسی کا نوکر ہو یا سودا گر یا کھیتی والا یا مزدورہو، بعض روایت میں مسافر کا بھی ذکر ہے، اور اسی کتاب کے اُسی صفحہ میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی  عنہما سے مرفوعا روایت ہے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے کہ باز آئیں لوگ جمعہ کا ناغہ کرنے سے ورنہ اﷲ تعالٰی  ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر وہ منافقوں میں سے ہوجائیں گے یعنی ان کا نام منافقوں کے دفتر میں لکھا جائے گا، ہاں اتنی قید اور شرط تو حدیث میں آئی ہے کہ جماعت کے ساتھ پڑھو، سوجماعت کا مسئلہ یہ ہے کہ جب ایک سے زیادہ ہوئے خواہ دو ہوں یا زیادہ ان کو جماعت کہتے ہیں، چنانچہ مشکوٰۃ شریف باب الجماعۃ وفضلہا ف۳ابو موسٰی  اشعری سے مرفوعا روایت ہے اور مشکوٰۃ شریف کے باب الجمعہ میں روایت ہے کہ حضرت رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص تین جمعے بلا ضرورت نہ پڑھے تو لکھا جاتا ہے منافق اس کتاب میں جو نہ مٹتی ہے نہ بدلتی ہے، لہذا نمازِ جمعہ ہر جگہ پڑھنا چاہئے خواہ شہر ہو یا گاؤں ہو یا جنگل ہو یا بَن ہو کیونکہ حدیث شریف میں کوئی خصوصیت نہیں آتی ہے۔ فقط حررہ محمد اشرف خاں عفی عنہ۔
الجواب

جمعہ بَن میں حرام ہے اور گاؤں میں ناجائز ہے اور عمومات اپنے شروط سے مشروط ہوتے ہیں، احادیث سے جو جاہلانہ استناد کسی جاہل نے کیا ہے وہ اگر دامنِ ائمہ چھوڑے تو یہی بتائے کہ یہ حدیثیں اس نے شروع میں کیونکر حجت قراردیں، اﷲ تعالٰی  نے سورہ جمعہ میں
یا یھاالذین اٰمنوا ۱؎
 ( اے ایمان والو) مطلق ارشاد فرمایا ہے
(۱؎ القرآن   ۶۲/۹)
اس میں عورت یا بچے یا غلام یا مریض یا مسافر کسی کا استثنا نہیں تو کیوں نہیں کہتا کہ چار برس کے بچے پر بھی جمعہ فرض ہے وہ احادیث سب خبر آحاد ہیں اور خبرِ احاد موجب ظن، تو ان سے استدلال کرنا اس کو حرام اور قرآن مجید کے خلاف ہے۔اﷲ تعالٰی  فرماتا ہے :
ان یتبعون الا الظن ۲؎
( وہ نہیں اتباع کرتے مگر طن کی ۔ ت)
 (۲؎ القرآن        ۱۰/۶۶ )
اور فرماتا ہے :
ان الظن لایغنی من الحق شیئا ۱؎
 ( بلا شبہہ ظن حق سے بے نیاز نہیں کرسکتا ۔ت)
 (۱؎ القرآن  ۱۰/ ۳۶)
تو ان پر عمل خصوصاً عموم قرآن مجید کے خلاف کیونکر اس نے حلال کرلیا ،اور یہ بھی اس وقت ہے کہ ان احادیث آحاد کی صحت ثابت کرلے، ائمہ مجتہدین کا اجتہاد نہ ماننا اور بخاری و مسلم کی تصحیح یا نسائی و دارقطنی کی تعدیل وتخریج پر اعتماد کر نا ظلم شدید وجہل بعید ہے، کون سی آیت یا حدیث میں آیا ہے کہ بخاری جس حدیث کو صحیح کہہ دیں اسے مانو اور جسے ضعیف کہہ دیں اسے نہ مانو  يا یحٰی  وشعبہ جسے ثقہ کہہ دیں اسے معتمد  جانو اور ضعیف کہہ دیں تو ضعیف جانو، قرآن و حدیث متواترہ اجماع امت کو حجت بتاتے ہیں، اور اجماع امت ہے کہ جمعہ کا حکم مطلق وعام نہیں مقید بقیود مشروط بشرائط ہے اور جو اجماع کا خلاف کرتا ہے قرآن عظیم فرماتا ہے:
نصلہ جھنم وساءت مصیرا o ۲؎
ہم اسے جہنم میں ڈالیں گے وہ بہت بری پھرنے کی جگہ ، واﷲ تعالٰی  اعلم
(۲؎ القرآن       ۴/۱۱۵)
مسئلہ ۱۳۷۰: مرسلہ جناب جد الحسین از فرید پور مورخہ۲۲  جمادی الآخرہ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں معہ چند اشخاص اپنے محلے کی مسجد کوچھوڑ کردوسرے محلہ کی مسجد جاکر نمازِ جمعہ کو ادا کرنا باوجود اس کے کوئی طریقہ فضیلت نہیں رکھتی ہے نہ مسجد بڑی نہ جماعت کثیر نہ امام افقہ، ہاں اتنا ہے کہ دوسرے محلہ کی مسجدربع میل اور اپنے محلہ کی مسجد ثلث میل فاصلہ پر ہے جائز یا نہیں؟ اور ان لوگوں کے جانے کی وجہ سے اپنے محلہ کی مسجد میں جماعت کم ہوتی ہے اکنوں ان لوگوں کو منع کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اور برتقدیر منع نہ کرنے کے ان لوگوں کے ساتھ اور لوگوں کے بھی جانے کا احتما ل ہے اور بصورت جائز ہونے کے کون سی مسجد میں افضل ہے ؟ بینواتوجروا
الجواب

جمعہ مسجد جامع میں افضل ہے، مسجد محلہ کا حق نماز پنجگانہ میں ہے، جب ہو جامع نہیں اور دوسری جگہ جانے میں ان کو آسانی ہے تو ممانعت کی کوئی وجہ نہیں۔ واﷲ تعالٰی  اعلم
Flag Counter