Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
97 - 144
مسئلہ۱۳۵۷: عبدالستار ابن اسمعیل از رنگون ۲ ربیع الاول ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس شہر میں جمعہ کی نماز پڑھا نے والا دیوبندی یا بد عقیدہ اور دوسری کسی مسجد میں بھی جمعہ نہ ہوتا ہو یا تمام مساجد جہاں جمعہ کی نماز ہوتی ہے ان کے امام بد مذہب ہوں تو ایسی صورت میں اہل سنت جمعہ کو ترک کرے یا کوئی اور حکم ہے؟ نیز ایسا ہی عیدین کی نماز کا کیا حکم ہے؟
الجواب

جب صور ت ایسی ہو تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ کسی مسلمان صالح امامت کو اپنا امام مقرر کریں اس کے پیچھے جمعہ و عیدین پڑھیں ، جمعہ قائم کرنے کے لئے اگر کوئی مسجد بنائیں تو اذن عام مسلمین واشتہار کے ساتھ کسی میدان خواہ مکان میں  پڑھیں اور اگر اس پر قدرت نہ ہو اور سب مساجد کے امام دیوبندی یا وہابی یا غیرمقلد یا نیچری یا مرزائی وغیر ہم مرتدین ہیں تو فرض ہے کہ ظہر تنہا تنھا پڑھیں ان لوگوں کے پیچھے نماز باطل محض ہے جیسے کسی بت پرست یا آریہ کے پیچھے یہ ترکِ جمعہ نہ ہوا کہ وہ جو پڑھ رہے ہیں لغو و باطل حرکت ہے نمازہی نہیں، اور ان کی اقتداء بوجوہ حرام قطعی ہے بلکہ ان کے عقائد پر مطلع ہو کر پھر بھی انھیں قابل امامت جانے تو کافر ہوجائے
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر
( جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شک کیا اس نے کفر کیا ۔ت) ہاں اگر کہیں ایسا بدمذہب ہو جس پر حکم کفر نہیں جیسے تفضیلیہ، اور سنی کی امامت نہ مل سکے تو اس کے پیچھے جمعہ و عیدین پڑھ لے ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۵۸: از پنڈول بزرگ ڈاک خانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ نعمت علی صاحب ۱۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک دوسری بستی میں جمعہ ہوتا ہے لوگ وہاں جاکر جمعہ پڑھتے ہیں اب وباء یعنی ہیضہ وغیرہ آگیا ہو تو ایسی حالت میں اس ہیضہ والی بستی میں جاکر جمعہ پڑھنا جائزہے یا نہیں؟
الجواب

اگر یہ جگہ حوالیِ شہر ہے تو دوسری جگہ نہیں اسی کا حصہ ہے ورنہ اگر خود شہر ہے تو بغیر وبا بھی یہیں جمعہ قائم کیا جائے نہ کہ دوسری جگہ پڑھنے جائیں، اور اگر گاؤں ہے تو ان پر جمعہ نہیں بحالت وباء وہاں نہ جائیں، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۵۹: از بمنی بنجر ضلع منڈلا مسئولہ عبدالستار صاحب پیلی بھیتی ۳ رجب ۱۳۳۷ھ

کیا خطبہ جمعہ کھڑے ہو کر سننا جائز ہے ؟
الجواب

خطبہ سننے کی حالت میں حرکت منع ہے اور خطبہ بلاضرورت کھڑے ہو کر سننا خلاف سنت ہے، عوام میں یہ معمول ہے کہ خطیب آخر خطبہ میں ان لفظوں پر پہنچتا ہے ولذکراﷲ تعالٰی اعلٰی تو اس کے سنتے ہی نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں یہ حرام ہے کہ ہنوز ختم نہ ہوا چند الفاظ باقی ہیں اورخطبہ کی حالت میں کوئی عمل حرام ہے واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۶۰: از ریاست فریدکوٹ ضلع فیروز پور پنجاب مطبع سرکاری مرسلہ منشی محمد علی ارم ۶ رجب المرجب ۱۳۳۷ھ

کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے ایک مسجد میں جمعہ بامامتِ خود پڑھایا دوسری مسجد میں ایک  ضرورت کی وجہ آجانے سے خود مقتدی ہوکر بھی جمعہ پڑھا، اس کا کیا حکم ہے؟
الجواب

کوئی حرج نہیں جبکہ امامت پہلے کرچکا ہو
فان التنفل بالجمعۃ غیر ممنوع
( جمعہ کو نقل بنانا منع نہیں ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۶۱ : از شہر مسئولہ شوکت علی صاحب ۱۰ شعبان ۱۳۳۷ھ

کیا قول ہے علمائے اہلسنت وجماعت کا اس مسئلہ میں کہ شہر میں بہت جگہ نماز ہوتی ہے تو ہر وہ مسجد جس میں جمعہ ہوتا ہے جامع مسجد ہے اور جامع مسجد کی فضیلت رکھتی ہے یا وہی ایک مسجد جو متصل قلعہ کے جامع مسجد مشہور ہے اور شہر میں بہت جگہ جمعہ ہونے میں کچھ ممانعت تو نہیں ہے اور جمعہ میں کم از کم کَے آدمی ہوں جو نہ ہوسکے اور زیادہ ثواب شہر کس مسجد میں ہے؟
الجواب

جامع مسجد وہی ایک مسجد ہے شہر میں متعدد جگہ جمع ہونے کی ممانعت نہیں، جمعہ کے لئے کم سے کم امام کے سواتین آدمی ہوں مگر جمعہ وعیدین کا امام ہر شخص نہیں ہوسکتا وہی ہوگا جو سلطان اسلام ہو یا اس کا نائب یا اس کا ماذون، اور ان میں کوئی نہ ہو تو بضرورت جسے عام نمازی امامِ جمعہ مقرر کرلیں، جمعہ کا زیادہ ثواب جامع مسجد میں ہے مگر جبکہ دوسری جگہ کا امام اعلم وافضل ہو ۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۶۲: ازجرودہ ضلع میرٹھ مرسلہ سید الطاف حسین صاحب زمیندار و گورنمنٹ پنشز ۱۱رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہماری بستی میں تین مسجدیں ہیں اور تینوں  میں پنجوقتہ باجماعت نماز ہوتی ہے آٹھ سات حافظ قرآن ہیں ، دو تین حاجی الحرمین الشرفین ہیں، دس پندرہ اچھی فارسی اور دوتین کچھ عربی فارسی پڑھے ہوئے ہیں، ایک صاحب مدرسہ طیبہ دہلی کے سند یافتہ اور تین چار عطائی طبیب ہيں،ایک شخص آنکھیں بناتا ہے، ایک قرآن مکتب ہے جس میں دس بارہ طالب علم قرآن شریف حفظ کرتے ہیں، اس کے علاوہ ایک گورنمنٹی مدرسہ ہے ڈاک خانہ بھی موجود ہے ، پانچ چھ آدمی انگریزی داں ہیں جن میں بی اے اور ایف اے بھی ہیں پندرہ سولہ آدمی گورنمنٹی ملازم ہیں جو دس روپیہ سے تین سوروپیہ تک تنخواہ پاتے ہیں ایک شخص گورنمنٹ سے تیس روپیہ پنشن پاتاہے، تین چار دکانیں ہیں جن میں ضرورت کی تمامی اشیاء ہمہ وقت دستیاب ہوتی ہيں، تین چار بزاز ہیں ، دو پنواڑی کی ایک عطاء کی دکان ہے، تین چار گھر قصابوں کے ہیں، پانچ چھ پختہ مکانات ہیں، سات پختہ کنویں بستی میں آبنوشی کے ہیں سوائے گڑ ڑیوں اور چماروں کے ہندو کوئی آباد نہیں، قربانی وغیرہ آزادی سے ہوتی ہے زمینداری مسلمانوں کی ہے، بھنگی، سقہ، بڑھئی ، لوہار، حجام وغیرہ پیشہ ور سب آباد ہیں قریباً بارہ سو(۱۲۰۰) کی مردم شماری ہے، ہمیشہ سے جمعہ کی نماز ہوتی رہی ہے جس میں کبھی کبھی تین تین سو آدمیوں کا مجمع ہوجاتا ہے، اب بعض بعض حضرات معترض ہیں کہ اس بستی میں جمعہ وعیدین کی نماز جائز نہیں اور چند اشخاص نے جمعہ کی نماز ترک بھی کردی ہے، حالانکہ موجودہ مذکورہ کی موجودگی میں نمازِ جمعہ و عیدین ترک کی جائے یا بدستور پڑھی جائیں۔
الجواب

اگر وہ پر گنہ ہے اس کے متعلق دیہات ہیں اور ایسی حالت میں ضرور جانب سلطنت سے کوئی حاکم وہاں فصل خصومات و فیصلہ مقدمات کے لئے ہوتا ہے مثلاً تحصیلدار وغیرہ جب تو وہ شہر ہے اور اس میں ادائے جمعہ وعیدین ضرور لازم ، اور ان کا تارک گنہگار وآثم۔
فقد صدق علیہا حد المصر الصحیح المروی فی ظاھر الروایۃ عن الامام الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ انھا بلدۃ فیھا سکک واسواق ورساتیق وفیھا وال ۱؎ الخ
اس پر شہر کی وہ صحیح تعریف صادق آرہی ہے جو ظاہر الروایۃ میں امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے

مروی ہے کہ وہ بڑا شہر جس میں کوچے اور بازار ہوں اور کوئی نہ کوئی والی ہو  الخ (ت)
 (۱؎ فتح القدیر        باب الجمعۃ        مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲/۲۴)
اور اگر وہ پر گنہ نہیں یا وہاں کوئی حاکم فصلِ مقدمات پر مقرر نہیں مگر زمانہ سلطنت اسلام ميں وہ ایسا تھا اور جب سے اس میں جمعہ ہوتا تھا تو اب بھی پڑھا جائے گا۔ صلٰوۃ مسعودی باب ۳۳ میں ہے :
جائے راکہ حکم شہر د ادند بعد ازاں خرابی پذیرد آں حکم شہر باقی ماندتا اگر ایشا نائب سلطان باجمع درانجا نماز آدینہ گزارند روابود ۲؎۔
وہ جگہ جسے شہر قرار دیا گیا خرابی کے بعد بھی وہ حکم شہر رکھتا ہے اگر نائب سلطان نمازِ جمعہ باجماعت ادا کرے تو اب بھی ادا ہوگا۔ (ت)
(۲؎ صلٰوۃ مسعودی    باب ۳۳ دربیان نماز آدینہ    مطبع احمدی بمبئی ، انڈیا    ۲/۱۷۴)
اور اگر ی دونوں صورتیں نہیں تو مذہب حنفی میں وہاں جمعہ وعیدین نہیں پھر بھی جبکہ مدت سے قائم ہے اسے اکھاڑا نہ جائے گا، نہ لوگوں کوا س سے روکے گا مگر شہرت طلب،
قال اﷲ تعالٰی ارأیت الذی ینھیo عبدا اذاصلی ۳؎o
وفیہ عن امیر المؤمنین علی کرم اﷲ وجہہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم.
اﷲ تعالٰی  نے فرمایا:'' بھلا دیکھو تو جومنع کرتا ہے بندے کو جب وہ نماز پڑھے'' اور اسی آیت کے تحت حضرت امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے بھی ایک روایت ہے واﷲ تعالٰی  اعلم (ت)
  (۳؂القرآن      ۹۶/ ۱۰-۹)
Flag Counter