مسئلہ ۱۳۵۲: از بنگال
کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ جمعہ کی اذان ثانی میں مقتدیوں کو بھی مناجات کرنا اور جمعہ و عیدین کے خطبہ کو بسم اﷲ شریف سے شروع کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بعض لوگ جواز کہتے ہیں عدمِ جواز کی دلیل چاہتے ہیں ۔
الجواب
اذانِ ثانی کا جواب ا مام دے مقتدیوں کو ہمارے امام کے نزدیک جائز نہیں صاحبین اجازت دیتے ہیں تبیین الحقائق میں اول کو احوط کہا اور نہایہ اور عنایہ میں ثانی کو واضح ، تو عمل اول ہی پر ہے کہ وہی قولِ امام ہے، اور اگر کوئی ثانی پر عمل کرے تو اس سے بھی نزاع نہ چاہئے کہ تصحیح اُس طرف بھی ہے ابتدائے خطبہ میں بسم اﷲ کہنے کے جواز میں توشک نہیں کہ منع شرعی نہیں مگر آہستہ کہے، کتابوں میں جس قدر لکھا ہے وہ یہ ہے کہ اعوذ آہستہ پڑھ کر خطبہ شروع کرے کما فی الھندیۃ وغیرھا ( جیسا کہ ہندیہ وغیرہ میں ہے ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۵۳: از نصیر آباد محلہ تیلیان مرسلہ محمد عمر صاحب ۲۶شوال ۱۳۳۶ھ
داود ولد محمد علی عرف پیر جی پیش امام مسجد دودھیان نصیر آباد مورخہ ۵ جولائی ۱۹۱۸ ء بروزجمعہ خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے اور جب خطبہ اول ختم کر کے دعا کے لئے بیٹھے اُس وقت دو شخصوں نے کھڑے ہو کر سنت پڑھنا شروع کی تب مسمی داود مذکور بالا نے کچھ خطبہ ثانی پڑھ کر فرمایا کہ سنتوں کا خطبہ اول وثانی میں پڑھنا ناجائز ہے اور جب خطبہ میں نام محمد مقتدی سنیں تو صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کہنا ناجائز ہے، آیا یہ مسئلہ جو مسمی داود نے بیان کیا قرآن شریف و حدیث کے مطابق ہے یا نہیں؟ اور ایسے شخص کی نسبت جو خطبہ میں محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کانام پاک سن کر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کہنا جائزنہ جانتا ہو اس کے حق میں ازروئے شرع شریف میں کیا حکم ہے آیا خارج اسلام ہے یا نہیں؟ اور مسلمانوں کو ایسے عقیدہ والے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جس کا ذکر اوپر ہوا ہے جائز ہے یا نہیں؟ شیخ محمد عمر نصیر آباد رسول بخش اوو رسیر، محمد اکبر خان، قمرالدین کلر ک۔نور محمد مستری۔ لعل محمد
الجواب
اطراف واقطار سے ہمارے معزز اہلسنت بھائی حفظہم اﷲتعالٰی بعض سوالات بعض مسائل فقہیہ کی نسبت بھیجتے ہیں ان سوالوں میں جوقول کسی کانقل کرتے ہیں اسے وہابیت وغیرہ ضلالتوں سے کچھ علاقہ نہیں ہوتا خط میں تحریر فرماتے ہیں کہ یہ شخص چنین وچناں ہے جواب استفتا ءمیں یہاں خط ملحوظ نہیں ہوتا خصوصاً بارہا وہ بات جو اس شخص کی طرف نسبت کی فی نفسہٖ صحیح ہوتی ہے اب اس کی تصحیح کیوں نہ کیجئے ، کہ بات صحیح ہے اور تصحیح کیجئے تو عوام ذہن میں وہابی وغیرہ ضالین کی باتوں کا صحیح ہونا آتا ہے جس سے اندیشہ ہے کہ وہ اس کی اور باتوں کو بھی صحیح یا مشکوک ہی سمجھنے لگیں، اور یہ ان کے دین کا نقصان ہے، وہابی ہویا کوئی کافر، یہودی، مجوسی، بت پرست وغیرہم کسی کی سب باتیں جھوٹی نہیں ہوتیں کوئی نہ کوئی بات ہر شخص سچ کہتاہے، فقہ حنفی تو متعدد اشخاص مثل زمخشری وزاہدی ومطرزی معتزلہ گزرے ہیں ان کے اقوال فروعِ فقہ میں نقل ومسلم ہوتے ہیں اور عقائد میں وہ لوگ گمراہ بددین ہیں یہ نکتہ ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہئے ، بلاشبہ صحیح مذہب یہی ہے کہ دونو ں خطبوں کا سننا فرض ہے اور کسی خطبے کے وقت نہ سنتیں پڑھنے کی اجازت ، نہ اﷲ عزوجل کا نام پاک سن کر عز شانہ وغیرہ نہ حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کا نام پاک سن کر صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وغیرہ زبان سے کہنے کی اجازت کہ بحالت خطبہ سلام وکلام مطلقاً حرام ہے، ہاں دل میں جل جلالہ ، وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کہیں،
درمختار میں ہے :
اذا خرج الامام فلا صلٰوۃ ولاکلام الی تمامھا خلاقضاء فائتۃ لم یسقط الترتیب بینھا و بین الوقتیۃ، فانھا لاتکرہ سراج وغیرہ لضرورۃ صحۃ الجمعۃ والا لا فیحرم کلام ولو تسبیحا اوامر بمعروف بل یجب علیہ ان یسمع ویسکت ۱؎ ۔ ( ملخصا)
جب امام آجائے تو اب اتمام تك نہ کلام نہ نماز جو فوت شدہ نمازکی قضاء کے علاوہ ہوجبکہ اس میں اور وقتی نماز میں ترتیب ساقط نہ ہوئی ہو، لہذا قضاء میں کراہت نہیں تاکہ جمعہ صحیح ہو، سراج وغیرہ ، اور اگر ایسی صورت نہیں توکلام حرام خواہ ایک تسبیح ہی کیونہ ہو، اسی طرح امر بالمعروف بھی، بلکہ اس پرلازم ہے کہ خطبہ سنے اور خاموش رہے ۔(ت)
(۱؎ درمختار باب الجمعہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۱۳)
اسی میں ہے :
ینصت ان قرأ الامام آیۃ ترغیب اوترھیب کذا الخطبۃ فلا یاٰتی بمایفوت الاستماع لو کتابۃ اوردسلام وان صلی الخطیب علی البنی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الااذاقرأ اٰیۃ صلوا علیہ فیصلی علیہ المستمع سرا بنفسہ وینصت بلسانہ عملا بامری صلوا وانصتوا ۲؎ ۔ ملخصاً واﷲ تعالٰی اعلم
جب امام کوئی آیت ترغیب یا ترہیب پڑھے تو مقتدی خاموش رہے، اسی طرح خطبہ کا معاملہ ہے، پس ایسا کام نہ کرے جس سے سماع فوت ہوتا ہو اگر چہ کتابت ہی کیونہ ہو یا سلام کا جواب دینا ہو اگر چہ خطیب نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر درود شریف پڑھ رہا ہو البتہ جب خطیب آیت صلوا علیہ کہے تو سننے والا دل میں آہستہ درود شریف پڑھ لے اور زباں سے خاموش رہے تاکہ دونوں حکموں درود شریف پڑھو اور خاموش رہو پر عمل ہوجائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۲؎ درمختار فصل ویجہر الامام الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۸۱)
مسئلہ۱۳۵۴: از اودیپور میواڑ راجپوتانہ مہارانا اسکول مرسلہ مولوی وزیر احمد صاحب مدرس ۲۹ذی ا لحجہ ۱۳۳۶ھ
جمعہ کے دن جب خطیب خطبہ پڑھتا ہے تو کتاب میں دیکھ کر پڑھتا ہے اور ایک شخص یہاں بے دیکھے کتاب پڑھتا ہے لہذا فرمائیں دونوں میں کس کا عمل موافق سنت ہے؟
الجواب
دیکھ کر اور زبانی نفس ادائے حکم میں یکساں ہیں مگر زبانی اوفق بالسنۃ ہے واﷲ تعالٰی اعلم ۔
مسئلہ ۱۳۵۵: از بنبی اسٹیشن باندرہ محلہ نواپارہ مسجد مرسلہ محمد جہانگیر صاحب اما م مسجد مذکور ۱۱ محرم الحرام۱۳۳۷ھ
جناب مولاناصاحب حجۃ قاہرہ مجد دمائۃ حاضرہ، السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکتہ،ْ گزارش یہ ہے کہ یہ رسالہ آپ کی خدمت میں روانہ کرکے عرض کیا جاتا ہے کہ اس میں آپ کی مہر ہے اور آج کل یہاں دعاء بین الخطبتین میں تنازع ہے تو ہم لوگ اس رسالہ پر آپ کی مہر دیکھ کر عمل کرلیا ہے کیونکہ آپ کی دستخط تحریر ہیں اور چند علمائے ہند نامی کی بھی دستخطیں تحریر، اس وجہ سے لوگوں نے بے دغدغہ عمل کر لیا ہے تو اسی واسطے آپ کی خدمت میں ارسال کرکے عرض ہے کہ دستخط آپ کے موجود ہيں اور دیگر علمائے ہند نامی گرامی کی تحریر ہے تو عمل کریں یا نہ کریں اور اس رسالہ میں جودلیلیں تحریر ہیں صحیح ہیں یا نہیں، جیسا آپ تحریر فرمائیں آمنا کیاجائے۔
الجواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،، دعابین الخطبتین ہر گز ایسی چیز نہیں ہے جس سے ممانعت پر کچھ بھی زور دیا جائے ایسے مسائل میں تفرقہ اندازی، فتنہ پردازی، جدال پسندی ،فریق بندی وہی لوگ کیا کرتے ہیں جواس کے ذریعہ شہرت چاہتے ہیں، فقیر کی عبارت کہ اس رسالہ میں منقول ہوئی ہے کہ اس میں بہت قطع وبریدہ کمی کی گئی ہے میرا مسلک اس میں ہمیشہ یہ رہا ہے کہ خود میرے سامنے مقتدین دعاکرتے ہیں اور میں کبھی منع نہیں کرتا اور یہی مسلک میرے آبائے کرام اورمحققین اعلام کا رہا ہے رحمۃ اﷲ تعالٰی اجمعین ، خود بنبی میں بھی میں نے جمعہ پڑھایا اور حاضرین نے بین الخطبتین دعائیں مانگیں اور میں نے نہ اس وقت منع کیا نہ بعد کو، اس رسالہ میں بہت اغلاط فاحشہ ہیں اور بہت اکاذیب باطلہ ہیں ، یہاں تک کہ صحیح حوالوں کو جھٹلایا ہے اور خود محض جھوٹا حوالہ کتاب پر گھڑ کردیا ہے ان امور کي تفصیل اور مسئلہ کی تحقیق جمیل ایک رسالہ ہوسکتی ہے مسلمانوں کو سمجھ لینے کواتنا کافی ہے کہ یہ شخص اور اس کے استاذ دیوبندی ہيں گنگو ہی کے شاگرد اور گنگوہی وتھانوی کے مداح ، اوریہ وہ ہیں کہ علماء کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق نام بنام ان کے کفرکا فتوٰی دیا اور فرمادیا کہ
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر
جو ان کے کافر ہونے میں شک کرے خود کافر ہے، نہ کہ وہ جو انھیں عالمِ دین جانے اور چنان وچنیں مانے ، والعیاذ باﷲ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۵۶: ہادی حسن خاں از کانپور نئی سڑک ۱۵صفر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک دیہات ہے جس کی آبادی تقریباً پانچسو کے ہے اور اس میں ایک ایسی مسجد ہے کہ اگر اس گاؤں کے مکلفین اس میں جمع ہوں تو مسجد پر نہ ہوگی اور اس کے قریب دودو کوس پر کئی قصبے ہیں تو اس گاؤں میں ازروئے مذہب حنفی نمازِ جمعہ وعیدین جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
باجماع جملہ ائمہ حنفیہ اس میں جمعہ وعیدین باطل ہیں اور پڑھنا گناہ، تمام متون وشروح وفتاوٰی میں ہے :
شرط صحتھا المصر ۱؎
( جمعہ کی صحت کے لئے شہر کا ہونا شرط ہے۔ ت)
(۱؎ درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۰۹)
دیہاتوں میں عید کی نماز مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ ایسے عمل میں مشغول ہونا ہے جو درست نہیں کونکہ اس کی صحت کے لئے شہرکا ہونا شرط ہے ۔(ت)
(۲؎ درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۴)
خود نہ پڑھیں گے حکم پوچھا جائے گا تو فتوٰی یہ دیں گے جہاں نہیں ہوتے قائم نہ کریں گے باایں ہمہ اگر عوام پڑھتے ہوں منع نہ کریں گے ۔
درمختار :
کرہ تحریما صلٰوۃ مطلقا اونفلا مع شروق الاالعوام فلا یمنعون من فعلھا لانھم یترکونھا والاداء الجائز عند البعض اولی من الترک ۳؎۔ (ملخصاً)
طلوعِ آفتاب کے وقت ہر نماز مکروہ تحریمی ہے خواہ نفل ہو لیکن عوام کو نماز پڑھنے سے روکا نہیں جائے گا کیونکہ وہ بالکل ترک کردیں گے ، اور جو بعض کے نزدیک جائز ہو اس کا بجالانا ترک سے اولٰی ہوتا ہے (ت)
(۳؎ درمختار کتاب الصلوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۶۱)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ فلایمنعون افادان المستثنی المنع لاالحکم بعدم الصحۃ عند ناقولہ عندالبعض ای بعض المجتھدین کالامام الشافعی ھنا ۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم
قولہ '' فلایمنعون '' واضح کررہا ہے کہ استثنا،منع کا ہے نہ کہ عدم صحت کے حکم کا ہمارے نزدیک ، قولہ عند البعض یعنی بعض مجتہدین مثلا امام شافعی کے نزدیک اس مقام پر جواز کا قول ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)