امام ابویوسف سے روایت ہے کہ شہر وہ جگہ ہے جہاں کے رہائشی اتنے ہو ں کہ وہاں کی سب سے بڑی مسجد ان کے لئے ناکافی ہو، ہدایہ میں ہے یہ امام بلخی کا مختار ہے اور فساد زمانہ اور امراء کافتنہ دیکھتے ہوئے اکثر مشائخ نے اسی پرفتوی دیا ،اور امام ابویوسف سے یہ روایت بھی ہے کہ ہر وہ جگہ شہر ہے جہاں دس ہزار مرد مقیم ہوں یہ بھی روایت ہے کہ ہروہ مقام جہاں ایسا امیر یا قاضی ہو جواحکام کو نافذ اور اقامت حدود کا اختیار رکھتا ہو، امام کرخی نے اسی کو اختیار فرمایا
(۲؎ الہدایۃ باب الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ عربیہ کراچی ۱/۱۴۸)
(۳؎ الہدایۃ باب الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ عربیہ کراچی ۱/۱۴۸)
کذافی الھدایۃ وقال بعضھم ھو ان یعیش کل محترف بحرفتہ من سنۃ الی سنۃ من غیر ان یحتاج الی حرفۃ اخری وقال بعضھم ھوان یکون بحال لوقصد ھم عدو یمکنھم دفعہ وقال بعضھم ان یولد فیہ کل یوم ویموت فیہ انسان، وقال بعضھم ھو ان لایعرف عدد اھلہ الابکلفۃ ومشقۃ فمختار اکثر الفقھاء مراعۃ لضرورۃ زماننا والمفتی بہ عند جمھور المتاخرین فی تعریف المصر الروایۃ المختارۃ للبخی ای مالا یسع اکبر مساجدہ اھلہ المکلفون بھا، وقال ابوشجاع ھذا حسن ماقیل فیہ وفی الولوالجیہ وھو صحیح ۱؎ بحر وعلیہ مشی فی الوقایۃ ومتن المختار وشرحہ وقدمہ فی متن الدرر علی قول الاٰخر وظاہرہ ترجیحہ وایدہ صدر الشریعۃ بقولہ لظھور التوانی فی احکام الشرع لاسیما فی اقامۃ ۤالحدود فی الامصار ۲؎ وکل موضع يصدق علیہ التعریف المذکور فھو مصر تجب الجمعۃ علی اھلہ والافلا تجب سواء ذلک الموضع یتعارف بلفظ القریۃ اودونھا غیر المصر، فالاٰن ھو لاحق فی حکم المصر شرعا لا عرفا لتطبیق تعریف المتاخرین وھذا احسن ومالایصدق عیہ التعریف المذکور فھو لیس بمصر شرعا وعرفا ففی لفظ القریۃ اعتبار ان شرعا بحیث ترسم بہ وبحیث لاترسم بہ ففی الاول تصح الجمعۃ وھی مدینۃ عظمۃ اوقریۃ کبیرۃ وفی الثانی لا تصح الجمعۃ وھی قریۃ صغیرۃ ومفازۃ ومثلھا کما یدل علیہ عبارۃ القھستانی وتقع فرضا فی القصبات والقری الکبیرۃ فیھا اسواق ۳؎۔
ہدایہ، بعض کی رائے یہ ہے کہ وہاں ہر صاحب صنعت سالہاسال سے اس طرح رہتاہو کہ اسے دوسری صنعت کی محتاجی نہ ہو،بعض کی رائے یہ ہے کہ اگر وہاں دشمن حملہ آور ہوتو ان سے دفاع ممکن ہوبعض نے کہا کہ وہاں ہر روز کوئی نہ کوئی پیدا ہو اور کوئی نہ کوئی مرے،بعض نے کہا کہ وہاں کے رہائشی لوگوں کی تعداد کا علم بغیر مشقت کے نہ ہو سکے، ہمارے زمانے کی ضرورت کے پیش نظر تعریف شہر میں اکثر فقہاء کا مختار اور متاخرین کا مفتی بہ قول وہی روایت ہے جو امام بلخی کی مختار ہے وہ مقام شہر ہے جس کی سب سے بڑی مسجد وہاں کے مکلف لوگوں کی گنجائش نہ رکھتی ہو شیخ ابوشجاع کہتے ہیں کہ ان تعریفات میں یہ حسن ہے، ولو الجیۃ میں ہے کہ یہی صحیح ہے، بحر، وقایہ ، متن مختار اور اس کی شرح میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے،اور متن درر میں اسے ہی دوسرے قول پر مقدم کیا اور ظاہراً ترجیح اسی کو ہے ، صدر الشریعۃ نے اپنے اس قول سے تائید کی ہے کہ کیونکہ احکامِ شرع خصوصا اقامتِ حدود میں سستی واقع ہو چکی ہے، ہر وہ جگہ جس پر تعریف صادق آرہی ہو وہ شہر ہے اور وہاں کے رہنے والوں پر جمعہ لازم ہوگا اور اگرتعریف صادق نہ آئے تووہاں جمعہ نہیں ہوگاخواہ وہ قریہ کے نام سے متعارف ہو یا کسی اور نام سے، تو اب وہ مقام متاخرین کی تعریف کے مطابق حکم مصر میں شرعا ہوگا نہ کہ عرفاً اور یہی احسن ہے ، اورجس پر تعریف مذکور صادق نہ ہو وہ شرعاً شہر ہے نہ عرفاً لفظ قریہ میں شرعاً دو ۲ اعتبار ہیں ایک وہ جس کی یہ تعریف کی گئی ، دوسری وہ جس کی یہ تعریف نہ ہوسکے، پس پہلے میں جمعہ صحیح ہے اور بڑا شہر یا قصبہ ہے اور درسرے میں جمعہ صحیح نہیں اور یہ دیہات ہے اور جنگل کا بھی یہی حکم ہے جیسا کہ اس پر قہستاتی کی عبارت دال ہے کہ قصبات اور بڑے دیہاتوں جن میں بازار ہوں جمعہ فرض ہوتا ہے، اور بحر میں ہے کہ قریہ اور جنگل میں جمعہ نہیں ہوسکتا
(۱؎ بحرالرائق باب صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۴۰)
(۲؎ شرح الوقایۃ باب الجمعۃ مطبوعہ المکتبہ الرشید یہ دہلی ۱/۲۴۰)
(۳؎ جامع الرموز فصل صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/۲۶۱)
وفی البحر لاتصح فی قریۃ ولامفازۃ لقول علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ لا جمعۃ ولا تشریق ولاصلٰوۃ فطر ولااضحی الا فی مصر جامع او مدینۃ عظیمۃ ثم قال فلا تجب علی غیر اھل المصر۱؎ کذا فی الطحطاوی فبینھما عموم وخصوص فثبت بالد لائل المذکورہ فرضیۃ الجمعۃ مخصصۃ بالاجماع فان صلی الجمعۃ اھل قریۃ لایقال لھا مصرشرعا لایسقط الظھر عن ذمتہ وان صلی الظھر فرادی یعصو بکبیرۃ لترک الواجب ای الجماعۃ الظھر باداء جماعۃ النفل وھذا من قباحۃ عظیمۃ،
کیونکہ حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا قول ہے کہ جمعہ، تکبیرات تشریق، نماز عیدالفطر اور اضحی مصر جامع یا بڑے شہر کے سوا نہیں ہوسکتیں، پھر کہا اہل شہر کے علاوہ یہ کسی پر لازم نہیں طحطاوی میں اس طرح ہے ، تو ان دونوں کے درمیان عموم وخصوص کی نسبت ہے تو دلائل مذکورہ سے واضح ہوگیا کہ بالاتفاق فرضیت جمعہ مخصوص ہے تو اگر ایسے اہل دیہات جمعہ قائم کریں جسے شرعاً شہر نہیں کہا جاسکتا تو ان کے ذمّے سے ظہر ساقط نہ ہوگی، اور اگروہ تنہا ادا کریں گے تو انھوں نے کبیرہ کا ار تکاب کیا کیونکہ واجب کا ترک ہوا یہی نوافل جماعت کے ساتھ ادا کرنے کی وجہ سے ظہر کی جماعت ترک کردی اور یہ عظیم قباحت ہے۔
(۱؎ بحرالرائق باب صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۴۰)
اعلم ان الجمعۃ جامعۃ للجماعات وفی اداء الظھر بالجماعۃ تفریق الجماعۃ عن الجمعۃ وتقلیلھا فیھا بخلاف اھل القرٰی اذلا جمعۃ علیھم، ولا یفضی اداء الظھر بالجماعۃ الٰی تفریق الجمعۃ و تقلیلھا فیکون ذلک فی حقھم کسائرالایام فی جواز اداء الظھر بالجماعۃ من غیر کراہۃ مجالس الابرابر فقول من یقول ما الفرق بین الجمعۃ والظھر غیر الخطبتین وصحت الجمعۃ بلاکراھۃ فی کل موضع مثل الظھر سواء کان ذلک الموضع مصرا اوقریۃ اوغیر ہ وتارکھا بلاعذر فاسق و عاص، مردود وقائلہ ضال مضل لیس منا المقلدین وعلی المقلدین اجتناب عن اقوالہ وافعالہ واحتراز عن مصاحبتہ ومخالطتہ واﷲ اعلم وعلمہ احکم کتبہ احقرالوری ابوالفیض محمد حبیب الرحمٰن عفا اﷲ عنہ۔
واضح رہے کہ جمعہ تمام جماعتوں کا جامع ہے ، ظہر کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا جمعہ کی جماعت کو متفرق اور کم کرنا ہے بخلاف اہل دیہات کے کہ وہاں جمعہ لازم نہیں تو وہاں ظہر کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا جمعہ کے لئے تفریق وتقلیل کا سبب نہیں ان کے لئے تو یہ دن جماعت کے ساتھ بلاکراہت ظہر ادا کرنے کے لحاظ سے دیگر دنوں کی طرح ہی ہے مجالس الابرار ، تو وہ شخص جو کہتا ہے کہ جمعہ اور ظہر کے درمیان خطبوں کے علاوہ کوئی فرق نہیں ،جمعہ ہرجگہ ظہرکی طرح ادا ہوجاتا ہے خواہ شہر ہو یا دیہات یا اور کوئی مقام ہو، اس کا تارک فاسق اور مردود ہے تو ایسے قول کا قائل گمراہ ہے اور گمراہ کرنے والا ہے اور اس کا تعلق مقلدین سےنہیں ، اس کے اقوال وافعال، اس کی محبت و مخالطت سے مقلدین کو احتراز کرنا لازم ہے، اﷲ تعالٰی کا علم کامل واکمل ہے،
کتبہ احقرالوری ابوالفیض محمد گحبیب الرحمٰن عفا اﷲ عنہ
الجواب
الذی یدعي عموم الجمعۃ کل محل ولا یخصہ بمصر ولاقریۃ فقد خالف الاجماع وھو ضلال بلاتزاع وقد اجتمع ائمتنا علی اشتراط المصرلھا وان الاشتغال بہ فی القری تکرہ تحریما لکونہ اشتغالا بمالا یصح کما فی الدر۱؎ وغیرہ
جو شخص یہ دعوٰی کرتا ہے کہ جمعہ ہر مقام پرہوجاتاہے اس کے لئے کسی شہر اور دیہات کی تخصیص نہیں، وہ بالاتفاق اجماع کے مخالف اورگمراہ ہے ہمارے ائمہ کااس پراتفاق ہے کہ جمعہ کے لئے شہر کا ہونا شرط ہے دیہاتوں میں جمعہ کا قیام مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ نادرست کام میں مشغول ہونا ہے جیسا کہ درر وغیرہ میں ہے ،
(۱؎ درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۱۴)
وقد حققنا المسئلۃ فی رسالتنا لوامع البھا وغیرماموضع من فتاوٰنا واما المصر فالصحیح فی تعریفہ ماھو ظاہر الروایۃ عن امامنا الاعظم رضی اﷲ تعالٰی کما بیناہ فی فتاوٰنا بمالا مزید علیہ واماما لایسع اکبر مساجدہ اھلہ فغیر صحیح عند المحقیقن کما نص علیہ فی الغنیۃ و کفی قاضیا علیہ بالبطلان ان مکۃ والمدینۃ تخرجان علیہ من المصر وتمنع الجمعۃ فیھما لان اتساع مسجدیھما لایوف مؤفۃ من یرد الیھما من الافاق مشاھد مرئی فضلا عن اھلھما خاصۃ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
اس کی تحقیق ہم نے اپنے رسالہ لوامع البہا اور اپنے فتاوٰی میں متعدد جگہ کی ہے، شہر کی صحیح تعریف جو امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ظاہر الروایت میں منقول ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی وہ تفصیل دی جس پر اضافہ دشوار ہے، رہی یہ تعریف کہ ''جس جگہ کی سب سے بڑی سے بڑی مسجد اس کے باشندوں کی گنجائش نہ رکھتی ہو '' محققین علماء کے ہاں درست نہیں، جیسا کہ اس پر غنیہ میں تصریح ہے اور اس تعریف کے بطلان پر یہی دلیل کافی ہے کہ اس صورت میں مکۃ المکرمہ اور مدینہ طیبہ دونوں ہی شہر نہ ہوں اور ان میں جمعہ کی نماز منع ہو کیونکہ یہ مشاہدہ ہے کہ وہ تو مشرق تا مغرب آنے والے زائرین سے نہیں پر ہوتیں، چہ جائیکہ وہاں کے لوگوں کے لئے کافی نہ ہوں، واﷲ تعالٰی اعلم (ت)