Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
94 - 144
مسئلہ ۱۳۵۰: از ڈاک خانہ مہر گنج چڑنکی ضلع بریسال مکان منشی عبدالکریم مرسلہ محمدحسین صاحب ۱۷جمادی الاولٰی  ۱۳۳۶ھ



یک فریق اسمہ دودمیاں متواطن فورید فوری اندصلوۃ جمعہ را بملک بنگالہ بلکہ ہند را حرام گویند چراینجا شہریست بمصداق قول امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالٰی  علیہ وینفذ الاحکام ویقیم الحدودایں تعریف نیست مگر اجرت تسبیح وتہلیل وغیر ذلک اخذمی کند ویک جماعت صلوۃ جمعہ رامی خوانند وایں دیار را شہر گویند بمطابق قول صاحبین وہو قول البعض وہوموضع اذا اجمتع اہلہ فی اکبر مساجدہ لم یسعھم فہو مصر بمصداق ایں کہ ملک بنگالہ وہند را شہر بگویند ونماز مذکور درو ادامی کنند مگر اجرت تسبیح تہلیل را حرام گویند وایں گو یندبمطابق قول امام اعظم حرام است و نزد صاحبین جائزست مگر قول متقدمین را اتباع می کنم ومتاخرین درپائے نشدم علی ہذا القیاس ایں ہرجماعت تنازع می کنند۔
ایک فریق جو فورید فوری میں رہائش پذیر ہیں ان کو دودمیاں کہا جاتا ہے ان کے نزدیک بنگالہ بلکہ تمام ہندوستان میں جمعہ حرام ہے کیونکہ یہاں جو شہر ہیں امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالٰی  علیہ کے قول کہ (وہاں حاکم احکام نافذ کرے اور حدود جاری کرے)کی تعریف پر پورے نہیں اترتے، حالانکہ وہ تسبیح وتہلیل پر اجرت لیتے ہیں ایک جماعت________ جمعہ ادا کرتی ہے اور اس علاقہ کو صاحبین کے قول کے مطابق شہر قرار دیتی ہے، اور بعض کا قول ہے کہ شہر کی اس تعریف'' ہر جگہ جس کی سب سے بڑی مسجد میں وہاں کے تمام لوگ جمع ہوں تو وہ ان کی گنجائش نہ رکھتی ہو''کے مطابق ملک بنگالہ اور تمام ہندوستان کو شہر کہتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں تسبیح و تہلیل پر اجرت حرام کہتے ہیں کہ امام اعظم کے قول کے مطابق حرام اور صاحبین کے نزدیک جائز ہے مگرمیں مقتدمین کے قول کی اتباع کرونگا نہ کہ متاخرین کی،علی ہذالقیاس یہ دونوں جماعتیں آپس میں تنازع کررہی ہیں ۔(ت)
الجواب

آنکہ گویند المصر مالا یسع اکبر مساجدہ اھلہ نہ مذہب امام ست نہ قول صاحبین بلکہ روایت نادرہ مرجوحہ است و حاجت باونیست امصار دیار ہند وبنگالہ بلا شبہہ شہر ہائے دارالاسلام ست و جمعہ در انہا فرض وترک اومعصیت شدیدہ و انکار او ضلالت بعیدہ درمذہب امام وسائر ائمہ مامصر آنست کہ کوچہاوبازار ہائے دائمہ داشتہ باشد ومرا ورا روستاہا باشد چنانکہ اورا در اصلاح حال ضلع یا پرگنہ خوانند ودر و حاکمے باشد کہ بہ حشمت و سطوت خود دا دستم زدہ از ستمگراں تواں گرفت اگر چہ نہ گیرد ہمین ست معنی ینفذا لاحکام ویقیم الحدود الا ازہند و بنگالہ چہ گوئی خود حرمین محترمین بیز از مصریت خارج شوند واقامت جمعہ انجا حرام زیراکہ حدود ازصدہا سال مفقود مسدود شدہ است وبر تسبیح وتہلیل اجرت خواند گرفتن روا نیست اجارہ در امور مباحہ باشد نہ درطاعت ومعصیت کما حققہ المولی بن عابدین الشامی فی ردالمحتار والعقود الدریۃ وشفاء العلیل واﷲ تعالٰی اعلم۔
یہ جو شہر کی تعریف کررہے ہیں کہ وہ مقام جس کی سب سے بڑی مسجد وہاں کے لوگوں کے لئے گنجائش و وسعت نہ رکھتی ہو یہ مذہب امام ہے نہ صاحبین کا قول بلکہ روایت نادرہ مرجوعہ ہے اور اس کی حاجت بھی نہیں ہندوستان اور بنگالہ بلاشبہہ شہر دارالاسلام ہیں ان میں جمعہ فرض ہے اس کاترک سخت گناہ اور اس کا انکار شدید گمراہی ہے، امام اعظم اورباقی ائمہ کے ہاں شہر وہ ہوتا ہے جس کے کوچے ہوں اور دائمی بازار ہوں اور اس کے لئے دیہات ہوں جنھیں موجودہ اصطلاح میں ضلع یا پرگنہ کہا جاتا ہے اور وہاں کوئی نہ کوئی ایسا حاکم ہو جو اتنے اختیارات رکھتا ہو کہ مظلوم کو ظالم سے انصاف دلاسکے اگر چہ وہ عملاً ایسا نہ کررہا ہو'' وہ احکام کو نافذ کرسکے اورحدود قائم کرسکے '' کایہی معنی ہے ورنہ ہند اور بنگلہ کی کیا بات ہوئی خود حر مین شریفین بھی شہر کی تعریف سے خارج ہوجائیں گے اور وہاں جمعہ حرام ہوگا کیونکہ حدود کا قیام صدیوں سے ختم اور بند ہوگیا ہے اور تسبیح و تہلیل پر اجرت لینا جائز نہیں کیونکہ کرایہ واجرت امور مباحہ میں ہوتی ہے نہ کہ امور طاعت ومعصیت میں جیساکہ ابن عابدین شامی ردالمحتار ، عقود الدریۃ اور شفاء العلیل میں اس کی تحقیق کی ہے ۔واﷲ تعالٰی  اعلم (ت)
مسئلہ ۱۳۵۱: از کلکتہ دھرم تلہ اسٹریٹ مرسلہ مولوی عبدالمطلب صاحب ۳جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ



حامدا ومصلیا، ماقولکم ایھا العلماء الکرام من الاحناف العظام فی ھذہ المسئلۃ ان صلٰوۃ الجمعۃ واجبۃ علی اھل القری ام لا بینوابجواب شاف  توجروا  بثواب واف۔



اﷲ تعالٰی  کی حمد اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی خدمت میں سلام عرض کرتے ہوئے، حنفی علماء کرام کا اس مسئلہ میں کیا فرمان ہے کہ اہل دیہات پر جمعہ لازم ہے یا نہیں؟ جواب کافی سے نواز رثوابِ کامل حاصل کریں۔ (ت)
الجواب

الجمعۃ علی اھل القری لیست بواجبۃ لقولہ علیہ الصلٰوۃ ف والسلام لا جمعۃ ولاتشریق ولا صلٰوۃ فطر ولااضحی الا فی مصر جامع اوفی مدینۃ عظیمۃ ۱؎ ۔
جمعہ اہل دیہات پر لازم نہیں کیونکہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کا ارشاد ہے : جمعہ تکبیرات تشریق، عید الفطر، عید الاضحی کی نماز  صرف جامع شہر یا بہت بڑے شہر میں ہی ہوسکتی ہے،
 (۱؎ مصنف ابن ابی شیبہکتاب الصلٰوۃ  مطبوعہ اداراۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۲/۱۰۱)
ف: مصنف ابن شیبہ میں یہ حدیث حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے موقوفاً منقول ہے ۔ نذیراحمد
وفی فتح القدیر ان قولہ تعالٰی فاسعوا الی ذکر اﷲ لیس علی اطلاقہ اتفاقا بین الامۃ اذلا یجوز اقامتھا فی البراری اجماعا ولا فی کل قریۃ عندہ فکان خصوص المکان مرادافیھا اجماعا فقدر الشافعی القریۃ الخاصۃ وقدرنا المصر وھو اولی لحدیث علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ولو عورض بفعل غیرہ کان علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ مقدما علیہ فکیف ولم یتحقق معارضۃ ماذکرنا ایاہ ولھذا لم ینقل عن الصحابۃ انھم حین فتحوا البلاد اشتغلوا بنصب المنابر و الجمع الافی الامصار دون القری ولوکان النقل ولواحادا ۱؎
فتح القدیر میں ہے اﷲ تعالٰی  کا فرمان '' پس تم اﷲ تعالٰی  کے ذکر کی طرف بھاگو'' ائمہ کے ہاں بالاتفاق مطلق نہیں کیونکہ جمعہ کا قیام جنگلوں میں بالاتفاق جائز نہیں اورامام شافعی کے نزدیک دیہات میں جمعہ نہیں ہوسکتا تو یہاں بالاتفاق جگہ کہ تخصیص کرنا ہوگی، امام شافعی نے دیہات کی تحقیق کی اور ہم نے شہر کی، اور شہر حدیث علی رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کی وجہ سے اولٰی  ہے اور اس کا معاوضہ اگر دوسرے کے عمل سے ہے تو حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کو اس پر تقدیم ہوگی اور یہ تقدیم کیوں نہ ہو کہ ہمارے مـذکور معنی کے خلاف معارضہ ثابت ہی نہیں اسی لئے صحابہ سے یہی منقول ہے کہ جب انھوں نے علاقے فتح کئے تو فقط شہروں میں جامع مسجد اور منبر بنائے نہ کہ دیہاتوں میں، اور اگر وہ دیہاتوں میں بناتے تو ان کا یہ عمل منقول ہوتا خواہ کوئی ایک ہی روایت ہوتی،
(۱؎  فتح القدیر       باب صلٰوۃ الجمعۃ       مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲ /۲۳)
وایضا ان الجمعۃ فرضت علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھو بمکۃ قبل الھجرۃ ۲؎ کما اخرجہ الطبرانی عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہ فلم یکن اقامتھا من اجل الکفار فلما ھاجرالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ومن ھاجرمعہ من اصحابہ الی المدینۃ لبث رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فی بنی عمر وبن عوف اربعہ عشر ایام ولم یصل الجمعۃ فھذا دلیل علی عدم الجمعۃ فی القری والا لصلی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الجمعۃ ومع ان البخاری روی فی صحیحہ کان الناس یتنابون وفی روایۃ یتناولون الجمعۃ من منازلھم والعو الی فیأتون فی الغبار فیصیبھم الغبار والعرق ویخرج منھم العرق ۱؎  الحدیث
اور یہ بھی مسلم ہے کہ جمعہ حضور علیہ السلام پر مکہ میں قبل از ہجرت فرض ہوا جیساکہ امام طبرانی نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی  عنہما سے نقل کیا ہے لیکن وہاں کفار کی وجہ سے آپ نے جمعہ قائم نہ فرمایا جب آپ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے مدینہ طیبہ ہجرت کی تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم چودہ دن تک قبیلہ بنو عمر وبن عوف کے ہاں ٹھہرے رہے مگر آپ نے وہاں جمعہ قائم نہ فرمایا، یہ دلیل ہے اس پر کہ دیہات میں جمعہ نہیں ورنہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم وہاں جمعہ قائم فرماتے اور باوجود یکہ امام بخاری نے صحیح روایت کیا کہ لوگ جمعہ پاتے تھے، اور ایک روایت میں ہے کہ لوگ اپنے اپنے گھر اور عوالی سے جمعہ کے لئے آتے پس وہ غبار میں آتے تو انھیں غبار پہنچتی اور پسینہ آتا،
(۲؂  فتح القدیر    باب صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲ /۲۳)

(۱؎صحیح البخاری        با ب من این تؤتی الجمعۃ الخ        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۱۲۳)
وفی القدوری ولاتصح الجمعۃ الافی مصر جامع اوفی مصلی المصر ولاتجوز فی القری ۲؎
اور قدوری میں ہے کہ جمعہ کے لئے شہر کی جامع یاشہر کی عیدگاہ کا ہونا ضروری ہے دیہاتوں میں جمعہ جائز نہیں،
(۲؎ المختصر للقدوری    باب صلٰوۃ الجمعۃ         مطبوعہ مطبع مجیدی کانپور    ص ۳۹)
قال مولنا بحرالعلوم فی ارکانہ تحت قولہ تعالٰی
یایھا الذین اٰمنوا اذا نودی للصّلٰوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الٰی ذکر اﷲ وذروا البیع
 (ای یحرم البیع ویجب السعی الی الجمعۃ بعد سماع  الندأ) ثم ان البیع قد یطول الکلام فیہ فیفوت الخطبۃ اوالجمعۃ لان التجار یترکون صفقا تھم فی ھذا الزمان ولذامنع من النداء الاول ۳؎ فالبیع والشراء فی المصر ظاہر وقال ایضا فیہ ویکرہ للمریض وغیرہ من المعذورین ان یصلوا الظھر یوم الجمعۃ بجماعۃ، ولاباس بالجماعۃ للظھر للقروی لان الجمعۃ جامعۃ للجماعت فی المصر ۴؎۔
مولٰنا بحرالعلوم '' ارکان الاسلام'' میں اﷲ تعالٰی  کے اس ارشاد گرامی '' اے ایمان والو ! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے ندادی جائے تو اﷲ کے ذکر کی طرف دوڑ کر آؤ اور بیع ترک کردو'' کے تحت لکھتے ہیں یعنی اذان کے بعد بیع حرام ہے اور جمعہ کی طرف سعی لازم ہے پھر بیع میں گفتگو طویل ہوجانے کی وجہ سے جمعہ اور خطبہ فوت ہوجاتا ہے کیونکہ ایسے وقت تاجر سودا ختم نہیں کرتے اور اسی لئے ندا اوّل کے وقت ہی سے اس سے منع کردیاگیا پس بیع وشراء کا شہر میں ہونا ظاہر ہے ،اور وہاں یہ بھی فرمایا کہ مریض اور دیگر معذور لوگوں کے لئے جمعہ کے دن جماعت کے ساتھ ظہر ادا کرنا مکروہ ہے البتہ دیہاتی لوگوں کے لئے ظہر کی جماعت میں کوئی حرج نہیں کیونکہ شہر میں جمعہ تمات جماعتوں کا جامع ہوتاہے
 (۳؎ رسائل الارکان    فصل فی الجمعۃ         مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ    ص۱۱۸)

(۴؎ رسائل الارکان    فصل فی الجمعۃ         مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ    ص۱۱۸)
فعلم ان شرط المصر لوجوب الجمعۃ مشروع لا نہ جری التوارث من لدن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الی ھذا الاٰن ان لایصلی الجمعۃاھل البدو والقرٰی  فالعمل علی قول صاحب القدوری لازم علی المقلدین لانہ قولہ مطابق لمذہب الحنفی واتبعوہ ورجحوہ جمہور فقہاء المحققین ولم ینکرہ احد من علماء الحنفیین کما فی الدرالمختار فعلینا اتباع مارجحوہ وما صححوہ کما لو افتونا فی حٰی وتھم ۱؎ الحق احق بالاتباع والمقلد الذی یخالفہ فحکم غیر جائز کما فی الدرالمختار واما المقلد فلا ینفذ قضائہ بخلاف مذھبہ اصلا ۲؎ فشرط المصر لصحۃ الجمعۃ محقق عند الجمھو ر الحنفیۃ بلاانکار احدلکن البتتۃ فقال الامام الشافعی موضع فیہ بنیان غیر منتقلۃ ویکون المقیمون اربعون رجلا من اصحاب المکلفین فاذا کان کذلک لزمت الجمعۃ واختلف الروایات فی مذہبنا ففی ظاھر الروایات بلدۃ لہا امام اوقاضی یصلح الاقامۃ الحدود ۔
اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وجوب جمعہ کے لئے شہر کا شرط ہونا مشروع ہے کیونکہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ظاہری حیات سے لے آج تک یہی متوارث ہے کہ اہل دیہات جمعہ نہیں پڑھتے ، تو صاحب قدوری کے قول پر مقلدین کے لئے عمل لازم ہے کیونکہ ان کا قول مذہب حنفی کے مطابق ہے اور جمہور فقہاء محققین نے اسی کی اتباع کرتے ہوئے اسے ہی راجح قراردیا ہے اور علماء احناف میں سے کسی نے اس کا انکار نہیں کیا جیسا کہ درمختار میں ہے تو ہم پر اس کی اتباع لازم ہے جسے انھوں نے راجح کہا اور اس کی تصحیح کی جیسا کہ وہ اپنی زندگی میں اس پر ہمیں فتوٰی  دیتے تو اسی کی اتباع کی جاتی اور حق ہی اتباع کے لائق ہےاور وہ مقلد جو اس کی مخالفت کرے اس کاحکم جائز نہیں جیسا کہ درمختا ر میںہے بہر حال اپنے مذہب کے خلاف مقلد کی قضاء اصلاً نافذ ہوگی صحت جمعہ کے لئے شہر کا شرط ہونا جمہور احناف کے ہاں ثابت ہے اور اس میں کسی کوانکار نہیں، ہاں تعریف شہر میں ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ،امام شافعی فرماتے ہیں کہ ہروہ جگہ جہاں نہ منتقل ہونے والی آبادی ہو اور وہاں چالیس مکلف آدمی مقیم ہوں تو وہاں جمعہ لازم ہوجاتاہے ، ہمارے مذہب میں اس بارے میں روایات مختلف ہیں ، ظاہرالروایت میں ہے کہ ایسا شہر ہو جس میں کوئی ایسا امام یا قاضی ہو جواقامتِ حدود کی طاقت رکھتا ہو ،
(۱؎ درمختار    مقدمۃ الکتاب    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۵)

(۲؎ درمختار    مقدمۃ الکتاب    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۵)
Flag Counter