| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ) |
وایضا فان الدعاء للسلطان علی المنابر قد صار الاٰن من شعار السلطنۃ فمن ترکہ یخشی علیہ ولذا قال بعض العلماء لوقیل ان الدعاء لہ واجب لما فی ترکہ من الفتۃ غالبا لم یبعد کما قیل بہ فی قیام الناس بعضھم لبعض ۱؎۔
سلطان کے لئے منبر پر دعاکرنا بھی اب سلطنت کے شعار میں سے ہوگیا ہے، جو اسے ترک کرے گا اس پر نقصان کا خدشہ ہے اس لئے بعض علماء نے فرمایا کہ اس میں کوئی بُعد نہیں اگر یہ کہہ دیا جائے کہ سلطان کے لئے دعا کرنا واجب ہے کیونکہ اس کے ترک پر غالباً فتنہ اٹھنے کا اندیشہ ہوتا ہے جیسا کہ بعض لوگوں کے بعض کے لئے قیام کے بارے میں کہا گیا ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۵۹۹)
اور شک نہیں کہ صدہا سال سے اکثر سلاطین زماں فسّاق ہیں، اس کا فسق اور کچھ نہ ہو تو حدود شرعیہ یک لخت اٹھا دینا اور خلاف شریعت مطہرہ طرح طرح کے ٹیکس اور جرمانے لگانا کیا تھوڑا ہے ،
اسی ردالمحتارآخر کتاب الاشربہ میں سیدی عارف باﷲ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی سے ہے :
قد قالوا من قال سلطان زماننا عادل کفر ۲؎ ۔
علماء نے فرمایا جو ہمارے دور کے سلطان کو عادل کہے گا وہ کافر ہے ۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الاشربہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵/ ۳۲۷)
اورشک نہیں کہ جس طرح وہ خطبہ میں اپنا نام نہ لانے پر ناراض ہوں گے یوں ہی اگر نام بے کلمات مدح وتعظیم لایا جائے تو اس سے زیادہ موجب افروختگی ہوگا اور فاسق کی مدح شرعاً حرام ہے،
حدیث میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتزلہ العرش ۳؎۔ رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ وابویعلی فی مسندہ و البیھقی فی شعب الایمان عن انس بن مالک وابن عدی فی الکامل عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہما۔
جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتا ہے اور اس کے سبب عرش الہٰی ہل جاتا ہے اسے امام ابن ابی الدنیا نے ذم الغیبۃ، ابویعلی نے مسند اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اورا بن عدی نے الکامل میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔
(۳؎ شعب الایمان حدیث ۴۸۸۶ باب فی حفظ اللسان مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴/ ۲۳۰)
خطباء جب کہ مجبوراً نہ اس میں مبتلا ہوئے ان بندگان خدا نے چاہا کہ اس ذکر کو خطبے سے علیحدہ بھی کردیں کہ نفس عبادت اسی امر پر مشتمل ہے اور بالکل خطبے سے جدائی بھی نہ معلوم ہو کہ آتشِ فتنہ مشتعل نہ رہے اس کے لئے اگر یوں کرتے کہ خطبہ پڑھتے پڑھتے کچھ دیر خاموش رہتے اس کے بعدذکر سلاطین کرکے بقیہ تمام کرتے تو یہ ہرگز کافی نہ تھا کہ مجلس واحدرہی اور مجلس واحد حسب تصریح کا فہ ائمہ جامع کلمات ہوتی ہے جو کچھ ایک مجلس میں کہا گیا گویا سب الفاظ دفعۃً واحدۃ معاً صادر ہوئے۔
وعن ھذایتم ارتباط الایجاب بالقبول اذا لحقۃ فی المجلس والا فی الایجاب انما کان لفظاصدر فعدم والقبول کم یوجد بعد و اذا وجد لم یکن الایجاب موجوداً و الموجود لایرتبط بالمعدوم کما افادہ فی الھدایۃ وغیرھا۔
اور اس سے ایجاب کا قبول سے ربط تمام ہوگا بشرطیکہ وہ مجلس کے اندر ہی ہو ورنہ جب ایجاب لفظاً صادر ہوا اور ابھی تک قبول معرضِ وجود میں نہیں آیا اور جب وہ معرضِ وجود میں آیا تو ایجاب نہ تھا اور موجود کسی معدوم سے مرتبط نہیں ہوسکتا، ہدایہ وغیرہ میں ایسے ہی تحریر ہے (ت) لہذا یہ تدبیر نکالی کہ اس ذکر کے لئے زینہ زیریں تک اتر آئیں اور بقدر امکان مجلس بدل دیں کہ خطبہ پڑھتے پڑھتے نیچے اترنا شرعاً اس کے قطع ہی کے لئے معہود ہے تو عموماً اجنبی خصوصاً بہ نیت قطع تبدل مجلس و انفصال ذکر کا باعث ہوگا جس طرح تلاوت آیت سجدہ میں ایک شاخ سے دوسری پر جانے کو علماء نے تبدیل مجلس گنا ہے،
اسی ردالمحتار میں ہے:
لعل وجہہ ان الانتقال من غصن الی غصن والتسدیۃ ونحوذلک اعمال اجنبیۃ کثیرۃ یختلف بھا المجلس حکما کا لکلام والا کل الکثیرلما مر من ان لمجلس اوالبیت یختلف حکما بمباشرۃ عمل یعد فی العرف قطعا لما قبلہ ولاشک ان ھذہ الافعال کذلک وان کانت فی المسجد اوالبیت بل یختلف بھا حقیقۃ لان المسجد مکان واحد حکما وبھذہ الافعال المشتملۃ علی الانتقال یختلف حقیقۃ بخلاف الاکل فان الاختلاف فیہ حکمی۱؎۔
شاید وجہ یہ ہے کہ ایک شاخ سے دوسری شاخ کی طرف منتقل ہونا اور کپڑا بنانے کے لئے تانا لگانا اعمال اجنبی اور کثیرہیں جن کی وجہ سے مجلس حکماً مختلف ہوجاتی ہے جیسے کثیر کلام اور طعام سے مجلس بدل جاتی ہے جیساکہ پیچھے گزرا کہ مجلس اور گھر، ہر ایسے کام سے حکماً تبدیل ہوجاتے ہیں جنھیں عرف میں ماقبل کام کو ختم کرنے والا کہا جاتا ہو اور ان افعال کے ایسا ہونے میں شک ہی نہیں اگر چہ یہ مسجد یا گھر میں سرزد ہوں بلکہ ان میں حقیقۃ تبدیلی آجائے گی کیونکہ مسجد حکماً ایک جگہ کی طرح ہوتی ہےاور ان افعال جو انتقال پرمشتمل ہیں کی وجہ سے حکماً مختلف ہوجائے گی بخلاف کھانے کے ،کیونکہ اس میں اختلاف حکماً ہوگا۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب سجود التلاوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۵۷۴)
اس میں اس قدر ہوگا کہ بیچ میں خطبہ قطع کرنا ہوا اس محظور کے دفعہ کو، اس میں کیا محذور جب خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے صحیح حدیث شاہزادوں کے لینے کے لئے خطبہ قطع فرماکر نیچے اترنا پھراوپر تشریف لے جانا ثابت تو بعضہم کی بحث اصلا متجر نہ تھی۔ غرض نقل مذکور میں مدعی عدم جواز کے لئے کوئی محل احتجاج نہیں ، جہاں صورت یہ ہو جو فقیر نے ذکر کی وہاں اس نزول وصعود سے یہی نیت کریں اور جب ذکر ومدح سلطان ترک نہ کرسکیں اس مصلح کے ترک کی کوئی وجہ نہیں اور جہاں ایسا نہ ہو جیسا ہمارے بلاد میں وہاں مدح میں الفاظ باطلہ ومخالفہ شرع ذکر کرنا خود حرام خالص ہے، خصوصاً کذب وشنائع کو عبادت میں ملانا، تو اس کےلئے یہ نزول عذر نہیں ہوسکتا، اور جب مخالفات شرع سے پاک تو بہ نیت اظہار مراتب ، جس طرح شیخ مجدد رحمہ اﷲتعالٰی کے مکتوبات میں ہے: نزول وصعود ایک وجہ موجہ رکھتا ہے اس صورت میں اس پر نکیر لازم نہیں، ہاں عوام سے اندیشۂ اعتقاد سنیت کے سبب علماء کو مناسب کہ گاہ گاہ اس نزول صعود بلکہ خود ذکر سلطان اعز اﷲ نصرہ کو بھی ترک کریں ورنہ دعائے سلطان اسلام محبوب ومندوب ہے اور اس نیت کے لئے نزول وصعود میں بھی حرج نہیں، اور بے دلیل شرعی مسلمانوں پر الزام گناہ وارتکاب بدعت شنیعہ باطل مبین، پس احق بالقبول حکم مجیب ثانی ہے
ھذا ماظھر لی
( یہ مجھ پر واضح ہوا ہے ۔ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم