Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
92 - 144
امام ابنِ حجر فتح المبین میں فرماتے ہیں :
الحاصل ان البدعۃ الحسنۃ متفق علی ندبھا وعمل المولد واجتماع الناس لہ کذلک ۲؎ ۔
حاصل یہ ہے کہ بدعت حسنہ کے مندوب ہونے پر اہل علم کا اتفاق ہے ، میلاد شریف کرنا اور اس کے لئے لوگوں کا اجتماع بھی بدعتِ حسنہ ہی ہے ۔(ت)
(۲؎ فتح المبین)
خود اسی قول میں بدعت کو قبیحہ شنیعہ سے مقید کرنا مشعر ہے کہ نفس بدعیت مستلزم قبیح وشناعت نہیں معہذایوں تووہ محل جس پر یہ نزول وصعود ہوتا ہے یعنی ذکر سلاطین خودہی بدعت تھا تو اس نزول وصعود کے ساتھ تخصیص کلام کی وجہ نہ تھی اسی ردالمحتار میں بعدنقل عبارت جامع الرموز :
ثم یدعو لسلطان الزمان بالعدل والاحسان متجنبا فی مدحہ عما قالوا انہ کفر وخسران کما فی الترغیب وغیرہ ۳؎ اھ۔
پھر بادشاہِ وقت کےلئے یہ دعا کی جائے کہ اﷲ تعالٰی  اسے عدل واحسان کی توفیق دے لیکن بادشاہ کی مدح سرائی سے اجتناب کرے کیونکہ علماء نے کہا ہے کہ ایسا کرنا کفر اور خسارہ ہے جیسا کہ ترغیب وغیرہ میں ہے(ت)
 (۳؎ ردالمحتار    باب الجمعۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۹۹)
فرمایا:
اشارالشارح بقولہ وجوز الی حمل قولہ ثم ید عوعلی الجواز لاالندب لانہ حکم شرعی لابدلہ من دلیل وقد قال فی البحر انہ لا یستحب لماروی عن عطاء رضی اﷲ تعالٰی عنہ حین سئل عن ذلک فقال انہ محدث وانماکانت الخطبۃ تذکیر اھ ولامانع من استحبابہ فیھا کما یدعی لعموم المسلمین فان فی صلاحہ صلاح العالم وما فی البحر من انہ محدث لاینافیہ فان سلطان ھذا الزمان احوج الی الدعاء لہ ولامراءہ بالصلاح والنصر علی الاعداء وقد تکون البدعۃ واجبۃ اومندوبۃ ۱؎ اھ مختصرا۔
شارح نے '' یہ جائز ہے'' کہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ '' پھر دعا کرے''کے الفاظ جواز پر محمول ہیں ندب پر نہیں کیونکہ ندب حکم شرعی ہے اس کے لئے دلیل کا ہونا ضروری ہے ، اور بحر میں ہے کہ یہ مستحب نہیں کیونکہ حضرت عطاء رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے مروی ہے کہ جب آپ سے اس بارے میں پوچھا گیا توفرمایا یہ نئی ایجاد ہے اور خطبہ تو محض نصیحت کے لئے ہوتا ہے اھ تو خطبہ میں سلطان کےلئے دعا کرنا مستحب ہونے میں کوئی امر مانع نہیں جیسے کہ تمام مسلمانوں کے لئے اس میں دعا کی جاتی ہے کیونکہ سلطان کی اصلاح تمام جہاں کی اصلاح ہوتی ہے، اور جو بحر میں ہے کہ یہ نئی چیز ہے وہ اس کے منافی نہیں کیونکہ اس دور میں بادشاہ اور اس کے رفقاء اس دعا کے زیادہ محتاج ہیں کہ ان کی اصلاح ہو اور وہ دشمن پر غالب آئے اور بعض اوقات بدعت واجب یا مندوب ہوتی ہے اھ مختصراً (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب الجمعۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۵۹۹)
اگر کہئے زیادت علی السنۃ ہے اقول یوں تو ذکر سلاطین بلکہ ذکر عمین کریمین وبتول زہرا و ریحانتین مصطفی وستہ باقیہ من العشرۃ المبشرۃ بلکہ ذکر خلفائے اربعہ بھی صلی اﷲتعالٰی  علی الحبیب وعلیہم جمیعا وبارک وسلم سب سے زیادہ علی سنۃ المصطفی صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم ٹھہریں گے، زیادہ علی السنۃ وہ مکروہ ہے کہ باعتقاد سنت ہو ورنہ باعتقادِ اباحت یاندب زیادت نہیں۔
درمختار بیان سنن الوضوءمیں ہے:
لوزاد لطمانینۃ القلب اولقصدالوضوء علی الوضوء لاباس بہ وحدیث فقدتعدی محمول علی الاعتقاد ۲؎۔
اگر کسی نے (تین سے) زائد باراعضاء کو دھویا اور مقصد اطمینانِ قلب یا وضو پر وضو تھا تو اس میں کوئی حرج نہیں ، باقی فرمانِ نبوی '' ایسا کرنے والے نے زیادتی کی'' اعتقاد ( کہ اس کے بغیر وضو نہیں ہوتا ) پر محمول ہے ۔ (ت)
 (۲؎ درمختار    کتاب الطہارۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۲۲)
اسی ردالمحتار میں بدائع امام ملک العلماء سے ہے :
الصحیح انہ محمول علی الاعتقاد دون نفس الفعل حتی لو زاد او نقص واعتقد ان الثلاث سنۃ لایلحقہ الوعید ۱؎۔
صحیح یہ ہے کہ یہ اعتقاد پر محمول ہے نفسِ فعل پر نہیں حتی کہ اگر کسی نے اضافہ کیا یا کمی کی مگر عقیدہ یہ تھا کہ سنت تین دفعہ ہی ہے تو اسے وعید لاحق نہ ہوگی ۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۸۹)
خود علامہ شامی فرماتے ہیں:
اقول  :  قد تقدم ان المنھی عنہ فی حدیث قدتعدٰی  محمول علی الاعتقاد عندنا کما صرح بہ فی الھدایۃ وغیرہ وقال فی البدائع انہ الصحیح حتی لوزاد اونقص واعتقدان الثلاث سنۃ لایلحقۃ الوعید( الی ان قال) ان من اسرف فی الوضوء بماء النھر مثلا مع عدم اعتقاد سنۃ ذلک ، نظیر من ملاء اِناءً من النھر ثم افرغہ فیہ ولیس فی ذلک محذور سوی انہ عبث لا فائدۃ فیہ وھو فی الوضوء زائد علی المامور بہ فلذاسمی فی الحدیث اسرافاً قال فی القاموس الاسراف التبذیر اوما انفق فی غیر طاعۃ ولا یلزم من کونہ زائداعلی المامور بہ وغیر طاعۃ ان یکون حراماً نعم اذا اعتقد سنیتہ یکون قد تعدی وظلم لا عتقادہ مالیس بقریۃ قربۃ فاذاحمل علماؤنا النھی علی ذلک ۲؎۔
میں کہتا ہوں کہ پہلے گزرا کہ ہمارے نزدیک فرمان نبوی '' اس نے زیادتی کی'' میں ممنوع اعتقاد ہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں تصریح ہے،اور بدائع میں ہے کہ صحیح یہ ہے کہ اگر کسی نے اضافہ کیا یا کمی کی اور اعتقاد یہ رکھا کہ سنت تین دفعہ ہی ہے تو وہ گنہگار نہ ہوگا ( آگے چل کر کہا کہ) وہ شخص جو نہر کے پانی میں وضو کرتے ہوئے اسراف کرتاہے لیکن اس کے سنت ہونے کا اعتقادنہیں رکھتا یہ اس شخص کی طرح ہے جس نے نہر سے برتن بھرا پھر اس میں واپس ڈال دیا ، تو اس میں کوئی قباحت نہیں سوائے اس کے یہ عمل عبث ہے اس میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ مامور بہ وضو میں زائد شیئ ہے پس اسی لئے حدیث میں ایسے کو اسراف کا نام دیا گیا ہے۔ قاموس میں ہے اسراف ، فضول خرچی یا ایسی جگہ خرچ کرنا ہے جو مقام طاعت کے علاوہ ہو ، مامور بہ سے زائد یا مقامِ طاعت کے علاوہ خرچ کرنے سے اس کا حرام ہونا لازم نہیں آتا البتہ اگر کہئے اس میں اندیشہ ہے کہ عوام سنت سمجھ لیں گے
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۹۸)
اقول اوّلاً :
وہی نقوض ہیں کہ یہ نفس اذکار بھی سنت نہیں تو اندیشہ یہاں بھی حاصل ۔ اور تحقیق یہ ہے کہ اندیشہ مذکورہ نہ فعل کو بدعت قبیحہ شنیعہ کردیتا ہے نہ اس کے ترک کو واجب ،بلکہ جہاں اندیشہ ہو صرف اتنا چاہئے کہ علماء کبھی کبھی اُسے بھی ترک کردیں تاکہ عوام سنت نہ سمجھ لیں،اسے ناجائز وبدعت قبیحہ ہونے سے کیا علاقہ ! فقیر غفرالمولی القدیر نے اپنی کتاب رشاقۃ الکلام حاشیۃ اذاقۃ الاثام میں اس کی بکثرت تصریحات ائمہ دین علمائے معتمدین حنفیہ وشافعیہ ومالکیہ رحمۃ اﷲ علیھم اجمعین سے نقل کیں،
اسی ردالمحتار میں فتح القدیر سے ہے :
مقتضی الدلیل عدم المداومۃ لاالمداومۃ علی الترک فان لزوم الایھام ینتفی بالترک احیانا اھ اختصار
دلیل کا تقاضا عدمِ مداومت ہے نہ کہ ترک پر مداومت کیونکہ کبھی کبھار ترک سے لازم و واجب ہونے کی نفی ہوجاتی ہے اھ باختصار (ت)

اب نہ رہا مگر ادعائے عبث کہ اس میں کوئی فائدہ نہیں، اور عبث ہر جگہ مکروہ ہے نہ کہ خود عبادت میں۔ اس کا جواب الف ثانی کے مکتوبات سے فاضل مجیب دوم سلمہ، نے بروجہ کافی نقل کردیا جس سے اس کی مصلحت ظاہر ہوگئی اور توہم عبث زائل ہولیا۔

وانا اقول وباﷲ التوفیق ( اور میں اﷲ تعالٰی  کی توفیق سے کہتا ہوں۔ ت) جن اعصار وامصار میں بعض نے یہ بحث کی وہاں اس فعل پر ایک نکتہ جمیلہ ودقیقہ جلیلہ اصول شرعی سے ناشیئ ہوسکتا ہے جس سے یہ فعل شرعاً نہایت مفید ومہم قرار پاتا اور بحث باحث کا اصلاً پتا نہیں رہتا ہے خطبے میں ذکر سلاطین اگر چہ محدث ہے مگر شعارِ سلطنت قرار پاچکا یہاں تک کہ کسی ملک میں کسی کی سلطنت ہونے کو یوں تعبیر کرتے ہیں کہ وہاں اس کا سکّہ وخطبہ جاری ہے، سلطنتِ اسلامی میں اگر خطیب ذکر سلطان ترک کرے مورد ِ عتاب ہوگا، مصر ہو تو گویا باغی اور سلطنت کامنکر ٹھہرے گا اور ایسی حالت میں مباح بلکہ مکروہ بھی بقدر اندیشہ فتنہ موکد بلکہ واجب تک مترقی ہوتا ہے،
Flag Counter