Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
91 - 144
الجواب

اقول وباﷲ التوفیق کسی فعلِ مسلمین کو بدعت شنیعہ وناجائز کہنا ایک حکم اﷲ ورسول جل جلالہ وصلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم پر لگانا ہے اور ایک حکم مسلمانوں پر ۔ اﷲ ورسول جل وعلا وصلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم پر تو یہ حکم کہ ان کے نزدیک یہ فعل ناروا ہے انھوں نے اس سے منع فرمادیا ہے، اور مسلمانوں پر یہ کہ وہ اس کے باعث گنہگار و مستحق عذاب وناراضیِ رب الارباب ہیں، ہر خدا ترس مسلمان جس کے دل میں اﷲ ورسول جل وعلاوصلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کی کامل عزت وعظمت اور کلمۂ اسلام کی پوری توقیر ووقعت اور اپنے بھایؤں کی سچی خیر خواہی ومحبت ہے کبھی ایسے حکم پر جرأت رو ا نہ رکھے جب تک دلیل شرعی واضح سے ثبوت کا فی و وافی نہ مل جائے۔
قال اﷲ تعالٰی:  ام تقولون علی اﷲ مالا تعلمون۔۱؎
اﷲ تعالٰی  کاارشاد گرامی ہے: یا تم ایسی بات اﷲ تعالٰی  کی طرف سے کہتے ہو جس کا تمھیں علم نہیں (ت)
(۱؎ القرآن ۲/۸۰)
کیا اﷲ عزوجل پربے علم حکم لگائے دیتے ہو، دلیل شرعی مجتہد کے لئے اصولِ اربعہ ہیں اورہمارے لئے قول مجتہد صرف ایسی ہی جگہ علمائے کرام حکم بالجزم لکھتے ہیں اس کے سوا اگر کسی عالم غیر مجتہد نے کسی امر کی بحث کی تو ہر گز اس مسئلے کو یونہی نہیں لکھ جاتے کہ حکم یہ ہے بلکہ صراحۃً بتاتے ہیں کہ یہ فلاں یا بعض کی بحث ہے تاکہ منقول فی المذہب نہ معلوم ہو اور جس کا خیال ہے اسی کے ذمہ رہے
وَلِّ حَارَّ ھَا مَنْ تَوَلّٰی قَارَّھَا
 ( معاملہ کے گرم حال کو بھی اس کے سپرد کردو جو سرد حال کا مالک ہے یعنی اچھا پہلو جس کے سپرد کیاہے برا پہلو بھی اسی کے سپرد کردویا جو نفع اٹھاتا رہا وہی بوجھ اور نقصان بھی اٹھائے ۔ اہل عرب کے نزدیک گرم چیز بری اور ٹھنڈی چیز اچھی سمجھی جاتی ہے ۔حارّ العمل سخت اور کٹھن کام، اور قارّ العمل آسان کام ۔ت) اگراحیاناً کوئی اسے بطور جزم لکھ جاتا ہے تو اس پر گرفت ہوتی ہے کہ
ساقہا مساق المنقول فی المذھب
یہ اس مسئلے کو ایسا لکھ گیا گویا مذہب میں منقول ہے خود اسی ردالمحتار وغیرہ کے مواضع عدیدہ سے نظر کرنے والوں کو یہ بیان عیاں ہوجائے گا یہاں بھی علامہ شامی نے وہی طریق برتا، یہ نہ فرمایا کہ نزول وصعود ممنوع یا بدعت شنیعہ ہے بلکہ ابن حجر شافعی کا کلام نقل فرمادیا کہ ماخذ مسئلہ متمیزر ہے ، منقول فی الذہب ہونا درکنار اپنے کسی عالم مذہب کا مذکور نہ سمجھا جائے ،وہی تحفظ امام ابن حجر رحمہ اﷲ تعالٰی  نے ملحوظ رکھا، مسئلے کاحکم خود نہ لکھا جس سے جزم مفہوم ہو، بلکہ فرمایا بحث بعضعھم بعض نے یوں بحث کی ہے ، بحث وہیں کہیں گے جہاں مسئلہ نہ منقول ہو نہ صراحۃً کسی کلیۂ نامخصوصۂ مذہب کےتحت میں داخل ہو کہ ایسے کلیات سے استناد بحث ونظر پر موقوف نہیں مثلاً سوال کیا جائے کہ ایک لڑکے نے چھ مہینے پانچ دن چار گھڑی تین منٹ کی عمر میں ایک عورت کا دودھ پیا اس کی دختر اس پر حرام ہوئی یا نہیں؟ جواب ہوگا کہ حرام ، یہ صورت خاصہ اگر چہ اصلاً کسی کتاب میں منقول نہیں مگر اسے ہرگز بحثِ فلاں نہ کہا جائے گا کہ کتب مذہب میں اس کلیہ عامہ کی تصریح ہے کہ مدتِ رضاعت کے اندر جو ارتضاع ہو موجب تحریم ہے، تو ثابت ہوا کہ علامہ شامی یا امام ابن حجراسے کسی کلیہ مذہب کے نیچے بھی صراحۃً داخل ہو نا نہیں مانتے ورنہ یہ
قال ابن حجر و بحث بعضھم
 ( ابن حجر نے کہا اور اس میں بعض نے بحث کی ہے ۔ت) پر اکتفا نہ کرتے ، پھر بعضھم (کم از کم ۔ت)کے لفظ نے اور بھی اشعار کیا کہ یہ خیال صرف بعض کا ہے اکثر علماء اس کے مخالف ہیں لااقل ان کی موافقت ثابت نہیں، خود علامہ شامی نے اسی ردالمحتار میں اس اشارہ واشعار کی جابجا تصریح کی ، درمختار میں نظم الفرائد سے نقل کیا : ع
واعتاقہ بعض الائمۃ ینکر ۱؎
 ( بعض ائمہ کا اسے آزاد اقراردینا ناپسند ہے ۔ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الصید        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۶۴)
اس پر علامہ شامی نے اعتراض فرمایا ہے :
مفھوم قول بعض الائمۃ ینکر انہ یجوزہ اکثرھم ولم ینقل ذلک ۲؎ الخ
قولہ '' بعض الائمۃ ینکر '' کا مطلب یہ ہے کہ اکثر نے اس نے اسے جائز قرار دیا ہے الخ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار     کتاب الصید         مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۵/ ۳۳۹)
بلکہ تصریح فرمائی کہ ایسی تعبیر اس قول کی بے اعتمادی پر دلیل ہوتی ہے، درمختار کتاب الغصب میں تھا:
اختار بعضھم الفتوی علی قول الکرخی فی زماننا ۳؎۔
ہمارے زمانے میں بعض نے امام کرخی کے قول پرفتوٰی  دیا ہے۔ (ت)
(۳؎ درمختار     کتاب الغصب     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۰۶)
شامی نے کہا:
ھذامن کلام الزیلعی اتی بہ لاشعار ھذا التعبیر بعدم اعتمادہ ۴؎ (ملخصاً)
یہ امام زیلعی کا کلام ہے ان کی یہ تعبیر واضح کررہی ہے کہ یہ معتمد نہیں ( ملخصاً) ۔(ت)
(۴؎ ردالمحتار    کتاب الغصب        مطبوعہ مصطفی البابی مصر     ۵ /۱۳۳)
ردالمحتار فصل صفۃ الصلٰوۃ میں تھا:
لوبقی حرف اوکلمۃ فاتمہ حال الانحناء لاباس بہ عند البعض منیۃ المصلی ۱؎ ۔
اگر ایک حرف یا کلمہ رہ گیا تھا جو نماز میں جھکنے کی حالت میں پوراگیا تو بعض کے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں، منیۃ المصلی ۔(ت)
(۱؎ درمختار     واذا اراد الشروع فی الصلٰوۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۷۵)
شامی نے لکھا :
قولہ لاباس بہ عند البعض اشار بھذا الی ان ھذا القول خلاف العتمد ۲؎ الخ
قولہ '' بعض کے نزدیک کوئی حرج نہیں'' اس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ یہ قول معتمد کے خلاف ہے الخ (ت)
(۲؎ ردالمحتار     واذا اراد الشروع فی الصلٰوۃ          مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۳۲۴)
اس تقریر منیر سے بحمد اﷲ تعالٰی  روشن ہوگیا کہ علامہ شامی خواہ امام ابن حجر کی تحریر اس دعوے جزم بحکم عدم جواز کے اصلا مساعد نہیں بلکہ ہے تومخالف ہے، اب رہی بعض کی بحث،

اقول اوّلاً وہ بعض مجہول ہیں اور مجہول الحال کی بحث مجہول الماخذ کیا قابل استناد بھی نہیں، اسی ردالمحتار کتا ب النکاح باب الولی میں ہے :
قول المعراج رأیت فی موضع الخ لایکفی فی النفل لجہالتہ ۳؎۔
صاحب معراج کا قول کہ میں نے کسی جگہ پڑھا ہے الخ ان کے عدم علم کی وجہ سے نقل کے لئے کافی نہیں۔ (ت)
 (۳؎ رد المحتار     کتاب النکاح ، باب الولی          مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۲/۳۹)
ثانیاً محتمل بلکہ ظاہر کہ وہ بعض ائمہ مجتہدین سے نہیں اور مقلدین صرف کہ کسی طبقہ اجتہاد میں نہ ہوں نہ خود اپنی بحث پر حکم لگا سکتے ہیں، نہ دوسرے پر ان کی بحث حجت ہو سکتی ہے
والا لکان تقلید مقلد وھو باطل اجماعا
( ورنہ یہ مقلد کی تقلید ہوجائے گی اور وہ بالاتفاق باطل ہے ۔(ت)

ثالثاً اس پر کوئی دلیل ظاہر نہیں،

اگر کہیے حادث ہے اقول مجرد حدوث اصلاً نہ شرعاً دلیل منع، نہ اس کی حجیت، علامہ شامی نہ امام ابن حجر نہ ان بعض کسی کو تسلیم ،
ردالمحتار میں ہے :
صاحب بدعۃ ای محرمۃ والا فقد تکون واجبۃ کنصب الادلۃ للردعلی اھل الفرق الضالۃ وتعلم لنحو المفھم للکتاب والسنۃ ومندوبۃ کاحداث نحو رباط ومدرسۃ و کل احسان لم یکن فی الصدر الاول ومکروہۃ کزخرفۃ المساجد ومباحۃ کالتوسع بلذیذ المأکل والمشارب الصیاد  کمافی شرح جامع الصغیر للمناوی عن تھذیب النوی ومثلہ فی الطریقۃ المحمدیۃ للبرکوی ا؎۔
صاحبِ بدعت محرمہ ہوگاورنہ کبھی بدعت واجبہ ہوتی ہے جیسے کہ گمراہ فرقوں کی گمراہی کا ردکرنے کے لئے دلائل قائم کرنا اور علم نحو کا سیکھنا جو کتاب وسنت کی تفہیم کے لئے ضروری ہے اور کبھی مستحب ہوگی جیسے کہ سرائے اور مدرسہ اور ہر نیکی کا کام جوپہلے دور میں نہ تھا، اور کبھی مکروہ ہوگی جیسے مساجد کو مزین کرنا، اور مباح ہوگی جیسے کھانے پینے اور لباس میں وسعت اختیار کرنا جیساکہ امام مناوی نے شرح جامع صغیر میں تہذیب نوی سے بیان کیا، اور برکوی کی طریقۂ محمدیہ میں بھی اسی طرح ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب الامامۃ    مطلب البدعۃ خمسۃ اقسام    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۴۱۴)
Flag Counter