| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ) |
رسالہ مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان (۱۳۲۰ھ) (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
مسئلہ ۱۳۴۹: از احمد آباد گجرات محلہ چکلہ کا لوپور متصل پل گلیارہ مرسلہ مولوی عبدالرحیم صاحب ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ان دونوں جوابوں میں کون سا جواب احق بالقبول ہے: سوال: علمائے دین متین اس مسئلہ میں کیا ارشاد فرماتے ہیں بحوالہ کتب معتبرہ تحریر فرمائیں خطیب کو خطبۂ ثانی میں منبر سے ایک سیڑھی اُترنا اور پھر چڑھ جانا یہ شرع شریف میں جائز ہے یا نہیں؟ بینوا بالسند الکتاب و توجروا فی یوم الحساب۔ الجواب ھوا لصواب : صورتِ مسئولہ میں خطیب کو سیڑھی اُترنا اور چڑھنا جائز نہیں بدعت شنیع ہے جیسا کہ شامی جلد اول صفحہ ۸۶۰میں مذکور ہے :
قال ابن حجرفی التحفۃ وبحث بعضھم ان ما اعتید الاٰن من النزول فی الخطبۃ الثانیۃ الٰی درجۃ سفلی ثم العود بدعۃقبیحۃ شنیعۃ ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب۔
ابن حجر نے تحفہ میں فرمایا کہ بعض لوگوں نے یہ بحث کی ہے کہ یہ جو عادت بنالی گئی ہے کہ دوسرے خطبہ کے وقت منبر کی نچلی سیڑھی اور پھر دوبارہ اوپر والی سیڑھی پر چلاجانا بدترین بدعت ہے، واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب
(۱؎ ردالمحتار باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۶۰۸)
محمد عیسٰی عفی عنہ، المجیب مصیب عنداﷲ عبدالرحمن ولد مولوی محمد عیسٰی عفی عنہ بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم o اللھم ارنا الحق وارزقنا اتباع وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ۔
اﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو نہایت ہی مہربان اور رحم والا ہے، اے اﷲ ! ہمیں حق دکھا اور اس پر چلنے کی توفیق دے اور ہمیں باطل دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق دے ۔(ت) مجیب لبیب نے زینہ اترنے کا ناجائز ہونا بلکہ بدعت شنیعہ ہونا جوعلامہ شامی نے ابن حجر شافعی کے قول سے جوان کی کتاب تحفہ میں نقل کیا ہے ثابت کیا ہے ہر گز ناجائز ہونا اس سے ثابت ہوتا ہے نہ بدعت شنیعہ ہونا اس سے ثابت ہوتا ہے، طریقۂ محمدیہ کی شرح میں لکھا ہے : ان المسئلۃ الواقعۃ متی امکن تخریجھا علی قول من الاقوال فی مذھبنا اومذھب غیرنا فلیست بمنکر یجب انکارہ والنھی عنہ وانما المنکر ماوقع الاجماع علی حرمتہ والنھی عنہ خصوصا۲؎ انتھی مختصرا۔ یعنی اگر کوئی مسئلہ ایسا واقع ہو کہ اس کی تخریج ہمارے حنفی مذہب کے کسی قول کے موافق ممکن ہو شافعیوں یا حنبلیوں یا مالکیوں کے مذہب کے موافق اس کی تصریح ممکن ہو تو وہ ایسا منکر نہیں کہ اس کا انکار کرنا اور اس سے منع کرنا واجب ہو بلکہ ایسا اس منکر کیلئے ہے جس کی حرمت اجماعی ہو اور شارع علیہ السلام نے اس سے بالخصوص منع کیا ہو انتہی مختصراً (ت)
(۲؎ طریقہ محمدیہ شرح طریقہ محمدیہ النوع الثالث الثلاثون مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۳۰۹)
اب اہل انصاف بغور ملاحظہ فرمائیں کہی اس زینہ اترنے کی وجہ کیا ہے، امام ربانی حضرت مجد دالف ثانی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ اپنے مکتوبات کی جلد ثانی کے صفحہ ۱۶۲ مطبوعہ نولکشور میں تحریر فرماتے ہیں: میدانیہ کہ درخطبہ روز جمعہ نام سلاطین کہ درزینہ پایہ سہ فرود آمدہ می خوانند وجہش چیست ایں تواضعیست کہ سلاطین عظام نسبت بآں سرور وبخلفائے راشدین علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات نمودہ اند و جائز نداشتہ اند کہ اسامی ایشاں بااسامی اکابردین دریک درجہ مذکور شود شکراﷲ سعیھم ۳؎ انتھیاب اہل انصاف بغور ملاحظہ فرمائیں کہی اس زینہ اترنے کی وجہ کیا ہے، امام ربانی حضرت مجد دالف ثانی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ اپنے مکتوبات کی جلد ثانی کے صفحہ ۱۶۲ مطبوعہ نولکشور میں تحریر فرماتے ہیں: میدانیہ کہ درخطبہ روز جمعہ نام سلاطین کہ درزینہ پایہ سہ فرود آمدہ می خوانند وجہش چیست ایں تواضعیست کہ سلاطین عظام نسبت بآں سرور وبخلفائے راشدین علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات نمودہ اند و جائز نداشتہ اند کہ اسامی ایشاں بااسامی اکابردین دریک درجہ مذکور شود
شکراﷲ سعیھم ۳؎ انتھی
(۳؎ مکتوبات امام ربانی مکتوب نود ودوم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۲/۱۶۲)
علامہ حسین کاشفی مؤلف تفسیر حسینی اپنی کتاب '' ترغیب الصلٰوۃ'' میں فرماتے ہیں : ازاں پایہ منبر کہ حمد وثنا ودرود گفتہ ذکر خلفائے کرام کردہ نشیب آید و ذکر کر و دعائے سلطان چوں تمام کند باز بالا رفتہ خطبہ باقیہ تمام کند ۱؎ انتہی
(۱؎ ترغیب الصلٰوۃ لعلامہ حسین کاشفی)
مطلب عبارت مکتوب کایہ ہے کہ تمام مسلمان بھائی جان لیں کہ جمعہ کے دن خطبہ میں نام بادشاہوں کو نیچے کے زینے منبر پر اُتر کر پڑھتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے، آنجناب اس کی یہ وجہ بیان فرماتے ہیں کہ یہ تواضع وفروتنی ہے کہ بڑے بڑے مسلمان بادشاہوں نے بہ نسبت نبی کریم علیہ الصلٰوۃ والسلام وخلفائے راشدین آں سرورٖ کائنات علیہم الصلٰوۃ والتسلیمات کے کی ہے اور ان بادشاہوں نے یہ بات جائز نہیں رکھی ہے کہ بادشاہوں کے نام ساتھ اسامی اکابردین کے ایک درجہ میں مذکور ہوں، حضرت مجدد الف ثانی علیہ رحمۃ الباری اُن نیک بخت بادشاہوں کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ اﷲ تعالٰی ان بادشاہوں کی کوشش کو قبول کرے اور ان کو جزائے خیر عطافرمائے۔ اور مطلب عبارت'' ترغیب الصلٰوۃ'' کا یہ ہے کہ منبر کے اس زینۂ معلومہ پر حمد وثناء ودرود پڑھ کر اورذکر خلفائے راشدین رضی اﷲ تعالٰی عنہم کرکے نیچے کے زینہ پر خطیب آئے اور ذکر و دعائے سلطان کرکے جب دعائے سلطان تمام ہوجائے پھر اوپر کے زینہ پر چڑھ کر خطبہ باقیہ تمام کرے۔ اب منصفین غور فرمائیں کہ ہمارے حنفی مذہب کی کتاب میں بھی اس زینہ اُترنے کے لئےملاحسین کاشفی حنفی مصنف تفسیر حسینی نے تحریر فرمایا ہے اور حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے اس کی وجہ بھی بیان کردی ہے کہ بوجہ مذکور الصدر کے یہ زینہ اُترنا جاری ہوا ہے اب جوعلماء اس کو بدعتِ قبیحہ شنیعہ فرماتے ہیں بغور ملاحظہ فرمائیں کہ بدعت قبیحہ ومنکر مطابق عبارت شرح طریقہ محمدیہ کے جب ہوتی ہے کہ اس کی تخریج ہمارے مذہب کے کسی قول کے موافق ممکن نہ ہو اور مانحن فیہ میں خود ہمارے حنفی مذہب کی کتابوں میں اس زینہ اترنے کو تحریر فرمایا ہے اور اس کی وجہ بھی بیان کی ہے اب یہ زینہ اترنا بدعت کیسے ہوا، ہاں جو علماء اس کو بدعت قرار دیتے ہیں حنفی مذہب کی اور کتابوں سے اس کا بدعت قبیحہ ہونا ثابت کریں یا کسی کتاب میں یہ لکھا ہو کہ زینہ اترنا حرام اجماعاً ہے یا شارع علیہ السلام نے صراحۃً منع فرمایا ہے جب اس کا منکر ہونا ثابت ہو تو اس سے منع کرنا واجب ہوگا
ودونہ خرط القتاد
(جبکہ اس کے آگے مضبوط رکاوٹ ہے ۔ت) اور جو علماء اس زینہ اترنے کو بدعت قبیحہ شنیعہ قول علامہ ابن حجر شافعی سے ثابت کرتے ہیں ان پر یہ بات ضرور ہے کہ اس کا بدعت قبیحہ شنیعہ ہونا ثابت کریں،
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ جلد اول صفحہ ۱۷۹میں ہے :
قال الشافعی رحمہ اﷲ تعالٰی ما احدث مما یخالف الکتاب اوالسنۃ اوالاثر اوالاجماع فہو ضلالۃ وما احدث من الخیر مما لا یخالف شیئا من ذلک فلیس بمذموم ۱؎ انتہی۔
یعنی حضرت امام شافعی ( جن کے علامہ ابن حجر مقلد ہیں) فرماتے ہیں جو ایسی چیز نکالی جائے کہ وہ کتاب اﷲ یا سنتِ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یا اقوال اصحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم یا اجماع امت کے مخالف ہو وہ بدعتِ ضلالت وبدعت قبیحہ شنیعہ ہے اور جو چیز نیکی سے ایسی نکالی جائے کہ وہ اشیائے ار بعہ مذکورہ میں سے کسی چیز کے مخالف نہ ہو وہ ہرگز مذموم نہیں ہے انتہی بلکہ وہ بدعت حسنہ ہے بالجملہ فعل بدعت غیر مذکور میں جن کے اقسام ثلثہ مشہورہ اعنی واجبہ مندوبہ ومباحہ ہیں ان میں سے ایک میں داخل ہے۔
(۱؎ مرقاۃ المفا تیح شرح مشکوٰۃ المصابیح باب الاعتصام فصل اول مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان ۱ /۲۱۶)
اب اہل انصاف بغور ملاحظہ فرمائیں کہ زینہ اترنا کون سی قرآن مجید کی آیت کے خلاف ہے یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی کون سی حدیث شریف کے خلاف ہے یا کون سے اقوال صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے خلاف ہے۔ جب ان ادلۂ مذکورہ کے خلاف نہ ہوا تو مطابق فرمانے حضرت امام شافعی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے اس کا بدعت قبیحہ ہونا ثابت نہ ہوا اور امام شافعی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے اس قول '' وما احدث من الخیر مما لا یخالف شیئا من ذلک فلیس بمذموم ''(جو ایسی نیکی ایجاد کی جائے جو مذکورہ اشیاء ( کتاب اﷲ ، سنت رسول اﷲ، اقولِ صحابہ اور اجماع اُمت) کے خلاف نہ ہو وہ ہرگز مذموم نہیں ہوتی ۔ت) میں داخل ہوا اور امام شافعی کے قول کے برخلاف علامہ ابن حجر شافعی کا قول دیکھ کر اس زینہ اترنے کو بدعت قبیحہ شنیعہ کہنا مردود ومطرود ہوگیا، عاقل منصف کے لئے اشارہ کافی ہے ،
ھذا ما عندی واﷲ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
یہ میرے نزدیک ہے اور اﷲ سب سے خوب جاننے والا ہے اور اس کا علم اتم اور کامل ہے ۔(ت)
حررہ الفقیر الٰی ربہ القدیم عبدالرحیم عفی عنہ الحمد ﷲ المنزل القراٰن المبین ÷ علی عارج معارج التقریب المکین صلی اﷲ تعالٰی علیہ والہ وصحبہ اجمعین ÷ الیہ یصعد الکلم الطیب والحمدﷲ رب العلمین ÷
سب تعریف اﷲ کے لئے جس نے قرآن مبین اس ذاتِ اقدس پر نازل فرمایا جو لامکان کی بلندیوں پر فائز ہوئی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وصحبہٖ اجمعین، اور اسی کی طرف مبارک کلمات بلند ہوئے ہیں،الحمدﷲ رب العالمین ۔(ت)