Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
89 - 144
امام ابن الحاج مکی مالکی مدخل میں فرماتے ہیں:
ان السنۃ فی اذان الجمعۃ اذاصعد الامام علی المنبر ان یکون المؤذن علی المنار کذلک کان علی عھد النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وابی بکر و عمر و صدرامن خلافۃ عثمٰن رضی اﷲ تعالٰی عنہم ثم زاد عثمٰن رضی اﷲ تعالٰی عنہ اذاناً اٰخر بالزوراء وھو موضع بالسوق وابقی الاذان الذی کان علی عھد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی المنار والخطیب علی المنبر اذ ذاک ثم لما تولی ھشام نقل الاذان الذی کان علی المنار حین صعود الامام علی المنبر بین یدیہ ۱؎۔ (ملخصاً)
جمعہ کی اذان میں سنت یہ ہے کہ جب امام منبر پر بیٹھ جائے تو مؤذن منار پر اذان دے ، یہی طریقہ جناب رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کی ظاہری حیات اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی  عنہم کے ابتدائی دور میں تھا، پھر حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی  عنہ نے ایک اور اذان کا اضافہ فرمایا جوبازار میں مقامِ زوراء پر دی جاتی تھی اور حضور صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم والی اذان کومنار پرہی باقی رکھا اور اس وقت خطیب منبر پر ہوتا، پھر جب ہشام والی بنے تو جو اذان منار پر ہوتی تھی اسے منبر پر چڑھنے کے وقت منبر کے سامنے کردیا ۔ (ت)
 (۱؎ المدخل لابن الحاج    فصل فی ذکر البدع التی احدث فی المساجد        مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت    ۲/۲۱۲)
یہاں تک کہ فرمایا:
فقد بان ان فعل ذلک فی المسجد بین یدی الخطیب بدعۃ فیتمسک بعض الناس بھاتین البدعتین ثم صارکانہ سنۃ معمول بھا ولیس لہ اصل فی الشرع وانماھی عوائد وقع الاستئناس بھا فصار المنکر لھا کانہ یاتی ببدعۃ علی زعمھم،فاناﷲ وانا الیہ راجعون علی قلب الحقائق اھ مختصرا ۲؎۔
یعنی روشن ہوا کہ اس اذان کا مسجد میں خطیب کے سامنے کہنا بدعت ہے جسے ابتداءً بعض لوگوں نے اختیار کیا پھر اس کا ایسا رواج پڑگیا گویا وہ سنت ہے حالانکہ شرع مطہر میں اس کی کچھ اصل نہیں وہ تو یہی ایک عادت ہے کہ لوگوں کے جی اس میں لگ گئے تو جو اس پر انکار کرے ان کے زعم میں گویا وہی بدعت نکالتا ہے تو انّاﷲ وانّا الیہ راجعون حق لوگوں میں کیسا اُلٹا ہوگیا کہ حق کو باطل ، باطل کو حق سمجھنے لگے اھ مختصراً
 (۲؎ المدخل لابن الحاج    فصل فی ذکر البدع التی احدث فی المساجد   مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت    ۲/ ۲۱۲)
علامہ یوسف بن سعید سفطی مالکی حاشیۂ جواہر زکیہ شرح عشماویہ میں فرماتے ہیں:
الاذان الثانی کان علی المنار فی الزمن القدیم وعلیہ اھل المغرب الی الان وفعلہ بین یدی الامام مکروہ کما نص علیہ البرزلی وقد نھی عنہ مالک وفعلہ علی المنار والامام جالس ھوالمشروع اھ سکندری  ۳؎ اھ باختصار۔
دوسری اذان زمانہ قدیم میں منار پر ہوتی تھی ، اہل مغرب کا اب تک اسی پر عمل ہے، امام کے سامنے اذان دینا مکروہ ہے جیسا کہ اس پر برزلی نے تصریح کی ، اور امام مالک نے اس سے منع فرمایا، اذان کا اس وقت منار پر دینا جب امام منبر پر ہو یہی مشروع ہے اھ سکندری اھ اختصاراً (ت)
 (۳؎ حاشیہ جواہر زکیۃ شرح لمقدمۃ العشماویۃ)
بخلاف اذانِ مسجد کہ مالکیہ بھی اسے ممنوع جانتے ہیں ۔ مدخل میں ہے:
فصل فی النھی عن الاذان فی المسجد فیمنع من الا ذان فی جوف المسجد لوجوہ،احدھا انہ لم یکن من فعل من مضی ۱۱؎ الخ
مسجد میں اذان ممنوع ہونے کے بیان میں فصل ، مسجد میں اذان کئی وجہ سے منع ہے ان میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ اسلاف کا طریقہ نہیں رہا الخ (ت)
 (۱؎ المدخل لابن الحاج    فصل فی النہی عن الاذان    مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت    ۲/۲۵۱)
تو ثابت ہوا کہ اذانِ بیرونِ مسجد ہونا ہی محاذاتِ خطیب سے اہم واعظم واکد والزم ہے تو جہاں دونوں نہ پڑیں محاذاتِ خطیب سے درگزر یں اور منارہ یا فصیل وغیرہ پر یہ اذان بھی مسجد سے باہر ہی دیں
ھذا کلہ ماظھر لی والعلم بالحق عند ربی
 ( یہ تمام مجھ پر واضح ہوا اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے ۔ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
مسئلہ ۱۳۴۸: مسئولہ اقبال حسین از قصبہ سرولی ضلع بریلی ۲۹ صفر ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلہ کے کہ خطبہ جمعہ کا ایک فرض ہے دوسرا سنت، یا دونوں فرض ہیں، بینوا توجروا
الجواب

خطبہ امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کے نزدیک صرف بقدر الحمد فرض ہے اور صاحبین رحمہم اﷲ کے نزدیک ذکر طویل جیسے عرف میں خطبہ کہیں تو نفس فرض اگر چہ اولٰی  بلکہ اس کے بعض سے ادا ہوجاتا ہے مگر جب کوئی مطلق مامور بہ ہوتو قاعدہ شرع یہ نہیں کہ اس کے ایک حصے کو جو ادنی درجہ کا اطلاق مطلق کا ہو ماموربہ ٹھرائیں باقی کو خارج بلکہ جس قدر واقع ہو سب اُسی مطلق کا فرد ہے تو سب اسی صفت سے متصف ہوگا جیسے فرض قراءت نماز میں ایک آیت سے ادا ہوجاتا ہے اب یہ نہ کہیں گے کہ الحمد شریف کی پہلی آیت فرض تھی باقی اُس کا غیر بلکہ الحمد اور سورت بلکہ سارا قرآن مجید اگر ایک رکعت میں ختم کرے سب زیر فرض داخل ہوں گے کہ
فاقرأ واماتیسر من القراٰن
 (پس قرآن میں سے جتنا تم پر آسان ہو اُتنا پڑھو۔ت) کافرد ہے ولہذا اگر سورۂ فاتحہ پڑھ کر سُورت ملانا بھول گیا اور وہاں یا د آیا تو حکم ہے رکوع کو چھوڑے اور قیام کی طرف عود کرکے سورت پڑھے اور رکوع میں جائے حالانکہ واجب کے لئے فرض کا چھوڑنا جائز نہیں ولہذا اگر پہلی التحیات بھول کر پورا کھڑا ہوگیا اب عود کی اجازت نہیں مگر سُورت کے لئے خود شرع نے عود کا حکم دیا کہ جتنا قرآن مجید پڑھا جائے گا سب فرض ہی میں واقع ہوگا تو یہ واجب کی طرف عود نہیں بلکہ فرض کی طرف، ولہذا اگر دوبارہ رکوع نہ کرے گا نماز نہ ہوگی کہ پہلا رکوع عود الی الفرض کے سبب زائل ہوگیا تو جس طرح  الحمد اور سورت دونوں سے فرض ہی ادا ہوتا ہے یوں ہی دونوں خطبوں سے بھی کہ سب مطلق
فاسعوا الٰی ذکر اﷲ
( اﷲکے ذکر کی طرف دوڑ کرآؤ۔ ت) کے تحت میں داخل ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter