مسئلہ ۱۳۴۷: مولوی نعیم الدین صاحب ازمراد آباد ۲۸ صفر ۱۳۳۲ھ
حضور عالی سلامِ نیاز، میں جمعہ کی نماز قلعہ کی مسجد میں پڑھاتا ہوں اس مسجد کا وسیع صحن ہے مسجد سے باہر راستہ ہے جو ایک بانس کے قریب مسجد کے فرش سے نیچا ہے کوئی جگہ ہی نہیں جہاں مؤذن کھڑا ہو سکے سخت حیرانی ہے یا بعض ایسی مسجدیں ہیں کہ ان میں بعد صحن کے کسی دوسرے شخص ہندو وغیرہ کی دیواریں ہیں کہ ان دیواروں پر میذنہ نہیں بنایا جاسکتا اسی صورت میں کیا کیا جائے ؟ بینوا توجروا
الجواب
اللھم ھدایۃ الحق والصواب (اے اﷲ!حق اور صواب کی ہدایت عطا فرما ۔ت) یہاں دو سنتیں ہیں ، ایک محاذات خطیب،دوسرے اذان کا مسجد سے باہر ہونا،جب ان میں تعارض ہو اور جمع ناممکن ہو تو ارجح کو اختیار کیا جائے گا
کما ھوا لضابطۃ المستتمرۃ الغیر المنخرمۃ
( جیسا کہ دائمی اور نہ ٹوٹنے والا ضابطہ ہے ۔ ت) یہاں ارجح واقوی سنت ثانیہ بوجوہ اولاّ مسجد میں اذان سے نہی ہے، قاضی خاں وخلاصہ وخزانۃ المفتین وفتح القدیر وبحرالرائق وبرجندی وعلمگیری میں ہے :
نیز فتح القدیر ونظم وطحطاوی علی المراقی وغیرہا میں مسجد کے اندر اذان مکروہ ہونے کی تصریح ہے اور ہر مکروہ منہی عنہ ہے ، ردالمحتار میں قبیل احکام مسجد ہے:
لا یلزم منہ ان یکون مکروہا الابنہی خاص لان الکراھۃ حکم شرعی فلا بدلہ من دلیل ۱؎۔
اس سے مکروہ ہونا لازم نہیں آتا مگر یہ کہ نہی خاص وارد ہو کیونکہ کراہت حکم شرعی ہے،لہذا اس کے لئے دلیل کا ہونا ضروری ہے (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ وما یکرہ فیہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۸۳)
اور اجتنابِ ممنوع،ایتان مطوب سے اہم واعظم ہے،
اشباہ میں ہے :
اعتناء الشرع بالمنھیات اشد من اعتنائہ بالمامورات،ولذا قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا امرتکم یشیئ فاتوا منہ مااستطعتم وان نھیتکم عن شیئ فاجتنبوہ وروی فی الکشف حدیثا لترک ذرۃ مما نھی اﷲتعالٰی عنہ افضل من عبادۃ الثقلین ومن ثم جاز ترک الواجب دفعا للمشقۃ ولم یسامح فی الاقدام علی المنھیات۲؎۔
شریعت کے ممنوعات کا اہتمام اس کے مامورات سے زیادہ ہے اسی لئے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی شیئ کا حکم دوں تو اس کو استطاعت کے مطابق بجالاؤ او ر اگر میں تمھیں کسی شیئ سے منع کرو ں تو اس سے بچو۔الکشف میں یہ حدیث منقول سے ایک ذرہ کے برابر اس کام سے رک جانا جس سے اﷲ تعالٰی نے منع فرمایا جِن وانس کی عبادت سے بہتر ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ رفع مشقت کے لئے واجب کا ترک جائز ہوتا ہے لیکن ممنوعات پر عمل کی اجازت نہیں۔(ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ مطبوعہ ا دارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/۱۲۵)
ثانیاً محاذاتِ خطیب ایک مصلحت ہے ، اور مسجد کے اندر اذان کہنا مفسدت اور جلبِ مصلحت سے سلبِ مفسدت اہم ہے ۔ اشباہ میں ہے :
درء المفاسد اولٰی من جلب المصالح ۳؎۔
مفاسد کا دفع کرنا مصالح کے حصول سے بہتر ہے ۔(ت)
(۳؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ مطبوعہ ا دارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/۱۲۵)
وجہ مفسدت ظاہر ہے کہ دربار ملک الملوک جل جلالہ کی بے ادبی ہے شاہد اس کا شاہد ہے دربارشاہی میں اگر چوب دارعین مکانِ اجلاس میں کھڑا ہوا چلاّئے کہ درباریو چلو سلام کو حاضر ہو، ضرور گستاخی بے ادب ٹھہرے گا ، جس نے شاہی دربار نہ دیکھے ہوں وہ انھیں کچہریوں کو دیکھ لے کہ مدعی مدعا علیہ گواہوں کی حاضری کمرہ سے باہر پکاری جاتی ہے چپراسی خود کمرۂ کچہری میں کھڑا ہوکر چلاّئے او رحاضریاں پکارے تو ضرور مستحق سزا ہو اور ایسے امور ادب میں شرعاً عرف معہود فی الشاہدہی کا لحاظ ہوتا ہے محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
یحال علی المعھود من وضعھا حال قصد التعظیم فی القیام والمعھود فی الشاھد منہ تحت السرۃ ۱؎۔
حالتِ قیام میں بقصد تعظیم جو معروف ہو اس کے مطابق ہاتھ باندھے جائیں گے اور جس معروف کا مشاہدہ ہے وہ یہی ہے کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ہے ۔(ت)
(۱؎ فتح القدیر باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۲۴۹)
اسی بناء پر علماء نے تصریح فرمائی کہ مسجد میں جوتا پہنے جانا بے ادبی ہے حالانکہ صدرِ اول میں یہ حکم نہ تھا، فتاوٰی سراجیہ و فتاوی عالمگیری میں ہے:
دخول المسجد متنعلا مکروہ ۲؎
( مسجد میں جوتا پہن کر داخل ہونا مکروہ ہے ۔ت)
(۲؎ فتاوٰی سراجیہ باب المسجد ازکتاب الکراہیۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ص ۷۱)
عمدۃ المفتین و ردالمحتار میں ہے:
دخول المسجد متنعلا من سوء الادب ۳؎
( مسجد میں جوتا پہن کر داخل ہونا بے اد بی ہے۔ ت)
(۳؎ ردالمحتار مطلب فی احکام المساجد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۸۶)
مسئلہ اولٰی یعنی ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے میں کوئی حدیث موافق نہ تھی اور ثانیہ میں حدیث برخلاف تھی با یہنمہ امور ادب میں عرف شاہد کا اعتبار فرمایا تو جہاں خود حدیث بھی موافق ہی موجود ہے ادب معروف کا لحاظ نہ کرنا کس درجہ گستاخی وبیباکی ہے معہذا حدیث نے مسجد میں چلاّ نے سے بھی منع فرمایا ہے، بحرالرائق وردالمحتار میں ہے:
اخرج المنذری مرفوعا جنبوا مساجد کم صبیانکم ومجانینکم وبیعکم وشرائکم ورفع اصولاتکم۴؎۔ قلت رواہ ابن ماجۃ عن واثلۃ ابن الاسقع رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعبدالرازاق فی مصنفہ بسند اسلم عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
امام منذری نے مرفوعاً روایت کیاہے کہ ( رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا) اپنی مسجدوں کو اپنے بچوں اور دیوانو اور خرید وفروخت اور آواز بلند کرنے سے بچاؤ، میں کہتا ہوں اسے ابن ماجہ نے حضرت واثلہ بن اسقع رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور امام عبدالرزاق نے مصنف میں محفوظ سند سےحضرت معاذبن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا ہے (ت)
(۴؎ ردالمحتار مطلب فی احکام المساجد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۸۶)
تو اس ادب کی طرف خود حدیث میں ارشاد موجود ہے اور علماء نے اس ممانعت کوذکر کے لئے بھی عام ہونے کی تصریح فرمائی ، درمختار میں ہے :
یحرم فیہ ( ای فی المسجد) السوال ویکرہ الاعطاء ورفع صورت بذکر الاللمتفقھۃ ۱؎۔
( مسجد میں ) سوال کرنا حرام ہے اور دینا مکروہ ہے اور ذکر کے لئے آوازکو بلند کرنا بھی،البتہ دین پڑھانے اور سمجھا نے والا آواز بلند کرسکتا ہے۔(ت)
تو اصل منع ہے جب تک ثبوت نہ ہو جیسے اقامت وقرائتِ نماز لیکن یہاں شارع علیہ الصلٰوۃ والسلام سے اندرون مسجد اذان کا ہرگز ثبوت نہیں، تو اگر کچھ اور دلیل نہ ہوتی اسی قدر اس کے بے ادبی وممنوع ہونے کو بس تھا بلکہ شرع مطہر نے مسجد کو ہر ایسی آواز سے بچانے کا حکم فرمایا ہے جس کے لئے مساجد کی بنا نہ ہو،
صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من سمع رجلا ینشد ضالۃ فی المسجد فلیقل لاردھا اﷲ علیک فان المساجد لم تبن لھذا۲؎۔
جو گمی ہوئی چیز کو مسجد میں دریافت کرے اس سے کہو اﷲ تیری گمی چیز تجھے نہ ملائے مسجدیں اس لئے نہیں بنیں۔(ت)
(۲؎ صحیح مسلم باب نہی من اکل ثوما الخ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ /۲۱۰)
حدیث میں حکم عام ہے اور فقہ نے بھی عام رکھا، درمختار وغیرہ میں ہے:
کرہ انشاد ضالۃ
( گمشدہ شئ کا (مسجد میں )اعلان کرنا مکروہ ہے ۔ت) تو اگر کسی کا مصحف شریف گم گیا اور وہ تلاوت کے لئے مسجد میں پوچھتا ہے اُسے بھی یہی جواب ہوگا کہ مسجدیں اس لئے نہ بنیں،اگر اذان دینے کے لئے اس کی بنا ہوئی تو ضرور حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مسجد کے اندر ہی اذان دلواتے یا کبھی کبھی تواس کا حکم فرماتے ، مسجد جس کےلئے بنی زمانہ اقدس میں اسی کا مسجد میں ہونا کبھی ثابت نہ ہو یہ کیونکر معقول، تووجہ وہی ہے کہ اذان حاضری دربار پکارنے کو ہے اور خود دربار حاضری پکارنے کو نہیں بنتا، ہمارے بھائی اگر گردنیں عظمتِ الہٰی کے حضور جھکا کر آنکھیں بند کرکے براہ انصاف نظر فرمائیں تو جو بات ایک منصف یا جنٹ کی کچہری میں نہیں کر سکتے احکم الحاکمین عزجلالہ کے دربار کو اُس سے محفوظ رکھنا لازم جانیں نہ کہ حدیث کا وہ ارشاد پھر کتب معتمدہ فقہ کی یہ صریح تصریحات کہ مسجد میں اذان منع ہے سب کچھ دیکھیں اور ایک رواج پراڑے رہے ہیں، ذی انصاف بھائیو! یہ آپ کی شان نہیں۔
ثالثاً محاذات خطیب ایک اختلافی سنت ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے یہاں نقل مختلف ہے بکثرت ائمہ مالکیہ اذانِ ثانی جمعہ کے رُوئےبروئے خطیب ہونے ہی کو بدعت بتاتے ہیں، وہ فرماتے ہیں یہ اذان بھی منارہ ہی پر ہوتی تھی جیسے پنجگانہ کی اذان ،
علامہ خلیل ابن اسحٰق مالکی توضیح فرماتے ہیں:
اختلف النقل ھل کان یؤذون بین یدیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اوعلی المنار الذی نقلہ اصحابنا انہ کان علی المنار ۱؎ ۔ نقلہ ابن القاسم عن مالک فی المجموعۃ ونقل ابن عبدالبر فی کافیہ عن مالک ان الاذان بین یدی الامام لیس من الامر القدیم ۲؎۔
نقل میں اختلاف ہے کہ کیا اذان نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے دی جاتی تھی یا اس منار پر جس کے بارے میں ہمارے اصحاب نے نقل کیا کہ اذان منار پر ہوتی تھی، اسے ابن القاسم نے''مجموعہ'' میں امام مالک سے نقل کیا اور شیخ ابن عبدالبر نے کافی میں امام مالک سے نقل کیا کہ امام کے سامنے اذان دینا امر قدیم نہیں ہے۔ت)
(۱؎ المختصر فی فروع المالکیۃ)
(۲؎ کافی فروع المالکیۃ)