Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
87 - 144
مسئلہ۱۳۴۱ تا ۱۳۴۳: ازپیلی بھیت محلہ بھورے خاں مرسلہ حاجی عزیز احمد صاحب ۷ صفر ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:

(۱) اذان ثانی جمعہ کے دن امام کے قریب اندر مسجد کے جو مروج ہے اس میں کراہت یعنی کراہت تحریمی ہے یا تنزیہی ؟

(۲)فصیل حوض خارج مسجد ہیے یا داخل مسجد؟

(۳) ابوداؤد کی حدیث میں جو حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم اور شیخین رضی اﷲ تعالٰی  عنہما کے وقت میں باب مسجد پر اذان کاذکر ہے اُس وقت تک اذان اول شروع تھی یا نہیں ؟اگر ا س وقت میں صرف ایک اذان تھی تو جب سے دوسری اذان شروع ہوئی اُس وقت بھی بقیہ خلفائے راشدین کے وقت میں اذانِ ثانی باب مسجد پر ہوتی تھی یا امام کے متصل منبر کے پاس ؟ بینواتوجروا
الجواب

(۱) علمائے کرام نے کراہت لکھی اور اسے مطلق رکھا اور مطلق کراہت غالباً کراہت تحریم پر محمول ہوتی ہے ،سید عالم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کے زمانۂ اقدس میں اذان دروازۂ مسجد پر ہُوا کی، اور کبھی نہ حضور سے منقول نہ خلفائے رشدین سے کہ مسجد کے اندر اذان کہلوائی ہو،اور عادت کریمہ تھی کہ مکروہ تزیہی کو بیان جواز کے لئے کبھی اختیار فرماتے پھر اس میں ترک ادب بارگاہ الہٰی ہے والعلم بالحق عند اﷲ۔

(۲) حوض قدیم کی فصیل فنائے مسجد ہے نہ عین مسجد، ورنہ اس پر وضو ناجائز ہوتا اور فنائے مسجد میں اذان جائز ہے ۔واﷲ تعالٰی اعلم

(۳) صدر خلافت امیر المومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی  عنہ تک وہی ایک اذان خطبہ تھی انھوں نے اذانِ اول زائد فرمائی مگر اذانِ خطبہ میں کوئی تبدیلی نہ کی ،نہ کسی خلیفۂ راشد سے اس میں کوئی تغییر منقول، ہاں امام ابن الحاج مکی نے مدخل میں ہشام بن عبدالملک بادشاہ مروانی کی نسبت لکھا کہ اس نے سنت کو بدلا اس کا زمانہ امیر المومنین عثمان رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے اسی ۸۰ برس بعد ہوا ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۴۴: مسئولہ مولوی فضل الرحمان صاحب از چھاؤ نی صدر بازار فیروز پور پنجاب ۱۹ صفر ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ مرقومۃ الذیل میں کہ ایک قلعہ میں جہاں عام لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں اور نہ ملازمان کو باہر بجز وقت معینہ کے منجملہ پانچ صد مرد مان مسلمان ملازمان کے ایک جماعت وہاں نماز جمعہ باجازت مشتہرہ گورنمنٹ قائم کرتی ہے وہاں بنائے مسجد نہیں ہے نیز متصل قلعہ مذکور کے شہر اور چھاؤنی صدر بازار میں چند جگہ دیگر مساجد میں جمعہ پڑھا جاتا ہے کیا اس جماعت کا جمعہ ادا ہوجاتا ہے بعض علمائے دین نے بحوالۂ فتاوی علمگیری ودرمختار بباعث عدم اذن عام او جماعت مـذکور کو محبوسین وغیرہ کا مقیس علیہ قرار دے کر عدمِ جوازاور نادرست ہونے نماز جمعہ کا فتوٰی دیا ہے اور بعض نے بحوالۂ عبارت شامی کہ
قلت وینبغی ان یکون محل النزاع ما اذا کانت لاتقام الافی محل واحد اما لو تعددت فلا لانہ لایتحقق التفویت کما افادہ التعلیل تامل۔
میں کہتا ہوں کہ مناسب یہ ہے کہ محل نزاع وہ صورت ہے جب ایک ہی مقام پر جمعہ کا قیام ہو اور اگر متعدد جگہ جب ایک ہی مقام پر جمعہ کا قیام ہو اور اگر متعدد جگہ ہو تو پھر محلِ نزاع نہیں کیونکہ پھر تفویت متحقق نہیں جیسا کہ علت کے بیان نے فائدہ دیا ہے، غور کرو ۔(ت)

درست ہونے نماز جمعہ کا فتوٰی دیا ہے۔
بینوا بالدلیل توجرابالاجر جزیل
( دلیل سے بیان کرکے اجر عظیم پائیں ۔ت)
الجواب

صورت مستفسرہ میں جبکہ قلعہ کی بندش ہے ، باہر کا کوئی شخص نما زکے لئے اس میں نہیں جاسکتا تو اذنِ عام نہ ہوا، اور اذن عام فی نفسہٖ شرط جمعہ ہے، علامہ شامی رحمۃ اﷲ تعالٰی  علیہ نے یہ قول کسی سے نقل نہ فرمایا بلکہ یہ ان کا اپنا خیال ہے جسے وہ قُلتُ سے شروع فرماتے ہیں اور خود اُن کو بھی ا س پر وثوق نہیں کہ آخر میں تامل کا حکم فرماتے ہیں،علامہ شامی رحمۃ اﷲ تعالٰی  علیہ اہل بحث نہیں ان کی بحث کا اگر مسئلہ منصوصہ کے خلاف ہو نا معلوم نہ بھی ہو تاہم وہ ایک بحث ہے جو حجت نہیں ہوسکتی نہ کہ جب ان کی بحث مخالف منقول ومنصوص واقع ہے کہ ایسی بحث تو امام ابن الہمام کے بھی منقول نہیں ہوتی جس کی خود علامہ شامی نے جابجا تصریح فرمائی
کما بیناہ فی کتابنا فصل القضاء فی رسم الافتاء
( جیسا کہ ہم نے اپنی کتاب '' فصل القضاء فی رسم الافتاء'' میں بیان کیا ہے ۔ ت) براہ بشریت یہ بحث اسی طرح واقع ہوئی، فقیر نے ردالمحتار پر اپنی تعلیقات میں اس مسئلہ کی بحث تما م کردی ہے اس میں سے یہاں صرف یہ چند کلمات کافی ہیں کہ امام ملک العلماء ابوبکر مسعود کاشانی کتاب مستطاب بدائع اور ان کے سوا اور ائمہ اپنی تصانیف میں اور ان سب سے امام ابن امیر الحاج حلیہ میں نقل فرماتے ہیں:
السلطان اذاصلی فی دارہ والقوم مع امراء السطان فی المسجد الجامع قال ان فتح باب دارہ جاز، وتکون الصلٰوۃ فی موضعین، ولو لم یاذن للعامۃ وصلی مع جیسشہ لاتجوز صلٰوۃ السلطان وتجوز صلٰوۃ العامۃ ۱؎۔
جب سلطان نے اپنی دار میں اور قوم نے اس کے حکم سے جامع مسجد میں جمعہ ادا کیا تو انھوں نے فرمایااگر دارکا دروازہ کھولا تھا تو جائز ،اور نماز دونوں جگہ ہوجائے گی ، اور اگر عوام کو اذنِ عام نہ تھا اور بادشاہ نے اپنے لشکر کے ساتھ جمعہ ادا کیا تو سلطان کی نماز جائز نہیں البتہ عوام کی نماز جائز ہوگی۔(ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع مفہوماً    فصل فی بیان شرائط الجمعۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۲۶۹)
دیکھو یہ نص صریح ہے اجلۂ ائمہ کی نقل اور محرر مذہب امام محمد سے بلاخلاف منقول کہ قلعہ سے باہر بھی جمعہ ہوا اور قلعہ میں بھی سلطان نے پڑھا اگر قلعہ میں آنے کا اذن عام دیا تھا تو دونوں جمعے صحیح ہوگئے ورنہ باہر کا جمعہ صحیح ہوا اور قلعہ کا باطل،صاف ثابت ہوا کہ اذن عام فی نفسہٖ شرطِ صحت جمعہ ہے اگر چہ جمعہ متعدد جگہ پایا جائے اور تقویت لازم نہ آئے
ولیس بعد النص الاالرجوع الیہ
( نص پائے جانے کے بعد اس کی طرف رجوع کے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔ ت)
مسئلہ ۱۳۴۵: مسئولہ محمود حسن صاحب از بمبئی پوسٹ بائی کھلا ۲۰ صفر ۱۳۳۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جمعہ میں اسی ۸۰ اشخاص حنفیہ اور بیس ۲۰ اشخاص شافعیہ ہر دومذہب کے درمیان شافعی امام جمعہ میں خطبہ کے دو رکعت فرض پڑھاکے حنفیوں نے نماز سے فارغ ہوئے بعدہٗ مذکور امام نے اپنے مذہب والوں کو لے کر پھر دوبارہ چار رکعت فرض نماز پڑھواتا ہے لیکن ہر دو مذہب والوں کے ساتھ دو رکعت فرض پڑھنے سے شافعیہ مذہب کی نماز جائز ہوتی ہے یا نہیں؟
الجواب

اگر ہو امام شافعی المذہب نیتِ جمعہ میں شک وتردد کو راہ نہیں دیتا خالص صحیح نیت فرض جمعہ کی کرتا ہے تو اس کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے جبکہ فرائض مذہب حنفی کا پابند ہو مثلاً فصدلے کر یازخم خواہ پھوڑیا سے پیپ یا پانی بہہ کر ضرور وضو کرلیتا ہو  دہ در دہ سے کم پانی میں اگر نجاست پڑجائے اس سے طہارت نہ کرتا ہو وضو میں چہارم سر سے کم کے مسح پر قناعت نہ کرتا ہو وضو کئے ہوئے پانی سے دوبارہ وضو نہ کرتا ہو وعلی ہذا لقیاس اگر ان باتوں کی رعایت کرتا ہے تو اس کے پیچھے نماز جائز ہے اگر چہ اولٰی  حنفی کے پیچھے ہے اگر رعایت نہ کرتاہو تواس کے پیچھے حنفی کی نماز باطل ہے اور اگر نہ معلوم ہو تو مکروہ ہے
کما حقق کل ذلک فی البحر والدر وغیرھما
(جیسا کہ ا س تمام کی بحر اور در وغیرہ میں تحقیق ہے۔ت) اور جمعہ کی نیت کے ساتھ شک کرتا ہو تواس کے پیچھے نماز باطل ہے کہ
لانیۃ الابالعزم ولا عزم مع الشک
 (عزم کے بغیر نیت نہیں اور شک کی صورت میں عزم نہیں ہوتا ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۴۶: از پیلی بھیت محلہ محمدشیرخاں مسئولہ عبداللطیف خاں صاحب ۲۲ صفر المظفر ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک جامع مسجد کے امام معین کے بغیر اذن دوسرے شخص نے خطبہ پڑھا اور نماز جمعہ بھی امام معین کے بے اذن پڑھائی اور امام مذکور اس میں شریک نہ ہوا اس صورت میں وہ نماز ہوئی یا نہیں، اگر نہ ہوئی تو ظہر کی قضا فرض ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

ہمارے ائمہ تصریح فرماتے ہیں کہ بے اجازت خطیب معین دوسرا شخص خطبہ نہیں پڑھ سکتا، اگرپڑھے گاخطبہ جائز نہ ہوگا، اور خطبہ شرط نماز جمعہ ہے، جب خطبہ نہ ہوا نماز بھی نہ ہوئی ۔
عالمگیری میں ہے :
رجل خطب یوم الجمعۃ بغیر اذن الامام والامام حاضر لا یجوز ذلک الا  ان یکون الامام امرہ بذلک کذا فی فتاوی قاضی خاں۱؎۔
کسی شخص نے اذن امام کے بغیر خطبۂ جمعہ دیا حالانکہ امام موجود تھا تو یہ جائز نہیں البتہ اس صورت میں جب امام نے اسے حکم دیا ہو،جیسا کہ فتاوٰی  قاضی خاں میں ہے (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ        الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۴۵)
اور تصریح فرماتے ہیں کہ امام معین کے بغیر اذن اگر کوئی شخص نمازِ جمعہ پڑھا ئے تو نماز نہ ہوگی مگر اس صورت میں کہ امام اس نماز  میں شریک ہوجائے۔
فتاوٰی سراجیہ و درمختار میں ہے:
لوصلی احد بغیر اذن الخطیب لا یجوز الااذا اقتدی بہ من لہ ولایۃ الجمعۃ ۲؎۔
اگر کسی نے اذن خطیب کے بغیر نماز پڑھائی تو جائز نہیں البتہ اس صورت میں جب مقتدی ایسا شخص ہو جو جمعہ کا والی تھا ۔ (ت)
 (۲؎ درمختار        باب الجمعۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی   ۱ /۱۱۰)
یہاں کہ خطبہ بھی بے اجازت امام پڑھا گیا اور نماز بھی بے اُس کی اجازت کے پڑھائی گئی اور امام اس میں شریک نہ ہوا تو دو وجہ سے وہ نماز ناجائز ہوئی اُن پر ظہر کی قضا لازم ہے ۔واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و احکم
Flag Counter