Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
86 - 144
مسئلہ ۱۳۴۰: از حیدر آباددکن محلہ سلطان پورہ مکان نمبر ۶/۲۹۵۴ مرسلہ مولوی محمد عبدالجلیل صاحب نعمانی مہتمم امور مذہبی ۲۰صفر ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ خطبہ جمعہ وعیدین عربی عوام نہیں سمجھ سکتے ہیں کیا ان کے لحاظ سے اردو زبان ہی میں پڑھا جاسکتا ہے ؟
بینوا توجروا ان اجر کم علی اﷲ تعالٰی
 ( بیان کرکے اجر پاؤ کہ تمھارا اجر اﷲ تعالٰی  کے پاس ہے ۔ت)
الجواب

زمان برکت نشان حضور پر نور سید الانس والجان علیہ علی الہٖ افضل الصلٰوۃ والسلام سے عہد صحابہ کرام و تابعین عظام وائمہ اعلام تک تمام قرون وطبقات میں جمعہ وعیدین کے خطبے ہمیشہ خالص زبان عربی میں مذکور وماثور اور بآنکہ صحابہ ومن بعدہم من ائمۃا لکرام کے زمانوں میں ہزارہا بلاد عجم فتح ہوئے ہزارہا جوامع بنیں، ہزارہا منبر نصب ہوئے، عامہ حاضرین اہل عجم ہوئے، اور ان حضرات میں بہت وہ تھے کہ مفتوحین کی زبان جانتے اس میں ان سے کلام فرماتے باانیہمہ کبھی مروی نہ ہوا کہ خطبہ غیر عربی زبان میں فرمایا یا دونوں زبانوں کا ملایا ہو
کما ذکرہ الشاہ ولی اﷲ الدھلوی فی شرح الموطا
( جیسا کہ شاہ ولی اﷲ دہلوی نے شرح موطا میں ذکر کیا ہے۔ت) سنتِ متوارثہ کا خلاف ناپسند ہے،
فی الدرالمختار ان المسلمین توارثوہ فوجب اتباعھم ۱؎ اھ ای ثبت وتاکد،
درمختار میں ہے کہ یہ مسلمانوں میں توارث کے ساتھ ثابت ہے لہذا ان کی اتباع واجب ہے اھ یعنی ثابت اور مؤکد ہے ۔(ت)
 (۱؎ درمختار        باب العیدین            مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی            ۱/۱۱۷)
نہ کہ ایسی سنت جہاں باوصف تحقق حاجت ، جانب خلاف رخ نہ فرمایا ہو کہ اب تو اس کا خلاف ضرور مکروہ واساءت ہوگا ۔
اقول : وتحقیقہ ان التذکیر بالعجمیۃ کان المقتضی لہ بعینہ موجودا والمانع مفقودا ثم لم یفعلوہ فکان ذلک کفامنھم لاترکا والکف فعل والفعل یجری فیہ التوارث بخلاف الترک اذا لامعنی لتوارثہ ولامساغ للتأسی فیہ لانہ غیرمفعول ولا مقدور کما نص علیہ الاکابرا لصدور قال فی الاشباہ والنظائر التروک لا یتقرب بھا الااذاصار الترک کفا وہو فعل وہ المکلف بہ فی النھی لا الترک بمعنی العدم لانہ لیس داخلا تحت القدرۃ للعبد کما فی التحریر ۲؎ اھ ای تحریر الاصول للامام المحقق حیث اطلق رحمہ اﷲ تعالٰی اتقن ھذا فانہ من اجل المھمات۔
اقول :  اس کی تفصیل یہ ہے کہ عجمی زبان میں وعظ و نصیحت کا تقاضا بعینہ موجود تھا اور مانع بھی کوئی نہیں تھا پھر انھوں نے ایسا نہیں کیا تو یہ ان کا  رکنا ہے ترک نہیں اور رکنا فعل ہے اور فعل میں توارث جاری ہوتا ہے بخلاف ترک کے،کیونکہ اس کے نقل ہونے کامعنی نہیں اور نہ ہی اس میں اقتداء جائز ہے کیونکہ وہ معمول سے نہیں اور نہ ہی قدرت میں ،جیسے کہ اس پرہمارے اسلاف اکابر نے تصریح کی ہے، الاشباہ والنظائر میں ہے کہ تروک کے ساتھ تقرب نہیں ہوسکتا مگر اس صورت میں جب ترک کف کی صورت میں ہو اور وہ فعل ہوگا اور نہی میں یہی مکلف بہ ہے نہ کہ ترک بمعنی عدم کیونکہ معدوم قدرت عبد کے تحت نہیں ہوتا جیسا کہ تحریر میں ہے اھ۔ اس سے مراد تحریر الاصول للامام المحقق المطلق نے ذکر کیا ہے اسے اچھی طرح یاد کرلو کیونکہ یہ نہایت اہم معاملہ میں سے  ہے۔(ت)
 (۲؎ الاشباہ والنظائر    الفن الاول    القاعدۃ الثانیۃ    مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۱/۴۷(
اذان ضرور بلانے اور ان لوگوں کو اطلاع وقت دینے کے لئے ہے مگر غیر عربی میں ہو تو ہرگز اذان ہی نہ ہوگی اگرچہ مقصود  اعلام حاصل ہوجائے کہ اذان صرف سنت تھی جب فی نفسہٖ برخلاف سنت ہوئی راسافوت ہوگئی ،
تنویر میں ہے:
الاذان علامہ مخصوص علی وجہ مخصوص بالفاظ کذلک ۱؎۔
اذان، الفاظِ مخصوص میں بطریق مخصوص اطلاع دینا ہے۔ (ت)
)۱؎ درمختار    باب ا لاذان        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۶۲)
ردالمحتا ر میں ہے:
اشار الی انہ لا یصح بالفارسیۃ وان علم انہ اذان وھو الاظھر والاصح کما فی السراج ۲؎۔
اس میں اشارہ ہے کہ یہ فارسی میں جائز نہیں، اگر یہ معروف یہ کہ اذان ہے اور یہی اظہر واصح ہے جیساکہ سراج میں ہے ۔(ت)
)۲؎ ردالمحتار    باب الاذان         مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۲۸۲)
خطبہ ضرور وعظ وتذکیر کے لئے ہے جیسے نماز کہ ذکر کے لئے ہے قال اﷲ تعالٰی اقم الصلٰوۃ لذکری ۳؎(اللہ تعالٰی  کا ارشاد ہے میری یاد کے لئے نماز قائم کرو۔ ت)
  )۳؎ القرآن     ۲۰/۱۴)
اور خود قرآن عظیم کہ اس کا تو نام ہی ذکر حکیم ہے اور اس کے نہ سمجھنے پر سخت انکار فرماتا ہے،
افلا یتدبرون القراٰن ام علی قلوب اقفالھا ۴؎
(کیا وہ قرآن میں تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں ۔ت)
)۴؎ القرآن      ۴۷ /۲۴)
پھر جس کی سمجھ میں عربی نہ آئے نہ اس کے لئے نماز و قرآن اردو یا بنگلہ یا انگریزی کردئے جائیں گے نہ خطبہ واذان ، یہ اس کا اپنا قصور ہے اس کا دین عربی، نبی عربی، کتاب عربی، پھر عربی اتنی بھی نہ سیکھی کہ اپنا دین سمجھ سکتا.انگریزی کی حالت دیکھئے اس پر کیسے اندھے باولے ہو کر گرتے ہیں کہ دوپیسے کمانے کی امید ہے اور عربی جس میں دین ہے ایمان ہے اس سے کچھ غرض نہیں اﷲ تعالٰی  توفیق دے و ہدایت بخشے ، اٰمین واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter