Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
85 - 144
مسئلہ ۱۳۳۵: از بریلی محلہ بہاری پور مسئولہ جناب نواب مولوی سلطان  خاں صاحب ۴ صفر المظفر ۱۳۳۰ھ

جمعہ کے دن چند آدمیوں نے مل کر مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی بعدہ، اور دس بارہ آدمی آگئے انھوں نے بھی اذان و اقامت خطبہ کے ساتھ اسی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی پھر دس بارہ آدمی آگئے انھوں نے بھی ایسا کیا، تو دوسری تیسری جماعت والوں کا جمعہ ادا ہولیا یانہیں، فقط ، بینوا توجروا
الجواب

نماز جمعہ و عیدین مثل عام نمازوں کے نہیں کہ جسے امام کر دیا نماز ہوگئی ان کے لئے ضرور ہے کہ اما خود سلطان اسلام ہو یا اس کا مقرر کردہ،اور یہ نہ ہوں تو بضرورت وہا ں کے عام مسلمانو ں نے جسے امامت جمعہ کے لئیے معین ومقرر ہو، توان تینوں جماعتوں میں جس کا امام امامِ معین ومقرر کردہ جمعہ تھا اس کی اور اس کے مقتدیوں کی نماز ہوگئی باقیوں کی نہیں، اور اگر کسی کا امام ایسا نہ تھا تو کسی کی نہ ہوئی مثلاً سر راہ مسجد ہے دس بارہ راہگیر گزرے ایک نے آگے ہوکر نماز جمعہ پڑھائی پھر کچھ اور آئے انھوں نے بھی ایسا ہی کیا یوں ہی دس بیس جماعتیں ہوئیں جمعہ ایک کا بھی نہ ہوا اور فرض ظہر سب کے ذمہ رہا،
درمختار میں ہے :
الجمعۃ یشترط لصحتھا السلطان اومامورہ باقامتھا ونصب العامۃ غیر معتبر مع وجود من ذکر اما مع عدمہ فیجوز للضرورۃ ۱؎ اھ ملتقطا واﷲ تعالٰی اعلم
صحت جمعہ کے لئے سلطان یا اس کا مقرر کردہ برائے اقامت جمعہ کا ہونا ضروری ہے ،مذکورہ افراد کے ہوتے ہوئے عوام کا مقرر کرنا معتبر نہیں اور اگر مذکور اشخاص نہیں تو ضرورت کے لئے عوام کا تقرر جائز ہوگا اھ مختصراً ۔ واﷲ تعالٰی  اعلم
 (۱؎ درمختار     باب الجمعہ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۰۹ و ۱۱۰)
مسئلہ ۱۳۳۶: از گنور تحصیل سونی تپ ضلع رہتک مرسلہ حافظ احمد حسین صاحب امام مسجد ۲۳ ذی الحجہ ۱۳۳۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کے روز امام اول کا خطبہ پڑھ کے جلسہ کرنا ہے اس جلسہ میں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا مذہب حنفی میں جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر ناجائز ہے تو کس درجہ کا، مکروہ تنزیہی یا مکروہ تحریمی؟ زید درمیان خطبین کے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا بدعت او رحرام بتاتا ہے۔ یہ عقیدہ زید کا موافق شرع شریف کے ہے یا نہیں؟
الجواب

زید کا قول باطل ہے، دونوں خطبوں کے بیچ میں امام کو دعا مانگنا تو بالاتفاق جائز ہے بلکہ خود عین خطبہ میں حضور صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کا مینہ کے لئے دونوں دستِ انور بلند فرما کر دعا مانگنا کتب صحاح میں موجود ہے، مقتدیوں کے بارہ میں مذہب حنفی میں اختلاف ہے ، امام ابو یوسف وامام محمد رحمہ اﷲ تعالی علیہما بلا شبہ ان کے لئے بھی جائز فرماتے ہیں ، اور امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے دو روایتیں آئیں، ایک مطابق قول صاحبین کے امام کے نزدیک بھی مقتدیوں کو بین الخطبتین دعا مانگنا جائز ہے امام سغناقی نے نہایہ وامام اکمل الدین بابرتی نے عنایہ شروح ہدایہ میں فرمایا:
ھوالصحیح
یہی صحیح ہے۔
سنتھاخمسۃ عشرۃ رابعتھا التعوذ فی نفسہ قیل الخطبۃ سادستھا البدایۃ بحمد اﷲ تعالٰی ۱؎ الخ ملخصاً
اس کی پندرہ سنتیں ہیں چوتھی یہ کہ خطبہ سے پہلے دل میں تعوذ کا پڑھنا ، چٹھی یہ کہ اﷲ تعالٰی  کی حمد وثنا سے ابتداء کرنا الخ ملخصاً (ت)
 (۱؎ بحرالرائق    باب صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲/۱۴۷)
پھر یہ کوئی ایسا امر نہیں جس پر تشدد ضروری ہو، بہ نرمی سمجھایا جائے اگر نہ مانے تو گروہ بندی واثارت فتنہ کی حاجت نہیں
والفتنۃ اکبر من القتل
 ( فتنہ قتل سے بڑا ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی  اعلم
مسئلہ ۱۳۳۷: از جیل کان پور مرسلہ کلن خاں جمعدار ۱۲ شوال ۱۳۳۱ھ

حضرت اقدس مدظلہ العالی بعد عرض تسلیم بصد تعظیم گزارش ہے کہ جیل میں جہاں پانچ چھ سو آدمی قیدی و حوالاتی اور ملازمین رہتے ہیں نمازِ جمعہ ادا کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ جہاں پرصوم صلٰوۃ کی جماعت کو عام اجازت ہے اس میں روک ٹوک نہیں مگر باہر کے لوگ بغیر اجازت اندر نہیں آسکتے نہ اندر کے باہر جاسکتے ہیں، پس جو مسلمان اندر جیل کے ہیں اور جن کی تعداد سو سے زائد ہے جمعہ کے روز جماعت سے نماز جمعہ ادا کریں یا نماز ظہر کی ، امید کہ بواپسی ڈاک جواب سے سرفرازی بخشی جائے، زیادہ حد آداب!

الجواب

جمعہ کی ایک شرط اذن عام ہے، جیل میں کوئی نہیں جاسکتا توا س میں نماز جمعہ ناممکن وباطل ہے اور ظہر کی جماعت بھی ان کو جمعہ کے دن جائز نہیں، جبکہ جیل حدود شہر میں ہو ، بلکہ ہر شخص تنہا ظہر پڑھے ملازم ہو یا ماخوذ، ہاں جیل بیرونِ شہر ہو تو ظہر بجماعت پڑھیں،
تنویر الابصار میں ہے:
یشترط لصحتھا الاذن العام فلو دخل امیر حصنا واغلق بابہ وصلی باصحابہ لم تنعقد ۱؎۔
صحت جمعہ کے لئے اذن عام شرط ہے، اگر کسی امیر نے قلعہ میںداخل ہوکر دوازہ بند کرلیا اور اپنے ساتھیوں کو جمعہ پڑھا یا تو یہ جمعہ منعقد نہ ہوگا۔ (ت)
(۱؎ تنویر الابصار مع درمختار    باب الجمعہ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۱۲)
درمختار میں ہے:
کرہ تحریما لمعذور ومسجون ومسافر اداء ظہر بجماعتہ فی مصر قبل الجعۃ وبعدھا ۲؎۔ وھو سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
شہر میں معذور ، قیدی اور مسافر کے لئے جمعہ سے پہلے اور بعد نماز ظہر جماعت کے ساتھ ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔ وہو سبحٰنہ وتعالٰی  اعلم (ت)
 (۲؎ درمختار                            باب الجمعہ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۱۲)
مسئلہ ۱۳۳۸: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جہاں پر حکم مصر رکھتا ہے اور بنا بر قول معتبر کے وہاں جمعہ ہوتا ہو ان میں احتیاط ظہر پڑھنا چاہئے یا نہیں؟ اور جو لوگ اس کو نہیں پڑھتے ہیں جمعہ پڑھنے سے ظہر ساقط ہوتے ہیں یا نہیں؟ اور اگر اس کا ثبوت شرع میں ہو تو اس کو کس نیت سے پڑھنا چاہئے اور جو اس کا مانع ہو ازروئے شرع شریف کے کیا حکم ہے؟ بینوا بالدلائل الشرعیۃ وتوجروا بالبراھین العقلیۃ ( دلائل شرعیہ سے بیان کرو اور براہینِ عقلیہ سے اجر پاؤ، ت)
الجواب

بلاشبہ جو اسلامی مصر ہو اور وہاں ایک ہی جگہ جمعہ ہوتا ہو اور امام میں کوئی شبہہ نا جوازیِ امامت کا نہ ہو وہاں احتیاطی ظہر پڑھنا ممنوع وبدعت ہے مگر یہ بات آج عامہ بلاد میں کہیں نہیں سوا حرمین شریفین وغیرہما ، بعض بلاد کے، یونہی جہاں جمعہ متعدد جگہ ہوتا ہو جس نے سب سے اول جماعت میں پڑھا اسے احتیاطی ظہر کی اجازت نہیں، اور جہاں مصریت میں شبہہ ہو یا امام یا اس کی ماذونیت میں یا جمعہ متعدد جگہ ہوتا ہو اور اپنی جماعت سب سے پہلے ہو نا معلوم نہیں وہاں اگر شبہہ ضعیف ہے احتیاطی ظہر مستحب ہے اور قوی ہے تو واجب ، مگر اس کا حکم خواص کے لئے ہے عوام کو حاجت نہیں تحملا للضرر الادنی مخافۃ الاقوی( بڑے ضرر سے ڈرتے ہوئے ادنٰی  ضرر کو برداشت کرتے ہوئے ۔ت) خواص یہ نیت کریں کہ پچھلی وہ ظہر جو میں نے پائی اور ادا نہ کی اور یہ خطرہ بھی نہ آنے پائے کہ جمعہ ہوگیا تو یہ میرے نفل ہیں ، ورنہ فرض، نہ جمعہ کی نیت کے وقت تردد ہو کہ تردد منافی نیت ہے، جو منع کی جگہ منع کرتا ہے حرج نہیں اور جو استحباب کی جگہ منع کرتا ہے احمق ہے اور وجوب کےمحل پرمنع کرتا ہے تو گنہگار ہے
وتفصیل المسألۃ فی فتاوٰنا وباﷲ التوفیق
 ( مسئلہ کی تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے اور یہ اﷲ تعالٰی  کی توفیق سے ہے ۔ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۳۹: نیٹھور ضلع بجنور مرسلہ محمد عبدالحی سوداگر جفت ۲۹ محرم ۱۳۳۲ھ

جس جامع مسجدمیں ایسا امام نماز پڑھاتا ہو جو صاحب جائداد ہے اور دوسری جائداد سودی روپیہ لے کر خریدی اور اس کے بدلنے کو چند اشخاص اہل شہر جن کا زور زیادہ ہے پسند نہیں کرتے بلکہ اگر کوئی اس بابت ذکر بھی کرے توخوف فتنہ کا ہے ایسی صورت میں شہر میں سے کسی محلہ کے آدمیوں کو متفق ہو کر کسی دوسری مسجد میں جمعہ کا ادا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب

اگر اس امام کے بدلنے پر قدرت نہ ہو تو شہر میں دوسری جگہ جہاں کوئی امام صالح امامت جمعہ پڑھاتا ہو وہاں جاناواجب ہے اور اگر شہر میں دوسری جگہ جمعہ ہوتا ہی نہ ہو یا اور امام بھی ایسا ناقابل امامت ہوں تو نیا امام سُنّی صحیح العقیدہ، صحیح خواں، صحیح الطہارۃ ، مسائل داں کہ فاسق معلن نہ ہو مقرر کریں اور اس کے پیچھے جمعہ وعیدین پڑھیں، واﷲ تعالٰی  اعلم
Flag Counter