Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
84 - 144
اب یہ مخاطبہ ان مقامات رازونیاز سے ہوگا مولٰی  وعبد ومحبوب میں ہوتے ہیں جن میں دوسرے کو دخل دینا حرام، انھیں نقل مجلس بنانا حرام بلکہ بحال فسادنیت کفر صریح بلاکلام، بھلا یہ تو ایک مخاطئہ کشفیہ ہوگا ، امیر المؤمنین نے ایک شخص کو کہ سورہ عبس شریف کی تلاوت بکثرت کرتا زجر شدید فرمایا، امام ابن الحاج مکی مدخل میں فرماتے ہیں:
قدقال علمائنا رحمۃ اﷲ تعالٰی علیھم ان من قال عن نبی من الانبیا علیہم الصلٰوۃ والسلام فی غیر التلاوۃ والحدیث انہ عص اوخالف فقد کفر نعوذ باﷲ من ذلک ۲؎ ،
ہمارے علماء رحمہم اﷲ تعالٰی  نے فرمایا: ہر وہ شخص جو تلاوت قرآن وحدیث رسول پڑھنے کے علاوہ کہے کہ فلاں نبی نے نافرمانی کی یا شریعت کی مخالفت کی وہ کافر ہوجائے گا، ہم اس سے اﷲ کی پناہ چاہتے ہیں،
 (۲؎ المدخل لابن الحاج   فصل فی مولد النبی   مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت    ۲/ ۱۵)
وقد قال الامام ابوعبداﷲ القرطبی رحمہ اﷲ تعالٰی فی کتاب التفسیر لہ حین تکلم علی قولہ وطفقا یخصفان علیھا من ورق الجنۃ الاٰیۃ فی سورۃ طٰہٰ، قال القاضٰ ابوبکر ابن العربی رضی اﷲ تعالٰی عنہ لایجوز لاحدمنا الیوم ان یخبر بذلک عن اٰدم علیہ الصلاۃ والسلام الا اذا  ذکرناہ فی اثناء قولہ تعالٰی عنہ اوقول نبیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فاما ان نبتدی ذلک من نفسنا فلیس بجائز لنا فی اٰبائناالادنین الیناالمماثلین لنا فکیف بابیناالاقدم الاعظم الاکبر النبی المقدم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعلٰی جمیع الانبیاء والمرسلین ۱؎ انتہی
امام ابو عبداﷲ قرطبی نے اپنی تفسیر میں سورہ طٰہٰ میں'' وہ دونوں اپنے اوپر جنت کے پتّے چپکانے لگے'' کے تحت لکھا کہ قاضی ابوبکر ابن العربی رضی اﷲ تعالٰی  عنہ نے فرمایا: ہم میں سے کسی کو اجازت نہیں کہ آج وہ حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بارے میں ایسی بات کی اطلاع دے البتہ اس صورت میں جب وہ اﷲ تعالٰی  کا یہ فرمان پڑھ رہا ہو یا نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کی حدیث مبارک، ہم اپنی طرف سے ایسے واقعات کو بیان کرنا شروع کردیں تو یہ ہم اپنے قریب اپنی مثل پہلے آباء کے بارے میں نہیں کہہ سکتے تو اس ہستی کے بارے میں یہ کیسے جائز ہوگا جو ہمارے باپ سب سے اقدم، اعظم ، اکبر اور مقدم نبی ہیں صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم وعلٰی  جمیع الانبیاء والمرسلین انتہی (ت)
 (۱؎ المدخل لابن الحاج    فصل فی مولدالنبی    مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت    ۳/۱۶)
علامہ شہاب خفاجی نسیم الریاض شرح شفائے قاضی عیاض میں فرماتے ہیں :
الدعا بھا ( ای بالمغفرۃ) لہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من امتہ لاینبغی لا یھامہ القصور من المدعو لہ کالدعاء لہ  بالرحمۃ واماقول اﷲ تعالٰی لیغفرلک اﷲ ماتقدم من ذنبک وماتأخرو دعاؤہ لنفسہ بالمغفرۃ فلا یقاس علیہ ۲؎۔
امت کی طرف سے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کے لئے دعا ( برائے مغفرت) جائز نہیں کیونکہ اس میں آپ سے کوتاہی کا وہم ہوتا ہے جیسے کہ آپ کے لیے رحمت کی دعا کرنا بھی مناسب نہیں،رہا معاملہ اﷲ تعالٰی  کے اس ارشاد گرامی کا کہ '' اﷲ تعالٰی  نے معاف فرمادئے آپ کے معاملات سابقہ اور آنے والے'' اور آپ کا اپنے لئے مغفرت کی دعا کرنا تو اس پر دیگر کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔(ت)
 (۲؎ نسیم الریاض شرح الشفاء    فصل فی کیفیۃ الصلٰوۃ علیہ    مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۳/۴۸۵)
حضرت شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ،مدارج النبوۃ شریف میں فرماتے ہیں:
بدانکہ ایجا ادبے وقاعدہ ایست کہ بعضے از صفیا و ازاہل تحقیق ذکر کردہ اندو شناخت آں ورعایت آں موجب حل اشکال وسبب سلامت حال ست و آں اپنست کہ اگر از جناب ربوبیت جل وتعالٰی  خطابے و عتابے وسطوتے وسلطنتے واستغنائے واقع شود مثل
انک لا تھدی،ولیحبطن عملک،ولیس لک من الامر شیئ وترید زینۃ الحیٰوۃ الدنیا
وامثال آں یا ازجا نب نبوت عبودیتے یاانکسارے وافتقارے وعجزے ومسکنتے بوجود آید مثل
انما انا بشر مثلکم
، اغضب کما یغضب العبد،ولا اعلم ماوراء ھذا الجدار ما ادری ما یفعل بی ولا بکم
ومانند آن مارا نباید دراں دخل کنیم اواشتراک جوئیم وانسباط نمائیم بلکہ برحدا دب وسکوت وتحاشی توقف نمائم خواجہ رامی رسد کہ بابندۂ خود ھرچہ خواہد بگوید وبکند واستعلاء واستیلا نماید وبندہ نیز باخواجہ بندگی وفروتنی کند دیگرے راچہ مجال یارائے آنکہ دریں مقام درآید ودخل کند وحدِ ادب بیروں رود ایں مقام پالغز بسیارے از ضعفا وجہلا وسبب تضررایشاں است ومن اﷲ العصمۃ والعون۱؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم

واضح رہے کہ یہاں ادب او رقاعدہ ہے جسے بعض اصفیا اور اہل تحقیق نے بیان کیا ہے اور اس کا جان لینا اور اس پر عمل پیرا ہونا مشکلات سے نکلنے کا حل اور سلامت رہنے کا سبب ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کسی مقام پر اﷲ رب العزت جل وعلا کی طرف سے کوئی خطاب،عتاب،رعب ودبدبہ کا اظہار یا بے نیازی کا وقوع ہو مثلاً آپ ہدایت نہیں دے سکتے،آپ کے اعمال ختم ہوجائیں گے،آپ کے لئے کوئی شیئ نہیں،آپ حیات دنیوی کی زینت چاہتے ہیں،اوراس کی مثل دیگر مقامات،یا کسی جگہ نبی کی طرف سےعبدیت،انکساری،محتاجی و عاجزی اور مسکینی کا ذکر آئے مثلاً میں تمھاری طرح بشر ہوں،مجھے اسی طرح غصہ آتا ہے جیسے عبد کو آتا ہے اور میں نہیں جانتا اس دیوار کے ادھر کیا ہے،میں نہیں جانتا میرے ساتھ اور تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا،اور اس کی مثل دیگر مقامات،ہم امتیوں اورغلاموں کو جائز نہیں کہ ان معاملات میں مداخلت کریں،ان میں اشتراک کریں اور اسے کھیل بنائیں،بلکہ ہمیں پاس ادب کرتے ہوئے خاموشی وسکوت اور توقف کرنا لازم ہے ، مالک کا حق ہے کہ وہ اپنے بندے سے جو چاہے فرمائے، اس پر اپنی بلندی کا غلبہ کا اظہار کرے،بندے کا بھی یہ حق کہ وہ اپنے مالک کے سامنے بندگی اور عاجزی کا اظہار کرے ،دوسرے کی کیا مجال کہ وہ اس میں دخل اندازی کرے اور حد ادب سے باہر نکلنے کی کوشش کرے،اس مقام پر بہت سے کمزور اور جاہل لوگوں کے پاؤں پھسل جاتے ہیں جس سے وہ تباہ و برباد ہوجاتے ہیں، اﷲ تعالٰی  محفوظ رکھنے والا اور مدد کرنے والا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
 (۱؎مدارج النبوۃ	وصل در ازالہٗ شبہات از بعضے آیات	مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر	۱/۸۳)
مسئلہ ۱۳۳۴: از افریقہ جوہانس برگ مرسلہ محمد ابراہیم صاحب شافعی ۱۳ شعبان ۱۳۲۷ھ

امام حنفی ہے اور مقتدی شوافع بھی ہيں اگر خطبہ اُولٰی  جمعہ میں امام اوصیکم بتقوی اﷲ نہ پڑھے اور درود شریف نہ پڑھے توشوافع کی نماز ہوگی یا نہیں؟
الجواب

مذہب شافعی پر شافعی کی نماز ن ہوگی کہ وصیت و درود ان کے نزدیک ارکانِ خطبہ سے ہیں اور خطبہ بالاتفاق شرط صحت نماز جمعہ،جب رکن فوت ہوئے خطبہ نہ ہوا،  جب خطبہ نہ ہوا،نماز نہ ہو ئی۔
کتاب الانوار میں ہے :
لصحۃ الجمعۃ وراء الشروط العامۃ شروط الٰی ان قال السابع خطبتان قبل الصلٰوۃ وارکانھما خمسۃ حمداﷲ تعالٰی الثانی الصلٰوۃ علی رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الثالث الوصیۃ بالطاعۃ والتقوی ۱؎ اھ ملتقطا
صحت جمعہ کے لئے شروط عامہ کے علاوہ ساتویں شرط یہ ہے کہ نماز سے پہلے دو خطبے ہوں اور اس کے ارکان پانچ ہیں ایک اﷲ تعالٰی  کی حمد،دوسرانبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کی خدمت میں درود و سلام، تیسرا اطاعت وتقوٰی  کی نصیحت اھ ملتقطا (ت)
 (۱؎ الانوار لاعمال الابرار    فصل الصحتہ الجمعۃ الخ    مطبعۃ جمالیۃ مصر    ۱/۱۰۰)
اسی میں ہے :
لصحۃ الاقتداء شروط الاول ان یکون الامام مظھر مسلما الثانی ان تصح صلوتہ باعتقاد الماموم فلو اقتدی الشافعی بالحنفی وقد مس فرجہ اوترک البسملۃ او الحنفی بالشافعی الذی افتصدا اواحتجم ولم یتوضأ بطلت صلٰوتہ ۲؎ اھ مختصرا۔
صحت جمعہ اقتداء کے لئے شروط ہیں اول یہ کہ امام مسلمان طاہر ہو دوسرا یہ کہ اس کی نماز مقتدی کے اعتقاد کے مطابق درست ہو، اگر شافعی نے کسی حنفی کی اقتداء کی تو امام نے شرمگاہ کو چھولیا یا اس نے بسم اﷲ ترک کردی یاحنفی نے ایسے شافعی کی اقتداء کی جس نے رگ کٹوائی یاپچھنے لگوائے اور وضو نہ کیا توا قتداء کرنے والے کی نماز باطل ہوجائے گی اھ اختصاراً (ت)
 (۲؎ الانوار لاعمال الابرار     فصل  الوالی فی محل ولایۃ    مطبعۃ جمالیۃ مصر    ۱/۸۵(
فتاوی امام ابن حجر مکی شافعی میں ہے :
ان علم انھم یترکون  بعض الارکان او الشروط لم تصح منھم جمعۃ فلا یجوز لاحد ان یصلی معھم ۳؎ (ملخصا)
اگریہ جان لیا گیا ہو کہ انھوں نے بعض ارکان یا شرائط کو ترک کردیا ہے توان کا جمعہ صحیح نہ ہوگا لہذا ان کے ساتھ جمعہ کی ادائیگی درست نہ ہوگی اھ (ملخصاً)
 (۳؎ فتاوٰی کبرٰی  فقہیہ ابن حجر مکی    باب الصلٰوۃ الجمعہ    مطبوعہ دارالکتب العلمیۃبیروت    ۱/۲۳۹(
ترک درود تو سخت تر ہے، درود خطبہ میں اگر  نامِ اقدس نہ لیا ضمیر پر اکتفا کی مثلاً صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم تو امام مذکور نےبطلان خطبہ ونماز ثابت کیا، اسی طرح ان کے شیخ الاسلام زکریا انصاری قدس سرہ، نے شرح بہجہ وشرح روض وشرح منہج میں فرمایا:
کما ہو مذکور کلہ فی فتاواہ الکبری
 ( جیسا کہ یہ تمام ان کے فتاوٰی  الکبرٰی  میں مذکور ہے ۔ت) آدمی کہ تنہا نماز پڑھے اسے بالاجماع مستحب ہے کہ جملہ ائمہ کرام رضی اﷲ تعالٰی  عنہم کے مذاہب کی حتی الامکان رعایت رکھے اور حتی الامکان کے یہ معنی کہ جہاں تک اس کی رعایت میں اپنے مذہب کا مکروہ لازم نہ آئے
کما نص علیہ فی غیر ماموضع فی ردالمحتار وفی المسلک المتقسط للملا علی القاری وغیرھما
 ( جیسے کہ اس پر ردالمحتار اور المسلک المتقسط للملاعلی قاری وغیرہ میں متعدد مقامات پرتصریح  ہے ۔ت) نہ کہ وہ امور جو اپنے مــذہب میں مسنون اور دوسرے مذہب ائمہ حق میں فرض ہوں کہ ا ب تواس کی ترک سخت جہالت، نہ کہ امام کہ دوسرے مذہب کے اہل سنت بھی اس کے مقتدی ہوں اسے تو حتی الوسع اس مذہب کی رعایت کمال مہم ومؤکدہے ۔واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter